کرامت کا صدور اختیار کیساتھ یا بے اختیار ؟

Rate this post

(کرامت کا صدور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کہ قصد (اختیار) سے بھی ہوتا ہے ۔

محترم قارائین کرام!۔

پچھلے چند روز سے فتنہ وہابیہ دیوبندیہ کی طرف سے ایک طوفان بدتمیزی بڑے زور و شور سے جاری ہے کہ معجزہ اور کرامات کا اختیار اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہم و انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے پاس نہیں ہوتا۔۔۔ دیوبندی حضرات کے اس دعوی کی کیا حقیقت ہے اسکو اشکار کرنے سے قبل ہم اس مسئلہ پر اہلسنت و جماعت کا موقف اور چند ضروری باتیں واضح کرنا چاہتے ہیں

اہلسنت و جماعت کے نزدیک کرامت کی تین اقسام ہیں

(1)۔۔۔قسم وہ ہے جس میں ولی کے کسب اور اختیار کے بغیر اللہ تعالی اس کے ہاتھ پر خلاف عادت افعال ظاہر کرتا ہے

(2)۔۔۔دوسری قسم وہ ہے جس میں ولی کی دعا سے اللہ تعالی اس کے لیے کوئی خلاف عادت فیل ظاہر کرتا ہے۔۔۔

مذکورہ دو اقسام میں کوئی اختلاف نہیں اب اتی ہے تیسری قسم

(3)۔۔۔تیسری قسم وہ ہے جس میں ولی کے کسب قصد اور اس کے اختیار پر اللہ تعالی کوئی خرق عادت فعل ظاہر کرتا ہے

 اب دیوبندی حضرات اس تیسری قسم پر بڑی شد و مد کے ساتھ اعتراض کر ہوۓ کہتے یہ بات قرآن و حدیث کے مخالف ہے۔۔۔۔۔۔

لیکن حیرت ہے اس بات پر کہ اگر ولی کے قصد سے کرامت کا صدور ہونا قران و حدیث کے خلاف ہوتا تو کیا آئمہ سلف اور اکابرین امّت جلیل القدر آئمہ و محدثین اس مسئلے کا جواز و اثبات اپنی کتب میں تحریر فرماتے؟

محترم احباب کرام ائیں ملاحظہ فرمائیں کہ کرامت کا صدور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کے اختیار میں بھی ہوتا ہے

جلیل القدر محدث علامہ نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث مبارکہ کی شرح کرتے ہوۓ فرماتے ہیں

ومنها إثبات كرامات الأولياء وهو مذهب أهل السنة خلافاً للمعتزلة، وفيه أن كرامات الأولياء قد تقع باختيارهم وطلبهم وهذا هو الصحيح عن أصحابنا المتكلمين ومنهم من قال لا تقع باختيارهم وطلبهم وفيه أن الكرامات قد تكون بخوارق العادات على جميع أنواعها ومنعه بعضهم وادعى أنها تختص بمثل إجابة دعاء ونحوه وهذا غلط من قائله وانكار للحس بل الصواب جريانها بقلب الأعيان وإحضار الشيء من العدم ونحوه

اور اس حدیث کے فوائد میں سے اولیاء اللہ کی کرامات کا ثبوت ہے اور یہی اہلسنت کا مذہب ہے خلاف متزلہ کے اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ بعض اولیاء اللہ کی کرامات ان کے اختیار اور ان کی طلب سے واقع ہوتی ہیں اور یہی بات ہمارے متکلمین کے نزدیک صحیح ہے بعض علماء نے یہ کہا ہے کرامات اولیاء کے اختیار اور طلب سے واقع نہیں ہوتی اس میں یہ اعتراض ہے کہ کرامات خلاف عادت افعال کی تمام اقسام پر واقع ہوتی ہیں بعض لوگوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ کرامات قبولیتِ دعا اور اس کی مثل کے ساتھ خاص ہیں ان لوگوں کا یہ قول قطعا غلط ہے اور مشاہدے کا انکار ہے بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ حقائق میں انقلاب اور شئی کا عدم سے وجوب اور اس جیسی دوسری چیزوں کے ساتھ کرامت کا تعلق ہونا ہے

(کتاب شرح صحیح مسلم امام نووی جلد 8 صفحہ88)

محترم احباب کرام امام نووی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی مذکورہ عبارت سے بات بالکل اظہر من الشمس ہو گئی کہ کرامت اولیاء کرام کے اختیار سے بھی صادر ہوتی ہیں

اسی طرح علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔

أن كرامة الولي قد تقع باختياره وطلبه وهو الصحيح عند جماعة المتكلمين

ولی کی کرامت بعض اوقات اس کی طلب اور اختیار سے واقع ہوتی ہے اور یہ بات صحیح ہے

(کتاب عمدۃ القاری جلد 7 صفحہ 413)

لیں جناب امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ تعالی علیہ نے بھی واضح طور پر تصریح کر دی کہ کرامات کے صدور میں ولی کا اختیار بھی ہوتا ہے

علامہ تفتازانی رحمہ اللہ کا موقف ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔

والكرامة ظهور أمر خارق للعادة من قبله بلا دعوى النبوة وهي جائزة ولو بقصد الولي، ومن جنس المعجزات لشمول قدرة الله تعالى وواقعة كقصة وآصف وأصحاب الكهف، وما تواتر جنسه من الصحابة والتابعين وكثير من الصالحين

کرامت دعوی نبوت کے بغیر خلاف عادت امر کے ظہور کو کہتے ہیں اور یہ جائز ہے اگرچہ ولی کے قصد سے ہو اور یہ معجزات کی جنس سے ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی کی قدرت ان سب کو شامل ہے اور یہ واقع ہے جیسے حضرت مریم اور اصف بن برخیا اور اصحاب کہف کے واقعات اور اس جنس کے واقعات جو صحابہ تابعین سے اور صالحین امت سے بہ کثرت صادر ہیں

(شرالمقاصد جلد3 صفحہ 326)

علامہ ابن حجر ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

ثم مجوزوا الكرامات تحزبوا أحزابا فمنهم من شرط أن لا يختارها الولي وبهذا فرقوا بينها وبين المعجزة وهذا غير صحيح

جو حضرات کرامت کے جواز کے قائل ہیں ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی تاکہ معجزہ اور کرامت میں فرق ہو اور یہ فرق صحیح نہیں

(الفتاوى الحديثية صفحہ 517)

علامہ عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

فالكامل من قدر على الكرامة

کامل وہ شخص ہے جو کرامات پر قادر ہو

(اليواقيت والجواهر في بيان عقائد الأكابر صفحہ 372)

محترم احباب ذی وقار ان تمام مذکورہ بالاعبارات کو ملاحظہ کرنے کے بعد اس بات کا ثبوت واضح ہو چکا کہ کرامات اولیاء کا صدور اولیاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کے اختیار سے بھی ہو تو یہ قران و سنت کے مخالف نہیں بلکہ حق ہے

از✒️: حسن رضا حنفی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment