مولانا جلال الدین رومی اقوال

Rate this post

30 ستمبر – یومِ مولانا رومی (فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر)30 ستمبر کو ایران میں مولانا محمد جلال الدین بلخی المعروف مولانا رومی کا دن منایا جاتا ہے۔

مولانا رومی کی ولادت

مولانا رومی کی ولادت 30 ستمبر 1207ء کو بلخ (افغانستان) میں ہوئی۔

مولانا رومی کون؟

مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علما میں سے تھے۔ آپ فقہ اور مذہب کے بہت بڑے عالم تھے۔لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔

مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انہیں اپنے پاس بلوایا، مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے۔

وہ تقریباً 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے اور بعد میں وہیں ان کی ملاقات اپنے پیر و مرشد شمس تبریزی سے ہوئی۔ جلال الدین رومی نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھی ہیں۔

مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز ان کی معروف کتب ہے ہیں۔ آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں۔

مولانا رومی وفات

ان کی وفات 17 دسمبر 1273ء کو 66 سال کی عمر میں قونیہ (ترکی) میں ہوئی اور ان کا مزار بھی وہیں ہے۔

مولانا جلال الدین رومی اقوال

اشعار مولانا رومی

مولائے روم رحمہ اللہ، جو عشق کی مستی سے لبریز تھے فرماتے ہیں:۔

  اے خداوند یکے یار جفاکارش دہ

  دلبر عشوہ گر سرکش خونخوارش دہ

  چند روزے جہت تجربہ بیمارش کن

  با طبیبان دغا پیشہ سروکارش دہ

  تا بداند کہ شب ما بچساں می گذرد

  درد عشقش دہ و عشقش دہ بسیارش دہ

مفہوم۔۔۔

          جس طرح عاشق کے دل میں زیادہ ہجر و فراق کی وجہ سے یہ خیال آجاتا ہے کہ معشوق کو یوں ہماری بیتابی اور جگر سوزی کی قدر نہ ہوگی جب تک وہ خود بھی کسی پر عاشق نہ ہوجائے اور اس کو خود ایسے معاملات پیش نہ آئیں، اسی طرح رومی کے دل سے بھی یہ چیخ نکل گئی اور یوں پکار اٹھے:

     اے میرے مولا، میرے محبوب کو ایک جفاکار محبوب دے۔ ایسا معشوقانہ اداؤں سے لبریز ہو کہ میرے محبوب کے دل کا خون پئے۔

   تاکہ میرے محبوب کو محبت کا تجربہ ہو جائے چند لمحوں کے لئے میرے محبوب کا عشق کا مرض دے اور اس کا ایسے فریبی طبیب(محبوب) سے واسطہ ہو جو اس کی بیماری کی آگ کو مزید بھڑکائے۔

    تاکہ میرے محبوب کو مجھ پر گزرنے والی دردناک راتوں کا پتا چلے، اے میرے مولا میرے محبوب کا عشق کا درد دے اور اس کو عشق دے اور بہت زیادہ عشق دے۔

  واللہ کہ شہر بے تو مرا حبس می شود

آوارگی و کوہ و بیابانم آرزواست

            جس طرح ایک عاشق کے دل میں محبوب کی جدائی کے شکوے ہوتے ہیں اس طرح رومی بھی اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر چلا اٹھے اور کہنے لگے

     اے میرے محبوب اللہ کی قسم تیرے بغیر شہر میں میرا دم گھٹ رہا ہے۔ مجھ پر اپنا شہر قید کی طرح بن گیا ہے۔ اس لئے میرے دل میں پہاڑوں اور صحراؤں میں آوارگی کی تمنا پیدا ہو گئی ہے۔ 😭😭

               دیوان شمس تبریزی

چوں شدی دور از حضور اولیاء

در حقیقت گشتہ دور از خدا

             جب تو اولیاءاللہ کی حاضری، ان کی صحبت سے دور ہو گیا حقیقتا تو خدا سے دور ہو گیا۔

                  مثنوی رومی، دفتر دوم(مولائے روم)

مقامش عبدہ آمد و لیکن

جہان شوق را پروردگار است

                       علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ

          علامہ کا مطالعہ اتنا وسیع تھا کہ آپ کو مشرقی اور مغربی دونوں علوم میں مہارت حاصل تھی۔ پھر علم کو جب روحانیت کا سہارا مل جائے تو رومی اور اقبال جیسی شخصیات پیدا ہوجاتی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ قرآن عظیم الشان میں آپ کا مقام خاص بندہ کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ بظاہر آقائے دوجہاں صلی اللہُ علیہ و سلم اللہ کے خاص بندے ہیں لیکن درحقیقت آپ عشق و مستی کی دنیا کے ہروردگار ہیں۔ یعنی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کے بغیر بندہ مقصد حقیقی تک نہیں پہنچ سکتا۔

مولانا جلال الدین رومی اقوال

                                         زکوڑی

مولانا رومی تعلق کی تشریح

مولانا رومی نے “تعلق” کی خوبصورت تشریح

بارش کے قطرے سے کی ہے کہ اگر یہ

صاف ہاتھوں پر گرے تو پینے کے قابل ہے

گٹر میں گرے تو پاوں دھونے کے بھی قابل نہیں

گرم سطح پر گرے تو بخارات بن کر غائب

کنول کے پتے پر گرے تو موتی کی طرح چمکے گا

سیپی کے اندر گرے تو موتی بن جاتا ہے

قطرہ وہی ہے فرق صرف یہ ہے کہ

اس کا “تعلق ” کس سے رہا

ہمیشہ تعلق ان لوگوں سے قائم کریں

جو دل کے اچھے ہوں تعلق میں سچے ہوں۔

مولانا رومی کے اقوال

پھول بادل کے گرجنے سے نہیں بادل کے برسنے سے اگتے ہیں لہذا اپنی آواز کے بجائے اپنے دلائل کو ہمیشہ بلند کیجئیے۔

          مثنوی رومی

کل رات شیخ ہاتھ میں چراغ لیے شہر میں گھومتا رہا، “میں درندوں اور شیطانوں سے تنگ ہوں، مجھے انسان کی تلاش ہے”

– رومی

(صاحب اختیار) .. ایک ہزار قابل انسان مرجانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتناایک “احمق” کےصاحب اختیار ہوجانے سے ہوتا ھے …{مولانا جلال الدین رومیؒ}

لب وا ہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں

کتنے مزے کی بھیک تیرے پاک در کی ہے

لب وا یعنی پوشیدہ گفتگو وہ التجا جو قلب سے کی جاۓ۔ وہ نور خدا جلوہ کبریا وہ نور مکین لامکاں ظاہر جن سے کل جہاں، جہان بھی کیوں کہوں اسکی کیا حثیت ہے بلکہ عشق و محبت کے امام کی بات کہوں

                    مَظْہَرِ حق ہو تمہیں مُظْہِرِ حق ہو تمہیں

                  تم میں ہے ظاہر خدا تم پہ کروڑوں درود

یا رسول اللہ یا حبیب اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب “حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ابو ہریرہ دیوانہ ہو گیا ہے کہتا ہے کہ میں نے رب کو مدینے کی گلیوں میں چلتے دیکھا ہے”

دیوانے تو پھر دیوانے ہوتے ہیں ممکن ہے کہ یہاں بھی ع کو غ دیکھنے والے آ جائیں مگر پیر رومی بھی رہنمائی کر گئے

مصطفئ آئینہ روئے خداست منعکس دروئے ہمہ خوئے خداست

آئینہ میں صورت محب ہی تو جلوہ گر ہے کیا ہوا جو اس جلوے کی جھلک ابوہریرہ نے دیکھ لی۔ اے اللہ میری نسبت بھی اس نور ازل سے تا ابد سلامت رکھنا۔ آمین

مولانا رومی سے پانچ سوالات

ایک شخص نے مولانا رومی سے چند سوالات پوچھے جن کے انہوں نے بہت خوبصورت مختصر اور جامع جوابات عطا فرمائے جو بالترتیب پیشِ خدمت ہیں:

1- زہر کسے کہتے ہیں؟

ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زائد ہو، وہ ہمارے لئے زہر ہے خواہ وہ قوت و اقتدار ہو، دولت ہو، بھوک ہو،انانیت ہو، لالچ ہو، سستی و کاہلی ہو، محبت ہو، عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو۔

2- خوف کس شئے کا نام ہے؟

غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک ایڈونچر ایک مہم جوئی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

3- حسد کسے کہتے ہیں؟

دوسروں میں خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر ہم اس خوبی کو تسلیم کرلیں تو یہ رشک اور انسپریشن بن کر ہمارے لئے ایک مہمیز کا کام انجام دیتی ہے۔

4- غصہ کس بلا کا نام ہے؟

جو امور ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر ہم تسلیم کرلیں تو عفو درگزر اور تحمل اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔

5- نفرت کسے کہتے ہیں ؟

کسی شخص کو جیسا کہ وہ ہے، تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اسے تسلیم کرلیں قبول کرلیں، تو اسے محبت کہیں گے۔

مولانا رومی کے واقعات

ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽؒ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ!

”ﺍﯾﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺯﺑﺎﻥ ﺁﺩﻣﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﺯﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﮮ ﺩﺍﺭ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﻬﺎ،

ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﮔﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺭﮐﻬﺘﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺍﭼﻬﺎ ﺧﺎﺻﺎ ﺩﺭﺯﯼ ﻧﺎﻣﮧ ﻣﺮﺗﺐ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﺗﻬﺎ..!!

ﺟﺐ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺩﺭﺯﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮔﺎﮨﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﭙﮍﺍ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﻗﺼﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﮯ، تب ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮏ ﺧﻄﺎ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺗﺮﮎ ﺟﺴﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﻧﺶ ﻭ ﺫﮨﺎﻧﺖ ﭘﺮ ﺑﮍﺍ ﻧﺎﺯ ﺗﻬﺎ، ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ! ”ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮔﺮﻭ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﮨﮯ..!“

ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﮔﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ! ”ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮨﺮ ﻓﻦ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﮔﻠﯽ ﮐﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ! ﭘﻮﺭﺵ ﻧﺎﻣﯽ ﺩﺭﺯﯼ ﺑﮍﺍ ﻓﻨﮑﺎﺭ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﭨﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﺍ ﺗﻮ ﮐﭙﮍﺍ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺎﺟﻞ ﺗﮏ ﭼﺮﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﻟﮕﻨﮯ ﺩﮮ..!!“

ﺗﺮﮎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ! ”ﻟﮕﺎ ﻟﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺷﺮﻁ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﭙﮍﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﻬﻮﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻫﻮﻝ ﭘﻬﻮﻧﮏ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﺍ ﭼﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﯿﺎﮞ! ﮐﭙﮍﺍ ﺗﻮ ﺩﺭﮐﻨﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭ ﺑﻬﯽ ﻏﺎﺋﺐ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﮔﺎ..!!“

ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ..!!

”ﺍﺭﮮ ﺑﻬﺎﺋﯽ! زﯾﺎﺩﮦ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺁ، ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﻬﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﺭﺯﯼ ﺳﮯ ﭼﻮﭦ ﮐﻬﺎﮔﺌﮯ، ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺧﺮﺩ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺟﺎ، ﺩﻫﻮﮐﺎ ﮐﻬﺎﺋﮯ ﮔﺎ..!!“

ﻣﺤﻔﻞ ﺑﺮﺧﺎﺳﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺮﮎ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻬﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﺳﯽ ﭘﯿﭻ ﻭ ﺗﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻓﮑﺮ ﻭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮔذﺍﺭﯼ، ﺻﺒﺢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻃﻠﺲ ﮐﺎ ﮐﭙﮍﺍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺵ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﻬﺘﺎ ﭘﻮﭼﻬﺘﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ..!!

ﺩﺭﺯﯼ ﺍﺱ ﺗﺮﮎ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮐﺮ ﺗﺴﻠﯿﻤﺎﺕ ﺑﺠﺎ ﻻﯾﺎ، ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﻭ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﻭ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﺮﮎ ﺑﮯﺣﺪ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ اور ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺗﻮ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﯿﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺩﻏﺎﺑﺎﺯ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﻟﻮﮒ ﺑﻬﯽ ﺧﻮﺍﮦ ﻣﺨﻮﺍﮦ ﺭﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﺎﮌ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ اور ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻃﻠﺲ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺩﻫﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ! “ﺍﺱ ﺍﻃﻠﺲ ﮐﯽ ﻗﺒﺎ ﻣﺠﻬﮯ ﺳﯽ ﺩﯾﮟ۔“

ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ! “ﺣﻀﻮﺭ ﻗﺒﺎ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﯿﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺯﯾﺐ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﯾﮑﻬﮯ ﮔﯽ..!!“

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﺍ ﮔﺰ ﺳﮯ ﻧﺎﭘﺎ ﭘﻬﺮ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺑﺠﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﺸﺎﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ اور ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺩﻫﺮ ﺍﺩﻫﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﻟﻄﻒ ﻗﺼﮯ ﭼﻬﯿﮍ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﮨﻨﺴﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮎ ﮐﻮ ﺑﮯﺣﺪ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ..!!

ﺟﺐ ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺩﯾﮑﻬﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﺰﺍﺣﯿﮧ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺗﺮﮎ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﻨﺪﻫﯽ ﭼﻨﺪﻫﯽ ﺁﻧﮑﻬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻬﯽ ﻣﭻ ﮔﺌﯿﮟ، ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﺟﻬﭧ ﭘﭧ ﮐﭙﮍﺍ ﮐﺎﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﻥ ﺗﻠﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﺑﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺎ، ﻏﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﻟﻄﻒ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﺮﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮎ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﻮﯼ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﻬﺎ..!!

ﮐﺪﻫﺮ ﮐﯽ ﺍﻃﻠﺲ..!!

ﮐﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺷﺮﻁ..!!

ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺗﺮﮎ ﺩﺭﺯﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﻣﺰﯾﺪﺍﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﺎٶ..!

ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﭘﻬﺮ ﭼﺮﺏ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﯿﺎ، ﺗﺮﮎ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﻨﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﻬﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ..!!

ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺭﺧﺼﺖ..!!

ﻋﻘﻞ ﻭ ﺧﺮﺩ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ..!!

ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﭘﻬﺮ ﮐﭙﮍﺍ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺭﺍﻥ ﺗﻠﮯ ﺩﺑﺎ ﻟﯿﺎ..!!

ﺗﺮﮎ ﻧﮯ ﭼﻮﺗﻬﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺣﯿﺎ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ! ”ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺍﮔﺮ ﮨﻨﺴﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺒﺎ ﺗﻨﮓ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ..!!“

ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽؒ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ!

ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﺗﻬﺎ..!!

ﺩﻏﺎﺑﺎﺯ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮﻥ ﺗﻬﺎ..!!

ﺍﻃﻠﺲ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺴﻨﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ..!!

ﻗﯿﻨﭽﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ..!!

تو ﺳﻨﻮ!

ﻭﮦ ﻏﺎﻓﻞ ﺗُﺮﮎ ﺗﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ، ﺟﺴﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺧﺮﺩ ﭘﺮ ﺑﮍﻫﺎ ﺑﻬﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﻋﯿﺎﺭ ﺩﻫﻮﮐﮧ ﺑﺎﺯ ﺩﺭﺯﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎﺋﮯ ﻓﺎﻧﯽ ﮨﮯ، ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﻔﺴﺎﻧﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮨﯿﮟ، ﺗﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮِ ﺍﻃﻠﺲ ﭘﺮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﯽ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﻟﮕﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺗﯿﺮﯼ ﻏﻔﻠﺖ ﮨﮯ، ﺍﻃﻠﺲ ﮐﯽ ﻗﺒﺎ ﺗﺠﻬﮯ ﺑﻬﻼﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﻠﻮﺍﻧﯽ ﺗﻬﯽ اور ﻭﮦ ﻓﻀﻮﻝ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﻭﺭ ﻗﮩﻘﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺎﮦ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﮔﺌﯽ..!!

ﺍﮮ ﻋﺰﯾﺰ!

ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮ، ﻇﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﭼﻬﻮﮌ، ﺑﺎﻃﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﺮ، ﺗﯿﺮﯼ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺍﻃﻠﺲ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻣﮑﺎﺭ ﺩﺭﺯﯼ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﭼﺮﺍﺋﮯ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﮯ..!!

(حکایات رومی)👉

عشق ⁦مولانا رومی اور

مولانا رومیؒ بازار سے گزر رہے تھے، مولانا صاحب کے سامنے کریانے کی ایک دکان تھی

ایک درمیانی عمر کی خاتون دکان پر کھڑی تھی اور دکاندار وارفتگی کے عالم میں اس خاتون کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

وہ جس چیز کی طرف اشارہ کرتی دکاندار ہاتھ سے اس بوری سے وہ چیز نکالنے لگتا اور اس وقت تک وہ چیز تھیلے میں ڈالتا جاتا جب تک خاتون کی انگلی کسی دوسری بوری کی طرف نہیں جاتی اور دکاندار دوسری بوری سے بھی اندھا دھند چیز نکال کر تھیلے میں ڈالنے لگتا۔۔۔

یہ عجیب منظر تھا دکاندار وارفتگی کے ساتھ گاہک کو دیکھ رہا تھا اور گاہک انگلی کے اشارے سے دکاندار کو پوری دکان میں گھما رہا تھا اور دکاندار اٰلہ دین کے جن کی طرح چپ چاپ اس کے حکم پر عمل کر رہا تھا۔۔۔

خاتون نے آخر میں لمبی سانس لی اور دکاندار کو حکم دیا “چلو بس کرو آج کی خریداری مکمل ہو گئی۔۔۔۔”

دکاندار نے چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کے منہ بند کئے یہ تھیلیاں بڑی بوری میں ڈالیں بوری کندھے پر رکھی اور خاتون سے بولا “چلو زبیدہ میں سامان تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔”

خاتون نے نخوت سے گردن ہلائی اور پوچھا “کتنا حساب ہوا۔۔۔۔؟”

دکاندار نے جواب دیا “زبیدہ عشق میں حساب نہیں ہوتا۔۔۔۔”

خاتون نے غصے سے اس کی طرف دیکھا واپس مڑی اور گھر کی طرف چل پڑی دکاندار بھی بوری اٹھا کر چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا۔

مولانا صاحب یہ منظر دیکھ رہے تھے دکاندار خاتون کے ساتھ چلا گیا تو مولانا صاحب دکان کے تھڑے پر بیٹھ گئے اور شاگرد گلی میں کھڑے ہو گئے ۔۔۔ دکاندار تھوڑی دیر بعد واپس آگیا، مولانا صاحب نے دکاندار کو قریب بلایا اور پوچھا “یہ خاتون کون تھی۔۔۔۔؟”

دکاندار نے ادب سے ہاتھ چومے اور بولا “جناب یہ فلاں امیر خاندان کی نوکرانی ہے۔”

مولانا صاحب نے پوچھا “تم نے اسے بغیر تولے سامان باندھ دیا پھر اس سے رقم بھی نہیں لی کیوں۔۔؟”

دکاندار نے عرض کیا “مولانا صاحب میں اس کا عاشق ہوں اور انسان جب کسی کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے تو پھر اس سے حساب نہیں کر سکتا”

دکاندار کی یہ بات سیدھی مولانا صاحب کے دل پر لگی ۔۔۔ وہ چکرائے اور بیہوش ہو کر گر پڑے، شاگرد دوڑے مولانا صاحب کو اٹھایا ان کے چہرے پر عرقِ گلاب چھڑکا، ان کی ہتھیلیاں اور پاؤں رگڑے مولانا صاحب نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھولیں۔

دکاندار گھبرایا ہوا تھا وہ مولانا صاحب پر جھکا اور ادب سے عرض کیا “جناب اگر مجھ سے غلطی ہو گئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔۔۔”

مولانا صاحب نے فرمایا “تم میرے محسن ہو میرے مرشد ہو کیونکہ تم نے آج مجھے زندگی میں عشق کا سب سے بڑا سبق دیا”

دکاندار نے حیرت سے پوچھا “جناب وہ کیسے۔۔۔؟”

مولانا صاحب نے فرمایا “میں نے جانا تم ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر حساب سے بیگانے ہو جبکہ میں اللہ کی تسبیح بھی گن گن کر کرتا ہوں، نفل بھی گن کر پڑھتا ہوں اور قرآن مجید کی تلاوت بھی اوراق گن کر کرتا ہوں، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالٰی سے عشق کا دعوٰی کرتا ہوں تم کتنے سچے اور میں کس قدر جھوٹا عاشق ہوں۔”

مولانا صاحب وہاں سے اٹھے ۔۔۔ اپنی درگاہ پر واپس آئے اور اپنے استاد حضرت شمس تبریز کے ساتھ مل کر عشق کے چالیس اصول لکھے۔ ان اصولوں میں ایک اصول “بے حساب اطاعت” بھی تھا۔

یہ مولانا صاحب مولانا روم تھے، اور یہ پوری زندگی اپنے شاگردوں کو بتاتے رہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں نعمتیں دیتے ہوئے حساب نہیں کیا، چنانچہ تم بھی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے حساب نہ کیا کرو اپنی ہر سانس کی تار اللہ کے شکر سے جوڑ دو اس کا ذکر کرتے وقت کبھی حساب نہ کرو یہ بھی تم سے حساب نہیں مانگے گا اور یہ کُل عشقِ الٰہی ہے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment