کلام نصیرالدین نصیر | پیر سید نصیرالدین نصیر شاعری

Rate this post

Hazrat Allama Pir Syed Nasiruddin Nasir aik shaair, adeeb, mohaqiq, khateeb, aalim aur soofi basafa thay. Aap Urdu, Farsi aur Punjabi zabaan ke shaair thay. Is ke ilawa Arabic, Hindi, Poorbi aur Saraiki zabaanon mein bhi shair kahe. Isi wajah se unhein “Shaair-e-Haft Zabaan” ke laqab se yaad kiya jata hai.

Pir Syed Nasiruddin Nasir ne mutadid kutub tasneef ki hain jin ke mutale se dil o dimagh ke dariche khulte chale jate hain aur rooh ko daaimi sarshaari naseeb hoti hai. Pir Sahib qadir al-kalaam shaair thay aur shaairi ki jumla asnaf sukhan mein aap ko fil-badihah shair kehnay ka malika hasil tha. Hamd, naat, manqabat, qaseeda, marsiya, ghazal, rubai aur doosri asnaf, nazm par aap ko dastaras thi. Saat zabaanon mein shaairi par aabur hasil tha jis ki wajah se “Shaair-e-Haft Zabaan” mashhoor thay. Zabaanon par maharat ka yeh aalim tha ke pehli dafa Arabic aur Farsi adab ko “maahiya” ki sanf se roshanasa krvaya. Woh Farsi mein ghazal aur bakhshooa rubai ke jis maqam par faaiz hain is ka andaza is baat se lgaya ja sakta hai ke agar un ka Farsi kalaam Farsi ke mashhoor classical asatza sakhn ke kalaam mein miladya jaye to is ko pehchanna aur alag karna mushkil hoga.”

Pir Syed Nasiruddin Nasir ‘ahd-e-hazir ke chand numayaana naat go shaairo mein be-hadd uncha maqam rakhte thay. Aap ke naatiya kalaam mein ishq-e-Rasool (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) aur Quran o hadees ka ilm numayaan hota tha. Yahi wajah hai ke aap ke naatiya kalaam ki aalami gharq pazeerai ko alfaz ki surat mein pesh karna mushkil hai.

Naat ki tarah manqabat likhne mein bhi woh apni misaal thay. Yun to shaairi mein aap ne har asnaf mein taba azmaai ki magar khaas tor par rubai mein aap ka koi saani nahi hai.

Rubai ek mushkil tareen fun hai aur is fun ka izhar mukhsoos ozaan mein mumkin hota hai isi wajah se baray baray shaairo bhi is fun ke nazdeek nahi aate magar Pir Syed Nasiruddin Nasir is fun mein yad-dastoli rakhte thay.

کلام نصیرالدین نصیر

میری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی

ہمیں آپ کھینچیے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی

سرِ طور ہو سرِ حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے

وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی

نہ ہو اُن پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں

میں اُنھیں کا تھا میں اُنھیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی

مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے

تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی

ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگِ در

کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی

مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے

مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے

جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم

وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی۔

پیر نصیرالدین نصیر ۔

پیر نصیرالدین نصیر شاعری

کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا _-🥀

میرا ذوق اُن کی چاہت میرا شوق اُن پہ مرنا 🥀

وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ میری جُنوں مِزاجی

کبھی ڈُوبنا اُبھر کر کبھی ڈُوب کر اُبھرنا _-_-_🥀

تیرے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہـے

نہ کِسی کی بات سُننا نہ کِسی سے بات کرنا _🥀

شبِ غم نہ پُوچھ کیسے تیرے مُبتلا پہ گُزری

کبھی آہ بھر کے گِرنا کبھی گِر کے آہ بھرنا 🥀

وہ تِری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے

وہ میرا کِسی بہانے تُجھے دیکھتے گُزرنا 🥀

کہاں میرے دِل کی حسرت، کہاں میری نارسائی

کہاں تیرے گیسوؤں کا تیرے دوش پر بِکھرنا 🥀

چلے لاکھ چال دُنیا ہو زمانہ لاکھ دُشمن

جو تیری پناہ میں ہو اُسے کیا کِسی سے ڈرنا 🥀

وہ کریں گے ناخُدائی تو لگے گی پار کشتی

ہـے نصیرؔ ورنہ مُشکل تیرا پار یوں اُترنا _🥀

🖍️ – پیر سیّد نصیرالدین نصیرؔ ♥️🥀

بے قدراں کُجھ قدر نہ کیتی

اساں کیتی خُوب تسلی ھُو

دُنیا دار پُجاری زر دے

تے کُتیاں دے گل ٹلی ھُو

بُک بُک اتھرُوں روسن اکھیاں

تے ویکھ حویلی کلی ھُو

کُوچ نصیر اساں جد کیتا

تے پے جانڑی تھرتھلی ھُو

پیر نصیرالدین نصیر

🌹🌱🌹وِچّھڑی ماں دِی یاد وِچّ

سَڑ گئے بُوٹے خوشیاں والے جُھلیاں ہجر ہواواں

اَدّھی راتیں اُٹھ اُٹھ بہواں رَو رَو حال وَنجاواں

کِس دے اَگّے دُکھڑے پھولاں کِس نُوں درد سُناواں

مَنسی کون مرے لئ مَنتاں کَرسی کون دُعاواں

کون مرا ہُن مَتھّا چُم کے کہسی ردّ بلاواں

کون کھُلیسی اُٹھ کے بُوہا کون تکیسی راہواں

اُجڑ اُجاڑ حویلی دِسّے ، سُنجیاں دِسّن تھانواں

جے تُوں اَج وی گھر مُڑ آویں دِل دِی سَیج وِچھاواں

سَت بسم اللہ آکھ کے تینوں قدمِیں سِیس نِوانواں

مانواں مَرن نصیرؔ نہ شالا مانواں ٹھنڈیاں چھانواں

پیر نصیرالدین نصیر

‏ان کے انداز کرم ، ان پہ وہ آنا دل کا

ہائے وہ وقت ، وہ باتیں ، وہ زمانا دل کا

نہ سنا اس نے توجہ سے افسانہ دل کا

عمر گزری ہے، مگر درد نہ جانا دل کا

کچھ نئی بات نہیں حُسن پہ آنا دل کا

مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا

وہ محبت کی شروعات ، وہ بے تحاشہ خوشی

دیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا

دل لگی، دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے

روگ دشمن کو بھی یارب ! نہ لگانا دل کا

ایک تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نے

اور پھر اس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا

میرے پہلو میں نہیں ، آپ کی مٹھی میں نہیں

بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ،ٹھکانا دل کا

وہ بھی اپنے نہ ہوئے ، دل بھی گیا ہاتھوں سے

“ ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا “

خوب ہیں آپ بہت خوب ، مگر یاد رہے

زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا

بے جھجک آ کے ملو، ہنس کے ملاؤ آنکھیں

آؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا

نقش بر آب نہیں ، وہم نہیں ، خواب نہیں

آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا

حسرتیں خاک ہوئیں، مٹ گئے ارماں سارے

لٹ گیا کوچہء جاناں میں خزانا دل کا

لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی

اب تو ممکن ہی نہیں لوٹ کے آنا دل کا

ان کی محفل میں نصیر ! ان کے تبسم کی قسم

دیکھتے رہ گئے ہم ، ہاتھ سے جانا دل کا

پیر سید نصیرالدین نصیرؒ

کلام پیر نصیرالدین نصیر

نہ تم آئے شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھا 🥀

دیا امید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھا _-_-🥀

وہی دل چھوڑ کر مجھ کو کسی کا ہو گیا آخر

جسے نازوں سے پالا جس کو ارمانوں سے گھر رکھا 🥀

جبیں کو مل گئی منزل ، مذاقِ بندگی ابھرا

جنوں میں ڈوب کر جس دم تیری چوکھٹ پہ سر رکھا 🥀

کہاں ہر ایک تیرے درد کی خیرات کے لائق

کرم تیرا کہ تو نے مجھ کو برباد نظر رکھا 🥀

غمِ دنیا و ما فیها کو میں نے کر دیا رخصت

تیرا غم تھا جسے دل سے لگائے عمر بھر رکھا 🥀

سنا ہـے کھل گئے تھے انکے گیسو سر گلشن میں

صبا تیرا برا ہو تو نے مجھ کو بـےخبر رکھا _-_🥀

کبھی گزریں تو شاید دیکھ لوں میں اک جھلک ان کی

اسی امید پر مدفن قریبِ رہ گزر رکھا _-_-_-_🥀

جو خط غیروں کے آئے اس نے دیکھے دیر تک، لیکن

مرا خط ہاتھ میں لے کر ادھر دیکھا ادھر رکھا _-🥀

یہ اس کے فیصلے ہیں جس کے حق میں بھی جو کر ڈالے

کسی کو در دیا اپنا ،کسی کو دربدر رکھا _-_🥀

بھری محفل میں ناحق رازِ الفت کر دیا افشا

محبت کا بھرم تو نے نہ کچھ اے چشم تر رکھا 🥀

کوئی اس طائرِ مجبور کی بـے چارگی دیکھے

قفس میں بھی جسے صیاد نے بـے بال و پر رکھا 🥀

یہ ممکن تھا ہم آ جاتے خردمندوں کی باتوں میں

خوشا قسمت کہ فطرت نے ہمیں آشفتہ سر رکھا 🥀

سر آنکھوں پر جسے اپنے بٹھایا عمر بھر ہم نے

اسی ظالم نے نظروں سے گرا کر عمر بھر رکھا 🥀

کہاں جا کر بھلا یوں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے

نصیرؔ اچھا کیا تم نے ہمیشہ ایک در رکھا _-_🥀

🖍️ – پیر سیّد نصیرالدین نصیرؔ ♥️ 🥀

پیر نصیرالدین نصیر شاعری

پُشتوں سے مَیں نصیرؔ ہُوں منگتا حُسیؑن کا

وِرثہ میں مَیں نے پایا ہے صدقہ حُسیؑن کا

کافی ہے میرے واسطے نقدِ غمِ حُسیؑن

چلتا ہے ہر جہان میں سِکّہ حُسیؑن کا

قبضہ کی زد میں آج ہے میدانِ حشر بھی

قُربان جاؤُں دیکھا معرکہ حُسیؑن کا

اِس کا ثبوت دے دیا اصغؑر کی جنگ نے

شیروں کا شیر ہوتا ہے بچّہ حُسیؑن کا

نبیوں کی روزِ حشر یہ فرمائشیں نہ ہوں

آذان ہو بلالؓ کی، سجدہ حُسیؑن کا

میزان حشر کی مجهے کیا فکر ہو نصیرؔ

بهاری ہمیشہ رہتا ہے پَلّہ حُسیؑن کا

پیر نصیرالدین نصیر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمن

جو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا

پیر نصیرالدین نصیر

پیر نصیرالدین نصیر شاعری

ﭼﺎﺭ ﺗﻨﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

ﺻﺤﻦِ ﮔُﻠﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

ﭼﯿﻦ ﻟﻮﭨﺎ، ﺩِﻝ ﻣِﺮﺍ ﻭﯾﺮﺍﮞ ﮐﯿﺎ

ﺑﺲ ﺑﮕﺎﮌﺍ ﮨﮯ، ﺳﻨﻮﺍﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

ﺟﺎﻥ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ

ﻋﺎﺷﻘﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺴﺎﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

ﺟﺴﺘﺠﻮ، ﺍﯾﻤﺎﮞ، ﺗﻦ ﺁﺳﺎﻧﯽ، ﮔﻨﺎﮦ

ﻣﻮﺝ ﺳﺐ ﮐُﭽﮫ ﮨﮯ، ﮐﻨﺎﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺗِﺮﺍ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮨﮯ

ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﻖ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

ﮨﻢ ﺳﮯ ﺩِﻝ ﻟﮯ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻇﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ

ﺟﺎﺅ، ﺭﺳﺘﮧ ﻟﻮ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

ﺍِﮎ ﻧﮕﺎﮦِ ﻟُﻄﻒ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ

ﻋﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﯽ، ﺍِﺟﺎﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ

ﺳﺎﺭﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﻭُﮨﯽ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﻧﺼِﯿﺮؔ

ﺳﺐ ﮐُﭽﮫ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐُﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ…!

✍…نصِیرالدّین نصِیرؔ (گولڑہ شریف)

‏مئے کشی ، لازم نہیں ھے ، بزم ساقی میں نصیر

کام جب آنکھوں سے چل جائے ، تو پیمانے سے کیا

پیر نصیرالدین نصیر

🍁نعت رسولِ مقبول ﷺ🍁

اشک آنکھوں میں تو ہونٹوں پہ درود و سلام

اُن کےعشاق بھی کیا رنگ لائیں ہوئے ہیں

اُن کا دل کیوں نہ بنے روکشِ طورِ سینا

جالیاں اُن کی جو سینے سے لگائے ہوئے ہیں

جلوٰہ فرما وہ ہوئے کیا بمقامِ محمود

ساری اُمت کی نگاہوں میں سمائے ہوئے ہیں

کاش دیوانہ بنا لیں وہ ہمیں بھی اپنا

ایک دنیا کو جو دیوانہ بنائے ہوئے ہیں

قبر کی نیند سے اٹھنا کوئی آسان نہ تھا

ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔

ورفعنا لک ذکرک کا تصور لے کر

ہم نظرِ گنبد خضرٰی پہ جمائے ہوئے ہیں

بوسئہ در سے اِنہیں اب تو نہ روک اے درباں

خود نہی آئے ، یہ مہمان بلائے ہوئے ہیں

حاضر و ناظر و نور و بشر غیب کو چھوڑ

شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے ہوئے ہیں

نام آنے پر ابوبکر و عمر کا لب پر

تُو بگڑتا ہے ، وہ پہلو میں سُلائے ہوئے ہیں

ہے نصیر اُنس کا گہوارہ مدینے کی زمیں

ایسا لگتا ہے کہ اپنے ہی گھر میں آئے ہوئے ہیں

 سید نصیرالدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ

بس اک نگاہ پہ ہے دل کا فیصلہ موقوف

بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے

جواب دے نہیں سکتی زبان شوق مری

کچھ اس ادا سے کوئی ہم کلام ہوتا ہے

 نصیرالدین نصیر

بہر صُورت وہ دِل والوں سے دِل کو چِھین لیتے ہیں

 مچل کر ، مُسکرا کر ، رُوٹھ کر ، تن کر ، خفا ہو کر

  سید نصیرالدین نصیرؔ شاہ

کوئی جائے طور پہ کس لئے کہاں اب وہ خوش نظری رہی

نہ وہ ذوق دیدہ وری رہا ، نہ وہ شان جلوہ گری رہی

جو خلش ہو دل کو سکوں ملے ، جو تپش ہو سوز دروں ملے

وہ حیات اصل میں کچھ نہیں ، جو حیات غم سے بری رہی

نصیرالدین نصیر

‏کوئی تم سا نہ دیکھا ، یوں تو دیکھا ہم نے دنیا میں

بہتــــ جادو نظـــــر والے بہت جـــادو اثر والــــے.

پیر نصیرالدین نصیر

 

اِک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اُٹھ جانا میرا

یاد کر کے روئیں گے یارانِ میخانہ مجھے

پیر نصیرالدّین نصؔیر رح ❤️

سنے کون قصہ دردِ دل میرا غمگسار چلا گیا _🥀

جسے آشناؤں کا پاس تھا، وہ وفا شعار چلا گیا 🥀

وہی بزم ہـے وہی دھوم ہـے، وہی عاشقوں کا ہجوم ہـے

ہـے کمی تو بس میرے چاند کی، جو تہہ مزار چلا گیا 🥀

وہ سخن شناس وہ دور بیں، وہ گدا نواز وہ مہ جبیں

وہ حسیں وہ بحرِ علوم دیں، میرا تاجدار چلا گیا 🥀

کہاں اب سخن میں وہ گرمیاں کہ نہیں رہا کوئی قدرداں

کہاں اب وہ شوق میں مستیاں کہ وہ پر وقار چلا گیا 🥀

جسے میں سناتا تھا دردِ دل وہ جو پوچھتا تھا غمِ دروں

وہ گدا نواز بچھڑ گیا ، وہ عطا شعار چلا گیا _🥀

پیر نصیرالدین نصیر شاعری

بہیں کیوں نصیرؔ نہ اشکِ غم، رہـے کیوں نہ لب پر میرے فغاں

ہمیں بـےقرار وہ چھوڑ کر سر راہ گزار چلا گیا 🖤🥀

🖍️ – پیر سیّد نصیرالدین نصیرؔ ♥️

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment