hadees ki roshni me

Rate this post

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهٗ ثُمَّ يَقُوْمُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلاً عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهٖ وَوَجْهِهٖ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ترجمہ_______🥀

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو وضو کرے تو اچھا کرے پھر کھڑے ہوکردونفل دل اور منہ سے متوجہ ہوکر پڑھے۲؎ مگر اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے ۳؎(مسلم)

تشریح_______🥀

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ امیرمعاویہ کی طرف سے حاکم مصر تھے اپنے بھائی عتبہ ابن ابی سفیان کے بعد،پھر اگرچہ معزول کردیئے گئے مگر مصر میں ہی قیام رہا، ۵۸ھ میں وہیں وفات ہوئی۔

۲؎ یعنی ظاہروباطن یکسو کرکےکہ نہ جسم سے کھیلے،نہ ادھر ادھر دیکھے،نہ دل کو اورطرف لگائے۔

۳؎ رب کے فضل وکرم سے اس طرح کہ دنیا میں اسے نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے،مرتے وقت ایمان پر قائم رہتا ہے،قبروحشر میں آسانی سے پاس ہوتا ہے۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ صرف وضوکرلینے اورتحیۃ الوضوء کے دونفل پڑھ لینے سےجنتی ہوگیا اب کسی عمل کی ضرورت نہ رہی اس قسم کی احادیث کا یہی مطلب ہوتا ہے۔

     مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:288 ________طالب دعا عارف اللہ رشیدی

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ. فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً،وَذٰلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ”. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

ترجمہ______🥀

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں کہ جس پر فرض نماز آئے ۱؎ تو اس کا وضو وخشوع ورکوع اچھی طرح کرے۲؎ مگر یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے،جب تک کہ گناہ کبیرہ نہ کیا ہو۳؎ یہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے ۴؎(مسلم)

تشریح______🥀

۱؎ یعنی نماز پنجگانہ اور جمعہ۔خیال رہے کہ فرض کا ذکر احترازی نہیں،کیونکہ نماز تہجد و اشراق وعیدین کے وضو کا بھی یہی حال ہے۔چونکہ اکثر وضو نماز پنجگانہ کے لیئے ہی ہوتے ہیں اس لیئے ان کا ہی ذکر فرمایا،نیز اگر کوئی وقت سے پہلے وضو کرے تب بھی یہی ثواب ہوگا۔

۲؎ نماز کا خشوع یہ ہے کہ اس کا ہر رکن صحیح ادا کرے،دل میں عاجزی اور خوف خدا ہو،نگاہ اپنے ٹھکانے پر رہےکہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پاؤں کی پشت،سجدہ میں ناک کے نتھنےاور قعدہ میں گود میں رہے۔خشوع نماز کی روح ہے،رب فرماتاہے:”ھُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ”صرف رکوع کا اس لئے ذکر فرمایا کہ یہ سجدہ کا پیش خیمہ ہے اور بمقابلۂ سجدہ کے اس میں مشقت زیادہ ہے،نیز یہ مسلمانوں کی نمازوں کا خاصہ ہے،یہودونصاریٰ کی نمازوں میں نہ تھا،اس کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے،نیز رکوع مستقل عبادت نہیں،صرف نماز ہی میں عبادت ہےاورسجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت ہے۔جیسے سجدۂ شکر،سجدۂ تلاوت وغیرہ۔

۳؎ یعنی اس سے گناہ کبیرہ معاف نہیں ہوتے صرف صغیرہ معاف ہوتے ہیں،لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کی تفسیر ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کبیرہ والے کے صغیرہ بھی معاف نہیں ہوتے۔(لمعات)

۴؎ یعنی یہ ثواب کسی خاص نماز کا نہیں بلکہ عمر میں ہرنماز کا ہے۔

   مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:286 _______🥀💚 طالب دعا عارف اللہ رشیدی

وعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :”مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهٖ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهٖ”. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

ترجمہ_______🥀

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو وضو کرے تو اچھا وضوکرے اس کی خطائیں اس کےجسم سے نکل جاتی ہیں،تاآنکہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں ۱؎ (مسلم،بخاری)

تشریح_________🥀

۱؎ یہاں اچھے وضوءسے مرادسنتوں اورمستحبات کے ساتھ وضوءکرنا ہے اور خطاؤں سے گناہ صغیرہ کیونکہ گناہ کبیرہ تو بہ کے بغیر اور حقوق العباد صاحب حق کی معافی کے بغیر معاف نہیں ہوتےیعنی جو شخص اچھا وضوء کیا کرے تو اس کے سارے اعضاء کے گناہ اس پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔

:ہم گنہگاروں کے وضوء کا غسالہ ماءمستعمل ہے جس سے دوبارہ وضو نہیں ہوسکتا اور اس کا پینا مکروہ،کیونکہ یہ ہمارے گناہ لے کر نکل جاتا ہے،مگر حضور کے وضوء کا غسالہ بلکہ پاؤں شریف کا دھوون متبرک ہے،کیونکہ وہ اعضاء طیبہ میں سے نور لے کر نکلا ہے،ہمارا غسالہ بہت سی بیماریاں خصوصًا مرگی پیدا کرتا ہے،حضور کا غسالہ بیماریاں دور کرتا ہے،رب فرماتاہے:”اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ ” آب زمزم حضرت اسماعیل کے پاؤں گا گویا دھوون ہے جس میں ہمارے حضور کی کُلی پڑی ہوئی ہے ہم سب کے لیئے شفا ہے۔

  مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:284 ________🥀💚 طالب دعا عارف اللہ رشیدی

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلٰى مَا يَمْحُو اللّٰهُ بِهِ الْخَطَايَا يَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ ” قَالُوا: بَلٰى يَا رَسُولَ اللهِ! قَالَ “إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطٰى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذالِكُمُ الرِّبَاطُ”.

ترجمہ_______🥀

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس سےاللہ خطائیں مٹا دے درجے بلند کردے ۱؎ لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسولاللہ ۲؎ فرمایا وضوءپورا کرنا مشقتوں میں ۳؎ مسجد کی طرف زیادہ قدم رکھنا ۴؎ نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۵؎ یہ ہے سرحد کی حفاظت ۶؎

تشریح______🥀

۱؎ خطاؤں سے مراد گناہ صغیرہ ہیں نہ کبیرہ نہ حقوق العباد۔محو سے مراد ہے بخش دینایانامۂ اعمال سے ایسا مٹا دینا کہ اس کا نشان باقی نہ رہے۔درجوں سے مراد جنت کے درجے ہیں یا دنیا میں ایمان کے درجے۔

۲؎ یہ سوال و جواب اس لیئے ہے تاکہ اگلا فرمان غور سے سنا جائے ورنہ حضور کی تبلیغ ان کی عرض پر موقوف نہیں۔

۳؎ پورےکرنے سے اعضائے وضو کامل دھونا،اورتین بار دھونا،اور وضو کی سنتوں کا پورا کرنا ہے۔مشقت سے مراد سردی،یا بیماری،یا پانی کی گرانی کا زمانہ ہے،یعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو تب مکمل کرنا۔

۴؎ یا اس لئے کہ گھرمسجد سے دور ہویا قدم قریب قریب ڈالے۔مطلب یہ ہے کہ ہر وقت نمازمسجد میں پڑھنا،نماز کے علاوہ وعظ وغیرہ کے لئے بھی مسجد میں حاضری دینا موجب ثواب ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خواہ مخواہ قریب کی مسجد چھوڑکر دورجاکرنماز پڑھے۔

۵؎ یعنی ایک وقت کی پڑھ کر دوسری نماز کا منتظر رہنا،خواہ مسجد میں بیٹھ کر،یا اس طرح کہ جسم گھر میں،یا دکان میں ہواورکان اذان کی طرف اور دل مسجدمیں لگا ہو۔

۶؎رباط کے لغوی معنی ہیں گھوڑاپالنا۔اصطلاح میں جہاد کی تیاری یا سرحدِ اسلام پررہ کر کفار کے مقابلے میں ڈٹا رہنارُبَاط ہے۔رباط بڑی عبادت ہے،رب فرماتا ہے:”وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا”حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے مقابل مورچے سنبھالنا ظاہریرباطہے اور مذکورہ بالا اعمال باطنیرباط یعنی نفس شیطان کے مقابل حدودایمان کی حفاظت۔

   کتاب: مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:282 __________💚 طالب دعا عارف اللہ رشیدی

عَن أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ تَمْلَآنِ – أَوْ تَمْلَأُ – مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهٗ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوْبِقُهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تَمْلَآنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . لَمْ أَجِدْ هٰذِهِ الرِّوَايَةَ فِي الصَّحِيْحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَا فِي «الْجَامِعِ»وَلٰكِنْ ذَكَرَهَا الدَّارِمِيُّ بَدْلَ «سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ للهِ»

ترجمہ________🥀

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پاکی نصف ایمان ہے ۲؎ اورالحمدﷲ ترازو بھردے گی۳؎ اورسبحان اللّٰهاورالحمدﷲ آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیتے ہیں ۴؎ اور نماز روشنی ہے ۵؎ خیرا ت دلیل ہے ۶؎ صبر چمک ہے ۷؎ قرآن تیری یا تجھ پر حجۃ ہے ۸؎ ہر شخص صبح پاتا ہے تو اپنا نفس بیچتا ہے تو یا نفس کو آزاد کرتا ہے یا ہلاک ۹؎ مسلم نے روایت کی اور ایک روایت میں یوں ہے کہلا الہ الا اللّٰه اورااللّٰه اکبر آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیتے ہیں میں نے یہ روایت نہ مسلم و بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں نہ جامع میں لیکن اسے دارمی نے ذکر کیا اورسبحان اللّٰه کی بجائےالحمدﷲ ذکر کیا ۱۰؎

تشریح________🥀

۱؎ آپ صحابی ہیں،حضرت ابوموسیٰ اشعری کے چچا ہیں،عہد فاروقی میں وفات پائی۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ طہور سے ظاہری پاکی اورایمان سے عرفی ایمان مرادہے۔چونکہ ایمان بھی گناہوں کو مٹاتا ہے اور وضوءبھی،لیکن ایمان چھوٹے بڑے سارے گناہ مٹا دیتا ہے اور وضوءصرف چھوٹے،اس لیے اسے آدھا ایمان فرمایا۔ایمان باطن کو عیبوں سے پاک فرماتا ہے اور وضو ظاہر کو گندگیوں سے،اور ظاہر باطن کا گویا نصف ہےیا ایمان دل کے برائیوں سے پاک اور خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے اور طھارت جسم کو فقط گندگیوں سے پاک کرتی ہے،لہذا یہ نصف ہے اورممکن ہے کہ ایمان سے مراد نماز ہو،رب فرماتاہے:”لِیُضِیۡعَ اِیۡمٰنَکُمْ”۔ مطلب یہ ہے کہ نماز کی ساری شرطیں شرط طہارت کے برابر ہیں۔غرضکہ حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ایمان بسیط چیز ہے پھر اس کا آدھا اورتہائی کیسا ؟

۳؎ یعنی جو شخص ہر حال میں الحمد ﷲکہا کرے تو قیامت میں میزانِ عمل کے نیکی کا پلہ اس سے بھر جائے گا اور ایک حمد تمام گناہوں پر بھاری ہوگی۔کیونکہ یہ ہیں ہمارے کام اور وہ ہے رب کا نام۔

۴؎ یعنی ان دوکلموں کا ثواب اگر دنیا میں پھیلایا جائے تو اتنا ہے کہ اس سے سارا جہان بھر جائے یا مطلب یہ ہے کہسبحان اللّٰه میںاللّٰه کی بے عیبی کا اقرار ہے اورالحمدﷲ میں اسی کے تمام کمالات کا اظہار۔اوریہ دو چیزیں وہ ہیں جن کے دلائل سے دنیا بھری ہوئی ہے کہ ہرذرہ اورہرقطرہ رب کی تسبیح وحمدکررہاہے۔

۵؎ یعنی نماز مسلمان کے دل کی،چہرے کی،قبر کی،قیامت کی روشنی ہے۔پل صراط پرسجدہ کا نشان بیٹری کا کام دے گا،رب فرماتاہے: “نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ”اورممکن ہے کہصلوٰۃ سے مراد درودشریف ہوکہ یہ بھی ہرطرح نورہے۔

۶؎ مؤمن کے ایمان کی،کہ منافق اور کافر کو صحیح خیرات کی توفیق نہیں ملتی،یا کل قیامت میں صدقہ محبتِ پروردگار کی دلیل اور بخشش کا کفیل بنے گا،کیونکہ اسے رب نے قرض فرمایا ہے:”مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللّٰهَ”۔خیال رہے کہ اس صدقہ میں زکوٰۃ،فطرہ وغیرہ تمام فرضی ونفلی خیراتیں داخل ہیں۔

۷؎ صبر کے لغوی معنے ہیں روکنا،یعنی نفس کو گناہوں سے روکنا،یا عبادت پر قائم رکھنا،یا مصیبتوں پر گھبراہٹ سے روکنا دل کا یا چہرے کا نور ہے۔خیال رہے کہ نور ہر روشنی کو کہا جاسکتا ہے ہلکی ہویاتیز،مگر ضیاءصرف تیز روشنی کو کہتے ہیں۔رب فرماتا ہے:”جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوۡرًا”چونکہ صبرہر عبادت میں ضروری ہے اس لیے نماز کو نور اور اسے ضیاءفرمایا گیا۔ہوسکتا ہے کہ صبرسے مراد روزہ ہو،چونکہ روزہ صرفاللہ کا ہے اس لئے ضیاء یعنی جگمگاہٹ فرمایا گیا۔

۸؎ کہ اگر تم نے اس پر عمل کیا تو قیامت میں یہ تیرا گواہ اور تیرے ایمان کی دلیل ہوگا اور اگر اس کے خلاف عامل رہا توتیرے خلاف گواہ۔

۹؎ یعنی روزانہ صبح کے وقت ہرشخص اپنی زندگی کی دُکان کھولتا ہے،سانسیں صَرف کرکے اعمال کماتا ہے،اگراچھے اعمال میں سانسیں گزریں تو سودانفع کارہا،نفس جہنم سے بچ گیا۔ا ور اگر برے کام کیئے تو سودا گھاٹے کا رہا،نفس کو ہلاک کردیا۔نفس سے مراد ذات دل اور سانسیں سب کچھ ہوسکتے ہیں۔سبحان اللّٰه ! اسافصح الفصحاءعرب کے قربان جاؤں کیسے جامع کلمات ارشاد فرمائے۔خیال رہے کہ ہم جیسے گنہگاروں کی دکانِ زندگی صبح کھل کرسوتے وقت بند ہوجاتی ہے،بعض وہ خوش نصیب بھی ہیں جن کی دکان کبھی بند ہی نہیں ہوتی،اور ان کا بازارکبھی سونا ہی نہیں ہوتا،سوتے میں بھی دکانداری کرتے ہیں،کیونکہ ان کا دل جاگتا ہے بلکہ بعد وفات بھی ان کے میلے لگے ہوئے ہیں۔

۱۰؎ یعنی یہ زیادتی ان میں سے کسی کتاب میں نہ ملی تو مصابیح میں بھی نہ ہونی چاہیئے تھی،کیونکہ فصل اول میں صحیحین کی روایات آتی ہیں۔

    مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:281 ________🥀طالب دعا عارف اللہ رشیدی

وَعَنْ أَبِيْ ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوْهَا وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوْهَا وَحَدَّ حُدُوْدًا فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوْا عَنْهَا» . رَوَى الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ الدَّارَقُطْنِيُّ

ترجمہ_________🥀

روایت ہے حضرت ابی ثعلبہ خشنی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاللہ نے کچھ فرائض لازم فرمائے انہیں ضائع نہ کرو ۲؎ کچھ محرمات حرام کیے ان کی حرمت نہ توڑو ۳؎ کچھ حدیں مقرر کیں ان سے آگے نہ بڑھو ۴؎ کچھ چیزوں سے (بغیربھولے)خاموشی کی ان سے بحث نہ کرو۵؎ ان تینوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیا۔

تشریح_________🥀

۱؎ آپ کا نام جرثوم ابن ناشر ہے،قبیلۂ بنی قزاعہ کے خاندان خشن سے متعلق ہیں،آپ جلیل القدر صحابی ہیں،بیعت الرضوان میں حاضر تھے۔آپ کی وجہ سے آپ کی قوم اسلام لائی شام میں قیام فرمایا،۷۵ھمیں وفات پائی آپ سے چالیس احادیث مروی ہیں۔

۲؎ یعنی فرض اعمال قرآن سے ثابت ہوں یا حدیث سے ان پر ضرور پابندی کرو،نیز اخلاص سے ادا کرو۔خیال رہے کہ فرض وہ ہے جس کا ثبوت بھی یقینی ہو اور طلب بھی یقینی اس کا تارک فاسق ہے اور منکر کافر۔

۳؎ اس طرح کہ حرام کے قریب بھی نہ جاؤ کرنا تو کجا۔

۴؎ یعنی حلال و حرام کی حدوں کو نہ توڑو،نمازیں پانچ فرض ہیں۔چار یا چھ نہ مانو،زکوۃ مال کا(۴۰)چالیسواں حصہ فرض ہے،کم و بیش پر عقیدہ مت رکھو،چار عورتوں تک کا نکاح جائز پانچویں کو حلال چوتھی کو حرام نہ سمجھو وغیرہ۔

۵؎ یعنی بعض چیزوں کی حلت و حرمت صراحتًا قرآن یا حدیث میں مذکور نہیں ان کی بحث میں نہ پڑو وہ مباح ہیں عمل کیے جاؤ ان کے بارے میں رب فرماتا ہے:”عَفی اللّٰهُ عَنْہَا”حضور فرماتے ہیں جس سے خاموشی ہو وہ معاف ہے جیسا کہ”کتاب الاطعمہ”میں آئیگا۔(ازمرقاۃوغیرہ)

   کتاب: مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:197 _________💚طالب دعا عارف اللہ رشیدی

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ كانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ. أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – كَانُوا أَفْضَلَ هٰذِهِ الأُمَّةِ، أَبَرَّهَا قُلُوبًا، وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا، اخْتَارَهُمُ اللّٰهُ لِصُحْبَۃِ نَبِيِّهٖ وَلإِقَامَةِ دِينِهٖ، فَاعْرِفُوْا لَهُمْ فَضْلَهُمْ، وَاتَّبِعُوهُمْ عَلٰی آثَارِهِمْ، وَتَمَسَّكُوا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ وَسِيَرِهِمْ، فَإِنُّهُمْ كَانُوْا عَلَى الْهُدَي الْمُسْتَقِيْمِ. رَوَاهُ رَزِينٌ.

ترجمہ________🥀

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ۱؎ جو سیدھی راہ جانا چاہے وہ وفات یافتہ بزرگوں کی راہ چلے ۲؎ کہ زندہ پر فتنہ کی امن نہیں ۳؎ وہ بزرگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جو اس امت میں بہترین ۴؎ دل کے نیک علم کے گہرے اور تکلف میں کم تھے ۵؎اللہ نے انہیں اپنے نبی کی صحبت اور اپنے نبی کا دین قائم رکھنے کے لیے چن لیا۶؎ ان کی بزرگی مانو ان کے آثار قدم پر چلو بقدر طاقت ان کے اخلاق و سیرت کو مضبوط پکڑو کہ وہ سیدھی ہدایت پر تھے ۷؎(رزین)

تشریح________🥀

۱؎ یہ حدیث موقوف ہے نہ کہ مرفوع یعنی حضرت ابن مسعود صحابی کا اپنا فرمان ہے صحابی کے قول وفعل حدیث موقوف کہلاتے ہیں حضور کا قول و فعل حدیث مرفوع۔

۲؎ یہ ترجمہ نہایت اعلٰی ہے اشعۃ اللمعات نے اسی کو اختیار فرمایا اس میں تابعین سے خطاب ہے یعنی تا قیامت جو کوئی سیدھی راہ چلنا چاہے وہ صحابہ کی پیروی کرے خود قرآن و حدیث سے استنباط مسائل پر قناعت نہ کرے اسی لیئے مجتہدین آئمہ صحابہ کے پیرو ہیں اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں جن کی پیروی کرو ہدایت پاجاؤ گے اور قرآن کریم کی یہ آیت”صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیْھِمْ”خدایا ہمیں ان کی راہ چلا جن پر تو نے انعام کیا سب سے بڑے انعام والے صحابہ ہیں۔خیال رہے کہ یہاں زندوں سے مراد غیر صحابہ ہیں اور وفات پانے والوں سے سارے صحابہ زندہ ہوں یا وفات یافتہ۔جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے چونکہ اس وقت اکثر صحابہ وفات پاچکے تھے اس لیئے ایسا فرمایا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ مرے ہوئے کافروں کی اتباع کرنی چاہیئے،زندہ اولیاء،علماءبلکہ صحابہ کی بھی اتباع درست نہیں۔مرقاۃ نے فرمایا یہ کلام حضرت ابن مسعود نے انکسارًا فرمایا ورنہ اس وقت آپ اور تمام زندہ صحابہ قابل اتباع تھے۔

۳؎ یہاں زندہ سے موجودہ تابعین مراد ہیں کیونکہ صحابہ سےاللہ رسول کا وعدہ جنت ہوچکا ہے رب نے فرمایا:”وَ اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی”

ا ور فرمایا “اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰی “اور فرمایا:”وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوۡقَ وَ الْعِصْیَانَ ” جس سے پتہ لگا کہ رب نے صحابہ کے لیئے ایمان لازم کردیا یا ان کے دلوں میں کفر اور فسق سے نفرت پیدا فرمادی خصوصًا حضرت ابن مسعود کو تو جنت کی بشارت دی جاچکی تھی۔خیال رہے کہ مرتد صحابی نہیں رہتا،ارتداد سے صحابیت ختم ہوجاتی ہے۔

۴؎ یعنی جن کی وفات ایمان پر ہوچکی ان کی صحابیت پختہ ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ تمام اولیاء وعلماء ایک صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے،پھول کی صحبت میں تل مہک جاتا ہے،حضور کی صحبت میں دل کیوں نہ مہکے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب”امیرمعاویہ” میں دیکھو،پھربعض صحابہ بعض سے افضل ہیں،رب فرماتا ہے:”لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ”الایہ ۔فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے صحابہ بعد کو ایمان لانے والے صحابہ سے افضل ہیں۔خیال رہے کہ صحابی وہ ہے جو بحالت ایمان و ہوش حضورکو دیکھے اور ایمان پر خاتمہ ہو۔

۵؎سبحان اللّٰه! یہ صحابہ کی صفات ہیں کہ وہ ہر طرح حضور کے مطیع،سارے علوم کے جامع،بناوٹ دکھلاوے سے پاک،ان میں سے ہر ایک مفسر،محدث،فقیہ،قاری،صوفی اور فرائض دان تھے۔اس کے باوجود ننگے پاؤں پھیر لیتے تھے،فرش خاک پر سو رہتے تھے،معمولی کھانوں پر گزارا کرلیتے تھے،بے علم فتوٰی دینے پر جرات نہ کرتے تھے،بدن کے فرشی تھے،روح کے عرشی،ظاہر میں خلق کے ساتھ تھے،باطن میں خالق کے پاس گودڑی میں لپٹے ہوئے لعل تھے۔

۶؎ حضور کی صحبت اکسیر کی تایثر رکھتی ہے اگر ان میں کچھ بھی خرابی ہوتی تو رب اپنے حبیب کو ان کے ساتھ نہ رکھتا،مہربان باپ اپنے عزیز بیٹے کے لیئے اچھے یار تلاش کرتا ہے۔رب تعالٰی نے اپنے حبیب کی صحبت کے لیئے اچھے صحابہ چنے،نیز موتی اچھے ڈبّے میں رکھا جاتا ہے،رب نے قرآن کی امانت اچھے سینوں میں رکھی،وہی حضرات قرآن و حدیث کے جامع،وہی ہم تک دین پہنچانے والے ہیں،رب نے ان کو ایمان کی کسوٹی بنایا کہ فرمایا “اٰمَنُوۡا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ فَقَدِ اهتَدَوۡا”اے صحابہ! جو تم جیسا ایمان لائے گا وہ ہدایت پائے گا۔خیال رہے کہ حضور نے مخلصین و منافقین کی چھانٹ خود کردی تھی سو رۂ توبہ کے نزول کے بعد منافق چھٹ گئے تھے۔جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے فرماتا ہے:”حَتّٰی یَمِیۡزَ الْخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّب”۔

۷؎ جیسےاللہ کی اطاعت بغیر حضور کی پیروی ناممکن،ایسے ہی حضور کی پیروی بغیر صحابہ کی اتباع ناممکن ہے۔حضور آئینہ خدا نما ہیں اور صحابہ آئینہ رسول نما،سبحان اللّٰه! جب حضرت ابن مسعود جیسے عظیم الشان مؤمن صحابہ کی ایسی تعریف کررہے ہیں تو ان کی افضیلت میں کسے کلام ہوسکتا ہے،صحابہ کا انکار حقیقت میں حضور کے فیض کا انکار ہے کہنعوذ باللّٰه حضور نے۲۳ سال کی تبلیغ میں صرف چار پانچ صحابی بنائے۔

    مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:193 ________💚طالب دعا عارف اللہ رشیدی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment