1)خواب کی تعبیر کا طریقہ اور اس کے تقاضے

Rate this post

خواب کی تعبیر

مسلمان کے خواب کا کثرت سے سچ ثابت ہونا ” قیامت صغری کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(( إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدَ رُويَا الْمُؤْمِنِ تَكذِبُ۔

ترجمہ:(( جب یہ دنیا ختم ہو جانے کے قریب ہوگی تو مومن کا خواب شاذ و نادر ہی خلاف واقعہ ہوگا۔

شاید اس میں یہ راز ہو کہ چونکہ مومن دنیا کے اختتام کے وقت اس حدیث کے پیش نظر خال خال ہوں گے۔

( بدأ الإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ))

اسلام کا آغاز اجنبیت سے ہوا ہے اور اس کا انجام بھی اجنبیت پر ہوگا ۔“ اور اس دور میں اطاعت وفرماں برداری پر گامزن رہنے کے لیے ان کے مونس و غم خوار کم ہو جائیں گے ، اس لیے انہیں صراط مستقیم پر قائم رکھنے کے لیے سچے خوابوں کی بشارت کا اعزاز دیاجائے گا۔ خواب کی تعبیر کرنے والے لوگ بہت کم ہیں ۔

بالخصوص ایسے افراد جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت اور فن تعبیر میں بصیرت سے نوازا ہے، چیدہ چیدہ نظر آتے ہیں۔ علم تعبیر کی کتابیں بھی رطب و یابس سے بھری پڑی ہیں۔ مزید برآں لوگوں کی اکثریت ان سے استفادہ نہیں کر سکتی ۔

.خواب تین قسم کا ہوتا ہے

اچھا خواب

یہ اللہ تعالی کی طرف سے خوش خبری ہوتی ہے اور یہ نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔

برا خواب

یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ وہ اس کے ذریعے انسان کو غم زدہ کرنے اور نیند کے دوران لہو ولعب میں مشغول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ذہنی تخیلات

دن کے وقت انسان کے دینی تفکرات اور خیالات نیند میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں اس کے یومیہ معمولات بھی آجاتے ہیں۔

مثلاً : اگر کسی وقت کسی شخص کے کھانے کا معمول ہو اور وہ سو جائے تو خواب میں کھانا کھا رہا ہوگا یا ضرورت سے زائد کھالے تو وہ خواب میں دیکھے گا کہ اسے قے آرہی ہے۔

مذکورہ بالا خواب کے علاوہ جتنے بھی خواب آتے ہیں، وہ محض افسانے ہوتے ہیں۔ ان کی تعبیر نہیں ہو سکتی اور نہ ہی وہ تعبیر کے اصولوں پر پورا اترتے ہیں۔

اچھا خواب دیکھنے کی صورت میں چار باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

(1) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔

(۲) اسے خوشخبری کا آئینہ دار سمجھے۔

(۳) اسے اپنے دوستوں تک محدودر کھے۔

(۴) اس کی بہتر انداز میں تعبیر کرے یا کروائے، کیونکہ خواب تعبیر کے مطابق پورے ہو جاتے ہیں۔ 3۔

 

اگر خواب اچھا نہ ہو تو دیکھنے والے کو سات باتوں کا خیال رکھنا ہوگا، ان کی پاسداری کرنے سے وہ شخص انشاء اللہ اس کے ضرر سے محفوظ ہوجائے گا۔

(1) اس کے شر سے پناہ مانگے ۔

(۲) تین دفعہ ” أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پڑھے۔

(۳) تین دفعہ بائیں طرف دم کرے۔

(۴) جس کروٹ لیٹ کر یہ خواب دیکھا ہو اسے بدل دے۔

(۵)نماز نفل پڑھنا شروع کر دے۔

(6) کسی شخص کے سامنے بیان نہ کرے۔

(۷) خود بھی اس کی تعبیر نہ کرے۔

مندرجہ بالا ہدایات کے دلائل مندرجہ ذیل احادیث میں موجود ہیں۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔

” جب تم میں سے کوئی شخص پسندیدہ خواب دیکھے، تو اسے اللہ تعالی کا انعام سمجھ کر اس کا شکر ادا کرے اور اسے ( دوست و احباب) کے سامنے بیان نہ کرے۔ اگر کوئی شخص نا پسندیدہ چیز خواب میں دیکھے ، تو یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اس کے شر سے تحفظ کے لیے ” أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پڑھے۔ اور اسے کسی کو نہ بتائے ، ایسا کرنے سے یہ  اسے نقصان نہیں دے گا ۔

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں خواب دیکھتا تو بیمار ہوجاتا تھا۔ ایک روز میں نے رسول اللہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ جب تم خواب میں کوئی پسندیدہ چیز دیکھو تو اسے صرف انہی لوگوں کے سامنے بیان کرو ، جن سے تمہیں محبت ہو۔ اور جب کوئی نا پسند چیز دیکھو تو اس کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ میں آؤ۔ اور ” أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِیم “ پڑھو، تین دفعہ دم کرو، اسے کسی کے سامنے بیان نہ کرو۔ ایسا کرنے سے تمہیں یہ خواب کوئی نقصان نہیں دے گا۔

مسلم کی دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: اگر کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو اسے خوش خبری سمجھے اور اپنے پسندیدہ لوگوں کے علاوہ کسی کو نہ بتائے ۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم کوئی نا پسندیدہ خواب دیکھو تو اپنی بائیں طرف تین دفعہ دم کرو اور تین دفعہ ” أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِیمِ پڑھو۔ اور جس کروٹ کے بل لیٹے ہوئے ہو، اسے بدل دو ۔

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں کہ : ” جب تم خواب میں کوئی نا پسندیدہ بات دیکھو، تو اٹھ کر نماز پڑھنے لگ جاؤ اور یہ خواب کسی کو نہ بتاؤ۔“

خواب کی تعبیر کا طریقہ

خواب کی تعبیر کے لیے مندرجہ ذیل طریقے اختیار کیے جائیں۔

(1) خواب میں جو چیز نمایاں اور بنیادی حیثیت کی حامل ہو۔ مثلا: کوئی چیز خوش خبری یا پریشانی، دنیوی یا اخروی مفاد کی نشان دہی کر رہی ہو تو اسے پیش نظر رکھیں اور اس کے علاوہ باقی چیزوں کو چھوڑ دیں۔

(۲) مذکورہ بالا اہم چیز کو قرآن مجید یا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا قیاس و تشبیہ یا نام کی مناسبت یا لغوی معنی کی روشنی میں خواب کی تعبیر کے لیے بنیاد بنالیں۔

قرآن مجید کے ذریعے تعبیر کی مثالیں

(1) رسی کی تعبیر اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ – ) (آل عمران : ۱۰۳) کی روشنی میں عہد و پیمان کے ساتھ کریں۔

(۲) کشتی اور بحری جہاز کی تعبیر: (( فَانْجَيْنَاهُ وَ أَصْحَابَ السَّفِينَةِ ، )) (العنكبوت : ١٥)

کی روشنی میں نجات پانے اور چھٹکارہ حاصل کرنے کے ساتھ کریں۔

(۳) تنوں سے: ( كَأَنَّهُمْ حُشُبْ مُسَندَة ( ) (المنافقون : ٤) کے پیش نظر نفاق مراد لیں۔

(۲) فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً )) (البقرة : ٧٤) کی روشنی میں پتھر کی تعبیر شدت اور سختی کے ساتھ کریں۔

(۵) شیر خوار بچے کی تعبیر : ( فَالْتَقَطَهُ ال فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوّاً وَحَزْنَا )

(القصص 7) کی روشنی میں دشمنی کے ساتھ کریں۔

(۶) راکھ سے نا قابل قبول عمل مراد لیں کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِهِ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّبْحُ )

باری تعالیٰ کے منکروں کی مثال اس راکھ کی طرح ہے،جس پر تند و تیز آندھی آگئی ہو۔”

👇مزید جاننے کیلئے کتاب کو ڈاؤنلوڈ کریں

خواب کی تعبیر کتاب pdf download

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment