3 سبق آموز اسلامی واقعات

Rate this post

اسلامی معلوماتحضرت عیسیٰ علیہ السلام کانے دجال کا خاتمہ نبی کریم ﷺ کی کس تلوار سے کریں گے اور وہ تلوار اس وقت دنیا میں کہاں موجود ہے ؟

حضور نبی کریم ﷺ کی 9مبارک تلواروں میں سے ایک کا نام البتّار ہے ۔ یہ تلوار سرکارِ دو عالم نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یثرب کے یہودی قبیلے (بنو قینقاع ) سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار کو (سیف الانبیاء ) نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے۔اس تلوار پر حضرت داؤود علیہ السلام‘ سلیمان علیہ السلام‘ ہارون علیہ السلام‘یسع علیہ السلام‘ زکریا علیہ السلام‘ یحییٰ علیہ السلام‘ عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔

یہ تلوار حضرت داؤود علیہ السلام کو اس وقت مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔اس تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤود علیہ السلام کو جالوت کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے جو اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو’’ بترا‘‘ شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔

بعض روایات میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہی وہ تلوار ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں واپس آنے کے بعد ’کانے دجال‘ کا خاتمہ کریں گے اور دشمنانِ اسلام سے جہاد کریں گے۔تلوار کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے اور آجکل یہ تلوار ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر’ ’توپ کاپی‘‘استنبول میں محفوظ ہے۔دجال کے خاتمہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس یہ وحی آئے گی کہ میں نے ایسے بندے پیدا کئے ہیں۔

جن سے لڑنے کی قدرت و طاقت کوئی نہیں رکھتا۔ تم میرے بندوں کو جمع کر کے کوہ طور کی طرف لے جاؤ اور ان کی حفاظت کرو، پھر اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو ظاہر کرے گا جو ہر بلند زمین کو پھلانگتے ہوئے اتریں گے اور دوڑ یں گے ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گی کہ جب ان کی سب سے پہلی جماعت بحر طبریہ سے گذرے گی تو اس کا سارا پانی پی جائے گی۔

پھر جب اس جماعت کے بعد آنے والی جماعت وہاں سے گذرے گی تو بحر طبریہ کو خالی دیکھ کر کہے گی کہ اس میں بھی کبھی پانی تھا۔ اس کے بعد یاجوج ماجوج آگے بڑھیں گے۔ یہاں تک کہ جبل خمر تک پہنچ جائیں گے، جو بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے ، اور ظلم و غارت گری، اذیت رسانی اور لوگوں کو پکڑنے ،قید کرنے میں مشغول ہو جائیں گے اور پھر کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کی ختم کر دیا،چلو آسمان والوں کا خاتمہ کر دیں۔

چنانچہ وہ آسمان کی طرف اپنے تیر پھینکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے تیروں کو خون آلود کر کے لوٹا دے گا تا کہ وہ اس بھرم میں رہیں کہ ہمارے تیر واقعتہً آسمان والوں کا کام تمام کر کے واپس آئے ہیں۔گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ڈھیل دی جائے گی اور یہ احتمال بھی ہےکہ وہ تیر فضا میں پرندوں کو لگیں گے اور ان کے خون سے آلودہ ہو کر واپس آئیں گے ، پس اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ دجال کا فتنہ زمین تک ہی محدود نہیں رہے گا۔

بلکہ زمین کے اوپر بھی پھیل جائے گا۔ اس عرصہ میں خدا کے نبی اور ان کے رفقا یعنی حضرت عیسیٰؑ اور اس وقت کے مومن کوہ طور پر روکے رکھے جائیں گے اور ان پر اسباب و معیشت کی تنگی و قلت اس درجہ کو پہنچ جائے گی کہ ان کے لئے بیل کا سر تمہارے آج کے سو دیناروں سے بہتر ہو گا۔

جب یہ حالت ہو جائے گی تو اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے لئے دعا و زاری کریں گے۔پس اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں نغف یعنی کیڑے پڑ جانے کی بیماری بھیجے گا جس سے وہ سب یک بارگی اس طرح مر جائیں گے جس طرح کوئی ایک شخص مر جاتا ہے۔ یعنی نغف کی بیماری کی شکل میں ان پر خدا کا قہر اس طرح نازل ہو گا کہ سب کے سب ایک ہی وقت میں موت کے گھاٹ اتر جائیں گے ،۔اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس بات سے آگاہ ہو کر پہاڑ سے اتر آئیں گے۔

اور انہیں زمین پر ایک بالشت کا ٹکڑا بھی ایسا نہیں ملے گا جو یاجوج ماجوج کی چربی اور بد بو سے خالی ہو۔ اس مصیبت کے دفعیہ کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ اونٹ کی گردن جیسی لمبی گردنوں والے پرندوں کو بھیجے گا جو یاجوج ماجوج کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ کی مرضی ہو گی اٹھا کر پھینک دیں گے۔ایک اور روایت میں یہ ہے کہ وہ پرندے ان لاشوں کو فہبل میں ڈال دیں گے۔

( فہبل یہ در اصل ایک جگہ کا نام ہے جو بیت المقدس کے علاقہ میں واقع ہے۔ دوسرے معنی گڑھے کے ہیں اور ایک معنی پہاڑ سے گرنے کے ہیں۔ ) اور مسلمان یا جوج ماجوج کی کمانوں تیروں اور ترکشوں کو سات سال تک چلاتے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ ایک زور دار بارش بھیجے گا جس سے کوئی بھی مکان خواہ وہ مٹی کا ہو یا پتھر کا اور خواہ صوف کا ہو نہیں بچے گا وہ بارش زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح صاف کر دے گی۔

پھر زمین کو حکم دیا جائے گا کہ اپنے پھلوں یعنی اپنی پیداوار کو نکال اور اپنی برکت کو واپس لا،چنانچہ زمین کی پیداوار اس وقت اس قدر بابرکت اوربا افراط ہو گی کہ دس سے لے کر چالیس آدمیوں تک کی پوری جماعت ایک انار کے پھل سے سیراب ہو جائے گی۔ اور اس انار کے چھلکے سے لوگ سایہ حاصل کریں گے۔ نیز دودھ میں برکت دی جائے گی۔یعنی اونٹ اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ بہت ہو گا۔

یہاں تک کہ دودھ دینے والی ایک اونٹنی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہو گی۔ دودھ دینے والی ایک بکری آدمیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کے لئے کافی ہو گی۔بہرحال لوگ اس طرح کی خوش حال اور امن و چین کی زندگی گذار رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک خوشبو دار ہوا بھیجے گا جو ان کی بغل کے نیچے کے حصہ کو پکڑے گی۔

(یعنی اس ہوا کی وجہ سے ان کی بغلوں میں درد پیدا ہو گا ) اور پھر وہ ہوا ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور صرف بدکار اور شریر لوگ دنیا میں باقی رہ جائیں گے جو آپس میں گدھوں کی طرح مختلط ہو جائیں گےاور ان ہی لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔

 اس پوری روایت کو مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے۔

بحوالہ:

تیسیر الباری ترجمہ و شرح

صحیح بخاری جلد ۹، صفحہ ۱۸۹ تا ۱۹۱.

 

اسلامی واقعات _جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور ایک لڑکی کا سبق آموز واقعہ

ایک لڑکی بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی اورشعر پڑھ رہی تھی جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ طواف کر رہے تھے اور ان کے کانوں میں شعر پڑھ رہے تھے شعروں کا سحر بڑا عجب تھا کہ میں نے تو محبت کو بہت جھٹکے دیے بہت اپنے آپ کو بچایا پر عشق نے میرے دل میں ڈھیرے ڈال دیے اور خیمے گاڑ دیے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا مجھے کسی کا نہ چھوڑا میں ایک ہی کی ہو کے رہ گئی جب اس کا خیال آتا ہے تو میں پاگل ہو جاتی ہوں جب وہ نظر آتا ہے تو میں ہوش میں آتی ہوں تو جنید بعدادی رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے او لڑکی او لڑکی بیت اللہ میں کیا کہہ رہی ہے تو اس نے دیکھا اور ہنس پڑی کیا سمجھے ہو میری بات کو غلط سمجھے ہو مجھے میرے رب کا عشق رات کے اندھیرے میں یہاں لے کر آیا ہے میں کسی اور کی بات نہیں کر رہی تو وہ کہنے لگی تم کس کا طواف کر رہے ہو تو جنید رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے بیت اللہ کا تو وہ زور سے ہنس پڑی اور یوں آسمان کو دیکھا اور کہنے لگی واہ میرے رب تیرے بھی کیسے دیوانے بندے ہیں جو تجھے چھوڑ کے پتھروں کا طواف کرتے ہیں جو تجھے چھوڑ کے پتھروں کا طواف کرتے ہیں جنیدبعدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں تو بے ہوش ہو کے گر گیا جب ہوش آیا تو وہ لڑکی جا چکی تھی۔

اسلامی واقعات

اسلامی واقعات _ایک صحابی کا عجیب وغریب نکاح

*اللہ کے نبی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے* ایک صحابی آئے سعد الاسود اور کہا یا رسول اللہ میری شادی کروادیں۔ میں بہت کالا بھی ہوں اور بد صورت بھی ہوں تو مجھے اپنی لڑکی ہی کوئی نہیں دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اچھا اور پھر پوچھا کیا عمربن وہب بیٹھے ہیں؟

بتایا گیا نہیں تو فرمایا عمر بن وہب کے پاس جاؤ اور کہو کہ مجھے اللہ کے نبی نے بھیجا ہے اور مجھے اپنی بیٹی نکاح میں دے دو۔

عمر بن وہب کافی خوبصورت بھی تھے اور بہت مالدار بھی تھے۔ یہ اٹھے اور جاکر ان کے دروازے پر دستک دی اور کہا اللہ کے رسول کا قاصد آیا ہے باہر آؤ۔

باہر آئے تو دیکھا سعدالاسود تھے۔ پوچھا کس لئے آئے ہو جواب دیا اللہ کے نبی نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دو۔

عمر بن وہب نے کہا جاجا تجھے دوں گا اپنی بیٹی، تم غریب کو دونگا اپنی بیٹی ۔ سعد الاسود اسی قدموں کے ساتھ واپس آگئے لیکن عمر بن وہب کی بیٹی نے ساری بات سن لی۔

بیٹی نے عمر بن وہب سے کہا ابا جان آپ نے میرے نبی کی بات کو ٹھکرایا ہے جاؤ جا کر ہاں کر دو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تباہ و برباد ہو جائیں۔

آپ نے میری خاطر انکار کیا ہے نہ کہ میری بیٹی گزارا کیسے کرے گی آپ جاکر ہاں کر دیں میرے نبی کا حکم ہے میں گزارا کر لوں گی۔

عمر بن وہب مجلس میں آئے تو سعد الاسود پہلے مجلس میں آئے بیٹھے تھے۔ اللہ کے نبی نے عمر بن وہب کو دیکھا تو کہا عمر بن وہب آپ نے تو ہماری بات ہی ٹھکرا دی۔

کہا یا رسول اللہ میں نے نہیں ٹھکرائی میں حاضر ہوں یا رسول اللہ آپ میری بیٹی کا سعد الاسود کے ساتھ نکاح پڑھیں۔ 400درہم حق مہر طے ہوا آپ نے فرمایا سعد اپنی بیوی کو لے جاؤ۔

کہا یارسول اللہ پیسے کہاں سے لاؤں میرے پاس تو حق مہر ادا کرنے کے پیسے ہی نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا تم عبدالرحمن بن عوف کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے نبی نے مجھے بھیجا ہے اور وہ تمہارا کام کر دیں گے (عبد الرحمن بن عوف وہ صحابی تھے جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی اور وہ اتنے امیر تھے کہ ان کے بارے میں علماء کرام لکھتے ہیں اگر آج کے دور میں ہوتے تو اتنا پیسہ تھا ان کے پاس کہ پورا یورپ خرید سکتے تھے لیکن ایماندار تاجر تھے اور اللہ کے نبی نے ان کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی)۔ سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اللہ کے نبی کا پیغام دیا تو انہوں نے رقم کا بندوبست کر دیا اور چار سو درہم سے زیادہ پیسے جمع ہوگئے۔

سعد رضی اللہ عنہ نے سوچا 400 درہم تو بیوی کو حق مہر دوں گا باقی میں بیوی کے لئے کچھ تحائف لیے لیتا ہوں اور بازار چلے گئے۔

بازار میں داخل ہوئے تو اتنے میں اعلان ہوا کہ مدینے پر کچھ بدوؤ نے حملہ کر دیا ہے۔ جیسے ان کے کان میں آواز پڑی کہ مسلمانوں آؤ دفاع کرنے کے لئے تو بیوی کے تحائف کا خیال ترک کیا، ایک گھوڑا اور تلوار خریدی اور لشکر میں گھس گئے۔

لڑتے لڑتے ان کا گھوڑا زخمی ہو کر نیچے گرا اور بدوؤ نے ان پر حملہ کردیا تو اچانک دور سے اللہ کے نبی کی سعد پر نظر پڑی تو لپکے سعد تم یہاں کیا کر رہے ہو تمہیں تو میں نے تمہاری بیوی کے پاس بھیجا تھا تب تک سعد الاسود شہید ہوچکے تھے۔ اللہ کے نبی سعد کی طرف لپکے سعد کے سر کو اپنی جھولی مبارک میں رکھ لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل کے سعد کے چہرے پر پڑ رہے تھے اور اللہ کے نبی پیار سے کہنے لگے۔

سعد تو کتنا پیارا ہے، تو کتنا خوبصورت ہے، تو کتنا خوشبودار ہے۔ پھر آپ مسکرائے اور فرمایا رب کعبہ کی قسم سعد حوض کوثر پر پہنچ گیا ہے۔

ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ ابھی آپ رو رہے تھے اور پھر آپ اچانک مسکرا پڑے یہ سمجھ نہیں آیا۔ اللہ کے نبی نے فرمایا میں سعد کی جدائی میں رو رہا تھا اور مسکرایا اس لیے کہ مجھے سعد رضی اللہ عنہ کے جنت میں عالی شان محلات نظر آئے۔

References:

بحوالہ اسد الغابہ فی فضائل صحابہ امام اعز الدین ابن الاثیر رحمۃ للہ علیہ

اور

ابن الاثیر (اسد الغابہ:1/668)

أَخرجه أَبوموسى.(2/418)

اےاللّٰهﷻ اے ذوالجلال و لاکرام، اے ساری کائنات کے خالق و مالک!

ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم گناہوں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں، ہمیں اپنے فضل وکرم اور رحمت سے بچا لے، اےاللّٰهﷻکریم! بیشک ہم نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا ہے، اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا تو ہم تباہ ہو جائیں گے، تیرے در کے سوا اور کوئی در نہیں جہاں ہم جائیں، تُو ہی تُو ہے اے مولا اے پاک پروردگار! اپنی شان کے مطابق معاف فرما دے بیشک تُو معافی مانگنے کو پسند کرتا ہے اور معاف کرنے والا ہے۔

آمین یا رب العالمین

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment