فرقہ ، فرقہ پرستی کی حقیقت

Rate this post

امت میں فرقہ پرستی اللہ کی حکمت ہے حق اور باطل ایک نہیں ہو سکتے یہ رب کریم کا فرمان ہے جس کو حق سمجھ میں آئے وہ حق کو قبول کرلیں :-

اور اگر تمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت بنادیتا اور لوگ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے۔ البتہ جن پر تمہارے رب نے رحم کیا اور اللہ نے انہیں اسی کے لئے پیدا فرمایا ہے اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سے ملا کربھر دوں گا۔ *(سورہ ھود آیت نمبر 118/119)*

{وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ:اور اگرتمہارا رب چاہتا ۔} ارشاد فرمایا ’’اگر تمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت بنا دیتا اور یوں سب کا ایک ہی دین ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ایسا نہ چاہا اور سب کو ایک امت نہ بنایا اور لوگ ہمیشہ مختلف دینوں پر عمل پیرا رہیں گے۔ علامہ صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہو اکہ اختلاف جس طرح پہلی امتوں میں موجود تھا اُسی طرح اس امت میں بھی رہے گا تو ان میں سے کوئی مومن ہو گا کوئی کافر، کوئی نیک ہو گا اور کوئی گناہگار، اسی لئے حدیث میں ہے کہ یہودی 71 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور عنقریب تم 73 فرقوں میں بٹ جاؤ گے، ان میں سے72 فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا اور وہ ایک جنتی فرقہ اہلِ سنت وجماعت ہے۔ *(صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۳ / ۹۳۸)*

{ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ:البتہ جن پر تمہارے رب نے رحم کیا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ البتہ وہ لوگ جن پر تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے رحم کیا اور انہیں اختلاف سے بچا لیا تو وہ دینِ حق پر متفق رہیں گے اور اس میں اختلاف نہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ نے لوگ اسی لیے یعنی اختلاف والے اختلاف کے لئے اور رحمت والے اتفاق کے لئے پیدا کئے ہیں اور تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی بات پوری ہوچکی کہ وہ جہنم کوتمام کافر جنوں اور انسانوں سے بھر دے گا۔ *(مدارک،ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ص۵۱۷)*

*فرقہ بندی کا سبب اور حق پر کون؟*

 *جو سب سے بڑھی جماعت ہیں وہی حق جماعت ہیں باطل فرقوں کا ردد کرنا فرقہ پرستی نہیں امت میں اتحاد چاہتے ہو تو باطل فرقوں کو چھوڈ کر اہلے سنّت جماعت میں شامل ہوجاؤں وہی سب سے بڑھی جماعت :-

   ترجمۂ کنز العرفان

بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود مختلف گروہ بن گئے اے حبیب! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان کا معاملہ صرف اللہ کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ *(سورۃ انعام آیت نمبر 159)*

 حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا ہے اور انہیں اختلاف اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ ان سے پہلے لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین میں جھگڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ *(تفسیر ابن ابی حاتم، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۵ / ۱۴۳۰)*

خلاصہ یہ کہ اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نظریے پر متفق ہونے، دین میں فرقہ بندی اور بِدعات اختیار کرنے سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ فی زمانہ بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلام میں فرقہ بندی کیوں ہے اور ان میں حق پر کون ہے؟ اس سلسلے میں چند باتیں ذہن نشین کر لیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ ! آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گا کہ فرقہ بندی کا اصل سبب کیا ہے اور مختلف فرقوں میں سے حق پر کونسا فرقہ ہے

 *پہلی بات* : یہ امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہو گی۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اِنَّ اُمَّتِیْ لَا تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَاِذَارَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمِ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی، جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ *(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم، ۴ / ۳۲۷، الحدیث:۳۹۵۰)*

 *دوسری بات* : حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صدیوں پہلے ہی اس اختلاف اور فرقہ بندی کے بارے میں پیشین گوئی فرما دی تھی، چنانچہ حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَتَفْتَرِقَنَّ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَا ثٍ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً، وَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ، قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللہِ مَنْ ہُمْ قَالَ اَلْجَمَاعَۃُ اس ذات کی قسم !جس کے دستِ قدرت میں محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی جان ہے، میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی (ان میں سے) ایک جنت میں جائے گا اور 72 جہنم میں جائیں گے۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) وہ جنتی کون ہوں گے ؟ارشاد فرمایا :وہ جماعت ہے۔

*(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب افتراق الامم،۴ /۳۵۲، الحدیث: ۳۹۹۲)*

واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اختلافِ امت کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ عین حق اور صواب پر مبنی تھا۔

 *تیسری بات* :یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اس دورِ اختلاف میں حق پسند اور نجات پانے والے گروہ کا پتا کیسے چلے گا، کس طرح معلوم ہو گا کہ موجودہ فرقوں میں حق پر کون ہے۔ اس کی رہنمائی بھی حدیث پاک میں کر دی گئی ہے کہ اِذَا رَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُ مْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمْ جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ *(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم،۴/ ۳۲۷ ، الحدیث:۳۹۵)*

 اس روایت میں اختلاف سے مراد اصولی اختلاف ہیں جس میں ’’کفر و ایمان‘‘ اور ’’ہدایت وضلالت ‘‘ کا فرق پایا جائے، فروعی اختلاف ہر گز مراد نہیں کیونکہ وہ تو رحمت ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے ’’ اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ میری امت کا (فروعی) اختلاف رحمت ہے۔ *(کنز العمال، کتاب العلم، قسم الاقوال، ۵ / ۵۹ ، الحدیث:۲۸۶۸۲، الجزء العاشر )*

اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر موجودہ اسلامی فرقوں میں اس بڑے فرقے کو تلاش کیجئے جو باہم اصولوں میں مختلف نہ ہوں اور جس قدر اسلامی فرقے اس کے ساتھ اصولی اختلاف رکھتے ہوں وہ ان سب میں بڑا ہو۔ آپ کو اہلسنّت و جماعت کے سوا کوئی نہ ملے گا جس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، چشتی، سہروردی، نقشبندی، اشعری ، ماتریدی سب شامل ہیں یہ سب اہلسنّت ہیں اور ان کے مابین کوئی ایسا اصولی اختلاف نہیں جس میں کفر و ایمان یا ہدایت و ضَلال کا فرق پایا جائے لہٰذا اس پر فتن دور میں حدیثِ مذکور کی رُو سے سوادِ اعظم اہلسنّت و جماعت ہے اور اس کا حق پر ہونا بھی ثابت ہوا۔

جماعت کو چھوڑ کر اپنی الگ جماعت بنانا فرقہ پرستی ہیں باطل فرقوں کا ردد کرنا فرقہ پرستی نہیں ہے اتفاق کا حکم اور اختلاف کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت:-*

  ترجمۂ کنز العرفان

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو آپس میں مُتَفَرّق ہو گئے اورانہوں نے اپنے پاس روشن نشانیاں آجانے کے بعد (بھی) آپس میں اختلاف کیا اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ *(سورۃ آل عمران آیت نمبر 105)*

 تفسیر صراط الجنان

{ وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا : اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو آپس میں متفرق ہو گئے۔} ارشاد فرمایا کہ آپس میں تَفَرُّقَہ بازی اور اختلافات میں نہ پڑجانا جیسا کہ یہود ونصاریٰ آپس میں اختلافات میں پڑگئے اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ عناد اور دشمنی راسِخ ہوگئی یا آیت کا یہ معنیٰ ہے کہ آپس میں اُس طرح اختلاف و اِفتراق میں نہ پڑجانا جیسے تم زمانہ اسلام سے پہلے جاہلیت کے وقت میں متفرق تھے اورتمہارے درمیان بغض و عِناد تھا۔

اس آیت میں مسلمانوں کو آپس میں اتفاق و اجتماع کا حکم دیا گیا اور اختلاف اور اس کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بہت تاکیدیں وارد ہیں اور مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہونے کی سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا دست ِرحمت جماعت پر ہے اور جو جماعت سے جدا ہوا وہ دوزخ میں گیا۔ *( ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ ، ۴ / ۶۸، الحدیث : ۲۱۷۳)*

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہ ہو گی،جب تم اختلاف دیکھو تو بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔ *( ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم ، ۴ / ۳۲۷، الحدیث : ۳۹۵۰)*

 آج کل جو فرقہ پیدا ہوتا ہے وہ اس حکم کی مخالفت کرکے ہی پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور حدیث کے مطابق وہ شیطان کا شکار ہے ۔ *( معجم الکبیر، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ۔الخ ، ۱ / ۱۸۶، الحدیث : ۴۸۹)*

اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ خیال رہے کہ نا اتفاقی اور پھوٹ کا مجرم وہ شخص ہوگا جو مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر نئی راہ نکالے، جو اسلام کی راہ پر قائم ہے وہ مجرم نہیں۔

*جن لوگوں نے دین کے ٹکڑے کیے وہی کہتے ہیں فرقہ پرستی نہ کرو نہ وہ اس حدیث کو مانتے ہیں نہ علم غیب کو نہ وہ سب سے بڑھی جماعت ہیں اہلے سنّت جماعت حق جماعت جو سب سے بڑھی جماعت ہیں جو باطل کو باطل کہتے ہیں جو علم غیب کو ثابت بھی کرتے ہیں ہر حدیث علم غیب ہیں :-*

  ترجمۂ کنز العرفان

تو ان کی امتوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، ہرگروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔ *(سورۃ المومنون آیت نمبر 53)*

 تفسیر صراط الجنان

{ فَتَقَطَّعُوْا : تو ان کی امتوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔} یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دین ایک ہی ہے البتہ ان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امتوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور یہودی، عیسائی، مجوسی وغیرہ فرقے فرقے ہوگئے۔ معنی یہ ہے کہ ہر قوم نے ایک کتاب کو مضبوطی سے تھام لیا، صرف اسی پر ایمان لائے اور دیگر کتابوں کا انکار کر دیا۔ ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے اور اپنے ہی آپ کو حق پر جانتا ہے اور دوسروں کو باطل پر سمجھتا ہے۔ اس طرح اُن کے درمیان دینی اختلافات ہیں۔ *( تفسیرسمرقندی، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۵۳ ، ۲ / ۴۱۵ ، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ : ۵۳ ، ۳ / ۳۲۷ ، ملتقطاً )*

اسی طرح امتیں یوں بھی ٹکڑوں میں بٹیں کہ فرقوں میں بٹ گئیں اور اپنے دین کی اپنی اپنی تشریحات بنالیں جیسے یہودیوں اور عیسائیوں میں ہوا کہ بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔دین کی یہ تفریق بھی حرام ہے۔ اس حوالے سے یہاں دو اَحادیث ذکر کی جاتی ہیں ۔

(1) حضرت معاویہ بن سفیان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا’’خبردار ہو جاؤ!تم سے پہلے اہلِ کتاب بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور عنقریب یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی،بہتر فرقے تو جہنم میں جائیں گے اور ایک ہی فرقہ جنت میں جائے گا اور وہ سب سے بڑی جماعت ہے۔‘‘ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے کہ گمراہی ان میں یوں سرایت کر جائے گی جیسے باؤلے کتے کے کاٹے ہوئے آدمی کے جسم میں زہر سرایت کر جاتا ہے۔ایک روایت میں یوں ہے کہ جیسے کتے کے کاٹے ہوئے کے جسم میں زہر داخل ہو جاتا ہے کہ کوئی رگ اور کوئی جوڑ اس سے نہیں بچتا۔ *(ابو داؤد، کتاب السنّۃ، باب شرح السنّۃ ، ۴ / ۲۶۳، الحدیث: ۴۵۹۷)*

(2 ) حضرت عرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ایک دن صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں انتہائی بلیغ وعظ فرمایا جس سے ہر آنکھ سے آنسو رواں ہو گئے اور سب کے دل لرز گئے۔ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یہ تو اس شخص کی نصیحت کی طرح ہے جو رخصت ہو رہا ہو۔ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور اگر کوئی حبشی غلام تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے تو اس کا بھی حکم سننا اور اس کی اطاعت کرنا۔بے شک تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ تم (شریعت کے خلاف) نئی باتوں سے بچتے رہنا کیونکہ یہ گمراہی ہے۔تم میں جو شخص یہ زمانہ پائے اسے میرا اور میرے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والے خُلفاء کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے اور تم سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ *(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الاخذ بالسنّۃ واجتناب البدع ، ۴ / ۳۰۸ ، الحدیث: ۲۶۸۵)*

اہلے ایمان والوں کو فرقہ پرستی میں مبتلا کرنے والے اہلِ کتاب ہی جتنے بھی باطل فرقے دیوبندی وہابی اہل حدیث قادیانی یہ سب فرقہ اہلے کتاب والوں کی کوشیش سے بنے ہیں جتنے بھی گستاخ مولوی ہی سب کا تعلق ان باطل جماعت سے ہی 200 سال پہلے کی تاریخ دیکھ لوں ان میں سے کسی وجود نہیں ملیگا :-

اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب میں سے کسی گروہ کی اطاعت کرو تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کفر کی حالت میں لوٹا دیں گے۔اور (ایمان والو! اب) تم کیوں کفر کروگے حالانکہ تمہارے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف فرما ہے اور جس نے اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لیا تو اسے یقینا سیدھا راستہ دکھادیا گیا۔اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ضرور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔(سورۃ آل عمران آیت نمبر 100/103)

{ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ : اور جس نے اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لیا۔} جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا سہارا تھاما یعنی اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور اس کے دین کو مضبوطی سے تھام لیا اور زندگی کے جملہ امور میں اسی کی طرف رجوع کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کرم سے وہ ضرور ہدایت پاجائے گا۔

 { اِتَّقُوا اللّٰهَ : اللہ سے ڈرو۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ایسا ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بَقدرِ طاقت اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اس کی تفسیر وہ آیت ہے جس میں فرمایا گیا: فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ( تغابن : ۱۶ )

ترجمہکنزُالعِرفان :تو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھتے ہو۔

 نیز آیت کے آخری حصے میں فرمایا کہ اسلام پر ہی تمہیں موت آئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی طرف سے زندگی کے ہر لمحے میں اسلام پر ہی رہنے کی کوشش کرو تاکہ جب تمہیں موت آئے تو حالت ِ اسلام پرہی آئے۔

{وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا : اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔} اس آیت میں اُن افعال و حرکات کی مُمانَعت کی گئی ہے جو مسلمانوں کے درمیان تفریق کا سبب ہوں ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ’’تم سب مل کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں فرقوں میں تقسیم نہ ہو جاؤ جیسے یہود و نصاریٰ نے فرقے بنالئے ۔

*کاش ہم سوشل میڈیا کا استعمال کچھ اس طریقے سے کرتیں !!*

  آج جب ہر چہار جانب سے اسلام دشمن عناصر جدید ذرائع ابلاغ “سوشل میڈیا” کے ذریعے اسلام کے خلاف نفرت اور تعصب کی ہوا کو فروغ دینے میں مصروف ہیں اور مسلمانوں پر فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی لعنت کو مسلط کر رہے ہیں اور دنیا کو مسلمانوں کے خلاف ورغلایا جارہا ہے، توہینِ رسالت جیسے سنگین جرم کو انجام دیا جا رہا ہے،اور نہ جانے کتنی ساری ویپ سائٹس اسلام دشمنوں کے ذریعے چلائ جا رہی ہیں،اور اسلام کے رخ روشن کو اپنی اسلام دشمنی کی بنا پر مجروح کرنے کی ناپاک کوششوں میں ہمہ تن مصروف ہیں،اور ساتھ ہی ساتھ کچھ باطل جماعتیں پوری تندہی اور منصوبہ بند طریقے سے اسلام کی آڑ میں اپنے باطل عقائد کی تبلیغ میں سر گرم ہیں،اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔لیکن ہمارا حال جو پہلے تھاآج اس سے بھی بدتر ہو تا جارہا ہے ہمارے پاس نہ اس وقت کوئی لائحہ عمل تھا اور نہ اب ہے نہ ہم اس وقت منظم تھے نہ اب ہیں۔

    بہر کیف اب ہمیں بھی پورے منصوبہ بند طریقے کے ساتھ ماضی کی کوتاہیوں کو بھلا کر دین اسلام کی نشر واشاعت اور دعوت وتبلیغ کے لیے”سوشل میڈیا” کا خاص طور پر صحیح استعمال کرنا ہوگا کہ آج جب ہمارا حریف سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو غلط طریقے سے لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہےتو یہ کہاں کی عقلمندی اور دانشمندی ہے کہ ہم بھی خاموش رہے اور اسلام اور مسلمان کے اوپر حملہ ہوتا ہوا دیکھتے رہیں اور اس کا جواب نہ دیں۔

    لهذا اب وقت آگیا ہے کہ ہم بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام اور اپنے مسلک کے صحیح رخ کو لوگوں کے سامنے پیش کریں،اور عزم مصمم کریں کہ اب ہمارا جو وقت بھی سوشل میڈیا پر گزرے گا وہ دین اسلام کے فروغ کے لیے ہوگا،اور اس کے لیے دن بھر میں جو کچھ بھی غیر ضروری باتیں فیس بک یا واٹس اپ کے ذریعہ بھیجتے یا شئر کرتے ہیں اسے ترک کرکے اپنے دین ومسلک کی تائید میں قرآنی آیات،احادیث کے متن مع ترجمہ،آقاۓ کریم صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت طیبہ،بزرگان دین کے احوال واقوال کو قارئین کے سامنے پیش کریں گے۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام دشمن عناصر کے چہروں پر ناکامی کا کرب،اور احساس محرومی کے ساۓ واضح طور پر نظر آئیں گے،اور پورے عالم میں ایک انقلاب پرپا ہوجاۓگا اور ملک کے گوشے گوشے میں اسلام کااصل چہرہ لوگوں کے سامنے ہوگا۔

  اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ رب لم یزل صحیح طور پہ ہم سبھوں کو دین متین کی خدمت کرنے جذبہ نصیب فرماۓ۔آمین١٢

   قو ت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

  دہر میں نام محمد سے اجالا کردے (ﷺ)

””ریاضِ فکر““

فرقہ پرستی وہ مُہلک زہر ہے جو سوچ ، جذبہ اور احساس کو اس قدر متأثر کرتا ہے کہ حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیتیں مَر جاتی ہیں۔

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

   جواب شکوہ بند نمبر 13

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی؛ اللّٰہ بھی؛ قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

چند مشکل الفاظ کے معانی مطالعہ فرمائیں

الفاظ۔۔۔۔۔ معانی

منفعت۔۔۔ فائدہ

حرم پاک۔۔۔ قبلہ و کعبہ

فرقہ بندی۔۔۔ فرقہ پرستی

ذاتیں۔۔۔ قومیں۔ برادریاں قبیلے

پنپنے کی۔۔۔ پھلنے پھولنے کی

مختصر تشریح

   علامہ اقبال اس بند میں پیغام یہ دے رہے ہیں کہ اللّٰہ عصر حاضر کے مسلمانوں سے فرما رہا ہے کہ مسلمانو!… اسلام کو قبول کر کے تم سب مسلمان ایک ملت اور ایک امت ہو؛ تم سب آپس میں بھائی بھائی اور ایک جسم کی مانند ہو؛ تم سب کا نفع اور نقصان ایک ہے؛ کیوں کہ سب کا دین و ایمان ایک ہے؛ قبلہ و کعبہ اور قرآن ایک ہے؛ مسلمانو!… تم سب ایک اللّٰہ کی ایک جماعت اور ایک نبی کی ایک امت ہو؛۔۔۔ کتنی بڑی تھی کہ تم آج کے مسلمان بھی ایک ہوتے؛ مگر تم فرقوں اور قوموں میں تقسیم در تقسیم ہو چکے ہو؛ آج تم میں کوئی فرقہ پرستی کی لعنت اور کوئی قوم اور وطن پرستی کی غلاظت کا شکار ہے؛ کیا آج کے زمانے میں پنپنے اور پھلنے پھولنے کی یہی باتیں ہیں؟ کیا کوئی قوم یوں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ترقی کر سکتی ہے؟؟؟؟

محترم قارئین۔۔۔ اب ایک بار پھر کلام اقبال کو ذوق و شوق سے پڑھئے اور پیغام اقبال کو اپنے دل کی تختی پر نقش کیجیے

   منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

   ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک

   حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک

   کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

   فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

   کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

                              (بزمِ اقبال)

فرقہ پرستی اور نسل پرستی انسان کو ضدی و احمق بنا دیتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ سورج صرف اُس کی کھڑکی سے نظر آتا ہے۔

اختلاف استدلال فرقہ پرستی نہیں

، مذہبی تعصب اور مسلکی منافرت فرقہ پرستی ہے۔

فرقہ پرستی قرآن مجید کی آیات اور

احادیث رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے بغاوت ہے

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment