نماز جنازہ کے بعد کی دعا کا ثبوت قرآن و حدیث سے

Rate this post

نماز جنازہ کے بعد دعا کی تحقیق مؤقف اہل سنت یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک بعد نماز جنازہ کے دعا مانگنا مستحب اور شرعا محمود عمل ھے 

(الحجج القاطعہ فی رد البراھین الواضحہ ص 44)

دعا سے انکار کرنا معتزلہ کا طریقہ ھے

شرح عقائد نسفی میں ھے

وفی دعاء الاحیاء للاموات و صدقۃ الاحیاء عنھم ای الاموات نفع لھم ای للاموات خلافا للمعتزلۃ

یعنی مردوں کے لیے زندوں کی دعا اور خیرات یعنی زندہ لوگوں کا مردوں کیلیے صدقہ و خیرات کرنے میں ان کے لیے فائدہ ھے اور اس مسئلہ میں معتزلہ اختلاف کرتے ہیں

(شرح عقائد نسفی ،ص122/ حاشیہ شرح وقایہ ج1 ص229)

اصل مسئلہ سے قبل چند اصول

اس گفتگو کو پڑھنے سے قبل چند اصولی باتیں سمجھ لیجیے

اسلام اور دنیا کے ہر نظام قانون کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ھے کہ اشیاء و امور کے جواز و عدم جواز میں منہیات و ممنوعات کا ذکر کر دیا جاتا ھے اور جن کی ممانعت نہ ھو انکو مباحات و مستحبات میں شمار کیا جاتا ھے

مثال

اسکی عملی زندگی میں ایک مثال سے وضاحت کرتا ھوں کہ جس سڑک پر دائیں یا بائیں مڑنا منع ھو یا جس گلی یا سڑک پر گاڑی چلانا یا گزرنا منع ھو وہاں مخصوص علامات ممانعت یا رکاوٹ لگادی جاتی ھے اور جس سے گزرنا منع نہیں وہاں کوئی علامت نہیں موجود ھوتی

بعینہ یہی اصول احکامِ شریعت کا ھے جیسا کہ آئندہ دلائل سے ثابت ھو جائے گا

دوسرا اصولی مسئلہ یہ کہ فی نفسہ دعا اللہ تعالی کے نزدیک انتہائی محبوب اور پسندیدہ فعل ھے، مقامات نجاست وکراہت کے علاوہ دعا کے لیے نہ کسی وقت کی پابندی ھے نہ کسی خاص لب و لہجے اور زبان کی یہ الگ بات ھے کہ مسنون دعاؤں کی برکات زیادہ ہیں

بندے کی دعا اللہ تعالی کو اتنی پسند ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

¹ کثرت سے دعا کرو (مستدرک حاکم)

² دعا عبادت کا مغز ھے (مشکوۃ المصابیح)

³ دعا تقدیر کو ٹال دیتی ھے (مشکوۃ المصابیح)

⁴ اللہ سے اسکے فضل کا سوال کرو کہ اللہ اس بات کو پسند کرتا ھے کہ اس سے سوال کیا جائے (مشکوۃ المصابیح)

اسی کی مثل کثیر احادیث مبارکہ دعا کی ترغیب اور نہ کرنے پر ترہیب کے باب میں ذخیرہ احادیث میں موجود ہیں

1- اصل اباحت ھے

علماء ملت اسلامیہ نے شریعت اسلامیہ کا ایک معروف و متفقہ اصول وضع فرمایا ھے کہ

الاصل فی الاشیاء الاباحۃ

یعنی اشیا میں اصل اباحت یعنی جائز ھونا ھے

(شامی ج6 ص459/ المبسوط سرخسی ج24 ص77/ فتح الباری ج9 ص656/ الاشباہ و النظائر ج1 ص60)

اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ فقہاء کرام نے یہ قاعدہ اخذ کہاں سے کیا تو جواب یہ ھے کہ اس اصول کا مصدر و مدار قرآن کریم کی مذکورہ ذیل آیت ھے

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَـتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّـتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ‌ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَؕ‏ ۞

ترجمہ:

اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا،

اسی کو دلیل بناتے ھوئے علامہ شامی نے لکھا ھے

لَيْسَ الِاحْتِيَاطُ فِي الِافْتِرَاءِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِإِثْبَاتِ الْحُرْمَةِ أَوْ الْكَرَاهَةِ اللَّذَيْنِ لَا بُدَّ لَهُمَا مِنْ دَلِيلٍ بَلْ فِي الْقَوْلِ بِالْإِبَاحَةِ الَّتِي هِيَ الْأَصْلُ، وَقَدْ تَوَقَّفَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – مَعَ أَنَّهُ هُوَ الْمُشَرِّعُ فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ أُمِّ الْخَبَائِثِ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ النَّصُّ الْقَطْعِيُّ،

[ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، ٤٥٩/٦]

یعنی احتیاط یہ نہیں کہ کسی چیز میں حرمت اور کراہت ثابت کر کے رب تعالی پر جھوٹ باندھا جائے جبکہ حرمت و کراہت ثابت کرنے کے لیے دلیل ضروری ھے -احتیاط یہ ھے کہ جب تک کوئی دلیل نہ ملے اسےمباح ثابت کیا جائے نبی کریم نے شراب کہ برائیوں کی جڑ ھے اسکو حرام قرار دینے میں توقف فرمایا یہاں تک کہ حکم باری تعالی اسکی حرمت پر نازل ھوا

2- عدم ذکر عدم ثبوت یا نفی کو مستلزم نہیں

اور یہ بھی اصول و قاعدہ متفقہ ھے کہ کسی چیز کا عدم ذکر نفی ثبوت کو مستلزم نہیں

یعنی کہ نبی اکرم یا صحابہ کرام سے کسی کام کا ذکر نہ ملنا اسکی حرمت و ناجائز ھونے کی دلیل نہیں

اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو پھر ھر وہ عمل جس کو اللہ تعالی نے ذکر نہیں کیا قرآن میں اسکو حرام ماننا لازم ھوگا

چنانچہ علامہ ابن الہمام الحنفی فرماتے ہیں

ثم الثابت بعد ھذا نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلا الا ان یدل دلیل آخر

(فتح القدیر ج1 ص446/ البحر الرائق ج 1 ص266 / حاشیہ ابن عابدین ج2 ص14/ شرح فتح القدیر ج1 ص446)

یعنی نبی اکرم اور صحابہ کرام کے نہ کرنے سے اس قدر ثابت ھوا کہ یہ عمل مندوب نہیں، رہا کراہت کا ثبوت وہ اس وقت تک متحقق نہ ھوگا جب تک کوئی دلیل اس کراہت پر قائم نہ ھو

اب سوال پیدا ھوا کہ یہ قاعدہ و ضابطہ فقہاء کرام نے کہاں سے اخذ کر لیا تو اس کا جواب یہ ھے کہ اس قاعدہ کی بنیاد بھی حدیث پاک ھے چنانچہ

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا , وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا , وَحَّدَ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا , وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا».

[الدارقطني، سنن الدارقطني، ٣٢٥/٥]

سیدنا ابوثعلبہ سے مروی ھے فرمان رسول کہ بے شک اللہ تعالی نے کچھ باتیں فرض کی ہیں انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو، اور کچھ حرام کی ہیں انکی حرمت کو نہ توڑو اور کچھ حدیں باندھی ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور کچھ چیزوں سے بغیر بھولے سکوت کیا ھے ان میں بحث و مباحثہ نہ کرو

یہی روایت طبرانی کی المعجم الکبیر، بہیقی کی السنن الکبری، مجمع الزوائد، سیر اعلام النبلاء، حلیۃ الاولیاء، میں بھی مذکور ھے

3- کسی کام کا کرنا جواز کی دلیل ھے اور نہ کرنا عدم جواز کی دلیل نہیں

علامہ ابن حجر العسقلانی نے ایک اور اصول اپنی کتاب میں ذکر کیا ھے وہ کچھ یوں ھے

الفعل یدل علی الجواز و عدم الفعل لا یدل علی المنع

(فتح الباری ج10 ص155)

یعنی کسی کام کا کرنا اسکے جواز کی دلیل ھے سور نہ کرنا منع کی دلیل نہیں

4- کراہت کے لیے دلیل شرعی کا ھونا لازمی ھے

چنانچہ علامہ ابن الہمام الحنفی فرماتے ہیں

ثم الثابت بعد ھذا نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلا الا ان یدل دلیل آخر

(فتح القدیر ج1 ص446/ البحر الرائق ج 1 ص266 / حاشیہ ابن عابدین ج2 ص14/ شرح فتح القدیر ج1 ص446)

یعنی نبی اکرم اور صحابہ کرام کے نہ کرنے سے اس قدر ثابت ھوا کہ یہ عمل مندوب نہیں، رہا کراہت کا ثبوت وہ اس وقت تک متحقق نہ ھوگا جب تک کوئی دلیل اس کراہت پر قائم نہ ھو

5- جنازہ کے بعد دعا کا ثبوت حدیث مرفوع سے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ.

(سنن ابی داؤد ج3 ص210 حدیث 3199 قال البانی سندہ حسن )

ترجمہ:

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خلوص دل سے اس کے لیے دعا کرو ۔

یہی روایت سنن الکبری، کتاب الدعاء، المجموع، المغنی، مشکوۃ المصابیح، ابن حبان، جامع الصغیر اور جمع الجوامع میں بھی موجود ھے)

اس حدیث پاک پر مخالفین و معترضین کے دو اعتراض قابل ذکر ہیں ہم ان کا ذکر کر کے جواب پیش کرتے ہیں

اعتراض 1

مخالفین کا پہلا اعتراض یہ ھے کہ اس میں دعا سے مراد وہ دعا ھے جو نماز جنازہ کے اندر پڑھی جاتی ھے

جواب

پہلا جواب یہ ھے کہ

اس حدیث مبارکہ میں (إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ) یہ شرط ھے

اور (‏‏‏‏‏‏فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ.) اس کی جزا ھے)

اور یہ قاعدہ تو ابتدائی طلبا کو بھی معلوم ھے کہ شرط اور جزا میں تغیر ھوتا ھے

دوسرا جواب یہ ھے کہ

حدیث مبارکہ میں صلیتم امر کا صیغہ ھے اور فاخلصوا بھی امر کا صیغہ ھے اور یہاں فاء تعقیب مع الوصل یعنی بلاتاخیر متصل پیچھے ھونے کے معنی میں ھے

اس پر دلیل قرآن کریم کی مذکورہ دلیل ھے کہ

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا

فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا

اس میں اب نماز کے بعد منتشر ھونے کا حکم ھے اگر مخالفین کا قاعدہ مان لیا جائے تو آیت کا ترجمہ کچھ یوں بنے گا کہ

جب نماز پڑھو تو دوران نماز ہی منتشر ھو جاؤ

اعتراض 2

معترضین کا دوسرا اعتراض یہ ھے کہ نماز جنازہ خود ایک دعا ھے تو دعا کے بعد دعا کرنا جائز نہیں

جواب یہ ھے کہ معترض کا یہ اعتراض بھی احادیث مبارکہ سے لا علمی اور قلت مطالعہ کا سبب ھے کیونکہ

نبی پاک کا فرمان موجود ھے کہ

سیدہ عائشہ سے روایت ھے کہ سرور دو عالم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی بکثرت دعا کرنے والوں کو دوست رکھتا ھے

اس روایت کو امام طبرانی نے الدعاء میں، ابن عدی نے الکامل میں، ترمذی نے نوادر الاصول میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ھے

اسی طرح ایک حدیث پاک میں ارشاد فرمایا کہ دعا میں خوب کوشش کرو اور مجھ پر درود بکثرت پڑھو

اسکو امام نسائی نے اپنی سنن میں نقل کیا ھے

لہذا یہ کہنا کہ جنازہ ایک دعا ھے اور دعا کے بعد دعا نہیں کر سکتے یا ناجائز ھے تو یہ بات منشاء شریعت و مقصود اسلامیہ اور مرضی خدا و مصطفی کے صراحتا خلاف ھے

 6- جنازہ کے بعد دعا کا ثبوت اثر صحابہ سے

دعا بعد نماز جنازہ سیدنا عبد اللہ بن عمر کی سنت مبارکہ اور انکے عمل سے ثابت ھے

امام عبد الرزاق بن ہمام صنعانی روایت کرتے ہیں کہ

عبد الرزاق عن عبید اللہ بن عمر عن نافع قال کان ابن عمر اذا انتھی الی جنازۃ و قد صلی علیھا دعا وانصرف و لم یعد الصلوۃ

(المصنف عبد الرزاق ج3 ص519 الحدیث 6545)

سیدنا نافع بیان کرتے ہیں کہ جب عبد اللہ بن عمر نماز جنازہ کے لیے آتے اور نماز پڑھی جا چکی ھوتی تو دعا کرتے اور واپس ھو جاتے دوبارہ نماز جنازہ نہ پڑھتے

اسی روایت کو ابن عبد البر نے التمہید ، الاستذکار، علاؤ الدین الحنفی نے الجواھر النقی، مفتی فرید دیوبندی نے منھاج السنن علی الترمذی، میں نقل کیا ھے

اس اثر سے معلوم ھوا کہ دعا بعد نماز جنازہ سیدنا ابن عمر کی سنت مبارکہ ھے

7- جنازہ کے بعد دعا فقہاء کرام سے

¹ امام عبد الوہاب الشعرانی لکھتے ہیں کہ

قال ابو حنیفۃ و الثوری ان التعزیۃ سنۃ قبل الدفن لا بعدہ لان شدۃ الحزن تکون قبل الدفن فیعزی و یدعو لہ

امام ابوحنیفہ اور ثوری فرماتے ہیں کہ تعزیت کرنا میت کے دفن کرنے سے قبل سنت ھے بعد میں نہیں کہ زیادہ غم و اندوہ دفن سے قبل ھوتا ھے اس لیے آدمی کو چاہیے کہ میت کے لواحقین سے تعزیت کرے اور میت کے لیے دعا کرے

(المیزان الشریعۃ الکبری ج1 ص210)

² اسی طرح الجوہرہ النیرہ، اشعۃ اللمعات

³ رد المختار ،نھر الفائق، فتاوی واحدی

⁴ مجمع الانھر ،کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ

میں بھی لکھا ھے کہ تعزیت و دعا دفن سے قبل کرنا سنت ھے کہ وہ وقت زیادہ غم و اندوہ کا ھوتا ھے

8- جن فقہاء نے بعد الجنازہ دعا کو مکروہ کہا اسکا صحیح محمل

بعض فقہاء کی عبارات سے یہ معلوم ھوتا ھے کہ جنازہ کے بعد فورا دعا مانگنا مکروہ تحریمی ھے

اس کا صحیح محمل جاننے کے لیے اولا ایک اصول ذہن نشین فرما لیجیے تاکہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ھو جائے

اصول فقہاء

جو عمل فعل کی کراہت کا سبب بن رہا ھو تو اس عمل کو دفع کرنے سے کراہت ختم ھو جاتی ھے

اب آئیے مذکورہ اعتراض کی طرف فقہاء کرام نے لکھا ھے کہ جنازہ کے بعد فورا دعا نہ مانگے کہ اس میں مشابہت نماز جنازہ پائی جاتی ھے

تو یہاں فقہاء کرام نے جو علت اور وجہ بیان کی ممانعت یا کراہت کی وہ ھے مشابہت جنازہ ھونا

اب اس علت اور سبب کو اگر ختم کر دیا جائے تو یہ وجہ کراہت بھی باقی نہیں رہتی

اس مشابہت کو کئی طریقوں سے ختم کیا جا سکتا ھے چند درج ذیل ہیں

¹ صفیں توڑ دی جائیں کہ مشابہت جنازہ سے ختم ھو جائے گی

² کچھ لوگ کھڑے ہیں تو باقی کچھ بیٹھ جائیں کہ مشابہت جنازہ ختم ھو جائے گی

9 مذکورہ محمل پر کتب مخالفین سے دلائل

نمبر 8 ًمیں جو اس ممانعت و کراہت کو ختم کرنے کے محمل بندہ نے بیان کیے ہیں اسی کو مخالفین کے مفتیان و علماء نے بھی اپنی کتب میں درج کیا ھے چند ایک حوالہ جات پیش خدمت ہیں

¹ شمس الحق افغانی لکھتے ہیں

مفتی کفایت اللہ دیوبندی نے تطبیق یوں دی ھے کہ دعا قبل کسر الصفوف یعنی صفیں توڑنے سے پہلے منع ھے اور بعد کسر الصفوف جائز ھے میرے نزدیک یہ تطبیق درست ھے

(الکلام الموزون ص91)

² مفتی فرید الدین دیوبندی لکھتے ہیں

سوال: نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا ممنوع ہے یا مشروع ؟

الجواب: صفوف میں کھڑے ہوکردعا کرنا ممنوع ہے اور صفوف شکستہ کرنے کے بعد مشروع ہے اکثر فقہاء اور مفسرین نے دلیل ذکر نہیں کیاہے لا یدعوا قائما اور لا یقوم بالدعا کہا ہے ۔ اور بعض نے تکرار جنازہ سے تعبیر کیا ہے۔اور بعض نے زیادت علی الجنازۃ سے تعلیل کیاہے ۔اور یہ منکرات اس وقت لازم ہوتے ہیں جبکہ قیام کی حالت میں دعاکی جائے اور جب شکستگی صفوف کے بعد ہو یا بیٹھنے کے بعد ہو تو کوئی منکر لازم نہیں آتا ہے۔البتہ اس سے حدیث میں نہی وارد نہیں ہے ۔ تو یہ مباح ہوگا نہ کہ مسنون

(فتاوی دیوبند پاکستان المعروف فتاوی فریدیہ جلد 1 ص298)

³ یہی مفتی فرید دیوبندی اسی فتوی میں دوسری جگہ کچھ یوں تطبیق دیتے ہیں

جنازہ کے بعد کسر الصفوف سے پہلے دعا کرنا مکروہ ہے اور بعد کسر الصفوف دعا کرنا جائز ہے، البتہ دعا قبل السلام پر اکتفا کرنا تعامل سلف سے موافق ہے۔

پیغمبر علیہ السلام اور سلف صالحین سے اس دعا کے کرنے یا نہ کرنے کی متعلق ذخیرہ احادیث ساکت ہے، اس میں نہ دعا کرنے کی روایت موجود ہے اور نہ نہ کرنے کی متعلق، اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ پیغمبر علیہ السلام اور سلف صالحین نے یہ دعا نہیں کی ہے تو یہ پیغمبر علیہ السلام پر افتراء ہے۔ بہرحال دعا بذات خود عبادت اور مغز عبادت ہے لیکن یہ خاص دعا نہ مطلوب ہے اور نہ ممنوع بلکہ مباح ہے کیونکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے، کما صرح بہ ابن الہمام وغیرہ ویؤیدہ ما رواہ ابوداؤد ان ماسکت عنہ فہو عفو(سنن ابی داؤد ۲:۱۸۳ باب مالم یذکر تحریمہ)

(فتاوی فریدیہ جلد 3 ص170)

10- مخالفین سے چند سوالات

سوال 1

بدعت کی ایسی جامع مانع تریف کیجیے جس پر مخالف کے تمام اکابرین متفق ھوں

سوال 2

دعا بعد الجنازہ کو جو تم ناجائز کہتے ھو تو ناجائز سے کون سا ناجائز مراد ھے حرام، مکروہ، اساءت یا کچھ اور

سوال 3

دلائل مطلقہ عامہ سے استدلال کے اگر منکر ھو تو تمہارے اصول پر

اگر زید اقیموا الصلوۃ کا انکار کرتے ھوئے یہ کہے کہ اس امر سے مجھ پر نماز فرض نہیں ھوتی کیونکہ یہ دلیل مطلق و عام ھے اور میں فرد خاص ھوں لہذا میرے لیے کوئی مستقل اور خاص دلیل لاؤ

تو اپنے اصول پر رہتے ھوئے اسکو کیا جواب دو گے

سوال 4

اگر کوئی جنازہ کے بعد دعا کو دلائل عامہ و مطلقہ کی وجہ سے جائز کہے تو اس پر کیا شرعی حکم ھوگا

سوال 5

آپ کے ہی اکابرین نے جو تطبیق دی ھے قبل کسر الصفوف اور بعد کسر الصفوف ان پر کیا حکم لگے گا

مآخذ. و مراجع

الحجج القاطعہ فی رد البراھین القاطعہ سجاد علی علی فیضی

دعا بعد نماز جنازہ کا تحقیقی ثبوت سعید اللہ خان

دعا بعد جنازہ کا ثبوت قاری محمد طیب

ادلہ اہل سنت سید یوسف ہاشم رفاعی

احسن الوعا ذیل المدعا امام احمد رضا خان بریلوی

قواعد فقہیہ مع فوائد رضویہ مولانا لیاقت علی رضوی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment