معاشرے میں لوگوں کا کردار

Rate this post

معاشرے میں لوگوں کا کردار

میرسید شریف رحمہ اللہ میرایساغوجی کے خطبہ میں فرماتے ھیں کہ لوگ اخس ارذل کے تابع ھوگئے۔

یعنی معاشرہ میں جو جتنا زیادہ کمینہ اور رذیل ھوگا۔

لوگ اسکی عزت کرینگے

اور معزز لوگوں کو جیسے علماء کرام

اور طلباء کرام ھیں

انکو حقارت کی نظر سے دیکھیں گے۔

خیرآبادی

علم خشیت الہی کا نام ہے۔

حضرت امام مجاہد رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں۔

عالم وہ ہے

جو اللہ تعالی سے ڈرے اگرچہ اس کا علم قلیل ہو۔

جاھل وہ ہے

جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرے اگرچہ اس کا علم زیادہ ہو۔

البدایہ والنہایہ1/228

“مولوی”

واردات قلمی:

سیف اللہ خالد

یہ واحد کردار ہے جو ہر بے ایمان کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔

1)”دنیا چاند پر پہنچ گئی۔۔۔۔۔”،

یہ جملہ کھربوں کے ٹیکس ہضم کرنے والی یونیورسٹیز کو سنانے کے بجائے۔۔۔۔

 مولوی کے نام الزام بنایا جاتا ہے۔۔۔۔

 گویا راکٹ بنانا مولوی کی ذمہ داری تھی۔

کوئی نہیں ہوگا کہ سوال کرے کہ یونیورسٹی کے ‘پرویز’ نے پرواز کے لیے آج تک کیا کارنامہ کیا ہے؟؟؟

2)”یہ آج تک وضو سکھا رہے ہیں”،

 بندہ پوچھے کہ میتھ کا پروفیسر صدیوں بلکہ ہزاریوں سے….

 ‘دو جمع دو برابر چار’

 سکھا رہا ہے تو کیا وہ اپنا کام ٹھیک سے سکھانے کا مجرم ہوگیا؟

وضو بھی اور اعداد کی جمع تقسیم بھی۔۔۔

 ہمیشہ رہے گی ۔ ۔۔۔

بدلنے والا انسان کون ہوتا ہے بھائی؟

3)”اس کو نمازیں پڑھانے کے علاوہ اور کام ہی کیا ہے؟”

نماز کو ہلکا سمجھنے والوں کا اندرونی کفر ایسے باہر آتا ہے۔۔۔۔

 یہ کہتے کبھی نہیں دیکھا کہ۔۔۔۔

 “یہ مینیجر صاحب کا بینک سنبھالنے کے علاوہ کام ہی کیا ہے؟”

 کیونکہ بابو کے لیے پیسہ بہت وزنی چیز ہے نا۔

4)”نماز پڑھانے کے ساتھ کاروبار کیوں نہیں کر لیتا؟سائیکل پر گھومتا رہتا ہے۔”

بالکل کرے گا۔۔۔۔

اسے غریب رہنے کا شوق تھوڑی ہے لبرل بابو۔۔۔۔

 ذرا انویسٹمنٹ تو کرو خوشبو لگا کے!

لیکن تم پیسہ مولوی پر کیوں لگاؤ گے؟

مال لگانے کے لیے تمھارے پاس سرمایہ دار بہت!

اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسے پراڈو گفٹ کردو منع کس نے کیا ہے؟

5)”سادگی کا درس دیتا ہے اور شاپنگ مال میں دوکانیں ہیں”،

اس ذہنی پیچش کا کوئی علاج نہیں۔۔۔۔۔

 سادگی ایک مزاج ہے اور کاروبار یا پراپرٹی بنانا ایک پیشہ۔۔۔۔

 اگر ایسا ہی حرام کام لگتا ہے تو داماد میں یہ سارے ‘حرام’ حلال کیسے کر لیتے ہو؟

اور بیٹے کو اپنی کمائی سے ‘حرام’ بنا کر دیتے ہو؟

6)”پراڈو میں آتا جاتا ہے اور تقویٰ کی باتیں کرتا ہے”،

وہ سائیکل پر ہو تو لبرلز کی لبرلیوں میں مروڑ اٹھتا یے،

 پراڈو میں ہو تو بے چاروں کی تشریف میں بے چینی ہوتی ہے۔۔۔۔

علاج کی شدید ضرورت ہے بھائی۔

7)ایک اور بہت ہی ہائی لیول کی۔۔۔۔

 ‘انٹل لیک چول لٹی’ ماری جاتی ہے کہ۔۔۔

 “مدارس میں سائنس پڑھانی چاہیے تاکہ وہاں سے سائنسدان نکلیں جو دین بھی جانتے ہوں اور دنیا بھی”۔۔۔

 یہ چول ماری تھی لبرلز نے لیکن کاندھے پر بوجھ لے کر بے چارے مسلمان گھوم رہے ہیں

اور

گھومے ہی جا رہے ہیں۔۔۔

 ارے یہ کیوں نہیں کہتے کہ اسکول کالج یونی ورسٹی میں درس نظامی بھی پڑھایا جائے ۔۔۔۔

تاکہ دین و دنیا دونوں کا ماہر باہر نکلے؟؟؟

نہ نہ ۔۔۔

ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟

اربوں ڈالرز لگا کر تعلیمی نظام میں آزادی کے نعرے لگانے والے ذہنی غلام تیار کرنے کا پراجیکٹ جو خراب ہو جائے گا۔

اتنے سچے ہو تو درس نظامی اسکول کالج میں ڈالو اور علماء کو رسائی دو۔

 علماء مدارس میں سائنس پڑھوا لیں گے۔

اس طرح جو نظام ‘دینی’ اور ‘دنیاوی’ تعلیم کے نام پر انگریزوں نے بہت محنت سے الگ کیا تھا وہ پھر سے ایک ہو جائے گا 🙂

اوہ۔۔۔!

لیکن ایسا کرنا تو لبرل ازم کی موت ہے!

اس سے جو ماہر پیدا ہوگا وہ سائنسدان بھی ہوگا اور “مولوی” بھی ۔۔!

نہییییییں!!!

نہ نہ نہ۔۔۔

ممی مرجائے گی۔

ڈیڈی بیوہ ہو جائے گا ۔۔۔

(جلد ہی آپ ڈیڈی کو بیوہ ہوتا ہوا دیکھیں گے اور یہ گفٹ آپ کے لیے جلد لے کر آرہا ہے “ٹرانس جینڈر ازم 😇 )

روشنائی تمام شد

اور

لبرل تمام ‘شدھ’

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment