1) یوم میلاد کو جشن عید میلاد النبی ﷺ کہنا بدعت ہے؟

Rate this post

کیا رسول اللّه صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے یوم میلاد کو جشن عید میلاد النبی ﷺ کہنا بدعت ہے دیوبندی کے اعتراض کا مدلل جواب

محترم قارئین كرام بحمد اللہ تعالیٰ ہم اہلسنّت کا شروع سے یہ شعار رہا ہے کہ ہم اپنے آقا و مولا حضور سیدالرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا یوم میلاد نہایت ادب اور احترام کے ساتھ عشق و محبت میں ڈوب کر مانتے آئیں ہیں اور اعلی حضرت امام اہلسنّت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔

حشر تک ڈالینگے ہم پیدائشِ مولا کی دھوم

مثل فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے

لیکن بعض لوگوں کو میلاد النبی ﷺ کی محافل جلسے اور جلوس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے اور وہ لوگ بغض رسول ﷺ کی وجہ سے ہم اہلسنّت پر شرک و بدعت کے فتوے صادر کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔۔۔۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دیوبندیوں کے اعتراضات کا جواب

لیکن افسوس کا مقام ہے ان لوگوں کہ لیے جو ہم اہلسنّت پر تو فتوے بازی کرتے ہیں لیکن ان کو اپنے گھر کی خبر نہیں اسی سلسلے میں ہم آپ کے سامنے دیوبندیوں کے چند اعتراضات کے جوابات دیوبندیوں کے ہی اصول اور کتب سے پیش کرتے چلیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔

(1)اعتراض: دیوبندی حضرات کہتے ہیں کہ اسلام میں فقط دو ہی عیدیں ہیں ایک عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر لہذا ان دو عیدوں کے علاوہ کسی اور دن کو عید کہنا یا حضور ﷺ کے یوم میلاد کو جشن عید میلاد النبی ﷺ کہنا بدعت ہے

الجواب: دیوبندیوں کا یہ اعتراض فقط جہالت کی بنا پر ہے کیونکہ لفظ عید کا لغوی معنٰی (خوشی) کہ ہیں جیسا کہ فیروز اللغات میں لکھا ہے۔

[عید] لغوی عتبار سے جو بار بار آئے مسلمانوں کے جشن کا روز نہایت ہی خوشی کا تہوار یا دن

عید میلاد النبی کا معنی

(فیروز اللغات صفحہ 907)

محترم قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا اردو لغت سے ہم نے ثابت کیا کہ عید کا معنیٰ خوشی اور جشن کے ہوتے ہیں اور قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے خود حکم فرمایا ۔

قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون

(القرآن سورہٴ یونس آیت 58)

ترجمہ: تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے ، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

محترم قارئین کرام قرآن کریم سے یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تبارک و تعالی نے خود حکم دیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کے فضل و کرم اور نعمت پر خوشیاں مناؤ ۔

اور عید کے لغوی معنی بھی خوشی اور جشن کے ہیں تو لہذا ثابت ہوا حضور علیہ الصلواۃ و السلام کے یوم میلاد کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنا بدعت نہیں۔

اب ہم دیوبندی کو اُن کے گھر کی بھی سیر کرواتے چلیں ایک دیوبندی موصوف لکھتے ہیں۔۔

میں نے (دارالعلوم دیوبند) میں حضرت گنگوہی کے دور میں دیکھا کے وہاں روز عید تھی کبھی حضرت سہارنپوری کی آمد ہوتی کبھی حضرت شیخ الھند اور کبھی حضرت مدنی کی تشریف آوری ہوتی تھی۔

جشن عید میلاد النبی کا ثبوت

(صحبتے بااولیاء صفحہ164)

محترم قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ دیوبندی موصوف نے اس بات کا اقرار کیا کہ جب دیوبند مدرسوں میں ان کے اپنے اکابرین کی آمد ہوتی تو وہ دن دیوبندیوں کے لئے روز عید ہوتا تھا۔

لیکن جب ہم اہلسنت وجماعت حضور نبی رحمت علیہ الصلواۃ و السلام کے یوم میلاد کو جشن عید میلاد النبی کہتے ہیں تو دیوبندی برا مان جاتے ہیں؟

اب آپ احباب خود فیصلہ کیجئے کہ اپنے ہی فتاویٰ جات کی زد میں آکر اصل بدعتی کون ٹھرا۔۔

اسی طرح دیوبندی کے دورِ حاضر کے سب سے بڑے مولوی تقی عثمانی صاحب اپنی کتاب نقوش رفتگاں میں لکھتے ہیں

ہمارے لیے اس سے بڑھ کر عید کوئی نہ ہوتا جب ہمارے بڑے بھائی(محمد زکی کیفی) کراچی آجاتے

(نقوش رفتگاں صفحہ31)

جشن عید میلاد النبی کا ثبوت

محترم قارئین کرام دیوبندی حضرات اب کیا کہیں گے خود دیوبندیوں کے مفتی تقی عثمانی نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ میرے بھائی جب کراچی آتے تو وہ دن ہمارے لئے عید سے بڑھ کر ہوتا تھا۔

تو معلوم یہ ہوا کہ حضور نبی رحمت علیہ الصلواۃ و السلام کے جشن ولادت کو عید میلادالنبی کہنا بدعت نہیں الحمد اللہ۔

کوئی پوچھے کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا کہاں لکھا ہے

تو اپ اس کو بڑا مختصر سا جواب دینا کہ ہر عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قسمت میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

منانا لکھا ہے

مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی

سرکار کی امد مرحبا

 دلدار کی امد مرحبا

اقا کی امد مرحبا

میٹھے کی امد مرحبا

ماہ ربیع الاوّل مبارک

اصل عید کونسی؟

ایک دفعہ تفکر کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اطلاع ذہن میں انسپائر ہوئی کہ *اصل عید تو عیدمیلاد النبی ﷺ ہے….* کیونکہ عید الفطر اور عید الاضحی تو حضورپاکﷺ کی اس دنیا میں ولادت با سعادت کے بعد شروع ہوئیں۔ ارض سمٰوات، مخلوقات اور اُمّتِ مسلمہ کیلئے رسول اللہ ﷺ کی ولادت اصل عید ہے۔ اور عید الفطر و عید الاضحیٰ رسول اللہ ﷺ کی ولادت با سعادت اور حیاتِ طیبہ کے تابع ہیں۔ عید میلاد، آپ ؐ کی ولادت کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہونے کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو نہ معلوم کب سے تخلیق کر کے چھپا رکھا تھا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے کو عالَمِ ناسوت میں بھیجا یہ اللہ تعالیٰ کا انعام اور مقامِ شکر ہے۔

اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نُور تخلیق کیا۔ اور اس نُور سے ساری کائنات بنائی۔ یہ تمام کائنات، اس کے اَندر کی حرکت اور زندگی حضور پاک ﷺ کے نُور کے تابع ہے۔ غور فرمائیں کہ کائنات میں کیا کیا چیزیں مَوجود ہیں۔

عرش، کرسی، سمٰوات، ارض، فرشتے، انبیاء یعنی اللہ تعالیٰ کے ماسِوا جو کچھ بھی ہے، وہ سب کائنات ہے اور سب کچھ رسول اللہ ﷺ کے نُور سے تخلیق ہوا…. تو رسول اللہ ﷺ کی ولادت با سعادت سے بڑھ کر اور کون سی عید ہو سکتی ہے اور اس خوشی کو محسوس کرنا بڑی سعادت ہے اور ان کیلئے خوش نصیبی کا اشارہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی اُمّت میں شامل ہیں اور ان کے پیروکار ہیں۔

اللہ تعالیٰ حق بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment