مناظر اسلام جگر گوشہ فقیہ العصر مولانا سعید احمد اسعد صاحب کی حیات و خدمات

Rate this post

کون سعید احمد اسعد جو فقیہ العصر مفتی محمد امین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کا فخر تھے

 “”جن کے بارے قبلہ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کل قیامت کے دن اگر اللہ رب العزت نے مجھ سے پوچھا کیا لے کر آئے ہو

تو میں” سعید احمد اسعد “کو پیش کر دوں گا “””

کون سعید احمد اسعد

جن کو گھٹی حضرتِ سیدی محدث اعظم پاکستان ابو الفضل مولانا محمد سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے دی…..۔

کون سعید احمد اسعد!

جن کانام حضرتِ محدث اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ نے “محمد سعید احمد اسعد “رکھا …..

کون سعید احمد اسعد !

جن کے بارے میں حضرتِ محدث اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ نے قبلہ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ “تمھارا یہ بیٹا مناظر اسلام بنے گا.”….

کون سعید احمد اسعد !

جن کے نام کی کنیت حضرتِ محدث اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ نے قبلہ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو عطا فرمائی”ابوسعید”

کون سعید احمد اسعد!

جن پر حضور خواجہ عالم قاضی محمد صادق نقشبندی مجددی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر کرم تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

کون سعید احمد اسعد!

جن کے بیانات خود خواجہ عالم قاضی محمد صادق نقشبندی مجددی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ سنتے اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازتے…..۔

کون سعید احمد اسعد!

جن کے پیچھے قبلہ مائی صاحبہ رحمۃ اللہ علیہا کی دعائیں تھی…..۔

کون سعید احمد اسعد!

جو فیض سلطانیہ مجددیہ نقشبندیہ سے معمور …..۔ تھے

مولانا سعید احمد اسعد صاحب

کون سعید احمد اسعد!

جن کے بارے میں فقیہ العصر قبلہ مفتی محمد امین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے متوسلین کی ذمہ داری ان پر ہے

کون سعید احمد اسعد!

جو فقیہ العصر قبلہ مفتی محمد امین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے خلیفہ

کون سعید احمد اسعد!

جو نہ صرف فیضان امینیہ کے امین بلکہ قاسم فیضانِ امینیہ ٹھہرے

کون سعید احمد اسعد!

جو پیر طریقت بھی اور رہبر شریعت بھی …….

کون سعید احمد اسعد!

جو شیخ القرآن بھی اور شیخ الحدیث بھی ……

کون سعید احمد اسعد!

جو نہ صرف مناظر بلکہ امام المناظرین ٹھہرے……..

کون سعید احمد اسعد!

جو بیک وقت فاتح نجدیت , فاتح رافضیت ،فاتح قادیانیت،اور ملحدین کا قلع قمع کرنے والے……..

کون سعید احمد اسعد!

جن کو سمجھنے کیلیے بہترین عالم ہونا ضروری…….

کون سعید احمد اسعد!

جو حق پر ڈٹنے والا اور کسی سے نہ ڈرنے والا

کون سعید احمد اسعد!

جو محبت والے تھے, اخلاق والے تھے

ایسے تھے ھمارے اسلاف

مزید پڑھیں

مولانا جلال الدین رومی اقوال

مولانا سعید احمد اسعد صاحب کی خدمات

مناظر اسلام علامہ سعید احمد اسعد صاحب نور اللہ مرقدہ کے جامعہ میں ھمارے علاقے کے جید نامور علماء زیر تعلیم رھے

آپکے خصوصیات سے یہ بات تھی کہ آپ اپنے جامعہ میں سب سے قابل مدرس کو رکھتے ۔

ایک وقت میں آپ نے غلام محمد تونسوی رحمہ اللہ تعالیٰ مولانا منظور احمد صاحب جنڈانوالہ اور دیگر کئی اہم شیوخ کو اپنے جامعہ میں تدریس پر بٹھایا۔

ھمارے علاقے کے مشہور عالم دین مفتی حسین علی مفتی نذیر خان آپکے جامعہ کے مسند تدریس پر کافی عرصہ فائز رھے۔

ھمارے علاقے کے کئی نامور علماء جو اس وقت مختلف شعبوں میں دین متین کی خدمت میں مصروف ھیں آپکے جامعہ سے اکتساب فیض کیا۔

جن میں مفتی مشتاق صاحب مولانا اسمعیل خان مفتی ڈاکٹر قسمت علی خان صاحب مولانا مفتی حفیظ اللہ صابری مفتی محمد علی قادری مولانا شفیق رضوی صاحب مولانا حامد حسن چشتی اور بھی کئی نام ھے

راقم الحروف کو یاد ھے کہ مناظر اسلام کو طلباء سے بے حد محبت تھی مجھے یاد ھےکی مدرسے کے صحن میں ظہر کے بعد تکرار کا وقت تھا

اصول الشاشی کا تکرار ھو رہا تھا کہ آپکا قریب سے گزر ھوا آپ نے راقم الحروف کو بلایا اور فرمایا بیٹا تکرار میں سوال پیدا کیا کرو

اور مناظرانہ طرز اختیار کیا کرو

ھمارےعلاقہ بدھ میں آپ مناظرہ کرنے کیلئے تشریف لائے مخالف فریق اس وقت مناظرہ کرنے سے پہلے راہ فرار اختیار کر گیا۔

صبح کے اسمبلی میں ایک دن تشریف لائے تو فرمایا طلباء کیا کھانا پسند کرینگے۔

رات کو تقریر سے واپسی پر مجھ پر ڈاکوؤں نے فائر کیا اللہ نے مجھے بچا لیا طلباء نے۔۔۔۔

جل فریضی۔۔۔نامی کھانے کا کہا تو آپ نے تمام طلباء کے لئے اس کا اہتمام کیا آپ سے اور آپکے جامعہ امینیہ شیخ کالونی سے یادیں بہت ساری وابستہ ھیں

تحریر طویل نہ ھو جائے اس پر اکتفاء کرتا ھوں اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ اپنی رحمتیں نصیب فرمائیں آمین ۔۔۔العبد الضعیف عارف اللہ رشیدی

💐امام المناظرین رحمہ اللہ کی تصنیفی خدمات 💐

          تصنیف و تالیف کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا ۔ آج وہی قومیں زندہ ہیں جن کا لٹریچر عام ہے ۔

جس قوم نے تحریر و تصنیف سے غفلت برتی وہ طاق نسیاں کی نذر ہو گئی ۔

       استاذ محترم ، جگر گوشہ فقیہ العصر ، فاتح مسالک باطلہ، شیخ القرآن و الحدیث ، مفسر قرآن ، امام المناظرین ، حضرت علامہ مولانا پروفیسر محمد سعید احمد اسعد رحمۃ اللہ علیہ لٹریچر کی اس اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے ۔

اسی لئے آپ نے درس و تدریس ، وعظ و تبلیغ کی جانگسل مصروفیات کے باوجود درجن سے زائد گراں قدر تصانیف و تالیفات کا تحفہ قوم کو عنایت فرمایا ۔

آپ کی ہر کتاب ہی اپنے موضوع پر لا جواب ہے ، کتب کے اسماء کی یہ خوبی ہے کہ کتاب کا عنوان و موضوع نام سے ہی ظاہر و باہر ہے ۔

      آپ نے جو تصانیف یادگار چھوڑیں ان کے اسماء اور اجمالی تعارف پیش خدمت ہے۔

1.)حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

       صفحات:118۔ تعداد:1100

  ناشر:مکتبہ سعیدیہ رضویہ (جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد۔

فائدہ: مسئلہ حیات النبی اور مسئلہ سماع موتی کے اثبات پر قرآن وحدیث ، ائمہ دین کی عبارات اور مخالفین کے اکابرین کے مستند حوالہ جات کی روشنی میں لکھی گئی

آپکی یہ کتاب اس مسئلہ پر لکھی جانے والی کتب میں اپنا علیحدہ مقام رکھتی ہے ۔۔۔۔

قبلہ استاذی امام المناظرین رحمۃ اللہ علیہ نے19اکتوبر2012کو اپنے دستخط سے سرفراز فرما کر یہ کتاب مجھے بطورِ تحفہ عنایت فرمائی ۔

2.)مسئلہ حاضر و ناظر ۔

        صفحات:80۔

ناشر: پاکستان سنی اتحاد (مرکزی دفتر:جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی جھنگ روڈ) فیصل آباد۔

فائدہ:کتاب کا عنوان نام سے ظاہر ہے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کتاب میں مسئلہ حاضر و ناظر کو انتہائی آسان فہم انداز میں لکھا ہے۔

یہ مختصر ضرور ہے مگر دلائل کے اعتبار سے جامع ہے ۔اس کتاب کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ پڑھنے والے کو ایک بار مطالعہ سے ہی اس مسئلہ میں تفہیم میسر آ جاتی ہے ۔

راقم نے اس موضوع پر لکھی گئی چھوٹی بڑی چار پانچ کتابیں مطالعہ کیں مگر مسئلہ انشراح صدر کی حد تک سمجھنے سے قاصر رہا ۔

ایک ملاقات میں استاذی امام المناظرین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی یہ تصنیف عطاء فرمائی

ناچیز نے ایک ہی نشست میں پڑھ لی ،پڑھنے کے بعد چہرے پر مسکراہٹ اور زبان پر سبحان اللہ ،ماشاء اللہ کا ورد جاری تھا ۔

اگلی ملاقات میں(جو چند روز بعد ہی ہوئی) قبلہ استاذ محترم کی بارگاہ میں عرض کیا

       “استاذ جی!جو مسئلہ چار ،پانچ کتابیں پڑھنے سے حل نہیں ہوا آپ کی اس مختصر کتاب کے مطالعہ سے انشراح صدر کی حد تک حل ہو گیا الحمدللہ ۔”

        میری اس گزارش پہ مسکرا کر فرمانے لگے:”میری اس تصنیف کو پڑھنے کے بعد خطیبِ پاکستان ،علامہ محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فرمایا تھا

تم مسئلہ حاضر و ناظر بیان کرنے اور اسے سمجھانے میں مجدد کی حیثیت رکھتے ہو “

اس بات کے گواہ قاری کامران علی اسعد امینی حفظہ اللہ بھی ہیں ۔

3.) اختیارات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

         صفحات:51

ناشر:مکتبہ سعیدیہ رضویہ (جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد ۔

فائدہ: کتاب کا موضوع نام سے ہی واضح ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تشریعی اختیارات اور مختار کل ہونے کا مسئلہ متعدد آیات طیبات ،احادیث مبارکہ اور ائمہ و محدثین کے اقوال کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے ۔

تجربہ سے ثابت ہے کہ اس تحریر کے ابتدائی دو تین صفحات کا مطالعہ ہی”مسئلہ مختار کل”کی تفہیم میں بہت کار آمد ہے ۔

4.)تبرکات کی اہمیت ۔

         صفحات:58

ناشر: مکتبہ سعیدیہ رضویہ (جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد ۔

فائدہ: انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کرام رضی اللہ عنھم سے منسوب چیزیں بڑی با برکت اور فیض رساں ہوتی ہیں ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے نصوص شرعیہ کی روشنی میں آثار رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،انبیاء کرام علیہم السلام اور صالحین عظام سے حصولِ برکت کا شرعی جواز دلائل قویہ سے ثابت کیا ہے ۔

5.)ایصال ثواب ۔

        صفحات:89۔ تعداد:1100

ناشر:سنی اتحاد (مرکزی دفتر جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد۔

فائدہ: امام المناظرین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب کے بارے یوں لکھا ہے

        “مسئلہ”ایصال ثواب “بھی آج کل چند متشدد حضرات نے متنازعہ بنا دیا ہے ۔

آئے دن مجالسِ ایصال ثواب پر بدعت کے فتوے جاری ہوتے رہتے ہیں اس لیے میں نے مناسب سمجھا کی اس مسئلہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کر دیا جائے

تاکہ مسلمان صراط مستقیم پر ہی قائم رہیں اور گمراہی سے بچیں”۔ (ایصال ثواب ،صفحہ:3)

6.)شرک اور اس کی حقیقت ۔

          صفحات:28

ناشر :مکتبہ سعیدیہ رضویہ (جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد ۔

فائدہ: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس تصنیف میں شرک کا معنیٰ قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان فرما کر ثابت کیا ہے

کہ جتنے خارجی الصفات لوگ اہل سنت و جماعت کو بات بات پہ مشرک قرار دیتے ہیں وہ باطل پر ہیں ۔

7.)بدعت اور اس کی حقیقت ۔

          صفحات:36

ناشر:مکتبہ سعیدیہ رضویہ (جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد ۔

نوٹ:اس تصنیف کا سندھی زبان میں ترجمہ “جناب غلام قادر درس”نے (3اگست1994کو مکمل) کیا

اور عظیم عالم دین مفتی عبد الرحیم سکندری (مہتمم جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ سندھ)کے اہتمام سے “بزمِ تقدس کراچی”سے کثیر تعداد میں شائع ہو کر اندرون سندھ میں مفت تقسیم ہوا ۔

فائدہ: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس تحریر میں بدعت کا صحیح مفہوم قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرما کر ثابت کیا ہے

کہ جو لوگ آج کل اہل سنت و جماعت کے معمولات کو بدعت قرار دے رہے ہیں ،وہ راہ حق سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔

8.)وہابیت و بریلویت ۔

           صفحات:229 تعداد:2200

ناشر: مکتبہ سعیدیہ رضویہ (جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد۔

اسی مکتبہ سے دوسرا ایڈیش 1100کی تعداد میں شائع ہوا.راقم کی “نور قصر عارفاں لائبریری”میں یہ دونوں ایڈیشن موجود ہیں ۔

فائدہ: امام المناظرین رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تصنیف غیر مقلد (وہابی) مولوی احسان الٰہی ظہیر کی رسوائے زمانہ کتاب”البریلویہ”کا جواب ہے۔

اس کتاب کو لکھنے کا مقصد آپ کی ہی تحریر سے ملاحظہ فرمائیں

           “چند سال قبل وہابی فرقہ کے ایک لیڈر احسان الٰہی ظہیر نے عرب ریاستوں سے مال بٹورنے کے لئے اور عامتہ المسلمین کو گمراہ کرنے کے لئے اہل سنت و جماعت کے خلاف ایک کتاب”البریلویہ”نام سے تحریر کی۔

جس میں اس نے جی بھر کر کذب و افتراء کا مظاہرہ کیا

جب یہ کتاب چھپ کر معرضِ وجود میں آئی تو حضرتِ مولانا عبد الحکیم شرف قادری مدظلہ نے اس کا جواب شائع کرایا

جس کا نام”اندھیرے سے اجالے تک”رکھا گیا۔لیکن آج کل پھر”وہابی فرقہ”کے سر کردہ حضرات نے”البریلویہ”کتاب کی شان میں قصائد پڑھنے شروع کئے ہیں

اور یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ ظہیر کی اس کتاب کا جواب ممکن ہی نہیں۔

حالانکہ علامہ شرف قادری اس کا جواب شائع کر چکے ہیں۔جس کا جواب الجواب وہابی فرقہ ابھی تک شائع نہ کر سکا ہے۔

میں نے بھی اس نیت سے البریلویہ کا جواب لکھنا شروع کیا ہے کہ محبوبان خدا کے لئے دفاع کرنے والوں میں میرا بھی نام شامل ہو جائے۔”

                          (وہابیت و بریلویت،پیش لفظ،صفحہ:5)

9.) تفسیر آیات من دون اللہ و ندائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

              صفحات:112

ناشر: مکتبہ سعیدیہ رضویہ (جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد ۔

فائدہ:اہل سنت و جماعت محبت و عقیدت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارتے ہیں اور کہتے ہیں “یارسول اللہ ،یاحبیب اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم”جس پر مخالفین فوراً شرک کا فتویٰ لگا دیتے ہیں

اور اس کے ساتھ ہی انبیاء کرام علیھم السلام اور اولیاء کرام سے استمداد اور ندا کی نفی پر دھڑا دھڑ وہ آیات پڑھنی شروع کر دیتے ہیں

جن میں لفظ “من دون اللہ”یا لفظ “من دونہ”ضرور آتا ہے ۔

           استاذ محترم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس تصنیف میں ان تمام آیات کی اکابر مفسرین اور خود مخالفین کے اکابر مفسرین کے مستند حوالہ جات کی روشنی میں تفسیر بیان فرما کر

یہ بات اظہر من الشمس کی ہے کہ ان آیات میں نبی ولی نہیں بلکہ بت مراد ہیں۔

اس کتاب میں انبیاء کرام علیھم السلام اور اولیاء کرام کو پکارنے پر قرآن وسنت ، اکابرین امت اور مخالفین کی کتب سے کثیر تعداد میں دلائل بھی ارقام فرمائے ہیں ۔

10.)طلاق ثلاثہ کا شرعی حکم ۔

                صفحات:25

ناشر:مکتبہ سلطانیہ (دارالعلوم امینیہ رضویہ) محمد پورہ شریف ،فیصل آباد ۔

فائدہ: امام المناظرین رحمۃ اللہ علیہ “دارالعلوم امینیہ رضویہ محمد پورہ شریف فیصل آباد”کے مفتی بھی رہے ۔

اسی دوران قاری افتخار احمد سلطانی صاحب (چک نمبر 14 کالرو تحصیل و ضلع چنیوٹ)کے پوچھے گئے سوال “کیا فرماتے ہیں

علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص بیک وقت اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو کتنی طلاقیں واقع ہوں گی

(تین یا ایک)

 قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی تفصیل وضاحت فرمائیں ۔”

کے جواب میں قرآن و حدیث کے دلائل سےبھر پور مفصّل فتویٰ تحریر فرمایا جس کے آخر میں “خلاصہ کلام”یوں تحریر فرمایا

           “براہین قاطعہ و دلائل باہرہ سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو یکدم تین طلاق دے تو تین ہی واقع ہوں گی ،ہرگز ہرگز صرف ایک طلاق واقع نہیں ہوتی”

دستخط کے بعد 9/5/1999تاریخ رقم ہے ۔

نوٹ: اس فتویٰ کے آخر میں فقیہ العصر حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی تصدیق بھی موجود ہے۔

11.)عربی مفردات ۔

            صفحات:32

ناشر: مکتبہ صبحِ نور (جامعہ ریاض العلوم مسجد خضراء) پیپلز کالونی نمبر 1فیصل آباد ۔

فائدہ:اس تصنیف کے متعلق مفکر اسلام حضرت علامہ محمد کریم سلطانی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں

” “عربی مفردات”عربی زبان سیکھنے کے لئے ایک مفید اور عام فہم کتاب ہے ۔

اسکے مرتب اسلامی تعلیمات و نظریات کے بیباک ترجمان حضرت مولانا محمد سعید احمد اسعد زید مجدہ ناظم اعلیٰ جامعہ امینیہ رضویہ فیصل آباد ہیں “

                                        (عربی مفردات ،صفحہ:2)

12.) صحابہ (رضی اللہ عنھم)کا نعرہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم).

               صفحات:8

نوٹ اس پر ناشر کا نام درج نہیں ہے ۔

13.) ختم نبوت ۔

       صفحات:8

ناشر:جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی جھنگ روڈ فیصل آباد ۔

14.) مرزائیت کا تعارف ۔

        صفحات:123۔ تعداد:1000

ناشر:جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی فیصل آباد ۔

نوٹ:یہ کتاب استاذی امام المناظرین رحمۃ اللہ علیہ کے افادات عالیہ پر مشتمل ہے

جسے برادری دینی محترمی ابو عبداللہ محمد زاہد سلطانی حفظہ اللہ نے حضرتِ علامہ مولانا عبد المجید عطاری امینی (شاگرد رشید امام المناظرین)کے خصوصی تعاون سے مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔

15.) تفسیر نور الامین ۔

         صفحات:168۔ تعداد:1100

اشاعت اول 12جون2021/یکم ذی القعدہ 1442

ناشر: تحریک تبلیغ الاسلام ( انٹر نیشنل)11فلور،بی سی ٹاور ،54۔جناح کالونی ،فیصل آباد ۔

فائدہ:یہ صرف سورت فاتحہ شریف کی تفسیر ہے ۔جو اپنی مثال آپ ہے ۔

16.)تفسیر نور الامین (جلد اول)

         صفحات:834۔ تعداد:1100

ناشر:سنی اتحاد (مرکزی دفتر جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد ۔

فائدہ:اس جلد میں پہلے پارہ کی مفصّل اور جامع تفسیر موجود ہے ۔

16.) تفسیر نور الامین (جلد دوم)

       صفحات:890۔ تعداد:1100

ناشر:سنی اتحاد (مرکزی دفتر جامعہ امینیہ رضویہ شیخ کالونی) فیصل آباد ۔

فائدہ:اس جلد میں دوسرے پارہ کی ابتداء سے لے کر سورت آل عمران کے اختتام تک کی مفصّل اور جامع تفسیر موجود ہے۔

17.)روئیداد مناظرہ راولپنڈی ۔

           صفحات:16۔ (باریک خط میں)

ناشر:انجمن میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رجسٹرڈ)سانگلہ ہل ۔

نوٹ:بعد ازاں یہ روئیداد” سنی اتحاد”کے پلیٹ فارم سے بھی شائع ہوئی ۔

فائدہ:اس رسالہ میں امام المناظرین رحمۃ اللہ علیہ اور غیر مقلد (وہابی) مناظر پروفیسر طالب الرحمن کے مابین گیارہویں شریف کے موضوع پر (13جنوری 1994)میں ہونے والے معرکتہ الاراء مناظرہ کی روئیداد ہے ۔

امام المناظرین رحمہ اللّٰہ کی باتیں

(1.)ایک موقع پر نصیحتا فرمایا : “بیٹا ! شریعت کے احکام سب کے لئے یکساں ہیں”.

(2.)ایک موقع پہ فرمایا : ” اللہ کی رضا بہت بڑی چیز ہے “.

(3.) فرمایا : ” اللہ کی یاد میں رہو باقی سب چیزیں فانی ہیں ۔ ہم لوگ یاد تو کرتے ہیں لیکن صرف زبان سے ، اصل یاد یہ ہے کہ زبان اور دل دونوں ساتھ دیں ۔

جب”اللہ ” کہو زبان بھی ہل جائے اور دل بھی ہل جائے اور یہ جب ہی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ گناہوں سے بھی حفاظت ہو”.

(4۔) فرمایا : ” درس تسلیم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے سر ڈال دو ، اپنی رائے بالکل نہ رہے ۔ جو اللہ کو منظور ہے وہی ہم کو منظور ہے “.

(5.)فرمایا : ” مردہ آ کر کہے کہ میں نے سب گناہ چھوڑ دئیے تو کیا وہ متقی ہو جائے گا ؟

کیونکہ اس نے گناہ چھوڑے نہیں ہیں ، گناہ اس سے مجبوراً چھوٹ گئے ہیں

اور متقی وہ ہوتا ہے جو اپنے اختیار سے گناہوں کو چھوڑتا ہے ۔

تقوی نام سے “كف النفس عن الهوى” یعنی گناہوں کے تقاضوں کے باوجود گناہ نہ کرنا”.

(6.)ایک فرمایا کرتے تھے: ” پتر اسی عزت والے اس ویلے بناں گے جدوں بخشے گئے “.

(7.) محترم عاصم اکبر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور امام المناظرین رحمہ اللہ نے ایک ملاقات میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

” بیٹے ! اہلِ سنّت وہی ہے جو صحابہ کے دفاع میں کبھی بھی اہلِ بیت کے حوالے سے ہلکا جملہ نہ بولے اور اسی طرح شان اہلِ بیت بیان کرتے ہوئے کسی صحابی کی ذات کو نشانہ کبھی نہ بنائے”.

(8.)ایک صاحب کی بے جا تعریف پر سمجھاتے ہوئے فرمایا :

” پتر ! شخصیت پرستی توں ہمیشہ بچنا اے ، میرے سمیت چنگا مولوی اوہی اے جو عقیدہ حق بیان کردا دنیا توں چلا جائے ۔ زندہ بندے دا اعتبار نہیں”.

(9.) محترم عاصم اکبر صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ ایک پریشانی کے متعلق بات کرنے پہ آپ رحمہ اللّٰہ نے فرمایا :

“اللہ دی رضا وچ راضی رہن دا سب توں وڈا فائدہ اے وے کہ بندہ بہت ساریاں سوچاں توں بچ جاندا اے “.

(10۔) فرمایا : ابا جی (فقیہ العصر مفتی محمد امین صاحب رحمہ اللّٰہ) کے پاس ایک بندہ ادھار لینے آیا کہ میں نے قل شریف کا ختم دلانا ہے ۔ تو ابا جی علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا :

“اگر تم ناک رکھنے کے لئے ادہار لے کر ختم دلاؤ گے تو تمہیں گناہ ہو گا ثواب نہیں “.

(11.) فرمایا : ” زندگی کا نچوڑ یہی ہے کہ اصل علم

قرآن ہے “.

مولانا سعید احمد اسعد صاحب

✍️ابو الحسن محمد افضال حسین نقشبندی مجددی ۔

(٢٤/١٢/٢٠٢٣)

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment