8شوال المکرم ـــــــــــ یومِ انـہدامِ جـنت البـقیع

Rate this post

8شوال المکرم ـــــــــــ یومِ انـہدامِ جـنت البـقیع💔😢جنّتُ البقیع مدینۂ منورہ کا قدیم، مشہورومبارک قبرِستان ہے،مسجد نَبَوی کے جوارِ رحمت میں جُنوب مشرِقی جانب واقع یہ قبرستان لاکھوں مسلمانوں کی زیارت گاہ ہے، عاشقانِ رسول یہاں مزاراتِ صحابہ و اولیاءپر حاضِری دے کر فاتِحہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

جنت البقیع کابطورِ قبرستان انتخاب رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں اپنے اصحاب کی تدفین فرمائیں، آپ نے مختلف جگہوں کو ملاحظہ فرمایااور پھر یہ سعادت جنت البقیع کو حاصل ہوئی، ارشاد فرمایا:مجھے اس جگہ یعنی بقیع (کے انتخاب ) کا حکم ہوا ہے۔

      (مستدرک،ج4،ص191،حدیث:4919)

 ”جنت البقیع کے نام اور اُسکی وجہ“:-

                                         عربی میں بقیع درخت والے میدان کو کہتے ہیں اس میدان میں پہلے غَرْقَدکے درخت تھے اسی لئے اس جگہ کا نام ”بقیعُ الْغَرقد“ ہو گیا۔(مراٰۃ المناجیح،ج 2،ص525) عرب لوگ عُمُوماً اپنے قبرِستانوں کو جنّت کہہ کر پکارتے ہیں اسی لئے ”جنت البقیع“ پکاراجانے لگا۔ اَعْرابیوں میں اس کا نام ”مقابِرُ البقیع “مشہور ہے۔ (جستجوئے مدینہ، ص598ماخوذاً)

”جنت البقیع کا رقبہ“:-

                           جنت البقیع کا کل رقبہ اِبتدائے اسلام میں اس کا رقبہ کم تھا، حضرت سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہکے دور میں اس کی پہلی توسیع ہوئی پھر مزید توسیعات ہوئیں، تُرک دورِ حکومت کے آخر میں اس کا کل رقبہ 15000مربع میٹر تھا، بعدازاں مزید توسیعات بھی ہوتی رہیں اور آج کل اس کا کل رقبہ تقریباً 56000مُرَبَّع میٹر ہے۔

        (جستجوئے مدینہ، ص598 ماخوذاً)

 ”جنت البقیع میں مدفون عظیم ہستیاں“:-

                                        ”جنت البقیع“ دنیا کے تمام قبرستانوں سے افضل ہے، یہاں تقریباً 10ہزارصحابۂ کرام و اَجَلَّہ اہلِ بیتِ اطہار علیہمُ الرِّضوان اور بے شمار تابعینِ کرام،تبع تابعین اور اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَاماوردیگر خوش بخت مسلمان مدفون ہیں۔(جنتی زیور، ص 390، عاشقان رسول کی 130حکایات، ص262) چند مشہور نام یہ ہیں: حضرت سیّدنا عباس بن عبدالمطلب، امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی،سیّدنا عبدالرحمٰن بن عوف، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیّدنا امام حسن، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا حَسّان بن ثابت ،سیّدہ فاطمۃُ الزَّہراء،امّ المؤمنین سیّدتنا عائشہ صدیقہ و کئی اُمہات المؤمنین،رسولِ خدا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لختِ جگر سیدنا ابراہیم رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔

          (وفاء الوفا،ج 3،ص1411 وغیرہ)

 سب سے پہلے مدفون صحابی مہاجرین میں سے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالٰی عنہاور انصارمیں سے حضرت اسعد بن زُرَارَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سب سے پہلے جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔

(شرح ابوداؤد للعینی،ج5،ص272 ، تحت الحدیث:1339)

” رسولِ خداکی جنت البقیع میں تشریف آوری“:-

         حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثروبیشتر جنت البقیع تشریف لے جایا کرتے تھے، اُمُّ المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ ایک بار آپ رات کےآخری پہرجنت البقیع تشریف لے گئے اور اہل بقیع کےلئے دُعائے مغفِرت فرمائی۔

 (مسلم،ص376،حدیث:2255،جذب القلوب، ص149)

”جنت البقیع کے فضائل“:-

              فرمان مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی (یعنی کھلے گی)، پھر ابوبکر کی اور پھر عمر کی، ا س کے بعد میں اہلِ بقیع کے پاس آؤں گا تو انہیں میرے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ (ترمذی،ج 5،ص388، حدیث:3712) ایک روایت میں ارشاد فرمایا: اس قبرستان سے سترہزار ایسے لوگ اٹھائے جائیں گےجو بغیر حساب کے داخِلِ جنت ہوں گے۔

 (مجمع الزوائد،ج3،ص686، حدیث: 5908ملخصاً)

 ”جنت البقیع میں دفن ہونے کے فضائل“:-

                            یہاں دفن ہونے والوں کے لئےمغفِرت کی دُعا فرمائی گئی، چنانچہ احمد مجتبےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!بقیعِ غرقد والوں کی مغفرت فرما۔ (مسلم، ص376، حدیث: 2255) شفاعت کی بشارت دی گئی،فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے: جسے ہمارے اس قبرستان (یعنی بقیع غرقد) میں دفن کیا جائے گا (روزِ قیامت) ہم اس کی شفاعت کریں گے۔ یا فرمایا: اس کی گواہی دیں گے۔(تاریخ مدینہ لابن شبۃ،ج 1،ص97)

جنت البقیع میں دفن ہونے کی خواہش یہی وجہ ہے کہ بعض صحابۂ کرامعلیہمُ الرِّضوان نے جنت البقیع میں اپنی تدفین کی وصیت فرمائی چنانچہ دُوردَراز عَلاقوں سے ان کی مَیِّت کو لاکر جنت البقیع میں دفنایا گیا،ایسے چند صحابہ کرام کےنام یہ ہیں: حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا سعید بن زید، سیدنا سعید بن عاص، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ (جستجوئے مدینہ، ص604ماخوذاً)

”جنت البقیع میں حاضری کا طریقہ“:-

                                  جنت البقیع کے مَدْفُونِین کی خدمت میں باہر ہی کھڑے ہوکر سلام عرض کریں اور باہر ہی سے دعا کریں کہ اب جنت البقیع میں موجود تقریباً تمام مزارات کو شہیدکردیا گیا ہے، اگر آپ اندرگئے تو کیا معلوم آپ کا پاؤں کس صحابی یا ولی کے مزار پر پڑرہا ہے۔ عام مسلمانوں کی قبروں پر بھی پاؤں رکھنا حرام ہے، جوراستہ قبریں مُنْہَدِم (Demolised) کرکےبنایا جائے اس پرچلنا بھی حرام ہے۔

(رفیق الحرمین، ص 235 ، 236 ملخصاً)

اے ربِّ کریم!ہمیں ایمان و عافیت کے ساتھ شہادت کی موت اور جنت البقیع میں مَدْفَن عطا فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ:

          یہ مضمون ”ماہنامہ فیضان مدینہ“ شمارہ شوال المکرم1439ھ بمطابق جون/جولائی2018ء سے لیا گیا ہے

#jannatulbaqi #MBR786

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment