والدین کے حقوق و فرائض

Rate this post

انسانی حقوق کے بارے میں اسلام کا تصور آفاقی اور یکساں نوعیت کا ہے جو زماں و مکاں کی تاریخی اور جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔

اسلام میں حقوق کا منشور

اسلام میں حقوق انسانی کا منشور اُس اللہ کا عطا کردہ ہے جو تمام کائنات کا خدا ہے اور اس نے یہ تصور اپنے آخری پیغام میں اپنے آخری نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے دیا ہے۔

اسلام کے تفویض کردہ حقوق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام کے طور پر عطا کئے گئے ہیں اور ان کے حصول میں انسانوں کی محنت اور کوشش کا کوئی عمل دخل نہیں۔

دنیا کے قانون سازوں کی طرف سے دیئے گئے حقوق کے برعکس یہ حقوق مستقل بالذات، مقدس اور ناقابل تنسیخ ہیں۔

ان کے پیچھے الٰہی منشا اور ارادہ کار فرما ہے اس لئے انہیں کسی عذر کی بناء پر تبدیل، ترمیم یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔

ایک حقیقی اسلامی ریاست میں ان حقوق سے تمام شہری مستفیض ہوسکیں گے اور کوئی ریاست یا فرد واحد ان کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ قرآن و سنت کی طرف سے عطا کردہ بنیادی حقوق کو معطل یا کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

اسلام میں حقوق اور فرائض باہمی طور پر مربوط اور ایک دوسرے پر منحصر تصور کئے جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں فرائض، واجبات اور ذمہ داریوں پر بھی حقوق کے ساتھ ساتھ یکساں زور دیا گیا ہے۔

اس پر متعدد آیات قرآنی اور احادیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حوالہ دیا جاسکتا ہے، جن سے یہ بات ثابت ہے کہ اسلامی شریعت کے ان اہم ماخذ و مصادر میں انسانی فرائض و واجبات کو کس قدر اہمیت دی گئی ہے۔

ارشادِ ربانی ہے:۔

وَاعْبُدُواْ اللّهَ وَلاَ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًا. (القرآن، النساء، 4 : 36)

”اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے)

اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہوچکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)

بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبر کرنے والا (مغرور) فخر کرنیوالا (خودبین) ہوo“

مزید پڑھیں

معاشرے میں خواتین کا کردار

حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں احادیث مبارکہ

حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث مبارکہ میں بھی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے باہمی تعلق کو بڑی تاکید سے بیان کیا گیا ہے:۔

عن معاذ بن جبل قال قال رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا معاذ اتدری ما حق اﷲ علی العباد قال اﷲ ورسولہ اعلم! قال ان یعبد اﷲ ولا یشرک بہ شیاء قال اتدری ماحقہم علیہ اذا فعلوا ذلک فقال اﷲ ورسولہ اعلم قال ان لا یعذبہم۔

(مسلم، الصحیح، 1 : 59، رقم 30)

”حضرت معاذ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اے معاذ کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا بندے پر کیا حق ہے؟

حضرت معاذ نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ اللہ پر بندے کا کیا حق ہے؟ حضرت معاذ نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ (اپنے ایسے) بندوں کو عذاب نہ دے۔“

اسی طرح حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل ایمان کو تلقین فرمائی ہے کہ وہ ان فرائض کو ادا کریں

جو ان پر ان کے والدین، بچوں، عورتوں، ان کے پڑوسیوں، غلاموں اور ذمیوں وغیرہ کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔

یہ امر باعث صد تاسف ہے کہ آج مغرب کو انسانی حقوق کا علم بردار قرار دیتے۔

وقت یہ بات نظر انداز کردی جاتی ہے کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے عالم انسانیت کو اس سے کہیں زیادہ حقوق عطا کردیئے تھے

بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف

والدین کی اولاد کے لئے دعا

اللہ تعالیٰ والدین کی دعا کو کس قدر شرف قبولیت دیتے ہیں وہ اس حدیث سے ظاہر ہے.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین دعائیں مقبول ہیں۔

ان ( کی قبولیت) میں کوئی شک نہیں۔ والدین کی دعا اولاد کے لئے، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا۔ (مشکوۃ ص ۱۹۵ ،ترمذی ۔ ابو داؤد)

 والدین کی خدمت

 والدین کی خدمت باعث ثواب وفضیلت ہوتی ہے حدیث مبارکہ میں ہے

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا

اور عرض کیا کہ میں جہاد کرنے کی خواہش رکھتا ہوں اور اس پر قادر نہیں

ان کی بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟

عرض کیا والدہ زندہ ہے فرمایا کہ بس تو اپنی والدہ کی خدمت اور فرمانبرداری کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈر۔

جب تو اس پر عمل کرے گا تو حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اور جہاد کرنے والا ہوگا۔

پس جب تیری ماں تجھے بلائے تو (اس کی فرمانبرداری کے بارے میں ) اللہ سے ڈرنا، ان سے محبت اور میل جول رکھنے والوں کا احترام کرنا۔

(مشکوۃ المصابیح ص ۴۲۰)

 *والدین کو محبت کی نظر سے دیکھنا بھی ثواب ہے:*

 والدین عظمت کے اس مقام پر ہوتے ہیں کہ ان پر محبت بھری نگاہ ڈالنا بھی بہت بڑا ثواب ہے۔

حدیث ہے: حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والی اولا د جب بھی رحمت کی نظر سے ماں باپ کو دیکھے

تو ہر نظر کے عوض اللہ جل شانہ اس کے لئے مقبول حج کا ثواب لکھ دیتے ہیں۔

صحابہ نے عرض کیا اگر چہ روزانہ سو بار اس طرح دیکھے۔

فرمایا ہاں! اللہ بہت بڑا ہے اور بہت پاک ہے۔

( مشکوۃ ص ۴۴۱ از بیہقی )

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ

مسجد کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔

قرآن کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔

والدین کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔

اور جس بھائی سے اللہ کے لئے محبت ہو اس پر نظر ڈالنا عبادت ہے۔(در منثور ، ج ۱ ص ۱۷۳)

والدین کے حقوق کے واقعات

 حضرت حلیمہ سعدیہ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی والدہ تھیں ۔

بچپن کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت تشریف لائیں جب آپ انسانیت کی رہبری کے لئے فرائض رسالت میں مصروف تھے۔

حضور تعظیم کے طور پر اٹھ کر ملے اور ان کے بیٹھنے کے لئے اپنی چادر مبارک بچھا دی جس پر وہ بیٹھ گئیں۔

ایک صاحب نے پوچھا یہ کون خاتون ہیں۔ صحابہ نے کہا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں۔

( مشکوۃ ص ۴۲۰، از ابوداؤد)

رضاعی ہمشیرہ کا واقعہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حسن سلوک اپنی رضاعی ہمشیرہ سے بھی کیا۔

رضاعی رشتہ داروں کے اس قدر اہتمام و احترام سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اصل والدین کس قدر عزت و احترام کے مستحق ہیں۔

والدہ اولاد کا نام لے کر بلائے تو نفل نماز بھی چھوڑ دینے کا حکم ہے۔

والدین کے حقوق حضرت جریج کا واقعہ

ایک دفعہ والدہ کے پکارنے کے باوجود حضرت جریج مشغول عبادت رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لو كان جُرَيْجٍ عَالِمًا لَعَلِمَ أَنَّ إِجَابة امہ أَوْلَى مِنْ عَبَادَةِ رَبِّهِ

اگر جريج عالم ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ والدہ کے بلانے پر جواب دینا رب کی (نفلی ) عبادت سے اولی ہے. (فتح الباری شرح بخاری ص ۱۶۱، ج ۳)

 احکامات الہی اور ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور تابعین عظام کے دل پر نقش ہو گئے تھے۔

اس لئے وہ حقوق والدین کی کما حقہ ادائیگی کرتے رہے۔

والدین کے حقوق حضرت اویس قرنی کا واقعہ

اس ضمن میں حضرت اویس قرنی تابعی کا واقعہ انتہائی دلکش ہے۔

(حضرت اویس یمن کے رہنے والے تھے ۔ ان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر التابعين کا لقب دیا اور صحابہ کرام کو فرمایا کہ وہ ان سے دعائے مغفرت کرائیں)

حضرت اویس قرنی کی ضعیف والدہ بقید حیات تھیں ۔

ارشادات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زندگی بھر خاص جذبہ ولگن سے ان کی خدمت کرتے رہے

اور باوجود شدت اشتیاق ، زیارت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کر سکے۔

والدہ کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے۔ ان کی یہ ادا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد پسند آئی۔

۔“ حضرت اویس قرنی ” سمجھتے تھے کہ زیارت کا بدل آپ کی اطاعت ہے لیکن آپ کی اطاعت کا کوئی بدل نہیں۔

 *بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف*

والدین کے حقوق

آج کے اس خوبصورت درس میں ھم حقوق والدین پر چند آحادیث آپ حضرات کی خدمت میں عرض کریں گے۔

💐 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :۔

اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)۔

کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟

حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔

والدین کے حقوق و فرائض

(مسلم ، الصحيح، کتاب البر و الصلة، باب رعم أنف من أدرک أبويه، 4 : 1978، رقم : 2551)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیا۔

💐صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شریک جہاد ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا۔

آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟

اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا فَفِيْھَا فَجَاِھد یعنی بس اب تم ماں باپ کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو یعنی ان کی خدمت سے ہی جہاد کا ثواب مل جائے گا۔

 (بخاری الصحيح، 3 : 1094، رقم : 2842)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔

💐حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا۔

یا رسول اللہ ! کوئی شخص اپنے والدین پر بھی لعنت کر سکتا ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

يَسُبُّ الرَّجُلُ أبَا الرَّجُلِ فَيَسُبَّ أبَاهُ، وَيَسُبُّ أمُّهُ فَيَسُبُّ أمُّهُ.

’’کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا یہ

اور کوئی شخص کسی کی ماں کو گالی دیے اور وہ (بدلے میں) اس کی ماں کو گالی دے (تو یہ اپنے والدین پر لعنت کے مترادف ہے)۔‘‘

( بخاری، الصحيح، کتاب : الأدب، باب : لايسب الرجل والديه، 5 : 2228، رقم : 5628)

حاصل کلام – :ہمیں چاہیئے کہ ہم اللہ تعالی اور رسول اللہﷺ کا حکم سمجھتے ہوئے اپنے والدین کی خدمت کرنے کو اپنا دینی و اخلاقی فریضہ سمجھیں۔ان سے ادب واحترام سے پیش آئیں ان پر اپنا مال خرچ کریں اور انکی رضا و خوشنودی میں اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی تلاش کریں۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment