waqia karbala in urdu

Rate this post

Sarzameen Karbala ka taruf , Karbala Kiya thi aur Karbala Kiya hai?

کربلا وہ سر زمین ہے جہاں حضرت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے اور کوفہ کے قریب واقع ہے۔

Lafz e Karbala ki wajah tasmiyah

لفظ کربلا کی وجہ تسمیہ کے متعلق تین اقوال ہیں۔

1۔ لفظ کربلا ” کربلہ” سے مشتق ہے۔جس کے معنی ہیں چلنے میں سستی پیدا کرنا۔ یہ ریتیلی زمین تھی جہاں آدمی آسانی سے نہیں چل سکتا تھا، اسی لیے اس سرزمین کو کربلا کا نام دیا گیا۔

2۔ یہ لفظ ” کربلہ” سے مشتق ہے جس کے معنی گندم کو بھوسہ اور سنگ ریزوں سے پاک و صاف کرنا ہے اور چونکہ اس سرزمین میں سنگریزے وغیرہ نہیں تھے اسی لیے اسے کربلا کہا جاتا تھا۔

3۔ ایک مخصوص قسم کی گھاس کو بھی ” کربلا” کہاجاتا ہے۔اس سرزمین پر وہ گھاس بکثرت پائی جاتی تھی اسی لئے اس کا نام کربلا رکھا گیا۔

روایت ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام اس سرزمین پر پہنچے تو آپؑ کے گھوڑے نے چلنے سے انکار کر دیا تھا۔ امام علیہ السلام نے اسے جتنے بھی چابک مارے اس نے وہاں سے قدم نہ اٹھایا۔

امام عالی مقامؑ نے لوگوں سے پوچھا۔

اس سرزمین کا کیا نام ہے؟

لوگوں نے کہا۔

اسے ارض ماریہ کہتے ہیں۔

پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔

اس زمین کا کوئی دوسرا نام بھی ہے؟

لوگوں نے کہا۔

مولا! اسے کربلا بھی کہتے ہیں۔

امام عالی مقامؑ نے فرمایا۔

اللہ اکبر ارض کرب و بلاء ومسفک الدعاء۔

اللہ اکبر یہ تکلیف و آزمائش اور خون بہنے کی سرزمین ہے۔ یہاں ہمارا خون بہایا جائے گا اور یہ سرزمین قافلہ آل عبا کا مستقر ہوگی۔

اگر واقعا اس سرزمین کا نام کربلا ہے تو ہمارے مقدر میں دکھ اور آزمائش ہے۔

اسی سر زمین پر آل نبی پہ تلواریں چلائی جائیں گی اور اسی سر زمین پر آل عبا پر لوگ ظلم کریں گے۔

محبان اہل بیتؑ کے لیے یہ شہر مثل جنت ہے اور ہر زمانہ میں محبان آل اطہارؑ نے دور دراز علاقوں سے ہجرت کرکے کربلا میں رہائش اختیار کی اور اس کی خاک کے ذروں کو اپنے سرکا تاج بنایا۔

یہ شہر ہر لحاظ سے آباد وشاد ہے یہاں پانی کی نہریں ہیں اور باغات بہت زیادہ ہیں اور درخت بکثرت ہیں۔

زمین کربلا کی فضیلت اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا عظیم درجہ ھے

کربلا کے مضمون کو قدیم شعراء نے اپنی اپنی نظموں میں بیا ن کیا ہے۔ مثلا آپ ان اشعار کو ہی دیکھ لیں۔

(بیت)

آن را کہ بکر بلا گذار است

با آتش دوزخش چکار است

جس کا کربلا سے تعلق ہو۔ بھلا اس کا آتش دوزخ سے کیا واسطہ ہے؟

(رباعی)

آسودہ کربلا بھر حال کہ ھست

گر خاک شود نمیشود قدرش پست

برمی دارند و سجہ می سازندش

می گرد انندش از شرف دست بدست

کربلا میں دفن ہونے والا جس حال میں بھی ہو،بہتر ہوتا ہے ۔ اگر وہ قبر کی مٹی میں مل کر مٹی بھی ہوجائے تو بھی اس کی قدرو قیمت پست نہیں ہو گی۔

کیونکہ جب کوئی آسودہ کربلا مٹی بھی بن جائے تو بھی اس مٹی سے تسبیح بنے گی جو پرہیز گاروں کے ہاتھوں گردش کرتی رہے گی۔

ملا جامی ؒنے بھی لکھا۔

کر دم زدیدہ پای سوی مشھد حسین

ھست این سفر بمذھب عشاق فرض عین

کعبہ بگرد روضہ او می کند طواف

رکب الحجیج این تروحون این این

میں نگاہوں کے بل مشہد حسینؑ کی طرف چلا۔

اور یہ سفر مذہب عشاق میں فرض عین ہے۔

کعبہ حسینؑ کے روضہ اطہر کا طواف کرتا ہے۔

حاجی صاحبان! تم کہاں جا رہے ھو

مشہور نام: کربلا

مقامی نام: نینوا

صوبہ: کربلا / الکربلاء

ملک: عراق

مقامی زُبان: عَرَبی

Karbala ka mahale waqooh

کربلا کا محل وقوع: شہر کربلا، صوبہ کربلا کا دارالخلافہ ہے۔ یہ صوبہ شمال میں صوبہ الانبار، جنوب میں صوبہ نجف، مشرق میں صوبہ بابل اور مغرب میں بادیہ شام اور سعودی عرب سے ملتا ہے۔ شہرِ کربلا دریائے فرات کے جنوب مغربی حصے میں، شہرِ بغداد کے جنوب مغرب میں 105 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

کربلا کے مختلف نام Karbala ke mukhtalif naam

عراق کا جو خِطَّۂِ زمین کربلا کے نام سے مشہور ہے وہ دراصل ان قریوں اور زمینی ٹکڑوں کا مجموعہ ہے جو اس زمانے میں ایک دوسرے سے ملحق تھے۔ عرب میں چھوٹے چھوٹے قطعاتِ اراضی (زمین کے ٹکڑے) تھے جو مختلف ناموں سے موسوم ہوا کرتے تھے چنانچہ جب انہیں خصوصیت یا صفات کے اعتبار سے دیکھا جاتا تو وہ کئی مقام مُتَصَوُّر ہوتے تھے اور جب ان کے باہمی قرب (adjacency) پر نظر کی جاتی تو وہ سب ایک قرار پاتے اور یہی وجہ ہے بعض اوقات ایک مقام کا واقعہ دوسرے مقام سے منسوب کیاجاتا ہے۔ علامہ سید ہبتہ الدین شہر ستانی نے ”نہضہ الحسین“ میں تحریر کیا ہے کہ ”کربلا کے محل وقوع کے تحت جو بہت سے نام مشہور ہیں اُنہیں ایک ہی جگہ کے متعدد نام نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ وہ متعدد جگہیں تھی جو باہمی اتصال (adjacent) کی وجہ سے ایک سمجھی جاسکتی تھیں۔

۱- کربلا: اس لفظ کے معنی کے بارے میں کئی اقوال ہیں:

-الف: کربلا، لفظ “کر بَلَہ” سے ماخوذ ہے جس کے معنی قدموں کے سست پڑنے کے ہیں (کتاب العین، جلد پنجم، ص 431)

-ب: کربلا لفظ “کربل” سے ماخوذ ہے اور کربال کے معنی چھانٹی کرنے اور تمیز کرنے کے ہیں۔ اس شہر کو ریت، پتھر اور درخت وغیرہ سے عاری ہونے کی وجہ سے کربلا کہا جاتا ہے۔ (موسوعۃ العتبات المقدسۃ، جلد ہشتم، قسم کربلا، ص 9)

-پ: کربلا، دو لفظ “کرب” اور “ایلا” سے مرکب ہے جس کے معنی خدا کا حرم اور خدائی بندوں کا گھر کے ہیں۔ (مدینۃ الحسین، ص 1)

-ت: یہ لفظ اصل میں فارسی زبان کا مرکب لفظ تھا جو دو لفظ “کار” اور “بالا” سے ماخوذ ہے جس کے معنی “آسمانی” یا “با ارزش” کام کے ہیں دوسرے لفظوں میں نماز اور راز و نیاز کی جگہ۔ (مدینۃ الحسین، ص 1)

-ٹ: اصل میں یہ لفظ “کوَر بابل” تھا جس کے معنی شہرِ بابل کے گاؤں کے ہیں۔ (نہضۃ الحسین، ص 44)

 حضرت امام حسین علیہِ السلام اور آپ کے والد گرامی حضرت علی علیہِ السلام اور آپ کے نانا رسول اکرم صَلَّی اللهُ تعالٰی علیہِ وَ آلِهِ وَ بارِک وسلم نے کربلا کو “کرب و بلا” یعنی درد، بلا، آزمائش اور ابتلاء سے تفسیر کیا ہے۔ (نہضۃ الحسین، ص 44)

-ج: کربل، کربلا اور کربلة؛ فصل یا غَلَّہ خاص کر فصلِ گندم کاٹ کر پچھوڑنے یعنی بھُوسا اڑا کر صاف کرنے کو کربل کہتے ہیں۔ کیچڑ میں بدِقَّت اور آہستہ چل کر آنے کے لیے بھی “مکربلا” کہا جاتا ہے۔ جیسے “جاء یمشی مکربلاً” (ص 720 المنجد طبع بیروت) یعنی “وہ مٹی ملے ہوئے پانی (کیچڑ) میں بدقت چل کر آیا۔” عربی زبان کے لفظ “کربل” اور “كربلة” تلفظ کے اعتبار سے یکساں ہیں، کربلاء (اردو میں “کربلا”) اسی سے بنا ہے۔ عَرَبی کی مشہور و معروف لغت “المنجد” میں دو لفظ، “غربل” اور “غربلة” اسی معنی میں استعمال ہوئے ہیں (المنجد، صفحہ 820، طبع بیروت)، جیسے “غربل الحنطلة”۔ “الحنطلة” عربی میں گیہوں صاف کرنے کو کہتے ہیں (المنجد، اردو ترجمہ، مطبوعہ خزینہ علم و ادب، لاہور۔صفحہ 734) اور الکربال، گیہوں صاف کرنے کی چھلنی کو۔

نوٹ: قدیم ‌ترین شعر جس میں کربلا کا نام آیا ہے، “حضرت معن بن اوس” کا ہے جو عہدِ جاہلیت کے مشہور شاعر تھے لیکن بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ (الاغانی، جلد دواز دہم، ص 309)

۲- حائر: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: حائر لغت میں مادہ “حار – یحیر” سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اس جگہ کو کہا جاتا ہے جس میں پانی جمع ہوتا ہو اور باہر جانے کا کوئی راستہ نہ ہو۔

-ب: شیعہ ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کی حدیثی (کامل الزیارات، ص 271؛ الباب التاسع و الثمانون فضل الحائر و حرمتہ) اور فقہی (الاستبصار فیما اختلف من الأخبار، جلد دوم، ص 334) کتابوں میں “کربلا” کو اکثر اسی نام سے یاد کیا گیا ہے۔

سب سے پہلے امام جعفر صادق علیہِ السلام نے قبرِ حضرت امام حُسین علیہِ السلام اور اس کے ارد گرد کے محصور علاقے کو حائر کا نام دیا۔ (ابنِ طاؤس، كامل الزیارات ص 132)

-: حائر کے لغوی معنٰی “حیران” و “سرگردان” کے ہیں۔

۳-نواویس (Nawaweess): معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-ایہ نام مسیحی اور سریانی نقطہ نگاہ سے بولا جاتا ہے چونکہ کربلا کے شمال مغرب میں مسیحیوں کا قدیمی اور تاریخی قبرستان ہے۔ آجکل یہ قبرستان دریائے سلیمانیہ کے کنارے پر واقع “براز علی” نامی گاؤں میں واقع ہے۔ (آل طعمہ، تاریخ مرقد الحسین و العباس، ص 25)

حضرت امام حسین علیہِ السلام نے بھی اِسی نام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ (ابن طاؤس، اللہوف علی القتلی الطفوف، ص 53)

۴-طفّ: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: “طف” دریا کے “لَب” (ساحل) کے معنی میں ہے اور چونکہ حضرت امام حسین علیہِ السلام کی شہادت لَبِ فرات پر واقع ہوئی اس لیے اسے طف کہا جاتا ہے۔ (لسان العرب، جلد نہم، ص 221)

-: عمدہ الطالب فی انساب آلِ ابی طالب نامی کتاب کے صفحہ نمبر 20 پر بھی شہادتِ عون و محمد و امام حسین علیہم السلام اجمعین کو “طف کی لڑائی” کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔

۵- غاضریہ: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: کربلا کو “غاضریہ” بھی کہا جاتا ہے وہ اسلیے کہ کربلا کے نزدیک “بنی اسد” کا ایک قبیلہ بنام “بنی غاضر” رہتے تھے۔ (معجم البلدان، جلد چہارم، ص 183)

 حقیقت میں یہ مقام کوفہ کے پاس اور کربلا کے نزدیک تھا۔ حضرت امام حسین رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام جب موجودہ کربلا کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے اِس جگہ پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کیا لیکن حُر بن یزید ریاحی رضی اللهُ تعالٰی عنهُ وَ علیہِ السلام (پہلے یزیدی فوجی، بعد میں 10 مُحرم کو تائب ہو کر امام حُسین کے قافلے میں شامل ہو گئے تھے اور شہید ہوئے) نے منع کیا کیونکہ ﺍُس وقت حُر بن یزید ریاحی، عبید اللہ بن زیاد لعنت الله علیہ (والئِ کوفہ) کی طرف سے حضرت امام حسین علیہِ السلام کو بے آب و گیاہ (ویران) جگہ پر روکنے پر مامور تھا۔

۔پ: یہ علاقہ کربلا سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس زمین کو اراضی حسینیہ بھی کہتے ہیں۔ طول تاریخ میں دوسرے ناموں کی طرح کربلا کی زمین کے لیے بھی یہ نام استعمال ہوتا رہا ہے۔ (دینوری، اخبارالطوال، جلد اوّل، ص 252)

۔ بعض تاریخی اقوال کے مطابق جہاں اسوقت حضرت امام حُسین علیہِ السلام کی قبر ہے یہ جگہ حضرت امام حُسین علیہِ السلام نے اہل نینوا سے خریدی تھی اور یہ زمین اِس شرط پر اُنہیں (واپس) صدقہ کر دی تھی کہ وہ لوگوں کو حضرت امام حُسین َ علیہِ السلام کی قبر کی طرف راہنمائی کریں گے اور تین دن تک زائرین کی مہمان نوازی کریں گے۔ (طریحی، مجمع‌البحرین، جلد پنجم، ص 462؛ نوری، مستدرک‌الوسائل، جلد دہم، ص321)

۔: امام باقر َ علیہِ السلام سے منقول روایات میں آیا ہےکہ، “غاضریہ میں وہی بُقعہ ہے جہاں الله عَزَّوجل نے حضرت موسی علیہِ الصَّلٰوۃُ والسلام کے ساتھ بات کی اور حضرت نوح علیہِ الصَّلٰوۃُ والسلام کے ساتھ مناجات کی تھی۔ زمین کا یہ ٹکڑا خدا کے نزدیک نہایت قابل احترام ہے۔ (مجلسی، بحارالانوار، جلد 98، ص109، جلد 101، ص108)

۶-نینوا: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: یہ ایک گاؤں کا نام تھا، یہ گاؤں “غاضریہ” کے پہلو میں” تھا۔

۷-عقر: معنٰی اور وجۂِ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال:

-الف: “عقر” لُغت میں “شگاف” اور دو جگہوں کے درمیانی فاصلے کو کہا جاتا ہے۔ (کتاب العین، جلد اوّل، ص 151)

-ب: جب امام حسین علیہ السلام اس جگہ پر پہنچے تو اس جگہ کا نام پوچھا تو کسی نے کہا کہ اس کا نام “عقر” ہے تو امام نے فرمایا “عقر” سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ (معجم البلدان، جلد چہارم، ص 136)

کربلا اُس سرزمین کا نام ھے جو اُس زمانہ میں گرم ریت کے ٹیلوں، کھنڈرات، لَق و دَق صحرا اور جنگلوں کا نام تھا مگر امام حسین علیہِ السلام کے خون نے اُسے سجدہ گاہ بنا دیا اور آج دن رات ہزاروں لاکھوں زائرین اُس زمین ِاقدس کو بوسے دے رھے ھیں..

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment