پانچویں صدی اور ذکرِ میلاد النبی

Rate this post

 پانچویں صدی اور ذکرِ میلاد النبی (1۔)حجة الدين امام ابو عبداللہ بن ظفر المکی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی :٥٦٥ھ)لکھتے ہیں کہ وقد عمل المحبون للنبى صلى الله عليه وسلم فرحا بمولده الولائم ۔

“اہل محبت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد شریف کی خوشی میں دعوت طعام منعقد کرتے آئے ہیں۔

⛔ الصالحی:سبل الھدی والرشاد فی سیرة خير العباد ، الباب الثالث عشر: فى اقوال العلماء فى عمل المولد الشريف واجتماع الناس له وما يحمد من ذلك وما يذم ، جلد: ١، ص: ٣٦٣، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان۔

میلاد النبی

اس عبارت سے دو باتیں ثابت ہوئیں

🔸محافل میلاد منعقد کرنا یہ عمل اہل محبت اور عشاقان مصطفیٰ کا ہے نہ کہ اہل بدعت و ضلالت کا ۔

🔸محافل میلاد منعقد کرنا اور ضیافت میلاد کا اہتمام کرنا یہ پانچویں صدی سے شروع نہیں ہوا بلکہ پچھلی صدیوں کا تسلسل ہے ۔

🔹یہی امام محمد بن ظفر المکی رحمۃ اللہ علیہ تھوڑا آگے یوں فرماتے ہیں

وعمل ذلك قبل جمال الدين العجمى الهمذانى وممن عمل ذلك على قدر وسعه يوسف الحجار بمصر ، وقد رأى النبى صلى الله عليه وسلم وهو يحرص يوسف المذكور على عمل ذلك

“یہ عمل (محافل میلاد منعقد کرنا اور ضیافت میلاد کا اہتمام کرنا) شیخ جمال الدین عجمی ہمذانی نے بھی کیا اور مصر میں یوسف حجار نے اسے بہ قدرِ وسعت منعقد کیا اور پھر انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (خواب میں) دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوسف حجار کو عمل مذکور کی ترغیب دے رہے ہیں”

⛔ الصالحی:سبل الھدی والرشاد فی سیرة خير العباد ، الباب الثالث عشر: فى اقوال العلماء فى عمل المولد الشريف واجتماع الناس له وما يحمد من ذلك وما يذم ، جلد: ١، ص: ٣٦٣، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان۔

اس حوالے سے چند باتیں تو حل ہو گئیں

🔸محافل میلاد چودہویں صدی کی بدعت نہیں بلکہ پانچویں صدی میں بھی پایا جانے والا ایک مستحسن اور مبارک عمل ہے ۔

🔸محافل میلاد منعقد کرنا خاص ہندوستان کی پیداوار نہیں بلکہ یہ عمل مصر میں پانچویں صدی میں بھی موجود تھا ۔

🔸محافل میلاد کا اہتمام بدعت اور حرام نہیں ۔

🔸 کیونکہ اگر یہ بدعت اور حرام ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرتِ یوسف حجار رحمۃ اللہ علیہ کو خواب میں آ کر دیدار نہ بخشتے اور نہ ہی اس عمل کو کرنے کی ترغیب ارشاد فرماتے ۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خواب میں آ کر دیدار بخشنا اور عمل مذکور کی ترغیب ارشاد فرمانا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ یہ عمل مبارک مستحسن اور جائز ہے ۔

2)شیخ الاسلام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی:٥٩٧ھ) کثیر کتب کے مصنف ہیں ۔ انہوں نے “میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم” پر دو عدد مستقل کتب تصنیف کیں:

(١.)مولد العروس.

(٢.)بيان الميلاد النبوى۔

🔹یہی امام ابن جوزی رحمہ اللہ اپنی کتاب “بیان المیلاد النبوی” کے اختتام پر یوں دعا مانگتے ہیں

حضرت محمد

اللهم انا قد حضرنا قراءة مولد نبيك الكريم فاقض علينا ببركته خلع القبول والتكريم.

“اے اللہ! ہم نے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد مبارک کو پڑھا ہے تو ہم پر اس کی برکت سے قبولیت و اکرام کی خلعت سے سرفراز فرما”.

⛔ بیان المیلاد النبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، ص: ٦٢، مطبوعه اداره نعيمية رضوية سواد اعظم موچی گیٹ ، لاہور ۔

🔸اس دعا سے واضح لفظوں میں ثابت ہوا کہ اگر امام ابن جوزی رحمہ اللہ میلاد مبارک کے بدعت اور حرام ہونے کے قائل ہوتے تو کبھی بھی میلاد نہ پڑھتے اور نہ ہی میلاد پاک کی برکات سے قبولیت و اکرام کی خلعت بار الہ سے مانگتے ۔

🔸 امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے میلاد شریف پر دو کتب لکھ کر واضح فرما دیا کہ میرے نزدیک میلاد شریف ایک مبارک اور مستحسن عمل ہے ۔

🔹یہی امام ابن جوزی رحمہ اللہ شاہ اربل کی طرف سے بہت وسیع پیمانے پر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منائے جانے اور اس پر خطیر رقم خرچ کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں۔

لو لم يكن فى الا ارغام الشيطان و ادعام أهل الايمان

“اس (انعقاد محافل میلاد کے) نیک عمل میں سوائے شیطان کو ذلیل و رسوا کرنے اور اہل ایمان کو تقویت پہنچانے کے کچھ نہیں”

⛔ الصالحی:سبل الھدی والرشاد فی سیرة خير العباد ، الباب الثالث عشر: فى اقوال العلماء فى عمل المولد الشريف واجتماع الناس له وما يحمد من ذلك وما يذم ، جلد: ١، ص: ٣٦٣، مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت ، لبنان۔

اس حوالے سے ثابت ہوا کہ امام ابنِ جوزی رحمہ اللہ کے نزدیک محافل میلاد شریف کا انعقاد شیطان کو رسوا اور ذلیل و خوار کرتا جبکہ اس سے عاشقان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تقویت ملتی ہے ۔ منکرین محافل میلاد کے لئے اس عبارت میں اچھا خاصا لمحہ فکریہ موجود ہے ۔

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٣/٩/٢٠٢٣)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment