Watan Se Muhabbat

Rate this post

Watan Se Muhabbat Quran aur Hadees ke Roshni Mai

 حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

إِنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَنَظَرَ إِلٰی جُدُرَاتِ الْمَدِيْنَةِ، أَوْضَعَ رَاحِلَتَهِ، وَإِنْ کَانَ عَلٰی دَابَّةٍ، حَرَّکَهَا مِنْ حُبِّهَا.

(صحيح البخاري، 2: 666، رقم: 1787، مسند أحمد بن حنبل، 3: 159، رقم: 12644، سنن الترمذي، 5: 499، رقم: 3441)

Huzoor Ki Madine se Muhabbat

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ منورہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کر دیتے، اور اگر دوسرے جانور پر سوار ہوتے تو مدینہ منورہ کی محبت میں اُسے ایڑی مار کر تیز بھگاتے تھے۔

اِس حدیث مبارک میں صراحتاً مذکور ہے کہ اپنے وطن مدینہ منورہ کی محبت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سواری کی رفتار تیز کردیتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے:

وَفِی الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلٰی فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَعَلٰی مَشْرُوعِيَةِ حُبِّ الْوَطَنِ وَالْحَنِيْنِ إِلَيْهِ.

(فتح الباری، 3: 621)

یہ حدیث مبارک مدینہ منورہ کی فضیلت، وطن سے محبت کی مشروعیت و جواز اور اس کے لیے مشتاق ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

قرآن حکیم کی سب سے معروف اور مسنتد لغت یعنی المفرادت کے مصنف امام راغب اصفہانی نے اپنی کتاب ’محاضرات الأدباء (2:652)‘ میں وطن کی محبت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کی گفت گو کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

لَولَا حُبُّ الْوَطَنِ لَخَرَبَتْ بِلَادُ السُّوْء. وَقِيْلَ: بِحُبِّ الْأَوْطَانِ عِمَارَةُ الْبُلْدَانِ.

Agr Watan Se Muhabbat Na Ho?

اگر وطن کی محبت نہ ہوتی تو پسماندہ ممالک تباہ و برباد ہوجاتے (کہ لوگ انہیں چھوڑ کر دیگر اچھے ممالک میں جابستے، اور نتیجتاً وہ ممالک ویرانیوں کی تصویر بن جاتے)۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ اپنے وطنوں کی محبت سے ہی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی ہوتی ہے۔

۔ اِس کے بعد امام راغب اصفہانی نے فَضْلُ مَحَبَّۃِ الْوَطَنِ (وطن سے محبت کی فضیلت) کے عنوان سے ایک الگ فصل قائم کرتے ہوئے لکھا ہے:

حُبُّ الْوَطَنِ مِنْ طِيْبِ الْمَوْلِدِ.

وطن کی محبت اچھی فطرت و جبلت کی نشانی ہے۔

مراد یہ ہے کہ عمدہ فطرت والے لوگ ہی اپنے وطن سے محبت کرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے وطن کی نیک نامی اور اَقوامِ عالم میں عروج و ترقی کا باعث بنتے ہیں نہ کہ ملک کے لیے بدنامی خرید کر اس پر دھبہ لگاتے ہیں۔

 ابو عمرو بن العلاء نے کہا ہے

مِمَّا يَدُلُّ عَلٰی کَرَمِ الرَّجُلِ وَطِيْبِ غَرِيْزَتِهِ حَنِيْنُهُ إِلٰی أَوْطَانِهِ وَحُبُّهُ مُتَقَدِّمِي إِخْوَانِهِ وَبُکَاؤُهُ عَلٰی مَا مَضٰی مِنْ زَمَانِهِ.

(محاضرات الأدباء للراغب الأصفهانی، 2: 652)

آدمی کے معزز ہونے اور اس کی جبلت کے پاکیزہ ہونے پر جو شے دلالت کرتی ہے وہ اس کا اپنے وطن کے لیے مشتاق ہونا اور اپنے دیرینہ تعلق داروں (یعنی اعزاء و اقربا، رفقاء و دوست احباب اور پڑوسی وغیرہ) سے محبت کرنا اور اپنے سابقہ زمانے (کے گناہوں اور معصیات) پر آہ زاری کرنا (اور ان کی مغفرت طلب کرنا) ہے۔

 اِسی لیے بعض فلاسفہ کا کہنا ہے

فِطْرَةُ الرَّجُلِ مَعْجُوْنَةٌ بِحُبِّ الْوَطَنِ.

(محاضرات الأدباء للراغب الأصفهانی، 2: 652)

فطرتِ اِنسان کو وطن کی محبت سے گوندھا گیا ہے (یعنی وطن کی محبت انسانی خمیر میں رکھ دی گئی ہے)۔

 ابن خبیر الاشبیلی (م502ھ) نے ’الفھرسۃ (ص:343، رقم:1006)‘ میں لکھا ہے کہ دوسری تیسری صدی ہجری کے معروف امام ابو عثمان عمرو بن بحر الجاحظ (159-255ھ) نے وطن کی محبت پر ایک مکمل رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ہے: کتاب حب الوطن۔ ابن خبیر الاشبیلی (م502ھ) نے ’الفھرسۃ (ص:343، رقم:1006)‘ میں اس رسالے کی پوری سند کو بیان کیا ہے۔ 1982ھ میں یہ رسالہ لبنان کے دار الکتاب العربی سے الحنین إلی الأوطان کے عنوان سے طبع ہوچکا ہے۔ گویا مسلم محققین اوائل اِسلام سے ہی وطن سے محبت کے موضوع پر لکھتے آرہے ہیں۔

mere Watan essay in Urdu

اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن

اے میرے پیارے وطن

اے وطن پیارے وطن

تجھ سے ہے میری تمناؤں کی دنیا پرنور

عزم میرا قوی، میرے ارادے ہیں غیور

میری ہستی میں انا ہے، میری مستی میں شعور

جاں فزا میرا تخیل ہے تو شیریں ہے سخن

اے میرے پیارے وطن

اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن

اے میرے پیارے وطن

اے وطن پیارے وطن

تو دل افروز بہاروں کا تر و تازہ چمن

تو مہکتے ہوئے پھولوں کا سہانا گلشن

تو نواریز انا دل کا بہاری مسکن

رنگ و آہنگ سے معمور ترے کوہ و دمن

اے میرے پیارے وطن

اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن

اے میرے پیارے وطن

اے وطن پیارے وطن

میرا دل تیری محبت کا ہے جاں بخش دیار

میرا سینا تیری حرمت کا ہے سنگین حصار

میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار

میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایہ تن

اے میرے پیارے وطن

اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن، پاک وطن

اے میرے پیارے وطن

اے وطن پیارے وطن

🇵🇰❤️

میری خواہش میری دعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mere Watan ye Aqeedaten aur piyare tuj pr nisar kardo

میرے وطن یہ عقیدتیں اور

پیار تجھ پہ نثار کر دوں

محبتوں کے یہ سلسلے

بےشمار تجھ پہ نثار کر دوں

میرے وطن میرے بس میں ہو تو

تیری حفاظت کروں میں ایسے

خزاں سے تجھ کو بچا کے رکهوں

بہار تجھ پہ نثار کر دوں

تیری محبت میں موت آئے

تو اس سے بڑھ کر نہیں ہے خواہش

یہ ایک جان کیا، ہزار ہوں تو

ہزار تجھ پہ نثار کر دوں

میرے وطن یہ عقیدتیں اور

پیار تجھ پہ نثار کر دوں✨

پاکستان زندہ باد

عبدالرحمن مروت لکی مروت

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment