hadees | حدیث شریف اردو ترجمہ کیساتھ 1

Rate this post

Hadees Urdu Tarjama ke Sath

وعنه قال: جاء ناس من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الى النبي فسالوه: انا نجد في انفسنا ما يتعاظم احدنا ان يتكلم به. قال: «او قد وجدتموه» قالوا: نعم. قال: «ذلك صريح الايمان» . رواه المسلم

ترجمہ

روایت ہے انہیں سےفرماتے ہیں کہ حضور کے صحابہ میں سے کچھ حضرات حضورصلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھنے لگے کہ ہم اپنے دلوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بیان کرنا بہت بڑا گناہ معلوم ہوتا ہے ۱؎ فرمایاکہ کیا تم نے یہ بات پائی ہے ۲؎ عرض کیا ہاں فرمایا یہ کھلا ہوا ایمان ہے ۳؎ (مسلم)

تشریح

۱؎ یہ صحابہ کے کمال ایمان کی دلیل ہے کہ وسوسہ پر عمل کرنا تو کیا معنی اسے زبان پر لاتے بھی گھبراتے ہیں۔

۲؎ وسوسہ یا اُسے بڑا برا سمجھنا۔

۳؎ یعنی وسوسے آنا کمال ایمان کی دلیل ہےکیونکہ چوربھرے گھر میں ہی جاتا ہے اورشیطان مؤمن کی فکر میں زیادہ رہتا ہے۔حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں:کہ جونماز وسوسہ سے خالی ہو وہ نماز یہودونصاریٰ کی ہے۔(مرقات)یا وسوسوں کو بُراسمجھنا عین ایمان ہےکیونکہ کافر تو انہیں اچھا سمجھ کر اس پر ایمان لے آتے ہیں۔

 مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 حدیث نمبر:64 🥀🤎دعاگو عارف اللہ رشیدی

hadees khair ke bare mai

اس سے بڑی مصیبت کوئی نہیں۔

حضرت مسعر ابن کدام رحمہ اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں

میں حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کے ساتھ جا رہا تھا ایک شخص نے ان سے سوال کیا۔اپ کے پاس اس وقت دینے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔پھر زار و قطار رونے لگے۔حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اپ کو کس چیز نے رلایا۔اپ رحمہ اللہ نے فرمایا اس سے بڑی مصیبت کون سی ہو سکتی ہے کہ لوگ آپ سے خیر کی امید رکھیں۔اور آپ کی طرف سے اسے خیر نہ مل سکے۔

حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، قَالَ: ” كُنْتُ أَمْشِي مَعَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ مَا يُعْطِيهِ، فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: وَأَيُّ مُصِيبَةٍ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يُؤَمِّلَ فِيكَ رَجُلٌ خَيْرًا، فَلَا يُصِيبَهُ عِنْدَكَ؟ “

[الخرائطي ,مكارم الأخلاق للخرائطي ,page 62]

ullama aur tulaba ki shan

وَقَالَ بَعْضُ الْحُكَمَاءِ: إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى جَنَّةً فِي الدُّنْيَا، مَنْ دَخَلَهَا طَابَ عَيْشُهُ.

قِيلَ: مَا هِيَ؟ قَالَ: مَجْلِسُ الذِّكْرِ.

بعض حکماء نے فرمایا کہ دنیا میں بھی اللہ کی ایک جنت ہے جو اس میں داخل ہوتا ہے تو اس کی زندگی خوشگوار ہو جاتی ہے پوچھا گیا وہ کیا ہے تو بتایا گیا

علماء و طلباء کی مجلس

اس کو فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمہ اللہ نے تنبیہ الغافلین کے بابُ فضلِ مجلسِ العلم میں ذکر کیا🥀❣️

Hadees wudu ke bare mai

وعن ابي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: “اذا توضا العبد المسلم -او المومن- فغسل وجهه خرج من وجهه كل خطيىة نظر اليها بعينيه مع الماء مع اخر قطر الماء،فاذا غسل يديه خرج من يديه كل خطيىة كان بطشتها يداه مع الماء او مع اخر قطر الماء-، فاذا غسل رجليه خرج كل خطيىة مشتها رجلاه مع الماء او مع اخر قطر الماء حتى يخرج نقيا من الذنوب”. رواه مسلم.

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب مسلمان بندہ یا مؤمن وضو کرنے لگتا ہے اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے ہر وہ خطا نکل جاتی ہے جدھر آنکھوں سے دیکھا ہو پانی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ ۱؎ پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں سے وہ ہر خطا نکل جاتی ہے جسے اس کے ہاتھ نے پکڑا تھا پانی یا پانی کی آخری بوند کے ساتھ۲؎ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو ہر وہ خطا نکل جاتی ہے جدھر اس کے پاؤں چلے پانی یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ حتی کہ گناہوں سے پاک و صاف نکل جاتاہے۳؎ (مسلم)

۱؎ اگرچہ انسان کان،ناک،منہ سب سے گناہ کرتا ہے مگر زیادہ گناہ آنکھ سے ہوتے ہیں۔جیسے اجنبی عورت یا غیر کا مال ناجائز نگاہ سے دیکھنا اسی لئے صرف آنکھ کا ذکر فرمایا ورنہ ان شاءاللّٰه چہرے کے ہر عضو کے گناہ منہ دھوتے ہی معاف ہوجاتے ہیں۔

۲؎ جیسے نامحرم کو چھولینا یا غیر کی چیز بلا اجازت ٹٹولنا کہ یہ سب گناہ صغیرہ ہیں۔

۳؎ چلنے سے مراد ناجائز مقام پر جانا ہے۔خیال رہے کہ یہاں صرف ان اعضاء کے گناہوں کی ہی معافی مراد نہیں بلکہ سارے گناہ مراد ہیں حتی کہ دل و دماغ کے بھی گناہ،ان اعضاء کا ذکر اس لیئے ہے کہ زیادہ گناہ انہیں سے صادر ہوتے ہیں،

مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 حدیث نمبر:285 🥀❣️💚 دعاگو عارف اللہ رشیدی

Hadees napasandeda shakhs ke bare mai

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناپسندیدہ شخص۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان ابغض الرجال الی اللہ الالد الخصام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض اور ناپسندیدہ شخص وہ ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو سخت جھگڑالو ھو ۔۔۔۔۔۔۔بخاری مسلم ترمذی نسائی ۔۔۔۔۔دعاگو و دعاجو عارف اللہ رشیدی

Hadees Ilm sekne ke bare mai

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابوذر اگر تو صبح کو جاکر ایک آیت کلام اللہ کی سیکھ لے تو نوافل کی سو رکعت سے افضل ھے اور اگر ایک باب علم کا سیکھ لے خواہ اس وقت اس پر عمل ھو یا نہ ھو ھزار رکعت نفل پڑھنے سے بہتر ہے (ابن ماجہ) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کو حاصل کرنا نفل نماز سے افضل ہے کیونکہ وہ علم یا تو فرض عین ھوگا یا فرض کفایہ۔۔اور یہ دونوں نفل سے افضل ھے ۔۔۔۔دعاگو ودعاجو عارف اللہ رشیدی

 فیضانِ حدیث شریف

فرمانِ آخری نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ واصحابہ وسلم.

جب اللہ تعالیٰ کے خوف سے بندے کے بال کھڑے ہو جائیں تو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح خشک درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں۔

 (شعب الایمان،1/491، الحدیث: 803)

 

 جنت میں داخل کروانے والے اعمال

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ھے جب نبی کریم ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ دوڑتے ھوئے آپ علیہ السلام کی طرف آئے اور مشھور ھوگیا کہ حضور ﷺ تشریف لے آئے میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ حضور ﷺ کو دیکھوں جب میں نے غور سے آپ ﷺکا چہرہ دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں آنحضرت ﷺ کا پہلا کلام یہ تھا اے لوگوں ! سلام پھیلاؤ (کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کرو) کھانا کھلاو نماز پڑھو جبکہ لوگ سوۓ ھوئے ھوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ھوگے

ترمذی دعاگو ودعاجو عارف اللہ رشیدی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment