Shaikh Ahmed Sarhindi Mujadid Alfe Sani Sahib

Rate this post

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اور شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی کے مبارک ہاتھوں کی تحریر

عرس مبارک

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر

وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

                                          علامہ محمد اقبال 

مرید خواجہ باقی باللہ، مرشد امام الفقراء فقیر امام محمد رضا زکوڑی، حضور امامِ ربانی، قیوم زمانی، قندیلِ نورانی، محبوب سبحانی، رمزِحقانی، عالمِ علومِ قرانی، آيت من آيات اللّٰه، حجة اللّٰه على الارض، مجددِ اعظم حضرت سیدنا و مرشدنا شیخ احمد سرہندی فاروقی نقشبندی قادری چشتی المعروف مجدد الف ثانی قدس سرہ کا یوم وصال باکمال 28 صفر المظفر ہے۔ قبلہ مجدد اعظم نے برصغیر میں روحانیت اور تجدید دین کے حوالے سے وہ کارنامے انجام دیئے جن کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

آپ کا سلسلہ طریقت نقشبندیہ 21 واسطوں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

آپ کا سلسلہ طریقت قادریہ 25 واسطوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔

آپ کا سلسلہ طریقت چشتیہ 27 واسطوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔

آپ کا سلسلہ نسب 27 واسطوں سے حضرت فاروق اعظم رضی اللّہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے۔#عرس_مجدد_الف_ثانی_شیخ_احمد_فاروقی_سرہندی ❤

 

از: محمد سلیم انصاری ادروی 

 

ولادت

امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی نقش بندی علیہ الرحمه ١١ ویں صدی ہجری کے مجدد، بلند پایہ صوفی بزرگ، محدث، فقیہ، عالم، فاضل، جامع کمالات ظاہری و باطنی اور قطب الاقطاب تھے۔ آپ کی ولادت با سعادت ١۴ شوال سنہ ٩٧١ھ/ ١٦ مئی سنہ ١۵٦۴ء کو سرہند شریف (قدیم نام: سہرند) میں ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب اکتیس واسطوں سے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی الله تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ شیخ الہند شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور رئیس المحدثین امام محمد بن طاہر پٹنی علیہما الرحمه جیسے نامور محدثین کے ہم عصر تھے۔ 

 

تحصیل علم

قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد آپ نے اپنے والد ماجد شیخ عبد الاحد سرہندی علیہ الرحمه سے بیشتر علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل کی۔ پھر سیال کوٹ جا کر آپ نے مولانا کمال الدین کشمیری علیہ الرحمه سے بعض معقولات نہایت تحقیق کے ساتھ پڑھی۔ شیخ یعقوب محدث کشمیری علیہ الرحمه سے علوم حدیث اخذ کیا اور سند حدیث حاصل کی۔ پھر حرمین شریفین حاضر ہوئے اور وہاں جا کر کبار محدثین سے حدیث کی سن وحدیث مسلسل با لرحمہ کی ایک واسطے کے ساتھ محدث کبیر شیخ عبد الرحمن بن فہد علیہ الرحمه سے سند حاصل کی، نیز کتب تفسیر و صحاح ستہ اور دیگر مفردات کی ان سے اجازت لی اور حدیث مسلسل بالا لولیة کو قاضی بہلول بدخشانی سے روایت کیا۔ اور سترہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے اور درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ حصول حدیث کے بعد شیخ سرہندی نے فرمایا: “یوں محسوس ہوتا ہے کہ مجھے طبقۂ محدثین میں داخل کر لیا گیا ہو۔”

 

بیعت و خلافت

آپ نے سلسلۂ چشتیہ میں اپنے والد سے خلافت پائی تھی۔ سلسلۂ قادریہ وغیرہ کی اجازت شیخ سکندر سے ملی۔ جب آپ دہلی تشریف لائے تو وہاں شیخ باقی بالله نقش بندی رحمه الله سے سلسلۂ نقش بندیہ میں بیعت ہو گئے۔ شیخ باقی باللہ نے اپنے ایک مخلص سے فرمایا کہ “سرہند کے ایک شخص احمد نامی نے جو کثیر العلم اور قوی العلم ہے فقیر کے ساتھ کچھ دنوں نشست و برخاست رکھی۔ اس کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسا آفتاب ہوگا کہ دنیا اس سے روشن ہو جائے گی۔” اور اسی زمانے میں شیخ سرہندی کی شہرت سرہند سے لے کر ماوراءالنہر، روم، شام اور مغرب تک پھیل گئی۔

 

درس و تدریس

شیخ سرہندی فراغت کے بعد والد ماجد کے پاس ہی درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ ملک و بیرون ملک سے صدہا طلبا جوق در جوق آنا شروع ہو گئے۔ رات دن درس و تدریس کا مشغلہ جاری رہتا۔ آپ کتب تفسیر، حدیث و فقہ خصوصا تفسیر بیضاوی، صحیح بخاری، مشکوة المصابیح، شرح المواقف، حاشیہ عضدی، ہدايه اور عوارف المعارف وغیرہ کا درس دیتے تھے۔ آپ کے صاحب زادگان اور بعض خلفا نے بھی آپ سے درس حاصل کیا۔

تجدیدی کارنامہ

شیخ سرہندی نے ایسے زمانے میں اصلاح امت اور دعوت و تبلیغ کے مشن کا آغاز کیا جس دور میں جلال الدین اکبر کی غیر اسلامی حرکتوں سے اسلام کا چمن خزاں رسیدہ ہو چکا تھا، مگر اس عالم میں شیخ سرہندی نے اپنی حکیمانہ دعوت و تبلیغ سے ایسا انقلاب برپا کیا کہ چشم فلک نے اس دور میں ویسا دوسرا انقلاب نہیں دیکھا۔ 

اکبری الحاد اور بے دینی کا جائزہ لینے کے لیے اکبر کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ اکبر بادشاہ اپنی ابتدائی زندگی (٩٦٣ھ/١۵۵٦ء – ٩٨٣ھ/١۵٧۵ء) میں دین دار اور سنی صحیح العقیدہ مسلمان تھا۔ اٹھارہ بیس سال تک کی عمر تک جماعت سے نماز پڑھتا، مسجد میں جھاڑو لگاتا، علما و مشائخ کی تعظیم و توقیر کرتا اور صوفیا و صلحا کے گھروں اور آستانوں پر حاضری دیتا تھا۔ عہد اکبری کا دوسرا دور ٩٨٣ھ/١۵٧۵ء سے ٩٨۵ھ/ ١۵٧٨ء تک ہے، اس دور میں ایک عمارت تعمیر کی گئی اور شیخ عبد اللہ سرہندی نے اس عمارت کا نام “عبادت خانہ” رکھا۔ اکبر کو اصولی و فروعی مسائل کا چسکا لگا ہوا تھا، چناں چہ اس عبادت خانہ میں ہر جمعہ کی رات علمی مجلس کا انعقاد ہوتا، جس میں ہر مکتبۂ فکر کے علما و دانشور شریک ہوتے، بادشاہ انہیں الطاف خسروانہ سے نوازتا۔ اسی مالی فیضان کی وجہ سے علما کے مابین حسد و بغض پیدا ہو گیا۔ علما کو آپس میں لڑتا، جھگڑتا اور غیر مہذبانہ حرکات کرتا دیکھ اکبر بادشاہ علما سے بدظن ہو گیا۔ پھر ماہ رجب سنہ ٩٨٧ھ/ ١۵٧٩ء میں درباری علماے سو سے ایک محضر نامہ تیار کروایا جس کا مضموں یہ تھا:

“امام عادل مطلقا مجتہد پر فضیلت رکھتا ہے، اور وہ اس بات کا مجاز ہے کہ مسئلہ مختلف فيه میں روایت مرجوح کو ترجیح دے دے، معاملات شرعیہ میں کسی کو اس کی راے سے انکار کرنے کی گنجائش نہیں، کیوں کہ امام عادل معاملات کو مجتہدین سے زیادہ سمجھتا ہے، پس جو اس کی مخالفت کرے وہ دنیا و عقبیٰ میں مستوجب عذاب ہے، بلکہ امام عادل کو اس کا بھی اختیار ہے کہ کوئی حکم ایسا بھی اپنی طرف سے جاری کرے جو نص کے مخالف ہو، مگر اس میں خلائق کی رفاقت مد نظر ہو، اور امام عادل کے ایسے مسائل کی تعمیل سب پر واجب ہے۔”

اکبر کی اس بے راہ روی کو دیکھ کر قاضی القضاة ملا محمد یزدی نے علی الاعلان فتویٰ دیا کہ بادشاہ بدمذہب ہو گیا ہے، بادشاہ نے ملا محمد یزدی، معز الملک، قطب الدین خان اور شہباز خان کو الگ الگ مقامات پر دریا میں ڈبو دیا اور باقی علما کو قید خانے میں ڈال دیا۔ 

دوسرے دور کے اختتام تک اکبر اسلام سے بالکل دور جا چکا تھا، اکبر کا تیسرا دور ٩٩٠ھ/ ١۵٨٢ء سے ١٠١۴ھ/ ١٦٠۵ء تک ہے، اسی دور میں اکبر نے سنہ ٩٩٠ھ/ ١۵٨٢ء میں دین الٰہی کی بنیاد رکھی، شیخ محمد ناگوری، ابو الفیض فیضی اور شیخ تاج الدین وغیرہ نے آیات و احادیث کی من گڑھت تاویلیں کیں جن سے اکبر خود حیران ہو گیا تھا۔ اب ذیل میں الحاد اکبری (دین الہی) کے معتقدات کی اجمالی فہرست یہ ہے:

● ملا عبد الله سلطان پوری نے حج کے اسقاط کا فتویٰ دیا، ● ملا سعید نے داڑھیاں منڈوانے کے سلسلہ میں ایک حدیث گڑھی، ● بادشاہ کے لیے سجدۂ تعظیمی کو جائز قرار دیا گیا، ● لا اله الا الله اکبر خلیفة الله کلمہ پڑھنے کا حکم دیا گیا، ● سود کو حلال کر دیا گیا، ● شراب کو حلال اور پاک قرار دیا گیا، ● چار وقت آفتاب کی پرستش لازم قرار دی گئی، ● مساجد کو مندروں میں تبدیل کر دیا گیا، ● روزہ رکھنے کی ممانعت قرار دی گئی، ● خنزیر کے گوشت کو جائز قرار دیا گیا، ● ماتھے پر قشقہ لگانا، ● گلے میں زنار پہننا اور غسل جنابت نہ کرنا دین الہی کا شعار قرار دیا گیا۔

دور اکبری میں شیخ سرہندی نے تبلیغی و اصلاحی سرگرمياں خاموش طریقہ سے جاری رکھیں، مگر جب اکبر کی وفات کے بعد ٢١ اکتوبر سنہ ١٦٠۵ء کو نور الدین محمد جہاں گیر “بادشاہ غازی” کے نام سے تخت نشین ہوا تو شیخ سرہندی بھی پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتر آئے، اس وقت آپ کی عمر چالیس سال ہو چکی تھی، شیخ سرہندی نے جہاں گیری دربار کے امرا، وزرا، اعیان سلطنت اور ارباب اقتدار ہی کو دین حق کی طرف مائل کرنے اور عہد اکبری کی بدعات و خرافات سے دور کرنے کے لیے ان کے نام مکتوبات ارسال کیے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ جہاں گیر راجا بہاری مٙل کی بیٹی سے پیدا ہوا اور راجا بھگوان داس کی بیٹی سے شادی کی۔ لیکن وہ اول تا آخر مسلمان ہی تھا۔ وہ حضرات (سید صدر جہاں، خان جہاں اور شیخ فریدی بخاری) جو جہاں گیر کو مشورہ دینے کی طاقت و صلاحیت رکھتے تھے شیخ سرہندی نے ان کو مکتوبات ارسال کیے، خان جہاں کو لکھا کہ جب بادشاہ سے ملاقات کریں اور وہ آپ کی بات سننے کی طرف متوجہ ہو تو کیا ہی اچھا ہوگا اگر صراحتا و کنایتہ معتقدات اہل سنت وجماعت کے مطابق کلمۂ حق اس کے کانوں تک پہنچائیں۔ شیخ فریدی بخاری کو لکھا کہ آپ تمام مواقع پر نظر رکھیں اور مسائل شرعیہ بیان کرتے رہیں تاکہ کوئی مبتدع اور گمراہ درمیان میں حائل ہوکر بادشاہ کو راہ راست سے نہ بہکائے، شیخ سرہندی کی رہنمائی پر ان لوگوں نے موقع پا کر جہاں گیر کی ذہن سازی کی۔ 

تمام لوگوں کی اصلاحی و تبلیغی خدمات کا یہ نتیجه نکلا کہ جہاں گیر نے خود شیخ فریدی کو حکم دیا کہ امور شرعیہ میں مشورہ دینے کے لیے ایک مجلس قائم کی جائے، جب یہ خبر شیخ سرہندی تک پہنچی تو آپ نے شیخ فریدی کو مکتوب ارسال اور لکھا کہ ایسے دین دار علماے آخرت جو حب جاہ و ریاست کے طالب نہ ہوں اور ترویج شریعت اور تائید ملت کے علاوہ کوئی مقصد نہ رکھتے ہوں اگرچہ تعداد میں بہت قلیل ہوں۔ اگر علماے سو ہوئے تو ترویج شریعت کے بجائے تخریب دین ہو جائے گا۔

آگرہ کے علماے سو نے جب دین الہی کو خاک میں ملتا دیکھا تو دوبارہ سرگرم ہو گئے، اور جہاں گیر سے شکایت کی کہ شیخ احمد دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا مقام صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کے مقام سے بلند ہے، شیخ سرہندی کی مقبولیت اور اس سے پہنچنے والے خطرات سے جہاں گیر کے کان بھرے، اور مخالفین و حاسدین کی یہ سازش بھی کام یاب ہو گئی۔ چناں چہ جہاں گیر نے شیخ سرہندی کو دربار میں بلایا اور اعتراض پیش کیا، شیخ سرہندی نے مدلل و مفصل جواب دیا جس سے بادشاہ مطمئن ہو گیا۔ اسی دوران دربار شاہی کے حاضرین میں سے ایک شخص نے جہاں گیر سے عرض کیا کہ شیخ کے گھمنڈ کو دیکھیے کہ آپ کو سجدہ نہیں کیا حالاں کہ آپ ظل الله اور خلیفة الله ہیں، بادشاہ کو جلال آگیا، اور اس نے شیخ سرہندی کو سنہ ١٠١٨ھ میں قلعہ گوالیار میں قید کروا دیا۔ قید رہتے ہوئے آپ نے سنت یوسفی ادا کی اور آپ کی تبلیغ سے پورا قید خانہ کفر و شرک اور فسق و فجور سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ صورت حال دیکھ کر جہاں گیر نے آپ کو قید خانے سے رہا کر دیا، آپ اس شرط پر رہا ہوئے کہ دین الہی کے تمام اصول کا لعدم قرار دیے جائیں اور شریعت اسلامیہ کو عملا نافظ کیا جائے، جہاں گیر نے آپ کی یہ شرط تسلیم کی اور آپ کو رہا کر دیا۔

اہل تصوف کی اصلاح: عہد اکبری میں تصوف و طریقت کے جو افکار و رسوم ہوا پرست صوفیوں نے وضع کر لیے تھے، جن میں فلسفۂ یونان، حکمت اشراق، عجمی و ہندی کے تصورات کی ایسی آمیزش کر لی گئی تھی جس سے اسلامی تصوف کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ جاہل صوفیوں نے شریعت و طریقت کو الگ الگ خانوں میں بانٹ رکھا تھا۔ شیخ سرہندی نے اس طرف خاص توجہ فرمائی اور شریعت کی برتری کا احساس دلایا۔ علما و صوفیا کے درمیان مسئلہ وحدة الوجود کے تعلق سے جو صدیوں سے اختلاف تھا اس کو آپ نے صرف لفظی قرار دیا۔ 

خدمت علم حدیث: علم حدیث پر آپ کی گہری نظر تھی، آپ نے عقائد اہل سنت اور احوال صوفیاے ملت کو حدیث کی روشنی میں ثابت کیا۔ متن حدیث میں ایک اربعین یعنی چالیس منتخب احادیث کا مجموعہ آپ کی تالیف ہے، مکتوبات شریف میں آپ نے تقریبا ٣٣٦ احادیث نقل کی ہیں، جن کو جناب ابو کلیم محمد صدیق فانی صاحب نے” تخریج احادیث المکتوبات” میں جمع کیا ہے۔ مکتوبات و دیگر رسائل میں بعض مقامات پر آپ نے اصول حدیث کے فنی مباحث جیسے صحیح، حسن، خبر واحد، خبر متواتر اور راویوں پر جرح وغیرہ کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے، عصر حاضر کے نامور محدث، شارح بخاری و مسلم مفسر قرآن علامہ غلام رسول سعیدی رحمه الله نے ایک حدیث کے مفہوم کو اس لیے صحیح قرار دیا کہ مکتوبات میں شیخ سرہندی نے اسے نقل کیا ہے۔ علامہ سعیدی لکھتے ہیں: ان (شیخ سرہندی) کے نزدیک حدیث “لو لاك لما خلقت الافلاك” معنئ صحیح اور ثابت ہے۔ (مقالات سعیدی/ص: ١٣٨)

تصانیف: شیخ سرہندی کی چند تصنیفات درج ذیل ہیں

● مکتوبات امام ربانی (٣ جلد)، ● رسالہ تہلیلیہ، ● رسالہ اثبات النبوة، ● رسالة المبد والمعاد، ● رسالہ مکاشفات الغیبیہ، ● رسالہ آداب المریدین، ● رسالہ معارف الدینیہ، ● رسالہ رد الشیعہ، ● تعلیقات العوارف، ● رسالہ وحدة الوجود، ● رسالہ مقصود الصالحین۔

وصال: ترسٹھ سال کی عمر میں ٢٨ صفر المظفر سنہ ١٠٣۴ھ میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی نقش بندی علیہ الرحمه کا وصال ہوا۔ آپ کی تدفین سرہند شریف (پنجاب، بھارت) میں ہوئی۔

(مجددین اسلام نمبر/ص: ٣١١-٣١٦ ، تذکرہ علمائے ہند/ص: ١٠٣-١٠۵ ، حدائق الحنفیہ/ص: ۴٢۵-۴٢٧ ، مجدد الف ثانی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان/ص: ٢۵، ٢٦۔ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی علمی و دینی خدمات/ص:۴٠، ١٠١، ١٠٢)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment