3 مختصر اسلامی واقعات

Rate this post

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت ⁩

رب ِکائنات نے زمین وآسمان کو عدم سے وجود بخشا ، دُنیا کی تمام مخلوقات کو محض “کُن “کہہ کر تخلیق کیا۔

پھر اُن میں مختلف درجات رکھے ۔ تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ انسانوں میں سب سے ارفع درجہ انبیائے کرام علیہم السلام کو عطا فرمایا، ان میں سب سے عالی مقام ومرتبہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے۔

تمام انبیائےکرام علیہ السلام کے بعد اگر کسی جماعت کا درجہ ہے تو وہ اصحاب پیغمبرﷺ کا ہے ۔ تمام اصحاب ِپیغمبر ﷺ میں اگر کسی صحابی کا درجہ ہے تو وہ خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہے۔

تمام اصحاب میں خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت بغیر کسی حجت کے سب کے لیے قابل قبول ہے۔

قرآن مجید کی مذکورہ آیت آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر ایک ایسی دلیل ہے کہ اس پر آج تک کسی مفسر ، کسی محدث اور کسی مجتہد کا اختلاف نہیں رہا اور نہ ہی اس میں کوئی دورآراء ہیں۔

’’اگر تم محبوبﷺ کی مدد نہ کرو تو بےشک ،اللہ نے ان کی مدد فرمائی ، جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا ،صرف دو جان سے ، جب وہ دونوں غار میں تھے ،جب اپنے رفیق سے فرماتے تھے ،غم نہ کھا !بے شک ،اللہ ہمارے ساتھ ہے ،تو اللہ نے اُن پر اپنا سکینہ اتارا اور اُن فوجوں سے ان کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں اور کافروں کی بات نیچے کرڈالی ،اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔(سورۂ توبہ 40)

یہ آیت غارِ ثورکے واقعے کی طرف اشارہ دے رہی ہےاور اس میں ثانی اثنین کے الفاظ مذکور ہوئے جو دو میں دوسرا یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف واضح اشارہ کر رہے ہیں۔

اللہ کے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا :میں نے جس کسی کے سامنے اسلام پیش کیا ، اس نے تھوڑی بہت جھجک ضرور محسوس کی، لیکن جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بےجھجک اسلام قبول کر لیا۔

ایک بارحضور اکرمﷺ نے فرمایا:ہر ایک کے احسان کا بدلہ میں نے چکا دیا، سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے احسان کے، ان کے اتنے احسانات ہیں کہ ان کا بدلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی انہیں عطا فرمائے گا۔

مختصر اسلامی واقعات

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا واقعہ

عجوہ کھجور کی فضیلتیں

شہر کا ماحول ایک سا تھا

 کہ ایک آدمی نے ایک باغ کے جھاڑ جھنکار سے کھجوریں چُنیں۔

 ایسی کھجوریں صرف شہر کے اسی باغ میں لگی ہوئیں تھیں۔

 لیکن لوگوں کو اس کھجور سے کوئی رغبت نہ تھی۔

 کیونکہ……. اس کھجور میں نہ وہ نرمی تھی

 نہ اس کا وہ ذائقہ تھا۔

اور رنگ بھی انتہائی گہرا اور دانہ بہت چھوٹا سا۔

وہ غریب آدمی جس کی ناک موٹی, آنکھیں چھوٹی, رنگت سیاہ, چلتا تو ٹانگیں اٹک اٹک جاتیں, بولتا تو زبان میں لکنت, غربت سی غربت کہ نسلی غلام رہا تھا. کھجوریں جھولی میں ڈالے شہر میں فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا .اس باغ کا یہ آخری پھل تھا. جو اس آدمی کی جھولی میں تھا۔

لیکن شہر میں کوئی ان کھجوروں کا طلبگار نہ تھا یہاں تک کہ ایک فرد نے تو یوں آواز لگائی۔

” اے بلال رضی اللہ عنہ یہ کھجور تو تجھ جیسی ہے کالی اور خشک”

دل کا آبگینہ ٹھیس کھا گیا آنکھوں سے آنسو رواں بلال حبشی رضی اللہ عنہ کھجوریں سمیٹ کر بیٹھے رہے۔ کہ ایسے میں وہاں سے اس عظیم ہستی کا گذر ہوا۔

 جو ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے۔

جس نے مسکینوں کو عزت بخشی۔

 وہ رحمتِ عالم کہ جس کا نام ہی غمزدہ دلوں کی تسکین ہے۔

جی ہاں وہی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم

 آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے سب ماجرہ پوچھا. اور جب آپ کو بات پتہ لگی تو آپ خلقت سے کچھ یوں گویا ہوئے۔

لوگو یہ کھجور “عجوہ“ ہے۔

یہ دل کے مرض کے لیئے شفاء ہے۔

یہ فالج کے لیئے شفاء ہے۔

یہ ستر امراض کے لیئے شفاء ہے۔

اور لوگو یہ کھجوروں کی سردار ہے۔

اور پھر یہاں تک ہی بس نہیں کیا

مذید فرمایا جو اسے کھا لے اسے جادو سے امان ہے۔

اور پھر……….؟؟؟؟؟

لمحہ بھر میں منظر بدل گیا. وہ بلال رضی اللہ عنہ جس کے پاس چند لمحے پہلے تک جھاڑ جھنکار تھا. اب رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے غنی کر دیا۔

اور پھر راوی لکھتے ہیں کہ لوگ بلال کی منتیں کرتے ہوئے انکے پیچھے پیچھے چل رہے تھے. اور بلال کسی مچلے ہوئے بچے کی مانند آگے آگے بھاگتے جارہے تھے۔

اور تاریخ گواہ ہے کہ وہ کھجور کہ جسے کبھی دنیا جھاڑ جھنکار سمجھ رہی تھی بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں آ کر اور مصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارکہ کے صدقہ سے آج بھی کھجوروں کی سردار ہے۔

حوالہ (بکھرے موتی جلد دھم )

تحریر مولانا یونس پالنپوری

میں اللّٰہ کا حساب لوں گا

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے. ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا۔ جس کی زبان پر “یاکریم یاکریم” کی صدا تھی۔

حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔

وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم،، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔

اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے

روشن چہرے والے !اے حسین قد والے ! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔

سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟

عرض کیا: نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟

عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔

وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔

راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔

عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لونگا۔

آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا؟

اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟

اگر اس نے میری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔

اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔

حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے۔عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے۔

اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔

کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے

ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے

کتاب: مسند احمد بن حنبل۔

⁦ایک مسکراہٹ⁦⁩

ﮐﮩﺘﮯ ہیں ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ، ﺑﺪﺯﺑﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ مشہور ﺗﮭﺎ۔

ﺑﮍﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻼ ﺭﮨﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﯾﮧ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻏﺼﯿﻼ، ﭼﮍﭼﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺍﺧﻼﻕ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﮧ ﺟﻮ ﻧﯿﺎ شہر ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﮌﺍ ﮐﺮﮐﭧ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ، ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﺎ۔

ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮧ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ۔ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺷﺨﺺ جس کی ﻃﺮﻑ ﺷﺎﯾﺪ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮬﻮﺍ۔

ﺁﺝ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﺎ ﻗﻄﺮﮦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺑﻨﺠﺮ ﺩﻝ ﭘﺮ آب ﺣﯿﺎﺕ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯽ، ﺗﻮ ﺑﭽﮧ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮬﻮﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﮯ ﮬﻮ ﺗﻮ ہمیشہ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻼ ﺗﺤﻔﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﺎ ﺩﻭ۔

ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻭﮦ ﺟﻨﺲ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺮﭺ ﻧﮭﯽ ﮬﻮﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮬﻮﺗﺎ ﮨﮯ, ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺧﻮﺵ ﮬﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺩﯾﺎ۔

ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮬﺮ ﺭﻭﺯ ﺑﭽﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﺮﺗﮯ ہوئے ﮔﺰﺭﺗﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻭﮐﯿﻞ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﺁﺝ ﻓﻼﮞ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺷﺨﺺ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭼﻨﺪ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﯾﮉﻭﺍﻧﺲ ﺍﺩﺍ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔

*ﻣضبوط ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﺮﯾﻦ لمحوں ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﺎ نہیں ﺑﮭﻮﻟﺘﮯ۔ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﺮﮦ ﻧﮭﯽ ﻧﮑﻠﺘﺎ۔

ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ “ﮐﻞ” ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺗﮭﮯ

ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ “ﮐﻞ” ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ

ﻟﯿﮑﻦ *”ﺁﺝ”* ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﮬﯽ ﮬﮯ

ﺁﺝ ﻣﺴﮑﺮﺍﺅ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﮭﺮ نہیں آئے ﮔﺎ۔

ﺫﺭﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﮐُﮭﻞ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻨﺴﮯ ہوئے ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺮﺻﮧ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ؟

ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻟﯿﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﻭﮦ ﮐﮭﺒﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍ نہیں ﺳﮑﺘﺎ۔

ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ جائے۔

ﺍﮔﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﭼﺎﮬﺘﮯ ﮬﻮ ﺗﻮ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﮯ ہوﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺩﻭ چیزیں ﺭﮐﮭﻮ

*ﻣﺴﮑﺮﺍﮬﭧ ﻭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ*

“ﻣﺴﮑﺮﺍﮬﭧ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ”

“ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ رﮬﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ”_

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment