کرامت ،کرامت کی تعریف ،معجزہ اور کرامت میں فرق؟

Rate this post

معجزہ اور کرامت کی منفرد تعریف” قدرت کے کچھ قوانین ہیں ، جن کی پاسداری وہ خود بھی کرتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ ۔ لیکن جب وہ اپنے کسی نبی ، پیغمبر یا ولی کے لیے اس قانون کو وقتی طور پر تبدیل کر دے ، تو یہی تبدیلی معجزہ یا کرامت کہلاتی ہے ۔ ۔ ۔ جیسا کہ آگ سب کو جلاتی ہے ، لیکن اللہ نے حضرت ابراہیم کے لیے اس قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے آگ کو سلامتی والی ہونے کا حکم فرمایا اور یہ تبدیلی حضرت ابراہیم کا معجزہ کہلائی ۔”

کرامت

کرامت کیا ہے؟

محبوب سبحانی قندیل نورانی غوث الاغواث قطب الاقطاب سیدنا ابومحمد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ولایت نبوت کا عکس ہے اور نبوت الوہیت کاعکس ہے اور ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کا ہر فعل حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے قول کے قانون پر ٹھیک اترے یعنی شریعتِ مطہرہ کے مطابق ہو

بہجة الاسرار ص ٣٩ مطبوعہ مصر،شریعت و طریقت ص ١٩

اللّٰہ کا ولی کون؟

اللّٰہ کا ولی وہ نہیں ہوتا جو لوگوں کو کرامت دکھاٸے اللّه کا ولی اور دوست تو وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ کی پہچان اور اللہ سے محبت کی راہ دکھائے جو آپ کا رخ آپکے اندر کی جانب موڑے جس کی قربت سے روح زندہ اور نفس مردہ ہو جسے دیکھنا تمہیں خدا کی یاد میں مصروف کر دے جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کر دے اور جس کا عمل آخرت کی یاد دلائے۔

کرامت

” اِستقامت کرامت سے بڑھ کر ہے ”

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللّہ علیہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص دُور سے آپ رحمتہ اللّہ علیہ کی خدمت میں بیعت کرنے کے لیے آیا۔ایک دو ماہ آپ رحمتہ اللّہ علیہ کے پاس رہنے کے بعد بیعت کیے بغیر واپس جانے کے لیے تیار ہُوا تو آپ رحمتہ اللّہ علیہ نے دریافت کِیا کہ:۔

” کس غرض سے آئے تھے،واپس کیوں جا رہے ہو؟ ”

اس نے عرض کی:۔

” حضرت بیعت کی غرض سے آیا تھا اب واپس جا رہا ہوں کیونکہ میں نے اتنی مُدّت آپ رحمتہ اللّہ علیہ کے پاس رہنے کے باوجود آپ کی کوئی کرامت نہیں دیکھی۔ ”

کرامت

حضرت بایزید رحمتہ اللّہ علیہ نے دریافت فرمایا:۔

” کیا تم نے اتنی مُدّت میں میری زندگی کا ایک لمحہ بھی خدا اور رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی میں گُزرتے دیکھا؟ ”

اس نے جواباً عرض کِیا:۔

” نہیں۔ ”

آپ رحمتہ اللّہ علیہ نے فرمایا:

” ہمارے پاس اِس سے بڑھ کر کوئی کرامت نہیں۔ ”

یہی سبب ہے کہ صوفیاءکرام کے ہاں یہ قول مشہور ہے کہ:۔

” اِستقامت کرامت سے بڑھ کر ہے۔ ”

( حقیقتِ تصوّف،صفحہ 268 )

کرامت

اصل کرامت کیا؟

جو بات عوام میں کرامت کے طور پر مشہور ہے صوفیاءکرام اسے اپنے پاؤں کی گَرد بھی نہیں سمجھتے۔ہواؤں میں اُڑنا،آگ میں جانا،پانی پہ چلنا عوام کے ہاں کرامت ہے،دلیلِ بزرگی ہے۔لیکن اہلِ دِل کے ہاں یہ کرامت نہیں،اہلِ دِل کی پوری زندگی اگر اطاعت و اِستقامت میں بسر ہو جائے تو ان کے نزدیک یہی سب سے بڑی کرامت ہے۔

ولایت ; کرامت نہیں بلکہ استقامت کا نام ہے

کرامت کے بارے میں حضور غوث پاک نے خود فرمایا

 اور جمیع اولیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ رب العزت اپنے اولیاء و صوفیاء کو فرماتا ہے کہ مجھے کرامتوں کی ضرورت نہیں بلکہ کرامت تو تمہارے نفس کی طلب ہے_ کرامتوں میں نفس مشغول ہوتا ہے، مزہ لیتا ہے، واہ واہ کرتا ہے۔ اللہ کی طلب تو استقامت ہے _ اسی لئے اولیاء اللہ نے فرمایا!

الإستقامة فوق الکرامة

’’اِستقامت کا درجہ کرامت سے اونچا ہے‘‘۔

ولایت کی حقیقت کرامت یا استقامت؟

ولایت کرامت کو نہیں کہتے بلکہ ولایت استقامت کو کہتے ہیں _جب کرامت کا بیان ہوتا ہے تو یہ اولیائے کرام کی شان کا ایک گوشہ ہے جس سے ان کی کسی ایک شان کا اظہار ہوتا ہے _ ان کے اصل مقام کا پتہ استقامت سے چلتا ہے۔ کتاب و سنت کی متابعت اور استقامت ہی سے ولایت کا دروازہ کھلتا اور اس میں عروج و کمال نصیب بنتا ہے

ﺣﻀﻮﺭ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻏﻮﺙ ﺍﻻﻋﻈﻢ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﺎﺩﺭ ﺟﯿﻼﻧﯽ ﻗﺪﺱ ﺳﺮﮦ ﺍﻟﻨﻮﺭﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﻋﺎﻟﯿﺸﺎﻥ ﮨﮯﻣﺤﺒﺖ ﺍﻟٰﮩﯽ  ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮕﺎﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮕﺎﮦ ﻧﮧ ﮨﻮ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﻮ ﻏﯿﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﺎ ﻓﻀﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﺲ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮨﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮ ﺟﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻓﻀﻞ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ ﻋﻄﺎﺋﮯ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺭﺍﺣﺖ ﻭ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ

ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻧﻔﺲ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮕﺎﮦ ﮐﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﮕﺎﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﻀﻞ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﻮ دنیا کیﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺏ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﮯ ﮔﯽ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﻗﻀﺎﺋﮯ ﻧﻔﺲ ﻣﺤﻮﯾﺖ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﮮ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻝ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ ﻣﺬﯾﺪ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟﺗﯿﺮﺍ ﻧﻔﺲ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﻏﯿﺮﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽﻋﻄﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﻋﺪﮦ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﻭ ﺳﮑﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﮯ ﻭﻋﺪﮮ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﻭ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

(ﻓﺘﻮﺡ ﺍﻟﻐﯿﺐ ﻣﻊ ﻗﻼﺋﺪ ﺍﻟﺠﻮﺍﮨﺮ ﺹ (103)

شان غوث اعظم بزبان نصیر الدین نصیر

وارثِ خاتَمُ المرسلیں آپ ہیں بلیقیں آپ ہیں

قصرِ زہرا کا نقشِ حسیں آپ ہیں بلیقیں آپ ہیں

دینِ بر حق کے محی و مُعیں آپ ہیں بلیقیں آپ ہیں

بزمِ عرفاں کے مسند نشیں آپ ہیںِ بلیقیں آپ ہیں

ہر ولی طفل ہے اِس دبستان کا مرحبا مرحبا

بزمِ کون و مکاں کو سجایا گیا آج صلِ علیٰ

سائباں رحمتوں کا لگایا گیا آج صلِ علیٰ

انبیاء اولیاء کو بُلایا گیا آج صلِ علیٰ

ابنِ زہرا کو دُولہا بنایا گیا آج صلِ علیٰ

عُرس ہے آج محبوبِ سُبحان کا مرحبا مرحبا

شاہِ جیلاں کی چوکھٹ سلامت رہے تا قیامت رہے

نقشِ پا کا چمن پُر کرامت رہے تا قیامت رہے

خَلعتِ اِجتبا زیب قامت رہے تا قیامت رہے

سر پہ ولیوں کا تاجِ امامت رہے تا قیامت رہے

سلسلہ غوثِ اعظم کے فیضان کا مرحبا مرحبا

مظہرِ ذاتِ ربِ قدیر آپ ہیں دستگیر آپ ہیں

کاروانِ کرم کے امیر آپ ہیں دستگیر آپ ہیں

شاہِ بغداد پیرانِ پیر آپ ہیں دستگیر آپ ہیں

اِس نصیرِؔ حزیں کے نصیر آپ ہیں دستگیر آپ ہیں

کوئی ہمسر نہیں آپ کی شان کا مرحبا مرحبا

 غوث اعظم کی کرامت انگلی مبارک کی کرامت :۔

ایک مرتبہ رات میں سرکارِ بغداد کے ہمراہ شیخ احمد رفاعی اور عدی بن مسافر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار پرُ انوار کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے۔

مگر اس وقت اندھیرا بہت زیادہ تھا حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کے آگے آگے تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کسی پتھر ، لکڑی ، دیوار یا قبر کے پاس سے گزرتے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے تو اس وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ہاتھ مبارک چاند کی طرح روشن ہو جاتا تھا اور اس طرح وہ سب حضرات آپ کے مبارک ہاتھ کی روشنی کے ذریعے حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار مبارک تک پہنچ گئے۔

”(قلائد الجواهر، ملخصاً ص۷۷

کرامت

شان غوث اعظم بزبان اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی

جلوئہ شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام*

قُطبِ اَبدال و اِرشاد و رُشدُ الرَّشاد*

مُحیِ دین و ملت پہ لاکھوں سلام*

*مردِ خیلِ طریقت پہ بے حد درود*

فَردِ اہلِ حقیقت پہ لاکھوں سلام*

جس کی منبر ہوئی گردنِ اَولیاء*

اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام*

 *بڑے پیر کی بڑی گیارہویں شریف

سب سے بڑی کرامت غوث اعظم

حضور غوث الاعظم محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللّٰـ عنہٗ کی بہت سی کرامات منقول ہیں لیکن سب سے بڑی کرامت دینِ اسلام کو اس کی اصل حقیقی صورت میں دوبارہ زندہ کرنا تھا جس صورت میں وہ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام اور خلفائے راشدین کے دور میں تھا۔ اسی وجہ سے آپؓ کا لقب  ”محی الدین” ہے یعنی دین کو زندہ کرنے والا۔     

 مجلسِ وعظ ہو یا خانقاہ کی خلوت، مدرسہ کے اوقاتِ درس و تدریس ہوں یا مسندِ تلقین و ارشاد، ہر جگہ آپ کی جدوجہد احیائے دین کے محور کے گرد گھومتی تھی۔

کرامات اولیاء امام نسفی فرماتے ہیں:۔

   کرامات الاولیاء حق فتظھر الکرامة علی طریق نقض العادة للولی من قطع مسافة البعیدة فی مدة القلیلة

ترجمہ۔۔۔

       اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں پس ولی کی کرامت خلاف عادت طریقے سے ظاہر ہوتی ہے مثلا طویل سفر کو کم وقت میں طے کر لینا۔

   اس کی شرح میں علامہ سعد الدین تفتازانی فرماتے ہیں:

   جیسے حضرت سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے امت کے ولی اور آپ کے درباری آصف بن برخیا رضی اللہ تعالی عنہ کا طویل مسافت (Long Distance) پر موجود تخت بلقیس کو پلک جھپکنے سے پہلے لے آنا اولیاء کی کرامت کی ایک بڑی مثال ہے۔

     شرح العقائد النسفیہ

کرامت کے بارے میں جِنَّات کے سوالات کے جوابات

کشف الحجاب والران عن وجہ اسئلۃ الجان

 (جو کہ جنات کے کے لئیے لکھی گئی کتاب ھے)

کے مقدمہ میں

امام عبد الوھاب شعرانی فرماتے ہیں

کہ

میرے پاس ایک جن ایسے کتے کی شکل میں آیا گویا کہ وہ ریت کا بنا ہوا تھا

خادموں نے اسکو بھگانے کی کوشش کی مگر میں نے کہا آنے دو یہ جن ھے

وہ قریب آیا تو اسکے منہ میں ایک ورق تھا جس پہ لکھا ہوا تھا

کیا فرماتے ہیں انسانوں کے علماء ان مسائل کے بارے میں جن مسائل کا جواب ہم جنات کے علماء بھی نہیں دے سکے

آپ نے پڑھا تو اس میں اسی 80 سوال تھے جو علم کلام و تصوف اور فلسفہ سے تعلق رکھتے تھے

ان میں سے سوال نمبر 45 پڑھیں اور جواب دیکھیں

سوال

آپ کے نذدیک اولیاء کی افضلیت کرامات کے زیادہ ہونے سے ہے یا کرامات کے کم ہونے سے ہے

جواب

کرامت کی فضیلت دو جہتوں سے ہے

ایک ولی کی اپنی جانب سے دوسری ولی کے اپنے زمانے کے لحاظ سے

پہلی کہ اسکی ذاتی فضیلت تو وہ یہ کہ ولی بالشت برابر بھی قرآن و سنت سے باہر نہ نکلے

دوسری اسکے زمانے والوں کے لحاظ سے تو وہ یوں کہ جب بھی ولی کی تکذیب زیادہ ہوگی

 لوگ اسکو زیادہ جھٹلائیں گے تو ولی کی کرامات بھی زیادہ ہوتی جائیں گی

 تاکہ اسکی صداقت پر دلائل زیادہ ہوتے جائیں

 جیسے انبیاء کرام کو جب لوگ جھٹلاتے ہیں تو انکے معجزات بڑھتے جاتے ہیں تاکہ لوگ ایمان لائیں

اور ولی کی تکذیب جتنی کم ہوگی اسکی کرامات بھی کم ہوں گی

معلوم ہوا کثرت کرامات افضلیت کی نشانی نہیں ھے بلکہ قرآن و سنت پر عمل افضل ہونے کی نشانی ھے

یہ کتاب بہت لاجواب اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ھے

کوشش کریں پڑھیں ایمان و عقیدہ مضبوط ہوگا عمل کا جذبہ بڑھے گا

✍️ #سیدمہتاب_عالم

کرامت

شان غوث اعظم بزبان اقبال

متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزومندی

 مقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

 ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا

 یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی

 حجاب اِکسیر ہے آوارۂ کوئے محبّت کو

 مِری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

 گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں

 کہ شاہیں کے لیے ذلّت ہے کارِ آشیاں‌بندی

 یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

 سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی

 زیارت‌گاہِ اہلِ عزم و ہمّت ہے لحَد میری

 کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی

 مِری مشّاطگی کی کیا ضرورت حُسنِ معنی کو

 کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حِنابندی

جھوٹی من گھڑت کرامت

(کیا غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ نے روح چھین لی تھی)

 غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت بتاتے ہوئے خطیب حضرات یہ بیان کرتے ہیں آپ کا ایک خادم فوت ہو گیا اس کی بیوی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آہ و زاری کرنے لگی اس نے آپ سے اپنے شوہر کے زندہ ہونے کی التجا کی اپ نے اپنے علم باطن سے دیکھا کہ ملک الموت اس دن کی تمام قبض کی ہوئی روحوں کو لے کر آسمان پر جا رہے ہیں۔

آپ نے انہیں روکا اور کہا میرے خادم کی روح کو واپس کر دے ملک الموت نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ یہ روح میں نے اللہ کے حکم سے قبض کی ہے جب ملک الموت نے روح کو واپس نہیں کیا تو آپ نے اس سے روح کی ٹوکری جس میں اس دن کی قبض کی گئی تمام روح تھی۔

وہ چھین لی اس سے ہوا یہ کہ تمام روحیں اپنے اپنے جسموں کے اندر واپس لوٹ گئی ملک الموت نے اللہ سے عرض کی مولا تو تو جانتا ہے آج میرے اور عبدالقادر کے درمیان جو بھی ہوا اس نے تمام روحوں کو چھین لیا اس پر اللہ نے فرمایا بے شک عبدالقادر میرا محبوب ہے تو نے اس کے خادم کی روح کو واپس کیوں نہیں کیا اگر ایک روح کو دے دیتا تو اتنی روح اپنے ہاتھ سے دیکر پریشان نہیں ہوتا اس روایت کے متعلق

من گھڑت کرامت کے متعلق امام اہلسنت اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

 یہ روایت ابلیس کی گھڑی ہوئی ہے اس کا سننا بیان کرنا دونوں حرام ہے اس میں حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی سخت توہین ہے حضرت عزرائیل علیہ السلام مرسلین ملائیکہ میں سے ہیں اور مرسلین ملائکہ بالاجماع تمام غیر انبیاء سے افضل ہیں اور توہین رسول کفر ہے

( فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ نمبر 629)

کرامت

 بیان لوگوں تک پہنچانا ؟ کرامت غوث اعظم

حضور غوث اعظم بھی 70000 لوگوں کے مجمع میں‌ بیان کیا کرتے تھےحضرت عبدالقادرجیلانی لاکھوں لوگوں تک آواز کیسے پہنچا دیتے تھے

جواب:

یہ واقعی غوث پاک رضی اللہ عنہ کی کرامت تھی، ان کی روحانی طاقت تھی، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اولیاء اللہ کو ملتی ہے۔

جہاں تک سب کے ماننے کا سوال ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی افضل نہیں، اور بلند ترین شخصیت نہیں ہے۔ انکار کرنے والوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا انکار بھی کیا تھا۔ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی نہیں مانا تھا۔

انکار کرنے والے تو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا بھی انکار کرتے ہیں۔ جب دنیا کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور انبیاء علیہم السلام کا انکار واضح نشانیاں دیکھ کر بھی کر دیا تو پھر غوث پاک رضی اللہ عنہ یا کوئی بھی ولی ان کی کرامت یا شخصیات کا انکار زیادہ تعجب خیز نہیں۔ لہذا آپ ایسے لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں، اور اچھے لوگوں کی سنگت اور صحبت میں وقت گزارا کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

کرامت غوثِ آعظم دستگیر رضی اللّٰہ عنہ

ایک دفعہ سرکار غوثِ آعظم دستگیر رضی اللّٰہ عنہ دریائے دجلہ کے پاس سے گزر رہے تھے۔اسی دوران چند عورتیں پانی بھرنے کے لئے آئی اور واپس جانے لگیں لیکن ایک بڑھیا نے اپنا برتن زمین پر رکھا اور رونے لگی۔

پیرانِ پیر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی میرا ایک بیٹا تھا شادی کے بعد اس کی برات واپس آرہی تھی کہ اچانک دریا میں بھنور آگیا اور کشتی ⛵ تمام باراتیوں سمیت ڈوب گئی سوائے مجھ بوڑھی کے اور کوئی نہ بچا ۔۔۔۔۔(اس واقعہ کو 12 برس ہو چکے تھے)

جب بھی مجھے یہ واقعہ یاد آتا ہے تو دل بھر آتا ہے اور رودھو کر دل کا غبار دور کر لیتی ہوں۔حضرت غوثِ آعظم دستگیر رضی اللّٰہ عنہ کو اس کے حال پر رحم آیا آپ نے اللّٰه سے دعاء مانگی تو اچانک دریا میں طغیانی پیدا ہوئی اور اس جگہ سے کشتی ⛵ نمودار ہوئی جہاں پر ڈوبی تھی اور اس بڑھیا کا بیٹا اور بیوی براتیوں سمت صحیح سالم واپس آگئے اس کرامت کے بعد دولہا مرید ہوگیا اور خلافت بھی حاصل ہوئی۔(تفسیر نعیمی حصہ دوم،پ 7)

ڈوبی جو کشتی تھی وہ نکال دی

ایک بڑھیا کی قسمت سنوار دی

لکھا پورا ہوگیا تقدیر کا

غوث الورٰی پیرانِ پیر کا

کرامت

◆━━━💕━━━◆💙◆━━━💕━━━◆

*(جن کی مزار گجرات میں حضرت شاہ دولہا دریائی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نام سے مشہور ہے)*

……….. انگلی مبارک کی کرامت :۔

ایک مرتبہ رات میں سرکارِ بغداد کے ہمراہ شیخ احمد رفاعی اور عدی بن مسافر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار پرُ انوار کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے، مگر اس وقت اندھیرا بہت زیادہ تھا حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کے آگے آگے تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کسی پتھر ، لکڑی ، دیوار یا قبر کے پاس سے گزرتے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ فرماتے تو اس وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ہاتھ مبارک چاند کی طرح روشن ہو جاتا تھا اور اس طرح وہ سب حضرات آپ کے مبارک ہاتھ کی روشنی کے ذریعے حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار مبارک تک پہنچ گئے۔”(قلا

کراماتِ غوث الاعظم پیرانِ پیر دستگیر رحمۃ اللہ علیہ

حضرت ابو محمد رجب بن ابی منصور داری رحمتہ اللّٰــــــــــــــہ علیہ بیان فرماتے ہیں

 حضرت شیخ ابو الحسن قریشی رحمتہ اللّٰــــــــــــــہ علیہ نے انہیں بتایا میں اور حضرت علی بن ابی نصر الہیتی رحمتہ اللّٰــــــــــــــہ علیہ حضور سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ کے مدرسے میں موجود تھے کہ ایک بغدادی تاجر حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا :

” یا سیدی آپ رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ کے جد امجد رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ دعوت کو قبول کرلو پس میں آپ رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ کو دعوت دیتا ہوں آپ رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ میرے غریب خانے پر تشریف لائیں ۔

حضور سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ نے قدرے توقف کے بعد دعوت کو قبول فرما لیا ۔

 پھر آپ رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ خچر پر سوار ہوۓ حضرت شیخ علی رحمتہ اللّٰــــــــــــــہ علیہ نے داںٔیں رکاب کو تھام لیا اور میں نے باںٔیں کو تھام لیا ۔

جب ہم اس تاجر کے گھر پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس کے گھر بغداد کے تمام نامور مشاںٔخ و علماء موجود تھے ۔ اس تاجر نے ایک دستر خوان بچھا رکھا تھا جس پر مختلف انواع کے کھانے موجود تھے اس دوران ایک مٹکا لایا گیا جسے کچھ لوگوں نے مل کر اٹھا رکھا تھا اس دوران نماز کا وقت ہوگیا

اور آپ رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ سر جھکاۓ بیٹھے تھے ۔ آپ سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ نے کسی کو کھانے کی اجازت نہ دی اور نہ ہی کسی کو نماز کے لیے جانے دیا کچھ دیر بعد سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ نے حکم دیا کہ اس مٹکے کو کھول دو چنانچہ اس مٹکے کو کھولا گیا تو اس مٹکے میں سے تاجر کا اند ھا اور مفلو ج لڑکا نکلا ۔ مرشد محترم سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ نے لڑکے کو فرمایا کہ اللّٰــــــــــــــہ ﷻ کے حکم سے تندرست ہوجا ۔

حضور غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ کا یہ فرمانا تھا کہ وہ لڑکا بلکل تندرست ہوگیا اور ایسے دوڑنے لگا جیسے اسے کوئی بیماری ہی نہ تھی ۔ یہ منظر دیکھ کر محفل میں شور برپا ہوگیا آپ رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ لوگوں کی اس بے خبری کو دیکھتے ہوۓ وہاں سے کھانا کھاۓ بغیر نکل آۓ ۔

میں نے حضرت شیخ ابو قیلوی رَحْمَۃُ اللّٰـــــــــــہ عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا ماجرا بیان کیا تو انہوں نے فرمایا سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ مادرزاد اندھوں اور کوڑھیوں کو تندرست کر دیتے ہیں اور مردوں کو بھی اللّٰــــــــــــــہ ﷻ کے حکم سے زندہ کر دیتے ہیں

 میں ایک مرتبہ آپ سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک گروہ آیا اور ہمراہ دو ٹوکرے لاۓ جو کہ بند تھے انہوں نے آپ رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ پوچھا کہ ان ٹوکروں میں کیا ہے ؟

آپ سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ اپنی مسند سے نیچے تشریف لاۓ اور ایک ٹوکرے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ فرمایا اسے کھولو چنانچہ اس ٹوکرے کو کھولا گیا تو اس میں ایک بیمار لڑکا موجود تھا ۔ آپ سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ نے اس لڑکے کی ہاتھ تھامتے ہوۓ فرمایا تندرست ہوجا ۔ آپ رحمتہ اللّٰــــــــــــــہ علیہ کا یہ فرمانا تھا کہ وہ لڑکا تندرست ہوگیا اور دوڑنے لگا ۔

پھر آپ سیدنا غوث اعظم محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللّٰــــــــــہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں ایک تندرست لڑکا موجود ہے پھر جب اس ٹوکرے کو کھولا گیا تو اس میں سے ایک تندرست لڑکا برآمد ہوا ۔ آنے والوں نے جب آپ سیدنا غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ کی اس کرامت کو دیکھا تو معافی کے خواستگار ہوۓ ۔🙏🏻

‏سبحــــــــــــــان اللــــــــــــــہ ‏کیا شان ہے میرے مرشد پاک غوث اعظم رَضِی اللّٰـــــــــــہ عَنْہُ کی

 یا شیخ عبدالقادر جیلانی شَيْئًا لِلّٰـــــــہ🥀

🌹 اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدٍ مَّعدِنِ الجُودِ وَالکَرَمِ وَاٰلِہِ وَبَارِک وَسَلِّم 🌹

🌹 #السَّلَامُ_عَلَيۡكَ_يَاسَيِّدِۡي_شَیۡخ_عَبۡدُالۡقَادِر_جِیۡلَانِیؓ 🌹

کرامت عظمیٰ:۔

 کسی صاحبِ حکمت و بصیرت سے پوچھا گیا ، ہوا میں اڑتے ہوئے کسی شخص کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟؟(فرمایا) اس سے کیوں متعجب ہوتے ہو، مکھی اور مچھر بھی ہوا میں اڑتے ہیں ، پھر پوچھا گیا پانی پر چلتے شخص کے متعلق آگاہ کیجئے!(فرمایا) تختے بھی پانی پر تیرتے ہیں ، پھر بتلائیے حقیقی کرامت کیا ہے ؟

فرمایا ، مخلوق کے درمیان رہتے ہوئے ان کی اذیتوں پر صبر کرنا ، لوگوں کے مابین ہوتے ہوئے اخلاقی قدروں کو قائم رکھنا، کسی کو اذیت نہ دینا، لوگوں کو دھوکہ نہ دینا ، دلوں کو نہ توڑنا، بد گوئی ، غیبت ، خیانت سے بچتے ہوئے انسان ہونا اصل کرامت ہے

سلطان بسطام نے بھی فرمایا تھا کہ ہوا میں اڑتے اور پانی پر چلتے کسی شخص سے دھوکہ مت کھانا، حدود شریعت کی پاسداری کو معیار سمجھنا

 لہٰذا ظاہری رویہ اخلاق ہو اور باطنی رویہ اخلاص تو خیرات عطاء ہوتی ہے

(ڈاکٹر عطاء المصطفیٰ)

*انکار کرامات کا فتنہ، ذمہ دار کون؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے اسٹیجی خطبا کی بے لگامی اور موقع محل کی رعایت نہ کرنے کے سبب اب اہلسنت میں بھی غیر شعوری طور پر “کرامات کا انکار” کیا جانے لگا ہے،

کرامت خارق عادات کو کہتے ہیں،

کرامات کا ظہور محال عادی میں ہوتا ہے نہ کہ محال عقلی و شرعی میں –

پھر جس طرح کرامات ہمارے یہاں کثرت سے بیان کیے جا رہے ہیں، اس سے نیے فتنے کی بو آنے لگی ہے، یاد رہے یہ انکار معجزات تک جائیں گے،

مقررین کو اگر اسٹیج سے باقاعدہ روکا نہیں گیا تو معجزات و کرامات بے موقع، عامیانہ انداز، الفاظ کا غلط چناؤ، سامعین کے عقلوں کی مطابق بات نہ کرنے کے سبب مذاق بن جائیں گے۔

کرامت

شرع شریف میں ہے کہ

“عوام کے سامنے ایسی بات بیان کرنا جو وہ نہ سمجھ سکیں اور انکار کر بیٹھیں اس سے ان کے ایمان و عقیدے پر فرق پڑے جائز نہیں ہے

مثلاً قراتیں حق ہیں ایمان لانا فرض ہے باوجود اس کے جہاں جو رائج ہے وہی پڑھی جاے

احادیث جو عوام نہ سمجھ سکے بیان کرنا حرام قرار دیا ہے گیا ہے-

لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق بات کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، عوام کی حالت یہ ہے کہ درست کلمہ نہیں پڑھتے، بنیادی مسائل نہیں معلوم، حلت و حرمت نہیں جانتے، پاکی اور ناپاکی کے مسائل بھی سمجھ نہیں پاتے ایسے لوگوں کے سامنے دقیق باتیں پیش کرکے دین کو مذاق بنانا ہے-

براہ مہربانی مجھے یہ بتانے کی کوشش نہ کیجیے گا کہ حق بات ہے تو بیان کرنے میں حرج کیا ہے؟ بیان نہیں کرنا تھا تو لکھا کیوں گیا ہے؟ جوابا عرض ہے لکھا ضرور گیا ہے تاکہ اہل کے سامنے پیش کیا جاے، کیا نہیں سنا نااہل کو علم دینا خن.زیر کے گلے میں ہار ڈالنا ہے

📝حسن نوری گونڈوی

مصطفیٰ جان رحمت پے لاکھوں سلام

صلی اللّه علیہ وسلم

سلام بہ حضور غوث پاک شیخ سید عبدلقادر جیلانی

رحمت اللہ تعالیٰ علیہ

ایسی برتر ہوئ گردنِ اولیاء

اوجِ مہ پر ہوئی گردنِ اولیاء

عرشِ بٙرسٙر ہوئی گردنِ اولیاء

جس کی ممبر ہوئی گردنِ اولیاء

اس قدم کی کرامت پے لاکھوں سلام

حق کے محرم – امام مُتُقٰے وٙنُّقٰے

ذاتِ اکرم -🌸 امام مُتُقٰے وٙنُقٰے

قُطبِ عالم 🌸امام مُتُقٰے وّنُقٰے

🌹🌹🌹غوثِ اعظم امام مُتُقٰے وٙنُقٰے

جلوا ئے شانِ قُدرت پے لاکھوں سلام

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment