چاند نظر آگیا” رمضان مبارک ہو”

Rate this post

تین سال پہلے کی ایک تحریر“چاند نظر آگیا”مغرب کی نماز ادا ہوتے ہی مسجد کے باہر ہجوم لگ گیا۔ تمام افراد مغرب کی سمت نظریں گاڑیں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے پر تبصرے کررہے تھے۔ مسجد سے نکل کر اس ہجوم کے پاس کھڑے کچھ بزرگ بھی تھے، جن کی بینائی عمررفتہ کی بہاروں کے ساتھ کمزور ہوچکی تھی لیکن استقبال رمضان کے لئے محبت و شوق بھرے جذبات کے ساتھ ہجوم میں کھڑے ،کبھی چاند دیکھنے کی کوشش کرتے اور کبھی جوانوں سے پوچھتے۔

“بھئی! چاند نظر آیا ، ہماری تو بینائی اس قابل نہیں لیکن مسجد کے دائیں کونے کی بالکل سیدھ میں چاند نظر آئے گا۔ یہ بات پکی ہے ویسے ادھر ادھر نگاہیں دوڑانے سے چاند نظر نہیں آئے گا۔ ہاں! یہ بھی بتادوں پہلے دن کا چاند بہت باریک اور بہت کم وقت کے لئے نکلتا ہے۔”

بچوں کا شوق بھی دیدنی تھا ۔ کچھ تو مذاق کے طورپر بھی وقفے وقفے سے

” چاند نظر آگیا، چاند نظر آگیا” کے نعرے لگاتے۔

کچھ تومذاق میں آگے نکل گئے اور مسجد کے گنبد پر دھات کے بنے ہوئےچاند کی طرف اشارہ کرتے۔

گل خان ہجوم کے ایک طرف کھڑا ایک مقام پر کافی دیر سے نگاہیں مرکوز کئے کھڑا تھا۔ اسے چاند نظر آگیا تھا لیکن اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آرہاتھا۔ وہ سوچ رہا تھا شاید اس کی نگاہ کا قصور ہو۔ نظریں جھکا کر جب دوبارہ غور سے دیکھا تو چاند کا ہیولا سا نظر آیا۔ اس کی نظر کے سامنے ایک لکیر سی چمک رہی تھی۔ ادھر اسے یہ خیال ستا رہا تھا کہ اس کی غلط گواہی کی وجہ سے لوگ روزہ رکھیں گے۔ پھر اسے مولوی صاحب کا رعب بھی آڑے آرہاتھا۔ اپنی دور طالب علمی کا واقعہ بھی یاد آیا جب مولوی صاحب سے کسی اور کام کی غرض سے چھٹی لی تھی اور اصل مجبوری نہیں بتا سکا تھا۔ بدقسمتی دیکھیں مولوی صاحب نے اس کا جھوٹ پکڑ لیا تھا لیکن مجبوری سمجھ کر صرف مسکرا دئے تھے لیکن تھا تو جھوٹ۔ اب اس جھوٹ کے بعد گواہی کیسے قبول کریں گے۔ “

ہجوم آہستہ ہستہ چھٹ رہا تھا۔ بچے دوڑ کر گھروں میں ٹیلی ویژن کے سامنے جم کر بیٹھ گئے کہ شاید یہاں سے کچھ خوشخبری ملے۔

بزرگ بوڑھے افراد کا حوصلہ بھی ختم ہوگیا تھا،جو جوانوں کو کوسنے کے سے انداز میں ہائے جوانی کا نعرہ بلند کرکے لاٹی ٹیکتے ہوئے گھروں کو روانہ ہوگئے۔

رات کا اندھیرا بڑھ رہا تھا۔اس کے بعد چاند دیکھنے کی امید ختم ہوچکی تھی۔

نورزمان جو گل خان کا قریبی دوست تھا، گل خان سے مخاطب ہوا ۔

گل خان! چلو یار کھانا کھالیتے ہیں بہت بھوک لگی ہے۔ہر کسی کو چاند اپنا دیدار نہیں کرواتا۔ خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جو چاند کو دیکھ لیں۔ چلو۔

دیکھ لیا۔

کیا؟ کیا دیکھ لیا؟

چاند دیکھ لیا۔

یار! مذاق نہ کرو۔

میں جھوٹ نہیں بول رہا۔

تو پھر خاموش کیوں ہو۔ چلو، چل کر مولوی صاحب کے سامنے گواہی دو۔ مولوی صاحب ابھی تک جامع مسجد میں بیٹھے ہیں ۔

گل خان نے اپنے خدشات کا اظہار کیالیکن نورزمان مصر رہا۔ بالآخر بادل نخواستہ وہ جامع مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ اس کا ہر اگلاقدم پہلے سے زیادہ بھاری محسوس ہورہا تھا۔ مسجد تک پہنچتے ہوئے کافی دیر ہوچکی تھی۔ مسجد کے سامنے آتے ہی مسجد کا رعب اس کےاعصاب پر حاوی ہوگیا۔ ادھر وہ مسجد کے دروازے پر پہنچا ادھر مسجد کے لائوڈ سپیکر آن ہوا۔

“تمام امت مسلمہ کو مبارک ہو، رمضان کا چاند نظر آگیا ہے کل پہلا روزہ ہوگا۔”

گل خان نے گہرا سانس لیا اور نورزمان کے گلے لگ گیا۔ گویا اس کے دماغ پر پڑا ایک بھاری پتھر ہٹ

گیا۔

از مہربان کوہاٹی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment