گیارہویں شریف : ایک تعارف

Rate this post

گیارہویں شریف : ایک تعارف وحقیقت میں دو عدد بہت اہم ہیں. نمبر “1” اور “م11”.

نمبر 1 اللہ کے لیے ہے

نمبر 11 حضور پاک کے نام مبارک ” محمد” (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عدد ہیں.

محمد = 92, 9 + 2 = 11

علم الاعداد میں نمبر 11 کو خاص اہمیت حاصل ہے. اسے پاور نمبر کہا جاتا ہے, (گوگل سے تصدیق کی جا سکتی ہے).

گیارہویں تاریخ میں اللّٰہ تعالیٰ کی تعمتیں

اللہ پاک نے کائنات کی بے شمار اہم چیزیں چاند کی گیارھویں تاریخ کو پیدا فرمائی ہیں. ان سب کا ذکر حضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی (رحمت اللہ علیہ) نے اپنی کتاب غنطہ الطالبین میں تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔

گیارہویں شریف کی حقیقت بزبان غوث اعظم

حضرت غوث اعظم چاند کی ہر گیارہ تاریخ کو حضور پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام امت مسلمہ کے لیے ایصال ثواب اور دعاۓ مغفرت کی محفل ترتیب دیا کرتے تھے, جس میں بہت لوگ شرکت کیا کرتے تھے.

پھر غوث پاک کا اپنا وصال چاند کی 9 تاریخ کو ہوا, 9 ربیع الثانی کو, لیکن آپ کے ورثاء اور چاہنے والوں نے آپ کے لیے بھی ایصال اور دعا چاند کی گیارھویں تاریخ کو ہی کراتے رہنے کا فیصلہ کیا۔

گیارہویں شریف

اب اہل یقین اور اہل عقیدہ مسلمان ہر چاند کی گیارہ تاریخ کو غوث اعظم کی سنت پر عمل کرتے پوری امت مسلمہ (بشمول غوث پاک) کے لیے ایصال ثواب اور دعاۓ مغفرت کرتے ہیں. اور اکٹھے ہوۓ مہمانوں کے لیے لنگر یعنی کھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔

اسے گیارھویں شریف کہا جاتا ہے. یا گیارویں شریف کا ختم۔

گیارہویں شریف یا گیارہویں کی ختم

گیارویں شریف کے ختم کی یہ خصوصیت ہے کہ جو بھی اسے شروع کرے, یعنی ہر مہینے چاند کی گیارویں کو ایصال ثواب کے کیے ذکر و کلام پاک کی ترتیب بنا کر لنگر کا اہتمام کرنا شروع کرے تو یہ ختم خود بخود بڑھنا شروع ہو جاتا ہے, کلام پاک پڑھنے اور لنگر کی مقدار زیادہ ہوتی جاتی ہے. اللہ خصوصی برکت دیتا ہے. گھر میں رزق میں برکت ہوتی ہے۔

گیارہویں شریف کی برکات

ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے ایک پلیٹ چاول یا کھانے سے ختم پاک کرنے کا آغاز کیا اور اب اللہ کے فضل سے وہ کئی کئی دیگیں ہر ماہ ختم پاک کے لیے دیتے ہیں.

رزق کی فراخی کے خواہشمند افراد یہ ختم پاک کروانا شروع کریں۔

گیارہویں شریف کی تاثرات بزبان علماء کرام و اولیاء کرام

ذیل میں گیارہویں شریف کے متعلق اہل علم کے تأثرات قلمبند کئے جارہے ہیں۔

(۱)#محدث_اعظم_ہند_حضرت_شاہ_عبدالعزیز_محدث_دہلوی:

حضرت غوث اعظم(رضی اﷲعنہ )کے روضۂ مبارک پر گیارہویں تاریخ کو بادشاہ وغیرہ شہر کے اکابر جمع ہوتے، نماز عصر کے بعد مغرب تک قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور حضرت غوث اعظم(رضی اﷲعنہ)کی مدح اور تعریف میں منقبت پڑھتے، مغرب کے بعد سجادہ نشین درمیان میں تشریف فرما ہوتے اور ان کے اِردگرد مریدین اور حلقہ بگوش بیٹھ کر ذِکر بالجہر(باآوازِ بلندذِکر)کرتے۔ اسی حالت میں بعض پروجدانی کیفیت طاری ہوجاتی۔ اس کے بعد طعام شیرینی جو نیاز تیار کی ہوتی، تقسیم کی جاتی اور نماز عشا پڑھ کر لوگ رُخصت ہوجاتے۔

(ملفوظات عزیزی،فارسی: ص۶۲)

(۲) #شاہ_عبدالحق_محدث_دہلوی_علیہ_الرحمہ:

میرے پیرومرشد حضرت شیخ عبدالوہاب متقی مہاجر مکی (علیہ الرحمہ)۹ ربیع الثانی کو حضرت غوث اعظم (رضی اﷲعنہ)کا عرس کرتے تھے۔بے شک ہمارے ملک میں آج کل گیارہویں تاریخ مشہورہے اور یہی تاریخ آپ کی ہندی اولاد و مشائخ (ہندو پاک)میں متعارف ہے۔

(ماثبت من السنۃ: ص۱۶۷)

گیارہویں شریف : ایک تعارف

3. #حضرت_شیخ_امان_ﷲ_پانی_پتی_علیہ_الرحمۃ_المتوفی_997ھ:

۱۱ربیع الثانی کو حضرت غوث اعظم کا عرس کرتے تھے۔(اخبار الاخیار(اردو ترجمہ): ص۴۹۸)

(۳) #مرزا_مظہر_جانِ_جاناں_علیہ_الرحمہ:

میں نے خواب میں ایک وسیع چبوترہ دیکھا جس میں بہت سے اولیاے کرام حلقہ باندھ کر مراقبے میں ہیں۔ اور ان کے درمیان حضرت خواجہ (بہاوالدین)نقشبند دوزانو اور حضرت جنیدبغدادی تکیہ لگاکر بیٹھے ہیں۔ اِستغناماسواء اﷲ اور کیفیاتِ فنا آپ میں جلوہ نما ہیں۔ پھر یہ سب حضرات کھڑے ہوگئے اور چل دیے، میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے ؟

تو اُن میں سے کسی نے بتایا کہ امیر المومنین حضرت علی المرتضٰی علیہ السلام کے استقبال کے لیے جا رہے ہیں۔ پس حضرت علی المرتضٰی شیر خدا (کرم اﷲ وجہہ الکریم ) تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ ایک گلیم پوش ہیں جو سر اور پاوں سے برہنہ ذولیدہ بال ہیں۔ حضرت علی المرتضٰی (کرم اﷲ وجہہ الکریم ) ان کے ہاتھ کو نہایت عزت اور عظمت کے ساتھ اپنے مبارک ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟

تو جواب ملا کہ یہ خیرالتابعین حضرت اویس قرنی(رضی اﷲ تعالی عنہ)ہیں پھر ایک حجرہ شریف ظاہر ہوا جو نہایت ہی صاف تھا اور اس پر نور کی بارش ہو رہی تھی۔یہ تمام باکمال بزرگ اس میں داخل ہوگئے، میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو ایک شخص نے کہا آج حضرت غوث الثقلین سید عبدالقادر جیلانی کا عُرس ہے۔ہم سب عرس پاک کی تقریب پر تشریف لے گئے ہیں۔

(کلمات طیبات ،فارسی: صفحہ۷۷،۷۸

4. #علامہ_برخوردار_نبراس_علیہ_الرحمہ:

ممالکِ ہندو سندھ وغیرہ میں آپ کاعرس ۱۱ربیع الثانی کو ہوا کرتاہے۔ اس میں انواع و اقسام کے طعام وتحائف کہ حاضرین علما و اہل تصوف، فقرا درویشاں کو پیش کیے جاتے ہیں۔ وعظ اور بعض نعتیہ نظمیں بھی بیان ہوتی ہیں۔ اس عرس شریف میں ارواحِ کاملین کا بھی حضور ہوتاہے خصوصاً آپ کے جد امجد حضرت علی المرتضی(کرم اﷲ وجہہ الکریم)بھی تشریف لاتے ہیں۔

کماثبت عند ارباب المکاشفۃ(سیرت غوث اعظم: ص۲۷۵)

پیر عبدالرحمٰن نے اس (گیارہویں تاریخ)کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پیرانِ پیر حضرت غوث الاعظم ہر گیارہویں کو نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا عرس کیا کرتے تھے۔

(کلیات جدولیہ فی احوال اولیاء اﷲ، المعروف بتحفۃ الابرار، بحوالہ تکملہ ذکرالاصفیاء :ص۲۹)

غوث اعظم چونکہ گیارہویں کرتے ہیں لہٰذا بطریق(تسبیح فاطمہ)گیارہویں حضرت پیرانِ پیر مشہور ہوئی۔

(حاشیہ سیرت غوث الاعظم: ص۲۷۶)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment