وتر | وتر پڑھنے کا طریقہ |2 وتر کی دعا اور مسائل

Rate this post

وتر کسے کہتے ہیں؟

جانتے ہو وتر میں ہم ہر روز الله سے ایک وعدہ کرتے ہیں ۔

اور وہ وعدہ بھی عبادت کی سب سے آخری ایک رکعت میں ہوتا ہے.

دعائے قنوت ایک عہد ہے الله سبحانہ و تعالی کے ساتھ ۔۔۔۔ ایک معاھدہ ہے۔۔ ایک وعدہ ہے ۔

الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ ۔۔۔۔ اے الله ! ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔

وَنَسْتَغْفِرُکَ ۔۔۔۔۔ اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں ۔

وَنُؤْمِنُ بِکَ ۔۔۔۔ اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں ۔

وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ ۔۔۔۔۔۔ اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں ۔

وَنُثْنِیْ علَیْکَ الْخَیْر ۔۔۔۔ اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں ۔

وَنَشْکُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں ۔

ولا نَکْفُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے ۔

وَنَخْلَعُ ۔۔۔ اور ہم الگ کرتے ہیں ۔

وَنَتْرُکَ مَنْ یّفْجُرُکَ ۔۔۔۔ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کو جو تیری نا فرمانی کرے ۔

اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ ۔۔۔ اے الله ! ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔

وَلَکَ نُصَلّیْ ۔۔۔ اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔

وَنَسْجُدُ ۔۔۔۔ اور ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں ۔

وَاِلَیْکَ نَسْعٰی ۔۔۔ اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں ۔

وَنَحْفِدُ ۔۔۔۔۔ اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ۔

وَ نَرْجُوا رَحْمَتَکَ ۔۔ اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں ۔

وَنَخْشٰی عَذَابَکَ ۔۔۔۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔

انّ عَذَابَک بِالْکُفّارِ مُلْحِقْ۔۔۔۔۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے ۔

نماز وتر کی فضیلت

حدیث:- وتر کی فضیلت احادیث مبارکہ سے صحیح مسلم شریف میں سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میں سویا تھا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، مسواک کی اور وضو کیا۔ اور اسی حالت میں آیہ ” ان  في خلق السموت والأرض ختم سوره تک پڑھی پھر کھڑے ہو کر دور کعتیں پڑھیں ۔ جن میں قیام اور رکوع و سجود کو طویل کیا۔ پھر پڑھ کر آرام فرمایا یہاں تک کہ سانس کی آواز آئی ، یونہی تین بار میں چھ رکعتیں پڑھیں ہر بار مسواک و وضو کرتے اور ان آیتوں کی تلاوت فرماتے پھر وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔

وتر کی فضیلت

(1) حدیث:- نیز اسی میں عبد اللہ بن عمر رضی اللّہ تعالی عنہما سے مروی فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رات کی نمازوں کے آخر میں وتر پڑھو اور فرماتے ہیں: صبح سے پیشتر وتر پڑ ھو۔

حدیث:- امام احمد ابی بن کعب سے اور دارمی ابن عباس سے اور ابوداؤد وترمذی ام المومنین صدیقہ سے اور نسائی عبد الرحمن بن مبزا رضی اللہ عنہم سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الأعلى اور دوسری میں قل یاایھاالکفرون اورتیسری میں قل هو الله احد پڑھتے ۔” (2)

حدیث:- احمد و نسائی و دارقطنی بروایت عبد الرحمن بن ابزے عنہ ابیہ اور ابوداؤد و نسائی ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے راوی کہ ” حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر میں سلام پھیرتے تین بار سبحان الملك القدوس کہتے اور تیسری بار بآواز بلند سے کہتے ۔”

وتر کے مسائل

وتر کی قضا

مسئلہ:- وتر واجب ہے اگر سہوا یا قصد نہ پڑھا تو قضاء واجب ہے اور صاحب ترتیب کے لیے اگر یہ یاد ہے کہ نماز وتر نہیں پڑھی ہے اور وقت میں گنجائش بھی ہے تو فجر کی نماز فاسد ہے، خواہ شروع سے پہلے  یاد ہو یا درمیان میں یاد آ جائے۔

وتر کے مسائل

مسئلہ: وتر کی نماز بیٹھ کر یا سواری پر بغیر عذر نہیں ہو سکتی ۔

وتر پڑھنے کا طریقہ

مسئلہ: نماز وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدہ اولی واجب ہے اور قعدہ اولی میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے ، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے جیسے مغرب میں کرتے ہیں اسی طرح کرے اور اگر قعدہ اولی بھول کر کھڑا ہو گیا تو لوٹنے کی اجازت نہیں بلکہ سجدہ سہو کرے۔

مسئلہ: وتر کی تینوں رکعتوں میں مطلقاً قرات فرض ہے اور ہر ایک میں بعد فاتحہ سورت ملانا واجب اور بہتر یہ ہے کہ پہلی میں سبح اسم ربک الاعلى و انا انزلناہ دوسري میں قل یاایھاالکفرون  تیسری میں قُلْ هُوَ الله احمد پڑھے۔ اور کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لے۔ تیسری رکعت میں قرارت سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں۔ پھر ہاتھ باندھ لے اور دعائے قنوت پڑھے۔ دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں۔ بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں سب میں زیادہ مشہور دعا یہ ہے۔ 

وتر کی دعا

اللهم إنا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الخير و نشكرك ولا نكفرك وَنَخْلَع وَنَتُرُكُ مَنْ يَفْجُرك اللهم إياكَ نَعْبُدُ وَلَكَك نصَلَّى وَنَسْجُدُ وَاليك نسعی وَنَحْفِد وَنرْجُوا رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ اِنَّ عَذابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِق۔

ترجمہ: اے اللہ ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے بخشش مانگتے ہیں، اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور تیری بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور تیرا شکر کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے۔ اور الگ کرتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اُس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی لئے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور تیرے ہی طرف دوڑتے اور خدمت کیلئے حاضر ہوتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔

وتر کی دعا

اور بہتر یہ ہے کہ اس دعا کیساتھ وہ دعا بھی پڑھے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  نے امام حسن رضی اللہ عنہ کو تعلیم فرمائی وہ یہ ہے ۔

وتر کی دوسری دعا

اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَآ اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ (وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ) تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ سبحانک رب البيت وصلى الله على النبي واله۔

’’اے اللہ! تو مجھے ہدایت دے کر ان میں (داخل کر) جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان میں (شامل کر) جنہیں تو نے عافیت دی اور میری سرپرستی فرما ان لوگوں میں جن کی تونے سرپرستی فرمائی اور میرے لیے ان چیزوں میں برکت فرما جو تونے عطا کیں اور مجھے ان فیصلوں کے شر سے بچا جو تونے کیے، اس لیے کہ تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیرے (فیصلے کے) خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ ذلیل نہیں ہوسکتا جس کا تو دوست بن جائے اور وہ معزز نہیں ہوسکتا جس سے تو دشمنی کرے اے ہمارے رب! تو بہت بابرکت اور نہایت بلند ہے۔‘‘

سنن أبی داود، الوتر، باب القنوت فی الوتر، حدیث:1425، وجامع الترمذی، الوتر، باب ماجاء فی القنوت فی الوتر، حدیث:464، وسنن النسائی، قیام اللیل، باب الدعاء فی الوتر، حدیث: 1747,1746، وسنن ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب ماجاء فی القنوت فی الوتر، حدیث:1178، ومسند أحمد:199/1، والسنن الکبرٰی للبیھقی: 209/2۔ قوسین والے الفاظ بیہقی اور ابوداود کے ہیں۔

وتر میں دعائے قنوت کے بعد

مسئلہ:- دعائے قنوت کے بعد درود شریف پڑھنا بہتر ہے۔

مسئلہ: دعائے قنوت آہستہ پڑھے امام ہو یا منفرد یا مقتدی، ادا ہو یا قضاء، رمضان میں ہو یا اور دنوں میں۔

مسئلہ:- جو دعائے قنوت نہ پڑھ سکیں وہ یہ پڑھیں: اللهم ربنا اتنا فى الدنيا حسنة وفي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النار۔

ترجمہ:- اے ہمارے مالک تو ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

یا یہ پڑھیں: اللَّهُمَّ اغْفِرلى ” اے اللہ میری مغفرت فرما دے۔

وتر میں دعائے قنوت بھول گئے ؟

اگر دُعائے قنوت پڑھنا بھول گئے اور رکوع میں چلے گئے تو واپس نہ لوٹے بلکہ سجدہ سہو کر لیجئے (عالمگیری ج ۱ ص ۱۱۰) (۱۳)

وتر جماعت سے پڑھی جارہی ہو جیسا کہ رمضان المبارک میں پڑھتے ہیں ) اور مقتدی قنوت سے فارغ نہ ہوا تھا کہ امام رکوع میں چلا گیا تو مقتدی بھی رکوع میں چلا جائے۔

وتر

کیا وتر کے بعد تراویح پڑھ سکتے ہیں

مسئلہ – :

تراویح کی نماز کا وقت عشاء کے بعد سے طلوع صبح صادق تک رہتا ہے، نیز تراویح کی نماز وتر سے پہلے اور وتر کے بعد بھی جائز ہے اس لیے 10 / بجے چاند کا اعلان ہوجانے کے بعد تراویح کی نماز پڑھنا درست ہے جن لوگوں نے تراویح کی نمازادا کرلی انھوں نے صحیح کیا اور تراویح کے بعد ان کو وتر کے اعادہ کی بھی ضرورت نہیں تھی، ان کا اعادہ کرنا لغو ہوا، جنھوں نے یہ کہہ کر ترایح کی نماز نہیں پڑھی کہ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، انھوں نے غلطی کی۔ اس لئے جنہوں نے نماز مکمل پڑھ لی ہے وہ اب بھی تراویح ادا کر سکتے ہیں۔

نماز وتر کے سلام پھیرنے کے بعد

⬅️➖ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم “*سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ” * نماز وتر کے بعد کہا کرتے تھے، اس لیے نمازیوں کیلیے اس سنت پر عمل کرنا مسنون ہے چاہے وہ وتر مسجد میں ادا کریں یا اپنی سونے کی جگہ میں، اسی طرح چاہے وتر اکیلے ادا کریں یا با جماعت۔ق

⬅️➖ عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے: (( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكِ الْأَعْلَى ) اسی طرح ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) اور پھر ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) پھر جب سلام پھیر لیتے تو تین بار فرماتے : “*سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ”* تیسری بار کہتے ہوئے آواز قدرے بلند فرماتے)

📚🖌➖ اس روایت کو أبوداود طیالسی نے ” المسند ” (1/441) میں اسی طرح ابن جعد نے اپنی ” المسند ” (1/86) میں اور ابن ابی شیبہ نے ” المصنف ” (2/93) اور امام احمد نے اپنی ” مسند ” (24/72) میں اور دیگر محدثین نے بھی روایت کیا ہے، اس حدیث کی بہت سی اسانید ⬅️📚➖ ہیں اور ان اسانید کو کئی محدثین اور محققین مثلاً: ابن ملقن، البانی، شیخ مقبل الوادعی، مسند احمد کے طبعہ رسالہ کے محققین اور دیگر اہل علم نے صحیح قرار دیا ہے

اسی طرح ابو داود رحمہ اللہ کہتے ہیں: “باب ہے وتروں کے بعد کی دعا کے متعلق”

⬅️➖ امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں: “باب ہے وتروں سے فراغت کے بعد تسبیح کے متعلق”

⬅️➖ اور ابن حبان نے اپنی صحیح ابن حبان (6/206) میں عنوان قائم کیا ہے کہ: “باب ہے اس ذکر کے بیان میں جسے وتروں کے بعد پڑھنا مستحب ہے”

⬅️➖ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“وتروں کے بعد تین مرتبہ “*سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ”* کہنا مستحب ہے” انتہی

” المجموع شرح المهذب ” (4/ 16)، اور اسی طرح دیکھیں: ” تحفة المحتاج ” (2/227)

⬅️➖ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“وتروں کے بعد تین بار “*سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ”* کہنا مستحب ہے اور تیسری بار کہتے ہوئے اپنی آواز بلند کرے” انتہی

” المغنی ” (2/ 122)

⬅️➖ یہی بات دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی کے دوسرے ایڈیشن (6/60) میں آئی ہے:

“جب وتروں کا سلام پھیر لے تو “*سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ”* تین بار کہے۔” انتہی

وظیفہ وتر نماز

حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ اقدس میں کسی شخص نے بواسیر سے نجات پانے کےلئے پوچھا۔

تو آپ نے فرمایا ! فجر کی سنتوں میں پہلی رکعت میں سورة الم نشرح

دوسری رکعت میں الم ترکیف اور (نماز عشاء) وتر کی نماز میں پہلی رکعت میں الم نشرح دوسری میں والتین اور تیسری میں اخلاص پڑھنے سے ان شاءاللہ صحت ہو جائے گی ۔

بحوالہ کتاب مرآت العاشقین ص110

طالب دعا

محمد عدنان چنڈہ بندیالوی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment