10 محرم الحرام کی خصوصیت

Rate this post

💫10 محرم الحرام💫

✨چند خصوصیات✨

✨حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔

✨حضرت ادر یسں علیہ السلام کو درجات عالیہ نصیب ہوئے۔

✨حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر اتری۔

✨حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل کا منصب عطاء ہوا۔

✨حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل سے رہائی نصیب ہوئی۔

✨حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹائی گئی۔

✨حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔

✨حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی۔

✨حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کو فرعون سے نجات ملی۔

✨حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔

✨حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہادت نصیب ہوئی۔

✨زمانہ جاہلیت میں اہل مکہ خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا کرتے تھے۔

✨اس تاریخ کو قیامت قائم ہوگی۔

( یوم عاشورہ کے روزے کی فضیلت)

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضي الله تعالى ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ”.

(سنن الترمذی (۷۵۲)-

( ١٠ محرم الحرام کے روزے کی فضیلت )

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ” میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ عاشورہ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹادے گا“ ۔

 ( محرم کی دسویں تاریخ کو یوم “عاشوراء” کہتے ہیں)

اس روزے کے اور بھی فضائل ہیں ، اس روزے کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:

کہ تم عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو اس طرح کہ اس کے ساتھ ایک دن پہلے

 ( نویں محرم ) یا ایک دن بعد (۱١ محرم ) کا روزہ بھی رکھو )

( ترمذی شریف ۷۵۲)

عمر فاروق کاندھلوی مظاہری

محرم الحرام 9 اور 10 محرم کے روزے کی فضیلت.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت :

جب رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھااور اس کے دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا “

یا رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ وہ دن ہے

جس کی یہودی اور عیسائی تعظیم کرتے ہیں،

تو آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

اگر ہم آئندہ سال اس دنیا میں رہے تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے.

 (صحیح مسلم)

*گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف کروائیں*

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 *ماہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔* (صحیح مسلم:1163)

 *یوم عاشورہ کا روزہ:*

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عاشورہ کے روزے کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 *پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔*

(صحیح مسلم:1162)

 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر میں باقی رھا تو 9محرم کا روزہ ان شاءاللہ رکھوں گا*

 *لہذا*

   *9محرم جمعہ ( 28 جولائی 2023 )*

*اور*

*10محرم ہفتہ ( 29 جولائی 2023 )کو روزہ رکھیں*

محرم الحرام

کا مہینہ قابلِ احترام اور عظمت والا مہینہ ہے، اس میں دس محرم الحرام کے روزے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے ،رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں، اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، اور یومِ عاشورہ کے علاوہ اس پورے مہینے میں بھی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور آپ ﷺ نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :افضل ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔

 ’’[عن أبي هريرة:] سُئلَ: أيُّ الصلاةِ أفضلُ بعد المكتوبةِ؟ وأيُّ الصيامِ أفضلُ بعد شهرِ رمضانَ؟ فقال ” أفضلُ الصلاةِ، بعد الصلاةِ المكتوبةِ، الصلاةُ في جوفِ الليل ِ. وأفضلُ الصيامِ، بعد شهرِ رمضانَ، صيامُ شهرِ اللهِ المُحرَّمِ “. مسلم (٢٦١ هـ)، صحيح مسلم ١١٦٣ • صحيح •‘‘.

اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔

 ’’[عن عبدالله بن عباس:] من صام يومَ عرفةَ كان له كفَّارةَ سَنتيْن، ومن صام يومًا من المُحرَّمِ فله بكلِّ يومٍثلاثون يومًا‘‘.

امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں چند اشعار

سلطانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو

جانانِ مصطفیٰ ﷺ کو ہمارا سلام ہو

عباسِ نامدار ہیں زخموں سے چُور چُور،

اُس پیکرِ رِضا کو ہمارا سلام ہو

اکبر سے نوجوان بھی رن میں ہوئے شهید،

ہم شکلِ مصطفیٰ ﷺ کو ہمارا سلام ہو

بھائی بھتیجے بھانجے سب ہو گئے شہید،

ہر لالِ بےبہا کو ہمارا سلام ہو

اصغر کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں،

مظلوم و بے خطا کو ہمارا سلام ہو

ہو کر شہید قوم کی کشتی تیرا گئے،

اُمت کے ناخُدا کو ہمارا سلام ہو

ناصر ؔ ولاۓ شاہ میں کہتا ہے بار بار،

مہمانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو

حسین منی و انا من الحسین

سر دے دیا نہ سر کو جھکایا حسین نے

غیرت سے جینا مرنا سکھایا حسین نے

فسق و فجور ،ظلم ہیں نہ قابل قبول

چہرہ یزیدیت کا دکھایا حسین نے

دین مبین کا چہرہ بگاڑے تھا جب یزید

گلگوں قبا پہن کے سنوارا حسین نے

کتنی اہم نماز ہے ارکان دین میں

سجدے میں سر کٹا کے بتایا حسین نے

گھر بار جان و مال سے آگے ہے دیں حق

کربل میں گھر لٹا کے دکھایا حسین نے

لشکر عدو کا ڈھیر تھا ،یاں چند جاں نثار

نقشہ بدر کا یاد دلایا حسین نے

بیٹے بھتیجے ،بھائی کیے سب کے سب نثار

رشتہ نبی سے خوب نبھایا حسین نے

بے شک حسین زندہ ہیں صدیوں کے بعد بھی

مرنے کا خوف دل سے مٹایا حسین نے

بولے ،،حسین مجھ سے ہے میں حسین سے،،

قول رسول پاک نبھایا حسین۔ نے

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment