Awaliyat aur Nooraniyat Mustafaﷺ aur Aqeedah Ghaws e Azam

Rate this post

اولیت و نورانیت مصطفیٰ اور عقیدہ غوثِ اعظم  

حضرتِ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی:٥١٦ھ) فرماتے ہیں

فلما خلق الله روح محمد صلى الله عليه واله وسلم أولا من نور جماله كما قال الله تعالى فى الحديث القدسي: “خلقت محمدا أولا من نور وجهى” . وكما قال النبى صلى الله عليه واله وسلم:”أول ما خلق الله روحى ، وأول ما خلق الله نورى ، وأول ما خلق الله القلم ، وأول ما خلق الله العقل ” . والمراد منهم شيئ واحد وهو الحقيقة المحمدية ، لكن سمى نورا لكونه صافيا عن الظلمانية الجلالية كما قال الله تعالى:”قد جاءكم من الله نور وكتب “. وعقلا لكونه مدركا للكليات. وقلما لكونه سببا لنقل العلم ، كما ان القلم سبب نقل العلم فى عالم الحروفات ، فالروح المحمدى خلاصة الأكوان ، وأول الكائنات واصلها كما قال رسول الله صلى الله عليه واله وسلم: “أنا من الله ، والمؤمنون مني”.فخلق منه الارواح كلها فى عالم اللاهوت فى أحسن التقويم الحقيقي ، وهو اسم حجلة الانس فى ذلك العالم ، وهو الوطن الاصلي. فلما مضى عليها أربعة آلاف سنة خلق الله العرش من نور عين محمدا صلى الله عليه واله وسلم ، وبواقى الكليات منه.

“ابتداء میں جب اللہ تعالٰی نے اپنے نور جمال سے حضرتِ سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا فرمایا جیسا کہ حدیث قدسی ہے: “میں نے سب سے پہلے اپنے نور خاص سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیدا فرمایا “. “سب سے پہلے اللہ تعالٰیٰ نے میری روح کو پیدا فرمایا ، سب سے پہلے اللہ تعالٰیٰ نے نے میرے نور کو پیدا فرمایا ، سب سے پہلے اللہ تعالٰیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا ، سب سے پہلے اللہ تعالٰیٰ نے عقل کو پیدا فرمایا ” ۔ ان تمام چیزوں کا مصداق ایک ہی ہے یعنی سب سے پہلے اللہ تعالٰیٰ نے حقیقت محمدیہ کو پیدا فرمایا ، اسے نور کہا گیا ہے اس لئے کہ یہ ظلمانیت جلالیت سے پاک ہے

جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد ہے: “بے شک تشریف لایا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی “. حقیقت محمدیہ کو عقل کہا گیا ہے کیونکہ وہ تمام کلیات کا ادراک رکھتی ہے ۔ اسے قلم کہا گیا ہے کیونکہ یہ علم کی منتقلی کا سبب ہے جس طرح” عالم حروف” میں قلم ، علم کے منتقل ہونے کا سبب ہے ۔ پس روح محمدی ان تمام چیزوں کا خلاصہ ہے کائنات کی ابتداء اور اصل ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:” میں اللہ سے ہوں اور مؤمن مجھ سے ہیں”. “عالم لاہوت “میں تمام ارواح نور محمدی سے بہترین اعتدال پر پیدا ہوئیں ۔ عالم لاہوت میں اسی کا نام حجلة الانس ہے یہی عالم انسان کا وطن اصلی ہے ۔ جب ذات محمدی کی تخلیق پر چار ہزار سال کا عرصہ بیت گیا تو اللہ تعالیٰ نے نور پاک مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرش اور دوسری تمام کلیات کو پیدا فرمایا “.

⛔سر الاسرار و مظهر الانوار فيما يحتاج إليه الابرار ، مقدمة المؤلف ، ص: ٨، ٩، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان.

ایک مقام پر یوں فرمایا

قال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: “أنا من الله تعالى ، والمؤمنون مني”. وقال الله تعالى فى الحديث القدسي: ” خلقت محمدا من نور وجهى” ، والمراد من الوجه الذات المقدسة المتجلية فى صفات الارحمية كما قال الله تعالى فى الحديث القدسي: ” سبقت رحمتي غضبى” ، وقال الله تعالى لنبيه:”وما ارسلنك إلا رحمة للعالمين”، وقال الله تعالى:” قد جاءكم من الله نور وكتب مبين”، وقال الله تعالى فى الحديث القدسي:” لو لاك لما خلقت الافلاك”.

“آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میں اللہ تعالیٰ سے ہوں اور مؤمن مجھ سے ہیں “. ایک اور حدیث قدسی ہے:”میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو اپنے نور خاص سے پیدا فرمایا “. یہاں مقصود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو صفات رحمت میں تجلی فرماتی ہے ۔

جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:” میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ” ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرتِ سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا:”اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ، مگر سراپا رحمت بنا کر سارے جہانوں کے لیے ” ، اور ایک جگہ فرمایا:” بے شک تشریف لایا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی ” ، اللہ تعالیٰ حدیث قدسی میں فرماتا ہے:”اگر آپ نہ ہوتے تو میں افلاک پیدا نہ کرتا “.

Awaliyat aur Nooraniyat Mustafaﷺ aur Aqeedah Ghaws e Azam

⛔سر الاسرار و مظهر الانوار فيما يحتاج إليه الابرار ، الفصل التاسع: فى بيان رؤية الله تعالى، ص: ٣٢، ٣٣، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان.

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(١٩/١٠/٢٠٢٣)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment