کاتب وحی کا نام | کاتبِ حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

Rate this post

کاتبِ حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ مسجدِ نبوی کی دیواروں پر عقیدت و محبت سے لکھی ہوئی قرآنی آیات، احادیث ، نعتیہ رباعیات اور قصیدہ بُردہ کے اشعار کو دیکھتے ہیں تو پھر جستجو بڑھتی ہے کہ ان خوبصورت تحریروں کے کاتب کو بھی تلاش کیا جائے ، انہی ایقان افروز تحریروں کے درمیان الشیخ عبد اللہ زہدی آفندی نابلسی کا نام دکھائی پڑتا ہے جنہیں مؤرخین کاتبِ حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لقب سے یاد کرتے ہیں 

الشیخ عبداللہ زہدی افندی ابن الشیخ عبدالقادر آفندی نابلسی ایک مشہور عثمانی عالم اور مصنف تھے۔ آپ جلیل القدر صحابی حضرت تمیم بن اوس الداری (م 40 ھ) کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے وہ کبھی کبھار نام کے ساتھ”نسل تمیم الداری” لکھتے تھے وہی حضرت تمیم داری جنہوں نے شام سے آکر سب سے پہلے مسجدِ نبوی کو چراغوں سے منور کیا تھا آج انہی کی اولاد کے ایک کاتب کی خوبصورت تحریروں سے مسجدِ نبوی کے درو دیوار روشن و منور ہیں

الشیخ عبداللہ زہدی افندی کا اصلا تعلق شہر نابلس سے تھا۔ آپ کے اجداد وہاں سے شام ہجرت کر گئے تھے۔ امکان یہی ہے کہ آپ نابلسں میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ اس کے بعد اپنے والد کے ہمراہ 1251 ھ/1835ء میں ترکی کے شہر کوتاہیہ ہجرت کر گئے۔ یہ ایک قدیم شہر ہے جسے عثمانیوں نے اپنی سلطنت کی بنیاد کے وقت آباد کیا تھا۔ اسی سال وہ خلافت عثمانیہ کے دارالحکومت استنبول شہر روانہ ہو گئے

الشیخ عبداللہ زہدی افندی نے خطاطی کی ابتدا اپنے والد الشیخ عبدالقادر افندی سے کی اس کے بعد اپنے دور کے عظیم خطاط، الشیخ راشد افندی (نگران مزار حضرت ابو ایوب انصاری) اور الشیخ مصطفیٰ عزت افندی سے آپ نے خط ثلث اور خط نسخ کی تعلیم حاصل کی۔ جب انہوں نے اس فن میں مہارت حاصل کر لی تو رسم و خط کے استاد کے طور پر تقرری ہوئی

آپ کی شہرت کا آغاز اس وقت ہوا جب عثمانی سلطان عبدالمجید (م 1255 ھ/1839 ء) نے مسجد نبوی شریف کی تعمیر نو اور توسیع کا فیصلہ کیا تو عثمانی سلطنت میں موجود خطاطوں سے اپنی بہترین خطاطی کی نمائش پیش کرنے کے لیے کہا گیا، تاکہ ان میں سے بہترین کا انتخاب کیا جا سکے اور مسجد نبوی کی دیواروں پر لکھنے کا اعزاز اسے دیا جا سکے۔ اس مقابلے میں تمام بڑے خطاطوں نے حصّہ لیا، جن میں غیر معروف نوجوان زہدی آفندی بھی شامل تھے

اس مقابلے میں موزوں خطوط کے انتخاب کی نگرانی خود سلطان عبدالمجید نے کی، جو خود بھی ایک ماہر خطاط تھے۔ انہوں نے اپنے دور کے عظیم خطاطوں، جیسے طاہر افندی سے خطاطی کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔

سلطان کی نظر جب خطاط عبداللہ زہدی افندی کی لکھی ہوئی تحریروں پر پڑی، تو سلطان نے مخاطب کرتے ہوئے کہا “اے میرے بیٹے کیا یہ آپ نے لکھا ہے؟” زہدی آفندی نے جواب دیا: “جی ہاں۔” اس پر سلطان نے ان کے انداز کتابت پر پسندیدگی کا اظہار کیا اور آپ کے لیے زندگی بھر 7500 قروش کا وظیفہ مقرر کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد انہی کو مسجد نبوی شریف کی خطاطی کے لیے مدینہ منورہ جانے کا حکم دیا گیا

عجیب بات یہ ہے کہ عثمانی سلطان عبدالمجید اول نے آپ کو مسجد نبوی کی دیواروں پر شاندار خطوط لکھنے کے لیے منتخب کیا، جب کہ آپ کی عمر صرف سترہ سال تھی ، سلطان مسجد نبوی کے ایک گنبد کے گر جانے کی وجہ سے تعمیر نو کرنا چاہتے تھے ۔الشیخ زہدی آفندی نے اس کام پر تقریباً 13 سال گزارے۔بقول ڈاکٹر اسامہ جمعہ الاشقر اگر مسجد نبوی کی دیواروں پر ان کے لکھے ہوئے خط ثلث کی لمبائی کا حساب لگائیں تو وہ تقریباً 2000 میٹر ہوگی

سلطان نے مدینہ منورہ زہدی آفندی کے ہمراہ تیس کے قریب معروف نعت خوانوں کا ایک قافلہ بھی بھیجا تاکہ نعتیہ ذوقِ سخن خطاطوں کے قلوب و ارواح میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گلستان و بوستان آباد کرتا رہے یوں عقیدت و محبت کی یہ تحریریں جو باوضو آرزوؤں کے ساتھ شیخ آفندی نے لکھنا شروع کیں تیرہ سال کے عرصے میں مکمل ہوئیں ہمیں چاہیے کہ انہیں باوضو نگاہوں سے پڑھیں

شیخ عبد اللہ زہدی نے آیات قرآنی ، احادیثِ نبوی ، اور اشعار و قصائد کے ذریعے گویا محبت و عقیدت کے سارے ذائقے جمع کر دیئے ہیں

باب السلام سے بارگاہِ رسالت مآب میں حاضری کے لیے جیسے ہی داخل ہوں دائیں طرف اوپر کی سطور میں آیت البقرۃ [ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ ] (البقرة: 197) تحریر کی گئی ہے لیکن کمال عقیدت دیکھئے کہ اسی مقام پر موجود محبت کی نشانی میزاب حضرت عباس بن عبد المطلب کو اپنی اصلی حالت میں برقرار رکھا گیا ہے

ہاں حضرت عباس بن عبد المطلب کے گھر کا وہی پرنالہ جس کا تذکرہ مسند احمد بن حنبل میں ملتا ہے

حضرت عباس بن عبد المطلب کا یہ پرنالہ حضرت عمر بن الخطاب کے گھر کے راستے میں تھا۔ جمعہ کے دن، حضرت عمر نیا لباس زیبِ تن فرما کر خطبہء جمعہ کے لیے تشریف لا رہے تھے ، حضرت عباس کے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ اوپر سے خون کے چند قطرے پرنالے کے راستے حضرت فاروق اعظم کے کپڑوں پر گرے حضرت عباس کے گھر والوں نے چھت پر دو چوزے ذبح کیے تھے اور خون کو صاف کرنے کے لیے پانی ڈال دیا تھا، لیکن انہیں حضرت عمر کے آنے کا علم نہ تھا۔ پانی اور خون حضرت عمر کے کپڑوں پر گر گیا، جس پر انہوں نے ميزاب کو اس کی جگہ سے ہٹانے کا حکم دیا۔

حضرت عمر جلدی سے اپنے گھر واپس آئے، کپڑے بدلے، اور نئے کپڑے پہن کر مسجد واپس آئے۔ خطبہ ارشاد فرمایا نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد حضرت عباس ان کے پاس آئے اور کہا، ” قسم بخدا!یہ ميزاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس جگہ پر لگایا تھا!”

حضرت عمر نے اشکبار نگاہوں سے فرمایا : “میں آپ سے قسم لیتا ہوں کہ آپ میری پیٹھ پر چڑھ کر میزاب کو اسی جگہ پر لگائیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا تھا۔”

حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔

حضرت فاروق اعظم نے میزاب حضرت عباس کو اس لیے ہٹایا تھا تاکہ یہاں سے گزرنے والوں کا لباس خراب نہ ہو چونکہ وہ خلیفہ تھے اور ان کا فرض تھا کہ وہ اپنی رعایا کو نقصان سے بچائیں۔ لیکن جب حضرت عباس نے انہیں بتایا کہ ميزاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس جگہ پر رکھا تھا، تو انہوں نے اصرار کیا کہ حضرت عباس ان کی پیٹھ پر چڑھ کر اسے دوبارا اپنی جگہ پر رکھیں۔ یہ کیسی پراثر محبت ہے، حق کی طرف لوٹنا کتنا اچھا ہے، کتنی تواضع ہے، اور کیسی خوبصورت تعمیل ہے !

پرنالہ محبت کی چھاؤں سے گزر کر جب زائر جالیوں کے سامنے سے اشکبار ہو کر گزرتا ہے تو جالیوں کے ستون پر مسطور اعرابی کا وہ استغاثہ جو انہوں نے بصورتِ اشعار بارگاہِ سید المرسلین میں پیش کیا تھا ، ڈھارس بندھاتا ہے ، اشعار کہنے والا اور لکھنے والا دونوں ہی امر ہو گئے

يَا خيرَ مَنْ دُفنَت بِالْقَاعِ أعظُمُه

 فَطَابَ منْ طِيبِهِنَّ القاعُ والأكَمُ

نَفْسي الفداءُ لقبرٍ أَنْتَ ساكنُه

فِيهِ العفافُ وَفِيهِ الجودُ والكرمُ

نوٹ

صحنِ حرم نبوی میں بیٹھ کر یہ چند سطور اسی غرض سے لکھ رہا ہوں کہ شاید عشق و محبت کا کوئی قطرہ ہمیں بھی عطا ہو

عطاء المصطفیٰ مظہری

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment