Eid milad un nabi | Jashne eid milad un nabi

Rate this post

یہ بڑا تحقیقی کام ہے ایک عربی محقق نے دقیق تحقیق سے ثابت کیا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال 12 ربیع الاول کو نہیں ہوا بلکہ دو ربیع الاول کو ہے

12 ربیع الاول یوم پیدائش یا یوم وفات

کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کا خطبہ جمعہ کے دن دیا تھا

اور اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پیر کے دن ہوا تھا

اب ذی الحجہ کا ماہ تیس کا بناؤ یا انتیس کا محرم کا ماہ تیس ک بناؤ یا انتیس کا پیر کو وصال نہیں ثابت ہوتی

eid milad un nabi 2022 in pakistan

اس نقشے میں تمام احتمالات کا رد کیا اور دو کو وصال باکمال ثابت کیا ہے

آپ ذی الحجہ محرم صفر میں سے جس ماہ کو چاہیں تیس یا انتیس کا بنا لیں 12 ربیع الاول بروز پیر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ثابت نہیں کر سکتے

یاد رکھیں حجۃ الوداع جمعہ کو اور وصال پاک پیر کو ہے اس پر امت کا اتفاق ہے

اس لحاظ سے مہینوں کے دنوں میں کمی بیشی کر کے دیکھ لیں پیر کے دن 12 ربیع الاول بنتی ہی نہیں ہے

یہ صرف شیطانی وار ہے جو میلاد منانے سے روکنے کے لیئے ہے

اور جن علماء نے 12 وفات کہی ان کو غلطی لگی ہے

گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں

وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے

اور علماء کرام نے میلاد روکنے کے لیئے 12 کو وفات نہیں بتائی جبکہ شریر لوگ روکنے کی دلیل دیتے ہیں

نہ 12 کو مناتے سوگ مناتے ہیں نہ میلاد مناتے ہیں بس شر پھیلاتے ہیں۔

jashne eid milad un nabi

عرب معاشرے میں اس سال ایک نئی تبدیلی دیکھی گئی ہے

میٹھی عید اور بقرہ عید یہ لوگ کل عام و انتم بخیر کہتے تھے۔

eid milad un nabi 2022

مگر اس بار ربیع الاول شریف کی آمد پر بھی یہی جملہ جگہ جگہ دیکھنے سننے کو مل رہا ہے ۔

کیونکہ یہ عیدوں کی عید ہے۔

زیر نظر تصویر ملک شام کی روایات کے مطابق ربیع النور شریف کی آمد پر مٹھائیاں خوبصورت پیکنگ کے ساتھ تقسیم کرنے کی ہے!

مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بچوں اور عام مسلمانوں کے بچوں کو ایسے تحائف دیکر قلبِ مصطفی کو خوش کریں ❤️

✍️ #سید_مہتاب_عالم

محسن نقوی کی عشقِ نبوی میں ڈوب کرلکھی گئی نعت، ایک ایک مصرعے میں عجیب سحرہے ♥♥♥

eid milad un nabi 2022 in pakistan

وہ پیکرِ تقدیس، وہ سرمایۂ تخلیق

وہ قبلۂ جاں، مقصدِ تخلیقِ دو عالم

وجدان کا معیار، مہ و مہر کا محور

وہ قافلہ سالارِ مزاجِ بنی آدم

وہ منزلِ اربابِ نظر، فکر کی تجسیم

وہ کعبۂ تقدیرِ دو عالم، رخِ احساس

وہ بزمِ شب و روز کا سلطانِ معظّم

وہ رونقِ رخسارۂ فیروزہ و الماس

وہ شعلگئِ شمعِ حرم، تابشِ خورشید

وہ آئینہِ حُسنِ رُخِ ارض و سماوات

وہ جس سے رواں موجِ تبسم کی سبیلیں

وہ جس کے تکلم کی دھنک چشمۂ آیات

وہ جس کا ثنا خواں دلِ فطرت کا تکلم!

ہستی کے مناظر، خمِ ابرو کے اشارے

آفاق ہیں دامن کی صباحت پہ تصدق

قدموں کے نشاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ستارے

اُس رحمتِ عالم کا قصیدہ کہوں کیسے؟

جو مہرِ عنایات بھی ہو، ابرِ کرم بھی

کیا اُس کے لیے نذر کروں، جس کی ثنا میں

سجدے میں الفاظ بھی، سطریں بھی، قلم بھی!

چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ

آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ہیں

ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے

عارِض ہیں کہ ”والفجر“ کی آیات کے اَمیں ہیں

گیسو ہیں کہ ”وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے سائے

ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں

گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا

لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں

قَد ہے کہ نبوت کے خد و خال کا معیار

بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلَم ہیں

سینہ ہے کہ رمزِ دلِ ہستی کا خزینہ

پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں

باتیں ہیں کہ طُوبیٰ کی چٹکتی ہوئی کلیاں

لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے

خطبے ہیں کہ ساون کے امنڈتے ہوئے دریا

قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے

یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے

یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے

شرمندۂ تابِ لب و دندانِ پیمبرﷺ

حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے

یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے

یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم

یہ شکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل

یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم

یہ ہاتھ یہ کونین کی تقدیر کے اوراق

یہ خط، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و انجیل

یہ پاؤں یہ مہتاب کی کرنوں کے مَعابِد

یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل

یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل!

یہ بندِ قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید

یہ سایۂ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل

یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید

یہ دوش پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے

یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب

رخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی

آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب

ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے

تزئینِ شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال

ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ہے جیسے

ترتیب سے پہلے رُخِ ہستی کے خد و خال

رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور

کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے

گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن

معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے

وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں

وہ فقر کہ ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی

وہ شکر کہ خالق بھی ترے شکر کا ممنون

وہ حُسن کہ یوسفؑ بھی کرے آئینہ بندی

وہ علم کہ قرآں تِری عِترت کا قصیدہ

وہ حِلم کہ دشمن کو بھی امیدِ کرم ہے

وہ صبر کہ شبیرؑ تری شاخِ ثمردار

وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمُم ہے

”اورنگِ سلیماں“ تری نعلین کا خاکہ

”اعجازِ مسیحا“ تری بکھری ہوئی خوشبو

”حُسنِ یدِ بیضا“ تری دہلیز کی خیرات

کونین کی سج دھج تری آرائشِ گیسو

سَر چشمۂ کوثر ترے سینے کا پسینہ

سایہ تری دیوار کا معیارِ اِرَم ہے

ذرے تری گلیوں کے مہ و انجمِ افلاک

”سورج“ ترے رہوار کا اک نقشِ قدم ہے

دنیا کے سلاطیں ترے جارُوب کشوں میں

عالم کے سکندر تری چوکھٹ کے بھکاری

گردُوں کی بلندی، تری پاپوش کی پستی

جبریلؑ کے شہپر ترے بچوں کی سواری

دھرتی کے ذوِی العدل، تِرے حاشیہ بردار

فردوس کی حوریں، تِری بیٹی کی کنیزیں

کوثر ہو، گلستانِ ارم ہو کہ وہ طُوبیٰ

لگتی ہیں ترے شہر کی بکھری ہوئی چیزیں

ظاہر ہو تو ہر برگِ گُلِ تَر تِری خوشبو

غائب ہو تو دنیا کو سراپا نہیں ملتا

وہ اسم، کہ جس اسم کو لب چوم لیں ہر بار

وہ جسم کہ سورج کو بھی سایہ نہیں ملتا

احساس کے شعلوں میں پگھلتا ہوا سورج

انفاس کی شبنم میں ٹھٹھرتی ہوئی خوشبو

الہام کی بارش میں یہ بھیگے ہوئے الفاظ

اندازِ نگارش میں یہ حُسن رمِ آہو!

حیدرؑ تری ہیبت ہے تو حسنینؑ ترا حُسن

اصحاب؟ وفادار تو نائب ترے معصوم

سلمٰیؑ تری عصمت ہے، خدیجہؑ تری توقیر

زہراؑ تری قسمت ہے تو زینبؑ ترا مقسوم

کس رنگ سے ترتیب تجھے دیجیے مولا؟

تنویر کہ تصویر، تصور کہ مصور؟

کس نام سے امداد طلب کیجیے تجھ سے

یٰسین کہ طہٰ کہ مزمل کہ مدثر؟

پیدا تری خاطر ہوئے اطرافِ دو عالم

کونین کی وسعت کا فسوں تیرے لیے ہے

ہر بحر کی موجوں میں تلاطم تری خاطر

ہر جھیل کے سینے میں سکوں تیرے لیے ہے

ہر پھول کی خوشبو ترے دامن سے ہے منسوب

ہر خار میں چاہت کی کھٹک تیرے لیے ہے

ہر دشت و بیاباں کی خموشی میں ترا راز

ہر شاخ میں زلفوں سی لٹک تیرے لیے ہے

”دن“ تیری صباحت ہے تو شب تیری علامت

گُل تیرا تبسم ہے، ستارے ترے آنسو!

آغازِ بہاراں تری انگڑائی کی تصویر

دِلدارئ باراں ترے بھیگے ہوئے گیسو

کہسار کے جھرنے، ترے ماتھے کی شعاعیں

یہ قوسِ قزح، عارضِ رنگیں کی شکن ہے

یہ ”کاہکشاں“ دھول ہے نقشِ کفِ پا کی

ثقلین ترا صدقۂ انوارِ بدن ہے

ہر شہر کی رونق ترے رستے کی جمی دھول

ہر بَن کی اداسی، تری آہٹ کی تھکن ہے

جنگل کی فَضا تیری متانت کی علامت

بستی کی پھبن تیرے تبسم کی کِرن ہے

میداں ترے بُوذر کی حکومت کے مضافات

کہسار ترے قنبر و سلماں کے بسیرے

صحرا، ترے حبشی کی محبت کے مصلّے!

گلزار ترے میثم و مِقداد کے ڈیرے

کیا ذہن میں آئے کہ تو اترا تھا کہاں سے؟

کیا کوئی بتائے تری سرحد ہے کہاں تک؟

پہنچی ہے جہاں پر تری نعلین کی مٹی

خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک

سوچیں تو خدائی تری مرہونِ تصور

دیکھیں تو خدائی سے ہر انداز جدا ہے

یہ کام بشر کا ہے نہ جبریلؑ کے بس میں

تو خود ہی بتا اے مرے مولاﷺ کہ تو کیا ہے؟

کہنے کو تو ملبوسِ بشر اوڑھ کے آیا

لیکن ترے احکام فلک پر بھی چلے ہیں

انگلی کا اشارہ تھا کہ تقدیر کی ضَربت

مہتاب کے ٹکڑے تری جھولی میں گِرے ہیں

کہنے کو تو بستر بھی میسر نہ تھا تجھ کو

لیکن تری دہلیز پہ اترے ہیں ستارے

انبوہِ ملائک نے ہمیشہ تری خاطر

پلکوں سے ترے شہر کے رَستے بھی سنوارے

کہنے کو تو اُمّی تھا لقب دہر میں تیرا

لیکن تو معارِف کا گلستاں نظر آیا

اک تُو ہی نہیں صاحبِ آیاتِ سماوات

ہر فرد ترا وارثِ قرآں نظر آیا

کہنے کو تو فاقوں پہ بھی گزریں تری راتیں

اسلام مگر اب بھی نمک خوار ہے تیرا

تُو نے ہی سکھائی ہے تمیزِ من و یزداں

انسان کی گردن پہ سدا بار ہے تیرا

کہنے کو ترے سر پہ ہے دستارِ یتیمی

لیکن تو زمانے کے یتیموں کا سہارا

کہنے کو ترا فقر ترے فخر کا باعث

لیکن تُو سخاوت کے سمندر کا کنارا

کہنے کو تو ہجرت بھی گوارا تجھے لیکن

عالم کا دھڑکتا ہوا دل تیرا مکاں ہے

کہنے کو تو مَسکن تھا ترا دشت میں لیکن

ہر ذرہ تری بخششِ پیہم کا نشاں ہے

کہنے کو تو اک ”غارِ حرا“ میں تیری مسند

لیکن یہ فلک بھی تری نظروں میں ”کفِ خاک“

کہنے کو تو ”خاموش“ مگر جنبشِ لب سے

دامانِ عرب گرد، گریبانِ عجم چاک

اے فکرِ مکمل، رُخِ فطرت، لبِ عالم

اے ہادئ کُل، ختم رُسل، رحمتِ پیہم

اے واقفِ معراجِ بشر، وارثِ کونین

اے مقصدِ تخلیقِ زماں، حُسنِ مجسم

نسلِ بنی آدم کے حسیں قافلہ سالار

انبوہِ ملائک کے لیے ظلِّ الٰہی!

پیغمبرِ فردوسِ بریں، ساقیِ کوثر

اے منزلِ ادراک، دِل و دیدہ پناہی

اے باعثِ آئینِ شب و روزِ خلائق

اے حلقۂ ارواحِ مقدس کے پیمبرﷺ

اے تاجوَرِ بزمِ شریعت، مرے آقا

اے عارفِ معراجِ بشر، صاحبِ منبر

اے سیّد و سَرخیل و سر افراز و سخن ساز

اے صادق و سجّاد و سخی، صاحبِ اسرار

اے فکرِ جہاں زیب و جہاں گیر و جہاں تاب

اے فقرِ جہاں سوز و جہاں ساز و جہاں دار

اے صابر و صنّاع و صمیمِ وصفِ اوصاف

اے سرورِ کونین و سمیعِ یمِ اصوات

میزانِ اَنا، مکتبِ پندارِ تیقُّن!

اعزازِ خودی، مصدرِ صد رُشد و ہدایات

اے شاکر و مشکور و شکیلِ شبِ عالم

اے ناصر و منصور و نصیرِ دلِ انسان

اے شاہد و مشہود و شہیدِ رُخِ توحید،

اے ناظر و منظور و نظیرِ لبِ یزداں

اے یوسفؑ و یعقوبؑ کی اُمّید کا محور

اے بابِ مناجاتِ دلِ یونسؑ و ادریسؑ

اے نُوحؑ کی کشتی کے لیے ساحلِ تسکیں

اے قبلۂ حاجاتِ سلیماںؑ شہِ بلقیس

اے والئِ یثرب مری فریاد بھی سُن لے!

اے وارثِ کونین میں لَب کھول رہا ہوں

زخمی ہے زباں، خامۂ دل خون میں تر ہے

شاعر ہوں مگر دیکھ مَیں سچ بول رہا ہوں

تُو نے تو مجھے اپنے معارف سے نوازا

لیکن میں ابھی خود سے شناسا بھی نہیں ہوں

تُو نے تو عطا کی تھی مجھے دولتِ عِرفاں

لیکن میں جہالت کے اندھیروں میں گھِرا ہوں

بخشش کا سمندر تھا ترا لطف و کرم بھی

لیکن میں تیرا لطف و کرم بھول چکا ہوں

بکھری ہے کچھ ایسے شبِ تیرہ کی سیاہی

میں شعلگیِ شمعِ حرم بھول چکا ہوں

تُو نے تو مجھے کفر کی پستی سے نکالا

میں پھر بھی رہا قامتِ الحاد کا پابند

تُو نے تو مرے زخم کو شبنم کی زباں دی

میں پھر بھی تڑپتا ہی رہا صورتِ اَسپند

تُو نے تو مجھے نکتۂ شیریں بھی بتایا

میں پھر بھی رہا معتقدِ تلخ کلامی

تُو نے تو مرا داغِ جبیں دھو بھی دیا تھا

میں پھر بھی رہا صید و ثنا خوانِ غلامی

تُو نے تو مسلط کیا افلاک پہ مجھ کو

میں پھر بھی رہا خاک کے ذرّوں کا پجاری

تُو نے تو ستارے بھی نچھاور کیے مجھ پر

میں پھر بھی رہا تیرگئ شب کا شکاری

تُو نے تو مجھے درسِ مساوات دیا تھا

میں پھر بھی مَن و تُو کے مراحل میں رہا ہوں

تُو نے تو جدا کر کے دکھایا حق و باطل

میں پھر بھی تمیزِ حق و باطل میں رہا ہوں

تُو نے تو کہا تھا کہ زمیں سب کے لیے ہے

میں نے کئی خطوں میں اسے بانٹ دیا ہے

تُو نے جسے ٹھوکر کے بھی قابل نہیں سمجھا

میں نے اُسی کنکر کو گہر مان لیا ہے

تُو نے تو کہا تھا کہ زمانے کا خداوند

انساں کے خیالوں میں کبھی آ نہیں سکتا

لیکن میں جہالت کے سبب صرف یہ سمجھا

وہ کیسا خدا؟ جس کو بشر پا نہیں سکتا

تُو نے تو کہا تھا کہ وہ اونچا ہے خِرد سے

مَیں نے یہی چاہا اتر آئے وہ خِرد میں

تو نے تو کہا تھا ”اَحد“ ہے وہ اَزل سے

میں نے اُسے ڈھونڈا ہے سدا ”حِسّ و عدد“ میں

اب یہ ہے کہ دنیا ہے مری تیرہ و تاریک

سایۂ غمِ دوراں کا محیطِ دل و جاں ہے

ہر لمحہ اداسی کے تصرف میں ہے احساس

تا حدِ نظر خوفِ مسلسل کا دھواں ہے

صحرائے غم و یاس میں پھیلی ہے کڑی دھوپ

کچھ لمسِ کفِ موجِ صبا تک نہیں ملتا

بے اَنت سرابوں میں کہاں جادۂ منزل؟

اپنا ہی نشانِ کفِ پا تک نہیں ملتا

اَعصاب شکستہ ہیں تو چھلنی ہیں نگاہیں

احساسِ بہاراں، نہ غمِ فصلِ خزاں ہے

آندھی کی ہتھیلی پہ ہے جگنو کی طرح دل

شعلوں کے تصرف میں رگِ غنچۂ جاں ہے

ہر سمت ہے رنج و غم و آلام کی بارش

سینے میں ہر اک سانس بھی نیزے کی اَنی ہے

اب آنکھ کا آئینہ سنبھالوں میں کہاں تک

جو اشک بھی بہتا ہے وہ ہیرے کی کنی ہے

احباب بھی اعدا کی طرح تیر بکف ہیں

اب موت بھٹکتی ہے صفِ چارہ گراں میں

سنسان ہے مقتل کی طرح شہرِ تصور

سہمی ہوئی رہتی ہے فغاں، خیمۂ جاں میں

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment