50+ حضرت علی کے اقوال

Rate this post

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چند اقوال کی وضاحت

۱ ترجمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں : ” لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیں کی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے “۔

  ۲ قال علی رضی اللہ عنہ: ” انما قلب الحدث کالارض الخالیہ ما القی فیھا من شئی قبلتہ فباد رتک بالادب قبل ان یقسو قلبک و یشتغل لبک

 ۲ ترجمہ: ” حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امام حسن سے فرمایا : بچہ کا دل خالی زمین کے مانند ھے جو بھی اسے تعلیم دی جائے گی وہ سیکھے گا لھذا میں نے تمھاری تربیت میں بھت ھی مبادرت سے کام لیا قبل اس کے کہ تمھارا دل سخت اور فکر مشغول ھو جائے “ ۔

حضرت علی کے اقوال

۳ قال علی علیہ السلام: ” العافیہ عشرة اجزاء تسعة منھافی الصمت الابذکر اللھ و واحد فی ترک مجالسة السفھاء “

 ۳ ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : ” خیر و عافیت کے ۱۰/ جزء ھیں ان میں سے ۹ / جز ء خاموش رھنے میں ھیں سوائے ذکر خدا کے اورایک جز بیوقوفوں کی مجلس میں بیٹھنے سے پرھیز کرنے میں ھے “ ۔

۴ قال علی علیہ السلام: ”من نصب نفسہ للناس اماما فعلیہ ان یبداٴ بتعلیم نفسہ قبل تعلیم غیرھ و لیکن تادیبہ بسیرتہ قبل تادیبہ بلسانہ

۴ ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : ” جو شخص اپنے کو لوگوں کی پیشوائی و رھبری کے لئے معین کرے اسکے لئے ضروری ھے کہ لوگوں کو تعلیم دینے سے پھلے خود تعلیم حاصل کرے ، اور آداب الٰھی کی رعایت کرتے ھوئے لوگوں کو دعوت دے ،قبل اس کے کہ زبان سے دعوت دے یعنی سیرت ایسی ھو کہ زبان سے دعوت دینے کی ضرورت نہ پڑے“۔

حضرت علی کے اقوال

۵ قال علی علیہ السلام: ” من کانت ھمتہ ما یدخل بطنہ ، کانت قیمتہ ما یخرج منہ “

 ۵ ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: ” ھر وہ شخص جسکی تمام کوشش پیٹ بھرنے کے لئے ھے اسکی قیمت اتنی ھی ھے جو اس کے پیٹ سے خارج ھوتی ھے “ ۔

۶ قال علی علیہ السلام: ”الا لا خیر فی علم لیس فیہ تفھم ،الا لا خیر فی قراٴة لیس فیھا تدبر ،الا لا خیر فی عبادة لا فقہ فیھا “

۶ ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : ” آگاہ ھو جاو ! وہ علم کہ جس میں فھم نہ ھو اس میں کوئی فائدہ نھیں ھے ، جان لو کہ تلاوت بغیر تدبر کے کے سود بخش نھیں ھے ، آگاہ ھو جاؤکہ وہ عبادت جس میں فھم نہ ھو اسمیں کوئی خیر نھیں ھے“ ۔

حضرت علی کے اقوال

۷ قال علی رضی اللہ عنہ: ” ما المجاھد الشھید فی سبیل اللہ باعظم اجرا ممن قد رفعف “

 ۷ ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : ”وہ شخص جو جھاد کرے اورجام شھادت نوش کرے اس شخص سے بلند مقام نھیں رکھتا جو گناہ پر قدرت رکھتا ھو لیکن اپنے دامن کو گناہ سے آلودہ نہ کرے “ ۔

۸ قال علی علیہ السلام: ” التوبة علی اربعة دعائم :ندم بالقلب ، استغفار باللسان وعمل بالجوارح وعزم ان لا یعود “

 ۸ ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :”حقیقت توبہ چار ستونوں پر استوار ھے : دل سے پشیمان ھونا، زبان سے استغفار کرنا ،اعضاء کے عمل کے ذریعے اور دوبارہ ایسا گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا “۔

حضرت علی کے اقوال

۹ قال علی علیہ السلام: ”ولیخزن الرجل لسانہ ، فان ھذا اللسان جموح بصاحبہ و اللہ ما اری عبدا یتقی تقویٰ تنفعہ حتی یخزن لسانہ “ ۹ ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : ” انسان کو چاھیے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اس لئے کہ یہ سر کش زبان اپنے صاحب کو ھلاک کر دیتی ھے خدا کی قسم! میں نے کسی بندہ ٴمتقی کو نھیں دیکھا جس کو اس کے تقوی نے نفع پھونچایا ھو مگر یہ کہ اس نے اپنی زبان کی حفاظت کی ھو “۔

۱۰قال علی علیہ السلام: ”لا تجعلوا علمکم جھلا و یقینکم شکا اذا علمتم فاعملوا ، و اذا تیقنتم فاقدموا “

۱۰ ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :” اپنے علم کو جھل میں اور یقین کو شک میں تبدیل نہ کرو۔ جب کسی چیز کے بارے میں علم ھو جائے تو اسی کے مطابق عمل کرو اور جب یقین کی منزل تک پھونچ جاؤ تو اقدام کرو “ ۔

حضرت علی کے اقوال

حضرت علی کے اقوالِ زریں

انسان زبان کے پردے میں چھپا ہے۔

ادب بہترین کمال ہے،اور خیرات افضل ترین عبادت ہے ۔

جو چیز اپنے لئے پسند کرو وہ دوسروں کے لئے بھی پسند کرو ۔

بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینہ سے بچو ۔

گناہ پرندامت گناہ کو مٹا دیتی ہے ۔ نیکی پر غرور نیکی کو تباہ کردیتا ہے ۔

سب سے بہترین لقمہ وہ ہے جو اپنی محنت سے حاصل کیا جائے ۔

جو پاک دامن پر تہمت لگاتا ہے اُسے سلام مت کرو

۔

موت کو ہمیشہ یاد رکھو مگر موت کی آرزو کبھی نہ کرو۔

اگر توکل سیکھنا ہے تو پرندوں سے سیکھو کہ جب شام کو واپس گھر جاتےہیں تو ان کی چونچ میں کل کے لئے کوئی دانہ نہیں ہوتا ہیں ۔

سب سے بڑا گناہ وہ ہے جو کرنے والے کی نظر میں چھوٹا۔

اس شخض کو کبھی موت نہیں آتی جو علم کو زندگی بخشتا ہے ۔

دو طرح سے چیزیں دیکھنے میں چھوٹی نظر آتی ہیں ایک دور سے دوسرا غرور سے۔

کسی کو اس کی ذات اور لباس کی وجہہ سے حقیر نہ سمجھنا کیونکہ تم کو دینے والا اور اس کو دینے والا ایک ہی ہے اللہ ۔ وہ یہ اُسے عطا اور آپ سے لے بھی سکتا ہے ۔

حضرت علی کے اقوال

دوست کو دولت کی نگاہ سے مت دیکھو ، وفا کرنے والے دوست اکثر غریب ہوتے ہیں ۔

پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے ۔

بہترین آنکھ وہ ہے جو حقیقت کا سامنا کرے ۔

دنیا میں سب سے مشکل کام اپنی اصلاح کرنا اور آسان کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے ۔

نفرت دل کا پاگل پن ہے ۔

انسان زندگی سے مایوس ہوتو کامیابی بھی ناکامی نظر آتی ہے ۔

حضرت علی کے اقوال

اگر کوئی تم کو صرف اپنی ضرورت کے وقت یاد کرتا ہے تو پریشان مت ہونا بلکہ فخر کرنا کے اُس کو اندھیروں میں روشنی کی ضرورت ہے اور وہ تم ہو

…….. اقوال حضرت علی رضی اللہ عنہ

*زہد امید کا گھٹانا اور ایمان اخلاص عمل کا نام ہے ۔

*علم کا انجام ہلاکت ہے اور شہوتیں زہر قاتل اور مطلوب کا فوت ہو جانا دل کو جلانے والی حسرت ہے۔

* فکر سے حمکت پیدا ہو تی ہے ۔عبرت پکڑنے سے عصمت حاصل ہوتی ہے ۔

* گناہ پر جمے رہنا بڑا گناہ ہے اور سر کشی کی سزا بہت جلد مل جا تی ہے ۔

* ایثار اللہ کے بندوں کی خصلت اور احتکار ( غلہ روکنا) بد کاروں کی عادت ہے ۔

* حریص لالچی کبھی خوش نہیں ہوتا ۔

* حاسد کو کسی سے دوستی نہیں ۔ جھگڑالو کی رائے نہیں اور خائن سے کبھی وفا نہیں ۔

* تکبر عین حماقت اور فضول خرچی محتاجی کی علامت ہے ۔

*نجات ایمان کی رفیق ، فضیلت احسان کی ساتھی اور کمینگی منت رکھنے کی مصاحب ہے ۔

*گناہوں پر نادم ہونا ان کو مٹانا اور نیکیوں پر مغرور ہو نا ان کو بر باد کر دینا ہے ۔

* صلح حلم اور بر بادی کا ثمرہ ہے اور نرمی طبع صلح کی طرف پہنچاتی ہے ۔

* قدرے بھوک رکھنا ، کم کھانا نہایت سود مند دوا ہے اور شکم پُری سے بہت امراض پیدا ہو تے ہیں ۔

*استغفار گناہوں کی دوا، سخاوت کی شاخوں پر دہ پوشی کی علامت ہے ۔

*کرم وسخاوت نہایت بہترین خصلت اور ایثار اعلیٰ درجہ کی سخاوت ہے ۔

* نیکی کبھی فنا نہیں ہوتی اور برائی پر بد کار کو سزا ملتی اور رسوائی حاصل ہوتی ہے ۔

* اعمال نیت کا پھل اور عذاب وسزا برائیوں کا ثمرہ ہے ۔

* دنیا عقلوں کے پھسلنے کی جگہ ہے اور شہوتیں نادانوں کو اپنا غلام بنا لیتی ہیں ۔

* انصاف حکومت کی زینت اور معافی قوت واقتدار کی زکوٰۃ ہے ۔

* وعظ شفا دینے والی نصیحت اور غور وفکر ایک صاف آئینہ ہے ۔

* جلد بازی کامیابی سے باز رکھتی اور خدائے تعالیٰ کی نافر مانی قبولیت دعا کو روکتی ہے ۔

*جھگڑا برائی کا بیج اور نادانی تمام کاموں کو بگاڑنے والی ہے ۔

* نا امیدی آرام دینے والی آزادی اور برد باری نرم اور اچھی خصلت ہے ۔

*قناعت سے رہنا نہایت پُر لطف زندگی ہے اور غضب انسان کو طیش میں لاتا ہے ۔

* غور وفکر عقلوں کو صیقل کرنے والے اور حماقت فضول کاموں میں ڈالنے والی ہے ۔

*تواضع شرافت کی زکوٰۃ ، پر ہیز گاری نیکوئی کی کنجی ، اور تو فیق الٰہی تمام کامیبابی کا سر ہے ۔

*حسد بدن کو مٹاتا اور شریف آدمی حسد سے بیزار رہتا ہے ۔

* موتیں تمام آرزوؤں اور امیدوں کا خاتمہ کر دیتی ہیں اور لمبی لمبی امیدیں رکھنا جاہلوں اور نا دانوں کا کام ہے

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment