12 بارہ ربیع الاول یوم پیدائش یا یوم وفات ؟

Rate this post

سوال 1 : آپ لوگ جو 12 بارہ ربیع الاول کو حضور علیہ السلام کا یوم ولادت مناتے ہو، یہ اصل میں ولادت کی تاریخ ہے ہی نہیں؟

جواب: اس کا جواب کہ 12 ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہیں یا وفات آپ کو صحابہ کرام علیہم الرضوان، تابعین، محدثین اور جمہور علماء کے اقوال کی روشنی میں دیتے ہیں۔ یادر ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت میں محققین کا اختلاف ہے مگر جس تاریخ پر جمہور علماء متفق ہیں، وہ تاریخ بارہ ربیع الاول ہے۔

۔1: حضرت جابر اور حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما فرماتے ہیں

روایت: رواه ابن ابي شيبة في مصنفه عن عفان عن سعيد بن ميناء عن جابر و ابن عباس انہما قال ولد رسول اللہ ﷺ عام الفيل يوم الاثنين الثاني عشر من شهر ربيع الاول وفيه بعث و فيه عرج به إلى السماء و فيه هاجر وفيه مات وهذا المشهور عند الجمهور والله اعلم بالصواب

ترجمہ: حضرت جابر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ عام الفیل روز دوشنبہ بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے اور اس روز حضور ﷺ کی بعثت ہوئی۔ اسی روز معراج ہوئی اور اسی روز ہجرت کی اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک یہی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہے۔

واللہ اعلم با اصواب ( سیرت ابن کثیر، جلد اول ص  (199)

2: امام ابن جریر طبری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

ولد رسول الله يوم الاثنين عام الفيل لا تدعى عشرة ليلة مضت من شهر ربیع الاول

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کی ولادت سوموار کے دن ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی

( تاریخ طبری جلد دوم ص 125)

3 علامہ ابن خلدون علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

ولد رسول الله ﷺ عام الفيل لاثنتى عشر قاليلة خلت من ربيع الأول الاربعين سنة من ملك كسرى انوشيروان

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کی ولادت با سعادت عام الفیل میں ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی۔ نوشیرواں کی حکمرانی کا چالیسواں سال تھا ( تاریخ ابن خلدون ، جلد دوم ص 710

4: علامہ ابن ہشام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

ولد رسول الله يوم الاثنين لاثنتى عشرة ليلة خلت من شهر ربيع الاول عام الغيل

ترجمه: رسول اللہ اللہ سوموار بارہ ربیع الاول کو عام الفیل میں پیدا ہوئے (السیرة الحیوۃ ابن ہشام، جلد اول ص 171 )

https://fb.watch/m_ItlRayau/?mibextid=Nif5oz

5: علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

لانه ولد بعد خمسين يوما من الفيل وبعد موت ابيه في يوم الاثنين الثاني عشر من شهر ربيع الاول

ترجمہ: واقعہ اصحاب فیل کے پچاس روز بعد اور آپ کے والد کے انتقال کے بعد بروز سوموار بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے ( اعلام النبوت ص 192)

6 علامہ ابن جوزی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔

ولد يوم الاثنين لعشر خلون من ربيع الأول عام الفيل وقيل لليلتين خلت منه قال ابن اسحاق ولد رسول الله يوم الاثنين عام الفيل لاثنتي عشرة ليلة مضت من شهر ربيع الأول

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کی ولادت با سعادت بروز سوموار دس ربیع الاول کو عام الفیل میں ہوئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رائج الاول کی دوسری تاریخ تھی اور امام ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت مبار که روز دوشنبہ بارہ ربیع الاول عام الفیل میں ہوئی

( الوفا لابن جوزی ص (90

7: امام ابوالفتح محمد بن محمد بن عبد اللہ بن محمد یحیی بن سید الناس الشافعی الاندلسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :

ولد سيدنا ونبينا محمد رسول الله يوم الاثنين لاثنين لاثني عشرة ليلة مضت من شهر ربيع الأول عام الفيل قيل بعد الفيل تخميس يوما ترجمعہ: ہمارے آقا اور ہمارے کی محمد رسول اللہ نے سوموار کے روز بارہ ربیع الاول شریف کو عام الفیل میں پیدا ہوئے ۔ بعض نے کیا ہے کہ واقعہ فیل کے پچاس روز بعد حضور ﷺ کی ولادت ہوئی

(عیون الاثر ، جلد اول بس 26)

8: امام محمد بن زہرہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

الجمهرة العظمى من علماء الرواية على ان مولده عليه الصلوة والسلام في ربيع الأول من عام الفيل في ليلة الثاني عشر منه وقد وافق ميلاده بالسنة الشبيبة نسيان

ترجمہ: علماء روایت کی ایک عظیم کثرت اس بات پر متفق ہے کہ یوم میلاد عام الفیل ، ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ ہے

( خاتم النبیین امام محمد ابوز مرہ، جلد اول ص 115 )

milad un nabi quotes in urdu eid milad un nabi quotes in urdu eid milad un nabi quotes milad un nabi quotes

9: گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

بداں کہ جمہور اہل سیر و تواریخ بر آنند که تولد حضرت ﷺ در عام الفیل ابو در از جبل روز یا پنجاه و پنج روز و این قول اصبح اقوال است مشهور آنست که در ربیع الاول بدود و بعضے علماء دعوی اتفاق بریں قول نمود و ودوازدهم ربیع الاول بود ( مدارج النبوة ، جلد دوم ص 15 )

ترجمہ: خوب جان لوکہ جمہور اہل سیر و تواریخ کی یہ رائے ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش عام الفیل ہوئی اور واقعہ فیل کے چالیس روز یا پچپن روز بعد اور یہ دوسرا قول سب اقوال سے زیاد ہوتی ہے کہ ربیع الاول کا مہینہ تھا اور بارہ تاریخ تھی۔ بعض علماء نے اس قول پر اتفاق کا دعوی کیا ہے یعنی سب علماء اس پر متفق ہیں۔

10 : شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

جس سال واقعہ اصحاب فیل پیش آیا، اسی سال ماہ ربیع الاول میں دو شنبہ کے دن آنحضرت ﷺ کی ولادت ہوئی۔ جمہور کے نزدیک یہی قول صحیح ہے۔

(البتہ تاریخ ولادت کی تعیین میں اختلاف ہے، بعض دوسری اور بعض نے تیسری اور بعض نے بارہویں تاریخ بیان کی ہے)

(سیرت الرسول عے ہیں 12 مطبوعہ دارالاشاعت اردو بازار، کراچی)

11: غیر مقلدین اہلحدیث فرقے کے پیشوا

نواب سید محمد ولادت شریف مکہ مکرمہ میں وقت طلوع فجر کے روز دوشنبه شب دوازدہم ربیع الاول عام الفیل کو ہوئی

( الشمامة العنبریہ مولد خیر البریا ص 7) 12

: دیوبندی مکتبہ فکر کے مفتی اعظم پاکستان

مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں

الغرض جس سال اصحاب فیل کا حملہ ہوا، اس کے ماہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کے انقلاب کی اصل غرض ” آدم اولاد آدم کا فخر کشتی نوح کی حفاظت کا راز، ابراہیم کی دعا۔ موسی و عیسی کی پیش گوئیوں کا مصداق یعنی ہمارے آقائے نامدار محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رونق افزائے عالم ہوتے ہیں۔

( سیرت خاتم الانبیاء، ص 18 مطبوعہ مشتاق بک

کارنر، اردو بازار لاھور )

ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان ، تابعین، محدثین اور جمہور علماء کے نزدیک سرور کونین ﷺ کی ولادت کی تاریخ بارہ ربیع الاول ہے، لہذا اب تمام ماہر فلکیات کی تحقیق کو پس پشت ڈال کر فتنہ محدثین کی بات کو قبول کیا جائے گا۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment