Huzoor Syedi Imam Muhammad Raza Zakori Sahib Ki Barri Karamat

Rate this post

حضرت سید المشائخ، قطب الاقطاب، غوث الخلائق، مجدد الوقت، قیوم زمان، مرشد عالم، خواجہ خواجگان، امام الفقراء حضور سیدنا امام محمد رضا زکوڑی شریف مجددی نقشبندی کی ایک بڑی کرامت)۔۔۔❤️❤️❤️

حضرت سید غلام علی شاہ رامپوری صاحب رحمت اللہ علیہ جو کہ بہت بڑے ولی اور جید عالم تھے، اور آپ کا شمار حضرت شیخ المشائخ، غوث الزمان، قطب دوران امام الجن والانس فقیر امام محمد رضازکوڑی شریف مجددی کے بڑے بڑے خلفاء میں ہوتاہے۔

مرید کیسے بنے؟

آپ خود فرماتے ہیں کہ میں کیسے اور کس وجہ سےحضرت فقیر امام محمد رضا زکوڑی مجددی کا مرید بن گیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں سویا ہوا تھا اور خواب میں سرور کائنات، فخر موجودات، محبوب کبریا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ نشین ہو رہے ہیں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں رو رو کر عرض کیا مجھ عاجز کو آپ کس کے حوالے کر کے جارہے ہیں جو مجھ پر نظر شفقت و رحمت کرسکے۔ تو میں نے دیکھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایک بہت نورانی شخصیت کے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تجھ کو اس کے حوالے کرتا ہوں۔ تو میں نے کہا، یہ کون ہے اور کہاں رہتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ان کا نام امام محمد رضا حضرت فقیر صاحب ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں رہائش پذیر ہیں۔

سید غلام علی شاہ رامپوری فرماتے ہیں، جب میں بیدار ہوا ، تو ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔

جب ڈیرہ اسمعیل خان پہنچا تو پوچھنے کے بعد خلفاء اور مریدین سے معلوم ہوا کہ امام صاحب افغانستان تشریف لے گئے ہیں کیوں کہ گرمیوں کا موسم ہے اور امام صاحب سردیوں میں واپس تشریف لائیں گے۔ تو میں پہاڑ پور گیا اور وہاں فقیر امام محمد رضا صاحب کے ایک بڑے خلیفہ حضرت مولوی خدا بخش صاحب علیہ الرحمہ کے پاس رہنے لگا۔جب سردیاں قریب آتی گئی ، میں روزانہ فقیر صاحب کا پتہ پوچھتا تھا۔ جب معلوم ہوا کہ فقیر صاحب تشریف لائے ہیں تو میں فورا پہاڑ پور سے ڈیرہ اسمعیل خان روانہ ہوا۔

فقیر امام محمد رضا صاحب سے ملاقات

اور اگلے روز چاشت کے وقت حضرت امام محمد رضا زکوڑی شریف کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ جب میں نے دیکھا تو سیدھا پہچان سکا کہ یہ بالکل وہی نورانی شخصیت ہیں جن کو میں نے خواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا تھا، اور مجھے ان کے حوالہ کیا تھا۔ میں فورا حضرت صاحب کے پاؤں پر گر پڑا اور عرض کیا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہندوستان سے سفر کرتا ہوا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اب مجھ مسکین پر نگاہ شفقت فرمائیں اور مجھے اپنا مرید بنا کر اپنے سلسلے میں داخل کردیں۔ حضرت صاحب فرمانے لگے کہ پہلے آپ اپنی ظاہری شریعت مکمل کرلیں۔

حضرت فقیر صاحب نے فرمایا کہ آپ کی تربیت میں زیادہ وقت نہیں لگے گا لیکن پہلے اپنی ظاہری شریعت مکمل کر لیں۔ تو میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں ظاہری شریعت کے لحاظ سے کیسے مکمل نہیں ہوں تو میں نے دیکھا کہ میرے کپڑے جسم کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں جو کے خلاف سنت ہے۔ پھر میں نے اپنا لباس تبدیل کیا اور خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ فقیر صاحب خوش ہوئے اور فرمانے لگے ، آپ عالم دین ہیں اور عالم برہنہ اچھا نہیں لگتا۔ پھر آپ علیہ الرحمہ نے مجھ ناچیز پر نگاہ شفقت فرمائی اور اپنا مرید بنایا اور میں منازل طے کرنے میں فقیر صاحب کی نظر کرم سے روز بروز ترقی کرتا گیا۔ بالآخر چند مہینوں کے اندر میں راہ سلوک کے منازل طے کئے۔

اس کے بعد فقیر صاحب نے مجھے خلافت عنایت کی اور مجھے اجازت فرمائی کہ آپ لوگوں کو مرید بنانا شروع کریں اور سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کی تعلیم و تربیت دیں۔

ہندوستان کی طرف سفر

اس کے بعد میں اپنے مرشد کریم حضرت فقیر امام محمد رضا صاحب زکوڑی شریف کے حکم پر اپنے ملک ہندوستان چلا گیا۔

  (بحوالہ روضۃ الاولیاء کرامات فقیر صاحب زکوڑی شریف)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment