مشورہ کرنے کے متعلق قرآن و حدیث سے دلائل

Rate this post

 مشورہ کے معنی ہیں کسی معاملے میں دوسرے کی رائے دریافت کرنا۔

 *اللہ تعالی فرماتا اے میرے محبوب*

 صلی الله علیہ وسلم ۔

  وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ-

اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔

مشورہ کی حکمت سے متعلق کئی اقوال ہے۔

 ایک قول یہ بھی کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہستی کہ جسکے کاموں کی تدبیر خود خالق و مالک فرماتا ہو انکو مشورہ کا حکم اس لیے دیا تاکہ امت کے لیے مشورہ کرنا سنت ہو جائے۔

حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

اگرچہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کی حاجت نہیں۔

لیکن پھر بھی اللہ تعالی نے مشورہ کا حکم دیا تاکہ یہ امت کے لیے سنت ہو جائے۔

 *کملی والے آقا* صلی اللہ علیہ وسلم

کا فرمان ہے کہ۔

استخارہ کرنے والا ناکام نہیں ہوگا،

کفایت شعار فقروفاقہ کا شکار نا ہوگا،

اور مشورہ کرنے والے کو ندامت نا اٹھانا پڑے گی۔

(معجم اوسط)

 *حضرت علی فرماتے ہے* :

اپنی رائے کو کافی سمجھنے والا خطرہ میں ہے۔

(المستطرف فی کل فن مستظرف)

 *لوگوں کی تین اقسام ہے*

حضرت حسن بصری کا فرمان ہے:

لوگ تین قسم کے ہیں۔

1 پورا مرد۔

2 آدھامرد۔

3 نا مرد۔

جو صاحب رائے بھی ہو اور مشورہ بھی کرے وہ پورا مرد۔

جو صاحب رائے تو ہو لیکن مشورہ نا کرے وہ آدھا مرد ۔

اور جو نا خود صاحب رائے ہو اور نا ہی مشورہ کرے وہ نا مرد ہے۔

(المستطرف فی کل فن مستظرف)

 *کن لوگوں سے مشورہ نہیں کرنا چاہئے*

جاہل۔

دشمن۔

حاسد۔

ریاکار۔

بزدل ۔

کنجوس۔

خواہش کا بندہ۔

بھوکا۔

قیدی۔

عورتوں کی صحبت میں زیادہ رہنے والا۔

بچوں کو پڑھانے والا۔

جسے پیشاب یا پاخانے کی حاجت ہو۔

✍️امتیاز احمد

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment