وفات کے بعد مومنین کی ارواح کا دنیا میں تصرف

Rate this post

محترم قارئین کرام! وفات کے بعد مومنین کی ارواح کا دنیا میں تصرف کرنا بعض اثار اور علماء کے اقوال کی روشنی میں بالکل واضح اور ثابت ہے لیکن پھر بھی یہ یاد رہے کے ہم اہلسنّت کہ نذدیک یہ مسئلہ عقائد کے باب میں سے نہیں بلکہ بعض آثار اور اکابرین کی پیش کردہ تصریحات کی روشنی میں بیان کیا جاتا ہے۔

جیسا کہ حضرت سعید بن مسیب اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے 

أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أخبرنا عبد الله بن جعفر، حدثنا يعقوب بن سفيان حدثنا أبو صالح حدثني الليث حدثني يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أنه قال: إن سلمان وعبد الله بن سلام التقيا فقال أحدهما لصاحبه إن لقيت ربك قبلي فأخبرني ماذا لقيت منه فقال أحدهما لصاحبه أيلقى الأحياء الأموات؟ قال نعم أما المؤمنون فإن أرواحهم في الجنة وهي تذهب حيث شاءت

ترجمہ و تشریح

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما باہم ملے، ایک نے دوسرے سے کہا اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کرو تو مجھے خبر دینا کہ وہاں کیا پیش آیا پوچھا گیا کیا زندہ اور مردہ بھی ملتے ہیں فرمایا ہاں مسلمانوں کی روحیں تو جنت میں ہوتی ہیں انہیں اختیار ہوتا ہے جہاں چاہیں جائیں۔

(📙شعب الایمان جلد۴صفحہ۳۸۹)

غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن يحيى بن قمطة، عن عبد الله بن عمرو قال الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر، فإذا مات المؤمن يخلى به يسرح حيث شاء والله تعالى أعلم

سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت۔ جب مسلمان مرتا ہے، اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جائے

📘(مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۱۲ صفحہ ۴۵۵)

مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوا مومنین کی ارواح اللہ تبارک و تعالی کی اجازت سے آزاد ہوتی ہیں اور عالم میں جہاں تصرف کرنا چاہتی ہیں وہاں تصرف بھی کرتی ہیں

اس مسئلہ پر آئمہ اسلاف اور محققین کی رائے

 حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں

بعض الروايات أن روح الميت تأتي داره ليلة الجمعة فينظر هل يتصدق لأجله واللَّه أعلم

بعض روایات میں آیا ہے کہ رُوح شب جمعہ کو اپنے گھر آتی ہے اورانتظار کرتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں یا نہیں

(لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح جلد4 صفحہ 218)

محترم قارئین کرام مذکورہ بالا عبارت کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ شاہ صاحب دهلوی رحمۃ اللہ تعالی نے بھی بعنیہ وہی بات نقل کی جو سیدی و سندی حضور امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں نقل کی ہے اور واضح رہے کہ حضرت شاہ عبدالحق رحمہ اللہ کی شخصیت وہابیہ کے ہاں بھی مسلم ہے بلکہ خود غیر مقلدین کے اکابر حضرت شاہ صاحب کی تحقیقات سے استفادہ کرتے ائے ہیں ملاحظہ فرمائیں

وہابی مولوی ابراھیم میر سیالکوٹی شیخ عبدالحق محدّث دہلوی علیہ الرحمہ کے بارے میں لکھتے ہیں

مجھ عاجز کو آپ کے علم وفضل اور خدمتِ علم حدیث اور صاحبِ کمالات ظاہری وباطنی ہونے کی وجہ سے حُسنِ عقیدت ہے آپ کی کئی تصانیف میرے پاس موجود ہیں جن سے میں بہت سے علمی فوائد حاصل کرتا رہتا ہوں

📙(تاریخ ہل حدیث صفحہ ۴۴۲)

اب ذرا اپنے پلنگ کے نیچے ڈنڈا پھیر کے دیکھو

غیر مقلدین کے نزدیک مردوں کی ارواح زندوں سے ملاقات بھی کرتی ہے ملاحظہ فرمائیں

علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:

کیا زندوں اور مردوں کی ارواح میں ملاقات ہوتی ہے؟

اس کے دلائل لا تعداد ہیں اور حس و واقعات سب سے بڑے شاہد ہیں۔ زندوں اور مردوں کی ارواح میں اسی طرح ملاقات ہوتی ہے جس طرح زندوں کی ارواح باہم ملتی جلتی ہیں ۔ فرمایا: الله يتو في الانفس حین موتها الخ اللہ موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور نیند کے دوران ان ارواح کو بھی جن کی ابھی موت نہیں آئی۔ پھر جن پر موت کا حکم فرما چکا انھیں روک لیتا ہے۔ اور دوسری ارواح کو ایک مقررہ مدت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے

📗(کتاب الروح ابن قیم صفحہ۴۲)

معلوم ہوا غیر مقلدین کے ہاں بھی روحیں زندوں سے ملاقات و مذاکرات کرتی ہیں

اتمامِ حجَت

وہابی غیر مقلد حافظ محمد لکھوی لکھتے ہیں

رات جمعہ دی مغرب پچھے ہک روایت آئی

اون روح وچ اپنے خویشاں یا جتهے ہے آشنائی

یعنی ایک حدیث میں ہے کہ جمعہ کی رات کو مغرب کے بعد روح اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں یا جہاں اس کی واقفیت ہوتی ہے وہاں اتی ہے

📙(احوال ال اخرت صفحہ 17)

ہم اہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کردیں تو چرچا نہیں ہوتا

حضرات احباب کرام اپ نے ملاحظہ فرمایا آثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر غیر مقلدین کے اپنے اکابرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اذن خداوندی کے تحت مومنین کی ارواح ازاد ہوتی ہیں اور اللہ کی اجازت سے جہاں چاہتی ہیں تصرف کرتی ہیں

اب اگر غیر مقلدین کو اس مسئلے پر کوئی اعتراض باقی رہ گیا ہے تو وہ پہلے اپنے گھر کا گند صاف کریں تاکہ انہیں حسب عادت اس طرح شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے

از✒️: محمد حسن رضا حنفی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment