معاشرے میں خواتین کا کردار

Rate this post

آپ کون سی خواتین پسند کرتے ہیں۔ قابل فخر مائیں یا کامل شر مائیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ قابلِ تقلید خواتین کون کونسے ہیں ؟

حافظہ خاتون کی تلاش

اندلس کے خلیفہ نے اعلان کیا کہ میں اپنے بیٹے کی شادی کسی حافظہ لڑکی سے کرنا چاہتا ہوں

جس گھر میں حافظہ لڑکی ہو وہ اسی رات گھر کے باہر طاق میں چراغ جلا دے میں خود نکاح کا پیغام لیکر آؤں گا۔

جب رات آئی تو پورا شہر گھر کے باہر طاقوں کے چراغوں کی وجہ سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا

حافظہ خاتون کی تلاش

خلیفہ حیران ہوگیا اور کہنے لگا شریعت نے حد چار کی اجازت دی ہے یہاں تو ہزاروں ہیں

پھر اعلان کیا کہ جو لڑکی قرآن کریم کی حافظہ ہو اور مؤطا امام مالک کی حافظہ ہو وہ اپنے گھر کے باہر چراغ جلا دے

خیال تھا کہ بمشکل دو چار ہوں گی مگر جیسے ہی رات آئی تو آدھا شہر جگمگا رہا تھا

مؤرخین نے لکھا ہے کہ اندلس میں تقریبا 170 خواتین خوشخطی کے ساتھ قرآن کریم لکھنے کی ماہرہ تھیں

سلطان صلاح الدین ایوبی کی ہشمیرہ بہت بڑی عالمہ تھیں حتی کہ بعض علماء کو مخصوص کتب کی اجازت بھی عطاء کی تھی

علامہ کاسانی کی زوجہ مفتیہ تھیں جو والد صاحب کے بعد اپنے شوہر کے فتاویٰ جات کی تصحیح و تصویب کا کام کیا کرتی تھیں

سیر اعلام النبلاء پڑھیں تو آپ کو بے شمار خواتین بڑے بڑے محدثین کی استاذہ و معلمہ نظر آئیں گی

وہ ہمارے عروج کا زمانہ اور ہماری قابل فخر مائیں تھی جن کے عظیم اسلامی کارنامے آج ہم فخر سے شمار کرتے ہیں

آج کل کے خواتین

جبکہ ہمارے زوال کا دور یہ ہے کہ

خواتین خانہ کی اولاد اپنی ماؤں کے کیا کارنامے بیان کرے گی؟

میرے خیال میں ان کے کارنامے یہ ہوں گے

ہماری والدہ جب پوسٹ کرتی تھیں تو دس منٹ میں سو سو کمنٹ آجاتے تھے

ہماری خالہ بحالتِ بکارت سوشل میڈیا پر سرِ عام شادی کی تمنا کیا کرتی تھیں

ہماری پھوپھو کے پانچ ہزار فالوور تھے

ہماری والدہ محترمہ ہمارے والد محترم کو فیسبک پر صدائیں لگایا کرتی تھیں کہ میرے سر تاج آپ کہاں ہیں ابھی ملے کیوں نہیں مجھے

اور ان پاکباز خواتین کی پوسٹیں اور کمنٹ آج بھی پرانے لیپ ٹاپ میں سیو ہیں

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے:

جب وہ پوچھیں گے سر محشر بلا کے سامنے

کیا جوابِ جرم دو گے تم خدا کے سامنے

جب سیدہ کائنات یا کسی ام المومنین کا دن آتا ہے تو یہ پاکباز خواتین ان جیسا بننے کا مشورہ عام کر رہی ہوتی ہیں

مگر اگلے دن

میرا سائیں کہاں ہے؟

آج روزہ لگ رہا ہوگا ان کو؟

میرے بچوں کے ابو کہاں ہیں؟

آنکھیں تھک گئیں آپ کا انتظار کرتے کرتے

ایسی حیاء سوز پوسٹ کرتی ہیں

اے میری اسلامی بہن! شیطانی جال میں مت آ’

 کسی کی دیکھا دیکھی اپنے جذبات کا اظہار مت کر

 کیونکہ یہاں غیر مسلم قاد۔یانی۔ہند۔و وغیرہ مذہبی لڑکیوں کے فیک اکاؤنٹ بنا کر تیرے ساتھ ایڈ ہیں

جو تیرے جذبات کو بھڑکانے اور اسلامی حیاء سے باغی کرنے کے مشن پر ہیں

ایسا کام کریں جس سے آپ کی نسلیں فخر سے کہیں کہ میں فلاں ماں کا بیٹا یا بیٹی ہوں:

اور اے میرے مسلمان بھائی اگر تو کسی مسلمان بہن کو اس طرح کی حیاء سوز پوسٹ کرتا دیکھے

 تو وہاں رش نہ لگاؤ نہ کمنٹ کرو بلکہ ایسے کام کی حوصلہ شکنی کر کہ تیرا وہاں مثبت و حوصلہ افزاء کمنٹ کرنا اسکو مزید شہ دے گا باغی بنائے گا.

✍️ #سیدمہتاب_عالم

مردوں کی مجالس میں فتویٰ دینے والی خاتون

قابلِ_تقلید_خواتین

امت کی قابل تقلید خواتین میں سے اسماء بنت اسد الفرات کا نام نمایاں نظر آتا ہے

افریقہ کے عالم و قاضی اور امام مالک و امام ابو یوسف کے شاگرد اسد الفرات کی بیٹی ہیں

ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا لہذا والد محترم نے ان کی خوب علمی تربیت کی کہ آفاقِ عالم میں اس محدثہ و فقیہہ خاتون کا شہرہ ہوگیا

یہ اپنے والد محترم کی مجلس میں حاضر ہوتی تھیں اور فقہی سوال اور مناظروں میں شرکت کیا کرتی تھیں!

فقہی حنفی کے مطابق فتوی دیا کرتی تھیں.

ان کے والد محترم جہاد پر گئے اور شہید ہوگئے اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کے شاگرد محمد بن ابی الجواد سے شادی کی تھی!

240 ھجری میں ان کا انتقال ہوگیا.

کیسا ہی مزے کا ماحول ہوگا کہ خاتون محدثہ و فقیہہ مردوں کے سوالوں کے جواب دیتی اور ان سے پردے میں رہ کر مناظرہ کرتی تھی

یہ ایک نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں.

تب مردوں پر غیرت کا غلبہ اور خواتین پر حیاء کی کثرت تھی

مردوں کی مجالس میں فتویٰ دینے والی خاتون

اب مرد بے حیاء اور خواتین کی غیرت آخری سانسوں پر ہے

اسی لیئے نہ ویسا علم رہا نہ ویسی خواتین فقیہات باقی ہیں.

مرد علماء سے تعلیم کے حصول کی نیت ہوتی ہے مگر بعد ازاں فتنوں کے در کھل کر گھر بن جاتے ہیں!

اس کا کم از کم یہی حل ہے کہ مرد علماء اپنی محارم کو خود پڑھائیں

یا با اعتماد عالم دین کی شاگردی میں اپنی موجودگی میں تعلیم دلوائیں!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

محبت پر کلام فرمانے والی علیہ خاتون

#العشق_و_التصوف 9

سیدہ مریم بصریہ رضی اللہ عنھا عارفہ کاملہ خاتون تھیں

یہ سیدہ رابعہ بصریہ کی خدمت کیا کرتی تھیں

ان کی ایک خاص خصوصیت تھی کہ یہ محبت کے بارے نفیس کلام کیا کرتی تھیں!

جب یہ محبت کے علوم کا سنتی تھیں تو ان کی عقل گم ہو جاتی اور پر سکون ہو جاتی تھیں.

روایت میں ہے کہ

سیدہ مریم رضی اللہ عنھا ایک واعظ کی مجلس میں حاضر ہوئیں جو محبت پر کلام کر رہا تھا آپ سن کر برداشت نہ کر سکیں زمین پر گری اور وفات پا گئیں.

یہ ساری رات عبادت کرتی تھیں.

محبت پر کلام فرمانے والی علیہ خاتون

(طبقات الصوفیہ للازدی)

محبت پر کلام کرنا صوفیاء کرام میں رائج شدہ ایک خاص طریقہ و انداز ہے

جس میں وہ کبھی صراحتاً کبھی اشارتاً محبت کی بات کرتے ہیں

کبھی مجازی کی مثالیں کبھی حقیقی کے کمالات بیان کرتے ہیں.

سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کا نام بھی ان مبارک ہستیوں میں آتا ہے جو محبت لاجواب کلام فرمایا کرتے تھے!

صوفیاء کی تمام کتب میں کہیں نہ کہیں محبت کا ذکر ضرور ہوتا ہے اور اس کی تفہیم میں مجازی محبت کی مثالیں مذکور ہوتی ہیں!

مگر وہاں مراد ہرگز دنیاوی محبت نہیں ہوتی نہ اس کی یہ ترغیب ہوتی ہے!

بہر حال آج کی خواتین بھی راتوں کو جاگتی ہیں مگر موبائلز پر اور مریم بصریہ بھی جاگتی تھیں مگر قرآن پر نماز پر بس یہی فرق ہے جو امت کی عظیم مائیں بناتا ہے اور امت کی ناکام بیٹیاں بناتا ہے!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

ایسی تہمت جو صرف مرد علماء پر لگی خواتین پر نہیں لگی

#قابلِ_تقلید_خواتین قسط نمبر 3

ابن قتیبہ دینوری

نے تاویل مختلف الحدیث میں امام زھری کا فرمان نقل کیا

الحَدِيثُ‎ ‎ذَكَرٌ ‏يُحِبُّهُ‎ ‎ذكور‎ ‎الرِّجَالُ‎ ‎وَيَكْرَهُهُ مُؤَنَّثُوهُمْ

علم حدیث ایک نر (یعنی مذکر) علم ہے اسے مرد پسند کرتے ہیں

اس علم کو مادہ (یعنی مؤنث) ہی ناپسند کرتی ہیں.

کیونکہ علمِ حدیث مشقت و محنت سے بھرپور علم ہے خواتین کی ہمتیں جواب دے جاتی ہیں!

اس فرمان کے صدیوں بعد امام ذھبی نے میزان الاعتدال میں فرمایا

وما ‏علمتُ في النساء مَنْ اتـُّهِمتْ بوضع الحديث ولا مَنْ تَرَكوها لعلة في روايتها‏.

میں خواتین میں سے کسی خاتون کو نہیں جانتا جس پر حدیث گھڑنے کی تہمت لگی ہو یا محدثین نے کسی خاتون کو کسی علت کی بناء پر متروک قرار دیا ہو.

یعنی بے شمار مردوں نے احادیث گھڑی موضوع روایات کو آگے پھیلایا مگر کسی عورت سے یہ کام آج تک سرزد نہیں ہوا.

اور بے شمار مرد محدثین کو علماء نے حافظے یا عدمِ تقوی کی وجہ سے ضعیف راوی شمار کیا مگر کسی عورت کو اس بناء پر ضعیف نہیں قرار دیا گیا!

کیسی عظیم خوش نصیبی ہے اس امت کی خواتین کے لیئے!

امام زھری کے دور میں خواتین علمِ حدیث کی طرف کم متوجہ تھیں اس لیئے انہوں نے وہ فرمان جاری کیا

جبکہ امام ذھبی کے زمانے تک خواتین نے علمِ حدیث میں ناقابل فراموش کارنامے سر انجام دیئے تو امام ذھبی نے اپنا نظریہ بیان فرما دیا!

امیر المومنین فی الحدیث ابن حجر عسقلانی (متوفی 852) نے الدرر الکامنہ میں تقریبا 170 محدثات کا ذکر کیا

جن میں 54 ان خواتین محدثات و عالمات کا ذکر کیا جن سے امام ابن حجر عسقلانی نے خود علوم سیکھے!

ابن فھد المکی (متوفی 885) نے فرمایا میں نے 130 خواتین معلمات و فقیہات سے علم حاصل کیا!

امام سخاوی (متوفی 902) نے الضوء اللامع میں 85 خواتین محدثات و عالمات کا ذکر فرمایا ہے!

امام جلال الدین سیوطی (متوفی 911) کے دور میں 44 فقہیات علامات مصر میں موجود تھیں!

امام ابن عساکر (متوفی 571) نے معجم النسوان لکھی جس میں اپنی 80 خواتین معلمات کا ذکر کیا اور ان سے احادیث بیان کی!

امام ذھبی نے التقریب میں 824 ان عالمات کا ذکر کیا جو حدیث اپنی سند سے بیان کرتی تھیں!

یہ عروجِ اسلام کی باتیں ہیں

اب زوال یہ ہے کہ خواتین کا فقیہات و محدثات ہونا تو دور ان کو درست عربی عبارت پڑھنا نہیں آتی!

یہاں سے وہ غبار زدہ ذہن بھی گرد صاف کریں کہ شرعی حدود و قیود میں رہ کر مرد سے خاتون کا اور خاتون سے مرد کا علمِ دین پڑھنا سلفاً خلفاً صدیوں سے رائج ہے!

یہ صرف علماءِ ظاہر کا ذکر ہے

جبکہ علماء باطن یعنی صوفیاء کرام کی الگ تفصیل ہے کہ ان کے ہاں بھی مرد خواتین سے اور خواتین مردوں سے اکتسابِ فیض کرتی رہی ہیں!

اور فی زمانہ خواتین میں عربیت و بلاغت و فقاہت کے فقدان کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جن خواتین سے سیکھتی ہیں وہ خود کمزور ہوتی ہیں اوپر سے ان کا عرصہِ درس نظامی پانچ سالہ اس میں بھی محدود کتب ان میں بھی اردو کی کثیر کتب شاملِ نصاب ہیں!

اس کمی کو دو طرح پورا کیا جا سکتا ہے

اول کہ خواتین مکمل پردے میں اور فتنہ کے نہ ہونے کے یقین کی صورت میں مرد اساتذہ سے پڑھیں تو ان شاءاللہ علوم و فنون میں پختگی آتی جائے گی!

دوم کہ جو مرد علماء ہیں وہ اپنے گھر سے آغاز کریں

اپنی محرمات کو اس طریقے پر پڑھائیں جو مردوں کے لیے ہوتا ہے

محبت پر کلام فرمانے والی علیہ خاتون

اپنی بہن, بیٹی کو وہ نصاب پڑھائیں جو طلباء پڑھتے ہیں اس طرح مردوں کے علوم و فنون کی پختگی خواتین میں پیدا ہوتی جائے گی!

نہ خواتین پردے میں پڑھیں نہ مرد اپنی محرمات کو پڑھائیں تو امت کی بیٹیوں میں وہ زمانہ نہیں آئے گا جس میں فقہیات و عالمات و محدثات کی کثرت تھی!

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

وہ خاتون جس نے امام شافعی کا جنازہ پڑھا

#قابلِ_تقلید_خواتین 2

نفیسہ بنت حسن بنت زید بن حسن بنت علی رضی اللہ عنھم

مصر کی سب سے مشہور صاحب و علم و فضل و کمال و ولایت خاتون ہیں

ان سے فیض حاصل کرنے والے بشر بن حارث و امام احمد و امام شافعی جیسے مجتہدین ہیں

مکہ پاک کی سر زمین پر 145 ھجری میں پیدا ہوئیں اور مدینہ پاک کی معطر فضاؤں میں پرورش پائی

وہاں سے مصر تشریف لے گئیں

امام شافعی نے ان سے حدیث پاک کا علم حاصل کیا

بہت زیادہ گریہ و زاری کرنے والی اور تین دن میں ایک بار کھانا کھانے والی وہ بھی صرف اپنے شوہر کی کمائی سے کھاتی تھیں!

 *انہوں نے تیس حج کیئے ہیں*

بشر حافی بیمار ہوئے تو سیدہ نفیسہ ان کی عیادت کرنے تشریف لے گئیں وہاں پر امام احمد بن حنبل بھی تشریف لائے

امام احمد نے بشر حافی سے پوچھا یہ کون ہیں تو فرمایا سیدہ نفیسہ ہیں ان کو میری بیماری کا علم ہوا تو عیادت کرنے آئی ہیں

امام احمد نے نے بشر حافی کو کہا ان سے کہیں میرے لیئے دعاء کریں

بشر حافی کے کہنے پر سیدہ نفیسہ نے یوں دعاء کی

اے اللہ بشر و احمد جہنم سے بچ کر تیری پناہ میں آنا چاہتے ہیں تو انکو پناہ دے دے

سیدہ نفیسہ امام شافعی پر بڑی شفقت فرماتی تھیں

 *جب امام شافعی کا انتقال ہوا تو انہوں نے جنازہ اپنے گھر بلوایا اس جنازے پر خود نمازِ جنازہ پڑھی* !

سیدہ نفیسہ نے اپنی قبر *گھر میں اپنے ہاتھوں سے تیار کی* اور اس میں بیٹھ کر 190 مرتبہ ختم قرآن کیا اور بے شمار نمازیں اس میں ادا کیں

208 ھجری میں ان کا انتقال ہوگیا

ان کے شوہر اسحاق ان کو مدینہ پاک لے جا کر بقیع پاک میں دفن کرنا چاہتے تھے مگر اھلِ مصر نے بہت منت و سماجت کی کہ مصر میں ہی دفن کریں حتی کہ ان کا اونٹ زیورات سے بھر دیا کہ وہاں نہ لے جائیں

رات کو خواب میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو فرمایا نفیسہ کو مصر میں ہی دفن کرو

تو پھر ان کو مصر میں ہی دفن کیا گیا

(اعلام النساء للعمر رضا الحاکہ)

 *مصر میں سیدہ نفیسہ کے نام کا ڈنکا بجتا ہے* ہر عام و خاص چھوٹا بڑا سیدہ نفیسہ کے بارے جانتا اور ان کے مزار مبارک سے فیض لینے کا خواہشمند رہتا ہے!

🌹 ہماری تمام تحاریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں 👇

http://anwarealam.com

 ✍️ #سیدمہتاب_عالم

کامل العقل خاتون

#قابلِ_تقلید_خواتین 6

ان پاکباز ماؤں میں سے جن کی معرفتِ الٰہی اور عقل و دین میں کاملیت کی گواہی اکابر اولیاء نے دی ایک خاتون ام علی بھی ہیں

یہ احمد بن خضرویہ بلخی کی زوجہ محترمہ ہیں

یہ امیر زادی تھیں پھر اپنے شوہر کی دنیا سے بے رغبتی دیکھ کر سارا مال راہ خدا میں تصدق کر دیا

انہوں نے اکابر اولیاء سے ملاقات کی اور ان سے فیض پایا جن میں ابو الحفص نیشاپوری اور بایزید بسطامی کا نام آتا ہے!

حضرت بایزید بسطامی سے تصوف کے مسائل پوچھا کرتی تھیں!

ابو الحفص نیشاپوری فرماتے ہیں کہ میں خواتین سے تصوف کے معاملات میں بات کرنا مکروہ جانتا تھا حتیٰ کہ میری ملاقات ام علی سے ہوگئی تب میں نے جانا کہ اللہ رب العزت جہاں چاہے اپنی حکمت و معرفت رکھ دیتا ہے.

یعنی یہ بہت بڑی عارفہ و حکیمہ تھیں!

سیدنا بایزید بسطامی نے فرمایا

جو تصوف کا رنگ اختیار کرنا چاہے وہ ام علی جیسی تصوف والی ہمت لائے!

بلخ کی ایک خاتون ام علی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں آپ کی خدمت کر کے اللہ رب العزت کا قرب پانے آئی ہوں!

فرمایا اللہ رب العزت کی خدمت کر کے میرا قرب پانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟

یعنی رب العالمین کی اطاعت کرو سب تمہارے ہو جائیں گے!

گزرے زمانوں میں خواتین کا علم کی انتہاؤں پر بھی تھیں اور عمل کی انتہاؤں پر بھی تھیں

مگر صد افسوس آج کی خواتین جہالت و بے عملی میں دونوں ایک ساتھ ماہر ہیں!

👈 خواتین کے تصوف کورس کے لیئے اس نمبر پر رابطہ کریں 03487797152

🌹 میرے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں آپ کو دینی و دنیاوی دلچسپ معلومات ملیں گی 👇

https://youtube.com/@SayedMahtabalam

✍️ #سیدمہتاب_عالم

غرض سے شادی کرنے والے عالم و عالمہ

#قابلِ_تقلید_خواتین قسط نمبر 7

صفیہ بنت مرتضی بن مفضل حسنیہ

یمن کی بہت بڑی عالمہ زاہدہ تھیں

ان کا انتقال 771 ھجری میں ہوا باوجودیکہ خود بڑی عالمہ فاضلہ تھیں

 انہوں نے صرف علمِ کلام (علم العقائد) سیکھنے کے لیئے محمد بن یحیی القاسمی سے شادی کی تھی کیونکہ یہ علمِ کلام کے ماہر تھے!

اور مزے کی بات کہ محمد بن یحیی نے صفیہ بنت مرتضی سے شادی اس لیئے کی کہ ان سے عربیت سیکھیں!

کیونکہ یہ فصاحت و بلاغت میں ماہرہ تھیں!

یعنی دولہا و دولہن دونوں نے علمِ دین کے شیدائی تھے اسی نیت سے اپنی مرضی کے فرد سے نکاح کیا!

کیسی پیاری غرض سے دونوں نے نکاح کیا

کاش آج بھی ایسی دینی و اخروی اغراض سے شادیاں کی جاتی تو ماحول و معاشرے کا رنگ ہی الگ ہوتا!

صفیہ بنت مرتضی کمال درجے کی عالمہ تھیں کہ انہوں نے ابراھیم بن علی جو کہ اپنے وقت کے مشہور عالم تھے ان کے رد میں ایک کتاب الجواب الوجیز علی صاحب التجویز لکھی تھی!

📌 سوال ہے کہ فی زمانہ ایسی ذکیہ فقیہہ عالمہ کیوں نہیں پیدا ہوتی؟

اس کا جواب یہ کہ ایک وجہ والدین کا بچیوں پر محنت کرنے کا وہ جذبہ نہیں وہ سختی نہیں جو دنیاوی تعلیم میں کی جاتی ہے!

دوسری وجہ یہ علمِ دین ہے اور یہ بغیر روحانیت کے نہیں آتا یہاں ذہانت و فطانت ایک فیصد اور ادب و روحانیت نناوے فیصد اثر انگیز ہوتے ہیں!

جب تک طلباء و طالبات میں اسلاف جیسی روحانیت و ادب نہیں ہوگا اسلاف جیسے علماء و عالمات پیدا نہیں ہو سکیں گے!

با ادب کم ذہانت سے وہ حاصل کر لیتا ہے جو کم ادب سے ذہانت کا پہاڑ بھی حاصل نہیں کر سکتا!

🌹 منفرد و دلچسپ معلومات سننے کے لیئے ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں 👇

https://youtube.com/@SayedMahtabalam

⛔ پوسٹ میں کسی قسم کی کمی بیشی کرنا شرعاً اخلاقاً درست نہیں ہے!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

وہ خاتون جو علم کا بحرِ بے کنار ہیں

#قابلِ_تقلید_خواتین قسط نمبر 9

امام زھری فرماتے ہیں مجھے قاسم نے فرمایا میں تمہیں علم کا حریص دیکھتا ہوں

کیا تمہاری علم کے برتن کی طرف رہنمائی نہ کروں؟

میں نے عرض کیا ضرور کریں

فرمایا

عمرۃ بنت عبد الرحمن کی خدمت لازم پکڑ لو

کیونکہ وہ سیدہ عائشہ کی پرورش میں رہی ہیں

امام زھری فرماتے ہیں میں ان کے بارگاہ میں حاضر ہوا تو ان کو بحرِ بے کنار دیکھا!

یعنی وہ ایسی فقیہیہ محدثہ تھیں کی گویا علم کا سمندر ہوں!

(سیر اعلام النبلاء جلد 6 صفحہ 258)

وہ عروجِ اسلام کا زمانہ تھا کہ جس میں خواتین بحرِ بے کنار ہوا کرتی تھیں

 جبکہ آج خواتین سوشل میڈیا ایکسپرٹ تو ہیں مگر دینی علوم سے کوری ہیں!

جن شخصیات نے امت کو ایوبی و غزنوی دینے تھے

جن خواتین نے امت کو بخاری و حاکم دینے تھے

جن ماؤں نے جابر بن حیان و الجزری دینے تھے

جن بچیوں نے ابن خلدون و غزالی دینے تھے

وہ مادیت کا شکار ہو چکی ہیں وہ نفسانی خواہشات سے شکست کھا چکی ہیں بھلا وہ فاتح کیسے پیدا کریں گی؟

اسلامی معاشرہ جب کبھی قرون اولی کی طرف پلٹے کا جب کبھی ہمارے عروج کے طرف اڑان بھرے گا

 تو وہ خواتین کی اصلاح سے اڑے گا خواتین کی علومِ دین میں رغبت کی وجہ سے ہوگا

اب یہ کب ہوگا الله ہی جانتا ہے!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

مردوں کی مجالس میں فتویٰ دینے والی خاتون

عرب کے کسی ملک کی تصویر ہے

تصویر لینے والا کہتا ہے میں نے لڑکے کو کہا اپنے والد کو نمبر دو میں کال کر دیتا ہوں وہ آ کے لے جائے گا کیونکہ اسکول کی چھٹی کو کافی وقت ہوگیا تھا

لڑکا کہنے لگا مجھے اپنے والد کا نمبر یاد نہیں ہے

میں نے کہا اپنی بہن کو کہو وہ لکھوا دے شاید اسے یاد ہو

لڑکا کہنے لگا یہ میری بہن نہیں ہے

میرا گھر تو پاس ہے پانچ منٹ میں پہنچ جاؤں گا مگر اس لڑکی کا گھر دور ہے

اس کو لے جانے والا نہیں آیا تو میں نے لڑکی کو اکیلا چھوڑنا مناسب نہ سمجھا اور پاس بیٹھ گیا تاکہ اس کی حفاظت کروں

جب تک اس کا سرپرست نہیں آتا میں یہیں بیٹھا ہوں!

بچوں میں ایسی صفات گھر کے ماحول اور ماں باپ کی تربیت اور وراثتی بھی ہوتی ہیں!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

سیدہ فاطمہ بعدِ وصال باکمال خاتون صرف ایک بار مسکرائیں

#ذاتی_مطالعہ 105

مــــͥــͭـــᷫــͧـــᷟـــفتی سـͩــⷷــⷱــᷧـــ᩺ـــید مہـᷨــᷧــͭــͪــᷧــⷨـــتاب عـͫـــᷧــᷝــᷧـ­ـالم

سیدہ فاطمہ رضی الله عنھا حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال باکمال کے بعد صرف ایک بار مسکرائی تھیں

آپ جانتے ہیں وہ کونسا موقع تھا!

خاص طور پر خواتین غور سے پڑھیں

جب سیدہِ کائنات کے وصال پر ملال کا وقت آیا تو اُنہوں نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی الله عنھا کو فرمایا

تمہیں کیا لگتا ہے مجھے چارپائی پر کھلم کھلا اٹھایا جائے گا؟

عرض کی میں آپ کے لیئے وہ بناؤں گی جو میں نے حبشہ میں دیکھا تھا

پھر اُنہوں نے سیدہ کائنات کے لیئے ایک خاص قسم کے درخت سے تابوت سا بنا دیا

جس سے لیٹنے والے کا اثر ظاہر نہ ہوتا تھا

حاکم نے سیدہ اسماء بنت عمیس کا قول یوں نقل کیا

فتبسمت فاطمة وما رأيتها متبسمة بعد أبيها إلا يومئذ

تو سیدہ فاطمہ مسکرا اُٹھیں اور میں نے ان کو ان کے والد جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اس دن کے سوا کبھی مسکراتے نہیں دیکھا

(مستدرک حاکم)

مسلمان خاتون غور کرے کہ وہ فاطمہ جن پر غموں کے پہاڑ ٹوٹے اور وہ مسکرانا بھول گئیں مگر جب اپنے پردے کا اطمینان ہوا تو مسکرا اٹھیں

مسلمان پاک دامن عورت کے لیئے پردہ مثلِ جنت ہے جو اسے امن اور چین و قرار دیتا ہے!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

‏ زہر حاصل نہ کریں تریاق حاصل کریں

#کامیاب_خواتین قسط نمبر 23

#اسلامی_طرزِ_تربیت قسط نمبر 52

مرَّ أعرابي بإمرأة تقرأ

فقال : الأفعى تزداد سُمّاً

ایک دیہاتی کسی عورت کے پاس سے گزرا جو لکھائی پڑھائی کر رہی تھی تو وہ دیہاتی کہنے لگا

سانپ اپنے زہر میں اضافہ کر رہا ہے!

اور یہ حقیقت ہے عورت علمِ جدیدہ حاصل کرنے کے بعد نا عورت بن جاتی ہے

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن

اس علم کو کہتے ہیں اربابِ نظر موت!

آپ اپنی دادیاں نانیاں دیکھ لیں کیسے شوہر کو کل داتا جان کر امن و سکون سے زندگیاں گزار بیٹھی ہیں

اور جب سے عورت نے مرد سے مقابلہ شروع کیا رسوا ہو کر رہ گئی ہے!

وہ معاشرہ جہاں ساٹھ فیصد افراد کو اپنے اصلی باپ کا علم نہیں اسی جدید تعلیم کی وجہ سے ہے

ساٹھ فیصد ناجائز اولاد والا معاشرہ پاکباز خواتین کے لیئے کیسے رول ماڈل بن سکتا ہے؟

ساٹھ فیصد ناجائز اولاد کا مطلب اتنی فیصد عورتوں کے کردار غلیظ ہیں

 تو عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والی این جی اوز تمہارے معاشرے میں ساٹھ فیصد بدکردار خواتین بنانا چاہتی ہیں!

اے مسلمان خواتین اگر تمہارے سونے کے اینٹوں کے محلات اور موتیوں کی چھتیں ہوں اور تمہاری عزت داغدار ہو تو کیا قبول ہوگا؟

واللہ کوئی بھی سچی مسلمان خاتون اس سے لاکھ بار انکار کرے گی!

مگر یاد رکھیں ایک مومن خاتون کی عزت کروڑوں غیر مسلم عورتوں کی عزت و جان سے قیمتی ہے

اور اسی عزت کو خراب کرنے کے لیئے کفار بد اطوار نے تعلیم جدیدہ کا نفاذ کیا,فلموں ڈراموں کو شروع کیا,این جی اوز کو سر گرم کیا,سوشل میڈیا کے کیمپئین چلائے گئے!

یاد رکھیں جدید علم عورت کے زہر اور علمِ دین تریاق ہے

دنیای علوم خواتین کے لیئے نار اور دینی علوم خواتین کے نور ہیں

اب آپ خواتین پر منحصر ہے زہر اختیار کریں یا تریاق نار میں کود جائیں یا نور میں آباد رہیں!

تریاق یعنی علومِ دین حاصل کریں جہاں سانپ ڈسے تریاق استعمال کریں

نور یعنی علوم دین حاصل کریں جہاں نار محسوس کریں نور سے بجھا دیں!

✍️ #سیدمہتاب_عالم

#عورت ہر دور میں انسانی گفتگو کا اولین اور خوبصورت موضوع رہا ہے

شاعر نے غم دوراں پہ لکھا تو وہ کسی درویش کی بڑ کہلائی ، اور حسن جاناں پہ لکھا تو وہ غزل شمار ہوئی ،

میں جب بھی کسی مرد کی وال پہ عورت کی مظلومیت کا پرچار پڑھتی ہوں تو مجھے جنگل میں گھومتے لومڑیوں کے شکاری یاد آ جاتے ہیں۔

میں نے ایک صاحب سے پوچھا ، آپ عورت کی آزادی کے اتنی حامی ہیں ، کیا آپ اپنی ماں بہن بیوی بیٹی کو یہ آزادی دیں گے جسکا آپ نعرہ لگائے پھرتے ہیں ،

کہنے لگے ۔۔۔!! محترمہ میں نے عورت کی آزادی کی بات کہی ، ماں بہن بیوی یا بیٹی کی نہیں ، ویسے آپ اج شام کیا کر رہی ہیں 🙄

۔

تھوڑا سا پیچھے جائیں تو ، عورت ماں تھی ، بہن تھی ، بیوی بیٹی تھی ، اور پردہ نشیں محبوبہ بھی تھی، مگر مظلوم نہیں تھی ،

ایسا نہیں کہ تب عورت پہ ظلم نہیں ہوتا تھا ، مگر ایسا ضرور تھا کہ اس ظلم کو لہرا کر اسے اشتہار نہیں بنایا جاتا تھا ،

گویا تعلیم نے شعور کے ساتھ عورت کو مظلوم بنا دیا ،

توازن دنیا کا اہم اصول ہے ،

  تعلیم کی چکا چوند نے عورت کو اندھا کر دیا ہے ، وہ اپنی اصل بھول گئی ۔۔۔۔ جو اسکے حقوق کی بات کرتا ہے وہی اسے سچا کھرا نظر آتا ہے ،

جبکہ ” ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ” جیسا سین ہے ۔

جو کہتے ہیں نا ۔۔۔۔

میں آپکی بہت عزت کرتا ہوں ،

وہی عزت کی چادر کھینچ کے بلاک لسٹ کر دیتے ہیں ،

بعد میں روتی شکل والے اسٹیٹس لگا کے پانچ سیر آنسو بہانے والی عورت بلاشبہ مظلوم ہی ہوتی ہے ۔

۔

عورت مظلوم ہے یا نہیں ، اس کے علاؤہ بھی دنیا میں کئی موضوعات ہیں ،

#گلنامہ ۔۔۔

15 اکتوبر 2022

گل مہر اعوان ۔۔۔

مزید جانیئے حضرت فاطمہ کی سیرت

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment