Allah Walo Ki Namaz Moulana Jalal u din Roomi Aur Aik Qazi

Rate this post

Qazi Aur Jalal u din Roomi

ایک مرتبہ حضرت مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ قاضی نجم الدین ثنائی دیوان کے پاس کسی کام سے گئے تو خادم نے کہا کہ قاضی صاحب نماز پڑھ رہے ہیں تو حضرت مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ نے خادم سے پوچھا کہ کیا قاضی کو نماز پڑھنا آتی ہے ؟

جب قاضی صاحب نے یہ بات سنی تو نماز کے فوراً بعد ہی حضرت مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ یہ کیسی بات کہی آپ نے ؟

تو حضرت مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ فقیر اور عالم کی نماز میں فرق ہوتا ہے عالم اس وقت تک نماز نہیں پڑھتا جب تک کہ وہ بیت اللہ کی سمت کا تعین نہ کر لے اگر معلوم نہ ہو سکے تو دل میں تحری کرتا ہے

پھر دل جس طرف گواہی دے اس طرف منہ کر کے نماز ادا کر لیتا ہے اور فقیر اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک عرش کو برابر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے

پھر حضرت مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ قاضی صاحب کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے

رات کو قاضی صاحب نے خواب میں حضرت مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا

کہ وہ عرش پر مصلہ بچھائے نماز ادا کر رہے ہیں تو خواب کی ہیبت سے بیدار ہوئے تو فوراً حضرت مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچے اور کہا معذرت کی کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ مجھے اس نماز کے معاملہ میں معذور ہی سمجھیں تو حضرت مولانا جلال الدین رومی تبریزی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اے نجم الدین یہ جو تم نے دیکھا کہ میں عرش پر مصلہ بچھائے نماز پڑھ رہا ہوں یہ تو فقیروں کا ادنیٰ سا درجہ ہے

فقیر جب اس سے بھی آگے ستر ہزار مقامات طے کر لیتا ہے تو وہ اپنی پانچوں نماز یں ساکنانِ عرش کے ساتھ ادا کرتا ہے اور جب وہاں سے لوٹتا ہے تو اپنے آپ کو بیت اللہ میں دیکھتا ہے اور جب وہاں سے لوٹتا ہے تو پوری کائنات کو اپنی پانچ انگلیوں کے درمیان میں دیکھتا ہے اور جب فقیر اس سے بھی آگے ستر ہزار مقامات طے کر لیتا ہے تو پھر اس کا مقام مکاں سے نکل کر لا مکاں میں ہوتا ہے اور اس پر صرف اللہ تعالی کے سوا کوئی بھی واقف حال نہیں ہوتا

مولانا رومی

نماز کا درجہ تمام عبادتوں سے بلند ہے

حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ سنت رسول ﷺ کے زندہ نمونہ اور بے حد پابند تھے ___

ہمیشہ مُریدوں کو اتباع شریعت و سنت رسول ﷺ کی ہدایت فرماتے تھے ___

آپ رحمتہ اللہ علیہ نماز کی فضیلت و اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں !

 ‘‘نماز ایمان والوں کے لیے معراج کا درجہ رکھتی ہے__ حضور ﷺ کا ارشاد ہے!

‘‘الصلوٰۃ معراج المؤمنین’’ نماز کا درجہ دوسری تمام عبادتوں سے بلند ہے جو عبادت مسلمانوں کو خدا سے ملاتی ہے وہ نماز ہے __ نماز اللہ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے اور راز صرف نماز ہی میں کہا جاسکتا ہے’’

سیرت پاک خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ عیہ

Khwaja Ghareeb Nawaz

حکایاتِ_رومیؒ

(اللّٰہ والوں کی عبادت)

ایک ولی اللّٰہ امامت کے لیے کھڑے ہوۓ چند ہم عصر ساتھی بھی ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی وہ حضرات تکبیروں سے وابسطہ ہوۓ قربانی کی طرح اس فانی دنیا سے باہر نکل گۓ۔ تکبیر (اللّٰه اکبر) کے معنی ان کے نزدیک یہ تھے کہ اے اللّٰه ہم تیرے نام پر قربان ہوۓ جیسے ذبح کے وقت اللّٰه اکبر پڑھی جاتی ہے۔ انہوں نے اللّٰه اکبر پڑھی اور اپنے نفس کی گردن کاٹ دی اور جسم شہوتوں اور حرص سے پاک ہو گیا۔ بسم اللّٰه کے ذریعے نماز میں بسمل ہو گیا اس کے بعد انہوں نے قیامت کے دن کی طرح اللّٰه کے حضور کھڑے ہو کر ہاتھ باندھ دیے میں نے ایک عمر تمہیں عطا کی ، روزی دی ، طاقت دی تو نے کس کس کام میں لگائی۔ بینائی ، سماعت اور دیگر حواس کی دولت تجھے دی تو نے یہ دولت کس کام میں صرف کی؟ تجھے کام کرنے کے لیے ہاتھ اور پاؤں دیے انہیں تو نے کس کام میں استعمال کیا؟

قیام کی حالت میں اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے متعدد ایسے سوالات ہوتے رہے کیونکہ انسان کا دامن قاری تھا لہذا وہ سوالوں کی تاب نہ لا سکا اور فورا رکوع میں چلا گیا ۔ شرم اور ندامت سے رکوع میں اللّٰه عزوجل کی عظمت کی بڑائی کرنے لگا۔ اللّٰه کا حکم ہوتا ہے رکوع سے اٹھ اور جواب دے وہ سر اٹھاتا ہے۔۔ پھر بولنے کی طاقت نہ پا کر سجدہ میں منہ کے بل بل گر پڑتا ہے۔ پھر دوبارہ سجدے سے اٹھنے کا حکم ہوتا ہے۔

پھر سر اٹھا کر گر پڑتا ہے۔ پھر اللّٰه اکبر کا نعرہ لگاتے ہوۓ کھڑا ہوتا ہے پھر اس کے ساتھ یہی عمل دہرایا جاتا ہے۔ دوسری رکعت مکمل کرنے کے بعد کھڑے ہونے کی تاب نہ پا کر قعدہ میں بیٹھ جاتا ہے قعدہ کی حالت میں اللّٰه تعالیٰ پھر فرماتے ہیں۔ میں نے تجھے بے شمار نعمتیں دیں تُو نے کیسے خرچ کیں۔ مجھے حساب دے چونکہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا وہ جواب نہیں دے پاتا۔۔۔ داہنے طرف سلام کہتا ہے اور انبیاۓ کرامؓ کو مخاطب کر کے اپنی مدد کے لیے بلاتا ہے پھر بائیں جانب اپنے اہلِ خاندان اور دوست احباب کو سلام کہہ کر مدد کے لیے بلاتا ہے جب کوئی جواب نہیں پاتا تو مایوس ہو کر رحیم کریم آقا کے حضور دعا کے لیے ہاتھ بلند کر لیتا ہے۔ پھر آہ و زاری سے اللّٰه تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

#حکایاتِ_رومیؒ صفحہ: 131

اس حکایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اولیاۓ کاملین کے طریق پر عمل کرتے ہوۓ تزکیۂ نفس ، تصفیۂ قلب اور بیدارئ روح کا اہتمام کریں تاکہ ہمیں نماز میں حضورئ قلب حاصل ہو اور ہماری نماز مرتبۂ معراج کو پہنچے ہمیں اللّٰہ پاک کی محبت اور دیدار کا ذوق و شوق حاصل ہو۔

شوق گر تیرا نہ ہو میری نماز کا امام

میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment