Islamic Quotes about Life

Rate this post

(ابراھیم بن ادھم کی چودہ نصیحتیں)

’طبقات الصوفیہ‘‘ میں امام سلمی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت سلطان ابراہیم ابن ادھم رضی اللہ عنہ نے ایک وعظ میں چودہ نصیحتیں کیں۔ اصلاح احوال کے لئے یہ چودہ نصیحتیں اکسیر کا درجہ رکھتی ہیں۔ آئیے ان نصیحتوں سے کسبِ فیض کرتے ہوئے اپنے باطن کی اصلاح کا کچھ ساماں کریں

1 بیداری اور قلتِ طعام

لَا تَطمَعَ فِی السَّحْرِ مَعَ الشِّبن.

اے بندے! اگر تو چاہے کہ تجھے اللہ کے لئے جاگنا نصیب ہو کیونکہ جاگے بغیر کچھ نہیں ملتا، اگر تو چاہے کہ جاگنا نصیب ہو تویاد رکھ پیٹ بھرنے والے کو جاگنا نصیب نہیں ہوتا۔ اس ایک جملہ میں زندگی کا پورا عنوان دے دیا کہ پیٹ بھر کے کھانے والوں کو جاگنا نصیب نہیں ہوتا۔

2 غمِ الہٰی اور قلتِ نوم

وَلَا تَطمَعَ فِی الْحُزُنِ مَعَ کَثْرَتِ النَّوْم.

اور اگرتو چاہے کہ تجھے اللہ کا غم نصیب ہو اور آخرت کا غم مل جائے تو زیادہ سونے والے کو آخرت اور مولیٰ کا غم نہیں ملتا۔

3 رغبتِ دنیا سے اجتناب

وَلَا تَطمَعَ فِی الْخَوْفِ لِلّٰهِ مَعَ الرَّغْبَةِ فِی الدُّنْيَا.

اور اگر تو چاہے کہ اللہ کا خوف نصیب ہوجائے تو اللہ کا خوف دنیا کی رغبت، لالچ رکھنے والوں کو نہیں ملا کرتا۔

اللہ کا خوف دنیا کی رغبت اور دنیا کی حرص و طمع رکھنے والوں کو نہیں ملتا، دل کو دنیا کی رغبت سے پاک کرنا ہوگا۔ میں بھی ہمیشہ آپ کو یہی نصیحت کرتا رہتا ہوں کہ دنیا میں رہیں لیکن دنیا آپ میں نہ رہے۔ خود دنیا میں رہیں مگر دنیا کو خود میں نہ رہنے دیں۔ رغبتِ دنیا اگر رکھیں تو خوف الہٰی نہیں ملتا۔

4 غیراللہ کی محبت سے اجتناب

وَلَا تَطمَعَ فِی الْاُنْسِ بِااللّٰهِ مَعَ الْاُنْسِ بِالْمَخْلُوْقِيْن.

اور اگر مخلوقات اور دنیا والوں کی محبت اور اُنس دل میں ہو تو اللہ کا اُنس دل میں نہیں آتا۔

دو محبتیں یعنی اللہ کی اور اس کے غیر کی محبت ایک دل میں اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ جیسے ایک کمرے میں دو سوکنیں نہیں رہتیں اس طرح اللہ کی اور غیر کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوتیں۔

5 تقویٰ و پرہیزگاری پرکاربندی

وَلَا تَطمَعَ فِی الْاَلْهَامِ الْحِکْمَةِ مَعَ تَرَکِ التَّقْوٰی.

اگر تو چاہے تجھ پر الہام ہو، حکمت کا الہام ہو، اسرار کھلیں، اللہ کی طرف سے القاء اور الہام ہو، مالائے اعلیٰ کے راز کھلیں، اوپر سے غیبی باتیں تیرے دل پہ اتریں اور وہ معلومات ملیں اگر تو یہ الہام حکمت چاہے تو تقویٰ، پرہیزگاری ترک کر کے الہام نصیب نہیں ہوتے۔ اس کے لئے تقویٰ، پرہیزگاری کی زندگی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ وہ تقوی اور پرہیزگاری کھانے، پینے، بولنے، دیکھنے، چلنے، معاملہ کرنے اور پوری زندگی کے ہر باطن و ظاہر میں بھی ہو۔

6 بُری صحبت سے اجتناب

وَلَا تَطمَعَ فِی الصِّحَةِ فِی اُمُوْرِک مَعَ مُوَافَقَةَ الظُّلُم.

اگر تو چاہے تیرے امور اللہ کی اطاعت میں، بندگی میں، محنت میں اس کی رضا کے مطابق سیدھے ہو جائیں اور تیرے امور کو صحت و سلامتی نصیب ہو جائے تو پھر جو ظالم لوگ، گنہگار اور نافرمان لوگ ہیں، دنیا پرست لوگ ہیں ان کے ساتھ موافقت نہ رکھ کیونکہ ان لوگوں کے ساتھ موافقت اور دوستی رکھ کر تیرے امور اللہ کے ساتھ سیدھے نہیں ہو سکتے۔

7 دنیا اور مال و دولت کی محبت سے اجتناب

وَلَا تَطمَعَ فِی حُبُّ اللّٰهِ مَعَ مَحَبَّةِ الْمَالِ وَ الشَّرَف.

اگر تو چاہے اللہ کی محبت مل جائے مگر تو مال و دولت اور عہدہ و منصب اور شرف و عزت کی محبت کا طالب ہے تو اللہ کی محبت نہیں ملے گی۔ شرف و منصب اور مال و دولت کی طلب کی محبت دل میں اگر ہوتو اس دل میں اللہ کی محبت نہیں آئے گی۔

8 دل کی نرمی اور مساکین پر رحم

وَلَا تَطمَعَ فِی لِيْنِ الْقَلْبِ مَعَ الْجَفَاءِ لِلْيَتِيْمِ وَالْاَرْمَلَةِ والمساکين.

اور اگر تو چاہے کہ دل کی نرمی نصیب ہو جائے تیرا دل نرم ہو تو یاد رکھ یتیموں، غریبوں، بے سہاروں، مسکینوں پر بے رحمی کر کے دل کی نرمی نصیب نہیں ہوتی۔ اگر غرباء، یتاما، مساکین سے جفا کریں، کڑوے ہو جائیں، انہیں کھانے کو دوڑیں اور ان کے ساتھ آپ کا رویہ جفا کا ہو، زیادتی کا ہو، ظلم کا ہو، بے نیازی کا ہو۔ جس کی طرف قرآن میں اس طرح ارشاد فرمایا گیا :

أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِO فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَO وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِO

(الماعون : 1 . 3)

’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہےo تو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (یعنی یتیموں کی حاجات کو ردّ کرتا اور انہیں حق سے محروم رکھتا ہے)o اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا (یعنی معاشرے سے غریبوں اور محتاجوں کے معاشی اِستحصال کے خاتمے کی کوشش نہیں کرتا)o‘‘

دین کو جھٹلانے والا وہ ہے جو یتیموں، مسکینوں کو دھکے دیتا اور ان کے کھانے کی فکر نہیں کرتا۔ اگر غریبوں، مسکینوں کے ساتھ تیری جفا کا طریقہ ہے تو اللہ تعالیٰ تیرے دل کو نرمی کی نعمت عطا نہیں کرے گا۔

9 رقتِ قلب اور قلتِ کلام

وَلَا تَطمَعَ فِی الرِّقَّهِ مَعَ فَضُوْلِ الْکَلَام.

اور اگر چاہے کہ تجھے رقت نصیب ہوجائے، گریہ و زاری نصیب ہو جائے تو لغو اور فضول باتیں کرنے والی عادت سے دل کو رقت نصیب نہیں ہوتی۔ زبان کو بند رکھنا سیکھ، کم بولنا سیکھ، فضول گفتگو نہ کر، پھر تب جا کر دل کو رقت نصیب ہوگی۔

10 مخلوقِ خدا کیلئے سراپا رحمت

وَلَا تَطمَعَ فِی رَحْمَةِ اللّٰهِ مَعَ تَرْک الرَّحْمَةِ لِلْمَخْلُوْقِيْن.

اگر تو چاہے کہ اللہ کی رحمت ملے تو اللہ کی مخلوق پر رحمت نہ کر کے اللہ کی رحمت کا طلب گار نہ بن، اگر اللہ کی رحمت چاہتا ہے تو اللہ کی مخلوق پر خود رحمت کیا کر۔

11 ہدایت کیلئے علماء و صلحاء کی ہم نشینی

وَلَا تَطمَعَ فِی الرُّشْدِ مَعَ تَرْک الْمُجَالَسَةِ الْعُلْمَآء الصُّلَحآء.

اگر تو چاہے کہ تجھے رشد و ہدایت ملے تو علمائے صالحین کی مجلسوں میں بیٹھنا ترک کر کے کبھی رشد و ہدایت نہیں مل سکتی۔ ہدایت پڑھنے سے نہیں ملتی بلکہ صحبت سے ملتی ہے۔ پڑھنے سے علم ملتا ہے، ہدایت نہیں ملتی ہر علم ہدایت نہیں ہوتا ہدایت صحبت سے ملتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی پہلی سورہ فاتحہ میں جو پہلا سبق دیا وہ طلب ہدایت کا ہے، اس میں پڑھنے پڑھانے کی بات ہی نہیں کی بلکہ صحبت کی بات کی۔

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْم.

’’باری تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ دکھا‘‘۔

فرمایا : اگر سیدھی راہ کی ہدایت لینی ہے توصِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ. ’’میرے انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چلو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندوں کی متابعت و صحبت سے ہدایت ملتی ہے، پڑھنے سے علم ملتا ہے۔ علم کبھی باعث ہدایت ہوجاتا ہے اور کبھی باعث ضلالت ہو جاتا ہے، کبھی باعث گمراہی ہو جاتا ہے۔

اسی لئے شیخ اکبر نے فرمایا : ’’العلم حجاب الاکبر‘‘ ’’علم خود بندے اور اللہ کے درمیان سب سے بڑا حجاب ہے‘‘۔ پس ہدایت کے لئے اچھی صحبت اختیار کر، صالح علماء کی صحبت اختیار کر۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھے جلساء کون ہیں؟ کن کی مجلس اختیار کیا کریں؟ کن کی صحبت اور مجلس میں بیٹھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین باتیں فرمائیں، فرمایا : ان لوگوں کی مجلس اور صحبت میں بیٹھا کرو کہ جن کے چہرے کو دیکھو تو خدا یاد آجائے۔

خَيَارُکُمُ الَّذِيْنَ اِذَا رُؤُوْ ذُکِرَاللّٰه.

(ابن ماجه، ج 2 ص 379، رقم : 46119)

’’اچھے لوگ وہ ہیں جن کو دیکھو خدا یاد آجائے‘‘۔

دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا : تُذَکِّرُکُمُ اللّٰه.

(مسند ابويعلیٰ، ج : 1، ص : 326، رقم : 2437)

’’ان کو اگر دیکھو تو اللہ یاد آجائے‘‘۔

’’اگر ان کو سنو توعلم و حکمت، بصیرت و معرفت میں اضافہ ہوجائے‘‘۔

اور ’’ان کے اعمال و زندگی کو دیکھو تو آخرت یاد آجائے‘‘ فرمایا : جن میں یہ تین چیزیں دیکھو ان کی صحبت و مجلس میں بیٹھا کرو۔

ان کا نطق (بولنا) آپ کے علم اور معرفت میں اضافہ کرے۔ ۔ ۔ ان کو دیکھنا اللہ کی یاد دلا دے۔ ۔ ۔ اور ان کے اعمال اور زندگی کو دیکھنا آخرت کو یاد کرائے۔ ۔ ۔ یہ اچھے جلساء ہیں۔ ہدایت صحبتوں سے ملتی ہے۔ اس لئے اہل اللہ طویل سفر کرکے صرف صحبت کے لئے جاتے، گھنٹوں مجالس اور صحبتوں میں بیٹھے رہتے۔ نہ سوال کرتے اور نہ بولتے صرف صحبت کے لئے چپ بیٹھے رہتے۔

12 خود پسندی اور خود تعریفی سے اجتناب

وَلَا تَطمَعَ فِی الْحُبِّ لِلّٰهِ مَعَ حُبِّ الْمِدْحَة.

پہلے تھا اللہ کی محبت، اگر چاہے کہ اللہ کی محبت نصیب ہو جائے تو مال اور شہرت کی محبت چھوڑ دے لیکن اگر تو چاہے اللہ کے لئے تجھے محبت نصیب ہوجائے، کسی اللہ والے کی محبت نصیب ہوجائے تو پھر اپنی تعریف سے محبت چھوڑ دے۔ ہر بندہ چاہتا ہے کہ میری تعریف اور میری واہ واہ کریں۔ فرمایا جو اپنی تعریف اور مدحت سے محبت کرے گا اسے اللہ والوں کی محبت نصیب نہیں ہوگی۔

13 دنیا کی حرص کا خاتمہ

وَلَا تَطمَعَ فِی الْوَرَعَ مَعَ الْحِرْصِ فَی الدُّنْيَا.

اور اگر تو چاہے تجھے زہد و ورع نصیب ہو جائے تو دنیا کا حرص چھوڑ دے۔

14۔ رضاءِ الہٰی اور ورع

وَلَا تَطمَعَ فِی الرِّضَاءِ وَالْقَنَاعَةِ مَعَ قِلَّةِ الْوَرَع.

اگر تو چاہے اللہ کی رضا اور قناعت نصیب ہوجائے تو ورع ترک کرنے سے یا کم کرنے سے اللہ کی رضا نصیب نہیں ہوسکتی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment