(3) شادی کے اسلامی واقعات

Rate this post

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دوسری بیوی

سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات کے بعد مولا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی ۔ حسن حسین زینب ابھی چھوٹے تھے ۔

آپ نے سیدنا عقیل کو رشتہ دیکھنے کےلئے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا ۔

سیدنا علی کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو ۔

بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علی کا بیٹی فاطمہ کے لئیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبی کے خاندان میں بیاہی جا سکے ۔

رشتہ قبول ہوتا یے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علی کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسن حسین اور فاطمہ کو گلے لگا لیتی ہیں۔

سیدنا علی سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کچھی فاطمہ مت کہئیے گا انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی ۔ میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں ۔

اس کے بعد آپ نے انہیں بیٹا نہیں کہا بلکہ ہمیشہ مولا کہتی رہیں۔ ان کے چار بیٹے ہوئے اس لئیے انہیں ام البنین بھی کہتے مطلب بیٹوں کی ماں ۔ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسن حسین علی کی صرف اطاعت کا حکم دیا ۔ ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں کرنی۔ یہ اہل بیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں۔

چار بیٹوں میں عباس ابن علی ، عبداللہ ابن علی ، جعفر ابن علی اور عثمان ابن علی تھے ۔

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے شجاعت میں یہ ایک مقام رکھتے تھے دونوں ہاتھ سے تلوار چلاتے تھے ۔

جنگ صفین میں سیدنا علی نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباس کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسن حسین میرے ابا کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں ( حالانکہ عمر میں حسن و حسین سے چھوٹے تھے ) مطلب کہ یہ سوال بھی نہیں بنتا ، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی ۔

واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کر کے لشکر حسین کے سپاہی شہید ہوتے گئے تو سیدنا عباس نے مولا حسین سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں۔ سیدنا حسین ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباس تم پانی لے آو ۔

آپ پانی لینے جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں وہی جنہوں نے حسین کی حفاظت کرنی تھی ۔ گھٹنے میں تیر لگتا ہے حسین عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔

سیدنا عباس مولا حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ مولا میری والدہ سے کہہ دیجئیے گا کہ عباس کے دونوں بازو نہیں تھے اس لئیے صرف آپ کو تیر نکالنے کا کہا ۔

یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت تھی جنہوں نے ساری زندگی نبی کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی ۔

آپ کے چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے ۔ علی کے پانچ بیٹوں نے اس میں جام شہادت نوش کیا جس میں 4 سیدہ ام البنین کے فرزندان تھے ۔ جو لشکر حسین کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے ۔

سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباس شہد ہوا جعفر شہید ہوا عثمان شہید ہوا عبداللہ بھی شہید ہو گیا۔

فرمانے لگی سب چھوڑیں میرے مولا حسین کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے تو کہنے لگی کیا میرے بیٹے بعد میں شہید ہوئے مولا حسین سے تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے شہید ہوئے اور مولا کی حفاظت کے لئیے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے بیشک حق ادا کر دیا ۔۔۔۔

یہ وہ ماں تھی جو اہل بیت کے مقام کو سمجھتی تھی جس نے اپنے سارے بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا خود کو اس گھر کی کنیز بنایا اور حسن و حسین کو بیٹا نہیں ہمیشہ مولا کہا ۔

خدا ہم سب کو اہل بیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا ۔

شادی کے اسلامی واقعات

ام ربیعہ بڑی نیک خاتون تھی بغداد میں رہتی تھی اللہ تعالی نے بڑی دولت عطا فرمائی۔ ان کی شادی بھی ایک دولت مند شخص سے ہوئی۔

فرماتی ہیں کہ میں اوپر چھت پراپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی وہ تھا تو بڑا دولتمند پر متکبر بھی بڑا تھا۔

دروازے پر ایک فقیر مانگنے آیا میرا خاوند بالکنی سے جھانک کر کہنے لگا اسے کچھ نہ دینا یہ دوکاندار ہے یہ دنیا دار بنے ہوئے ہے جان بوجھ کے مانگتے ہیں تو میں نے کہا تیری دولت سے نہیں دوں گی میرے میکے سے جو کچھ آیا ہوا ہے اس میں سے دینے کی اجازت دے دینا اس نے کہا فقیر کے پاس جانا ہی نہیں۔

عورت کہتی ہے اس مانگنے والے کا جو دروازے پر کھڑا تھا اس کا جو انداز تھا اس سے لگتا تھا کہ کئی دنوں کا بھوکا ہے اس جوان کے چہرے پر عجیب بھوک تھی۔

میں شوہر سے نظر بچا کے آئیں اور میں نےچند دینار اس کی ہتھیلی پر رکھے جب میں نے دروازہ بند کیا تو سامنے میرا شوہر کھڑا تھا کہنے لگا میرے بغیر اجازت کے دیتی ہے جا تجھے تین طلاقیں۔

میں عزت مند باپ کی بیٹی طلاق لے کے گھر آگئی جرم میرا یہ تھا کہ میں نے اللہ کے راستے میں خیرات کی تھی کہتی ہے میرا والد پریشان ہو گیا میں شدید پریشان میرے والد اور والدہ بھی پریشان تھے کہ رشتہ کہاں سے آئے گا ایک دو سال شدید کرب میں رہے تو ایک رشتہ آیا بڑے امیر آدمی کا تھا میں طلاق یافتہ تھی پر رشتہ کنوارے کا آیا۔

جب وہ رشتہ ہو گیا میں پہلے دن اپنے خاوند کےپاس گئی تو مجھے کہنے لگا مجھے جانتی ہو میں کون ہوں میں نے کہا نہیں تو کہنے لگا میں وہی ہوں جو تیرے دروازے پہ خیرات لینےآیا تھا۔

تجھے میری وجہ سے طلاق ہوئی تو میں اسی رات جا کے مسلے پر رویا کہ مولا میری وجہ سے بیچاری کا گھر اجڑ گیا پھر میں نے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے محنت کی تجھے عزت دینے کے لئےکہنے لگا اب تجھے بیوی بنا کے نہیں مہارانی بنا کے رکھو نگا تیری نوکری کروں گا تو میری محسنہ ہے۔

ایک سال گزرا مجھے اللہ نےبیٹا بھی دیا میرا شوہر سارے کا حود کرتا تھا ایک دن میں چھت پر اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی دروازے پرمانگنے والا آیا کہنے لگا کہ اگر مانگنے والا آئے تو تم نے خود دینے جانا ہے میں دروازے پہ مانگنےوالے کو دینے گئی تو میری چیخ نکل گئی میں دھڑام سے گری میرا شوہر دوڑ آیا کہنے لگا کیا ہوا میں نے کہا پتہ ہے مانگنے کون آیا ہے یہ وہی ہے جو میرا پرانا شوہر تھا ام ربعیہ کہتی ہے میں رونے لگی۔

 دولت کا تکبر کرتے ہیں لوگ طاقت کا تکبر کرتے ہے لوگ لیکن میرے اللہ کو ایک لمحہ بھی نہیں لگتا کسی بادشاہ کو فقیر اور فقیر کو بادشاہ بنانے میں۔اللہ ہمیں ہر قسم کے تکبر سے بچائے آمین۔

اسلامی واقعات نمبر 2

ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﮭﭩﮑﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﭩﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﯽ . ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﮭر ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﻓﻈﮧ ﮨﮯ . ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﻤﻊ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮ ﺩﮮ … ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﭘﻮﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺭﻭﺷﻦ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ … ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﮍﮐﯽ ﺣﺎﻓﻆ ﻗﺮﺁﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮﻃﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﻓﻈﮧ ﮨﮯ .. ﻭﮦ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻊ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮدے۔

ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺁﺩﮬﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯿﻮﮞ ﭘﮧ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺭﻭﺷﻦ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﮐﺘﻨﺎ ﺣﺴﯿﻦ ﻣﻨﻈﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻧﺎ … ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﭘﮧ ﺭﻭﺷﻦ ﺷﻤﻊ ﺻﺮﻑ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯽ ﻧﻮﯾﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﮯ … ﻭﮦ ﺷﻤﻌﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻧﻮﯾﺪ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻧﺴﻞ ﮐﻮ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ … ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﻭﺷﻨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺮﺯﺗﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔

ﺁﺝ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻊ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻋﻼﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺷﺮﻁ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺷﮩﺮ ﮨﯽ ﺗﺎﺭﯾﮏ ﭘﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ۔

ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ … ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺁﺝ ﮨﻤﯿﮟ ﻓﻀﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﭼﮑﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ … ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﺷﺎﻧﮧ ﺑﺸﺎﻧﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮯ ﺑﮭﻨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻨﺴﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﺣﺎﻣﻞ ﻧﺴﻞ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﮨﻢ ﻣﻘﺎﺻﺪ ﺳﮯ ﺑﮭﭩﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭘﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﻧﻨﮓ ﺷﻮﺯ ﻣﯿﮟ ﻓﻀﻮﻝ ﻋﻨﻮﺍﻧﺎﺕ ﭘﮧ ﻣﺒﺎﺣﺚ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﻣﻘﺼﺪ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﻏﺐ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻣﯽ ﻣﻘﺎﺑﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﯿﻨﺎ ﺟﮭﭙﭩﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭨﮑﮯ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

                                     اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

اسلامی واقعات نمبر 3

شادی شدہ زندگی

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺟﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻓﻼﮞ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﮯ ۔ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﮯ ۔ ﺍﺱ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﻮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺳﺐ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺩﻥ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔

(1 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺗﮭﺎ ، ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ۔

(2 ) ﺍﯾﮏ ﮐﻨﻮﺍﺭﮦ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔

(3 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﮔﯿﺎ

(4 ) ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﻭﻻﺩ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﮔﯿﺎ

(5 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺗﮭﺎ ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮔﺮ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔

(6 ) ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺟﻮ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﻮﮔﺮ ﺭﮐﮫ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮ ﺡ ﺳﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﺌﮯ ۔

اگلے دن

(1 ) ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺟﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ، ﺭﺍﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺑﭽﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔

(2 ) ﺟﻮ ﻏﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﺑﯿﻮﯼ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﻟﺴﭧ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻟﮯ ﺁﺅ ۔ ﻓﻼﮞ ﻟﮯ ﺁﺅ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺟﯿﺐ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﻐﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ۔

(3 ) ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭘﺸﯿﻤﺎﻥ ﮨﻮا ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺎﻝ ﭼﺎﻝ ﮨﯽ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔

(4 ) ﺟﻮ ﺍﻭﻻﺩ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮍﺍ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ ۔ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻟﭩﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ۔

(5 ) ﺟﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﭨﮫ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺳﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ ، ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺴﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﭨﮭﻨﺎ ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ۔

(6 ) ﺟﻮ ﺷﻮﮔﺮ ﻭﺍﻻ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﯽ ﺷﻮﮔﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﮐﻢ ﺑﺨﺖ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺳﻮﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ۔

ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﺎﺷﮑﺮﺍ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رکهیں ۔

اندها دنیا کو دیکهنے کی، ، ، بہرا سننے کی، ، ، لنگڑا چلنے کی اور گونگا بولنے کی تمنا کرتا ہے ۔ ۔ ۔

اور تم دیکهتے ، سنتے، چلتے اور بولتے هو !! تو کون سی چیز تمهیں رب کا شکر بجانے سے روکتی ہے ۔ الله کے ایک بڑے احسانوں میں سے ایک یہ بهی هے کہ اس نے تمهیں مکمل بنایا ۔ تو پهر کیوں نہیں کہتے

الحمدللہ

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment