مسجد اقصی

Rate this post

مودی کے ہندوستان میں20

.G  G.20 کیا ہے اور اس کےمقاصد کیا ہیں؟

کہانی کا آغاز ہوتا ہے اگست 1969ء سے یہ ہی وہ دن تھا جب اچانک سے پوری دنیا میں کہرام مچ گیا۔

کہرام کی وجہ تھی مسلمانوں کے تین بڑے مذہبی مقامات (مسجد الحرام، مسجد نبوی ، روضہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور مسجد اقصیٰ ) ۔

ممبر کی بے عزتی

ان میں سے مسجد اقصیٰ میں ایک آسٹریلین شرپسند جس کا نام ” ڈینس مائیکل اون ” تھا۔ اس نے اس ممبر کو آگ لگا دی جو تقریبا پچھلے 800 سال سے مسجد اقصیٰ میں موجود تھا۔

سلطان نور الدین زنگی کا ممبر

یہ وہی ممبر تھا جس کو سلطان نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ نے اس خواہش کے ساتھ بنوایا تھا کہ جب وہ صلیبیوں سے دوبارہ اس شہر کو فتح کریں گے تو وہ اس ممبر کو اپنے ہاتھوں سے مسجد اقصیٰ میں رکھیں گے۔

مگر سلطان کی زندگی نے وفا نہ کی تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے ان کی اس خواہش کو پورا کیا۔ جب انہوں نے یروشلم شہر کو صلیبیوں سے آزاد کروایا۔

مسجد اقصی کی ممبر کی بے ادبی

مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی کے اس واقع سے وہ ممبر اور مسجد اقصیٰ کا کچھ حصہ شہید ہوا۔

 اس المناک حادثہ نے ایک چنگاری کا کام کیا اور یروشلم شہر میں مسلمانوں اور یہودیوں میں لڑائی شروع ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے حکمران بھی حرکت میں آئے۔

صیہونی حکومت نے مسجد کے نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کی اور اس وقت کے صیہونی وزیر اعظم نے بذات خود مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا۔

آگ لگانے والے کو گرفتار کیا گیا مگر حسب دستور جھوٹ کا سہارا لے کر اس شر پسند کو دماغی بیمار قرار دے کر آزاد کر دیا۔

رمضان جنگ عرب اسرائیل جھنگ

جو مسلمانوں کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ اس کے نتیجے میں مسلم حکمران اکھٹے ہوئے اور OIC اسلامی تعاون تنظیم معرض وجود میں آئی اور ساتھ ہی ایک جنگ کا آغاز ہوا جسے “رمضان جنگ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

۔ 1973ء میں جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب سیریا (شام) کی فوجوں نے صیہونیوں کی ناپاک ریاست پر حملہ کیا۔

 اس جنگ کے احوال کسی اور موقع میں انشاء اللہ تحریر کروں گا کہ کس طرح شریف مکہ حسین بن علی کے پڑپوتے حسین بن طلال المعروف شاہ حسین نے اس جنگ میں یہودیوں کا وفادار ایجنٹ ہونے کا ثبوت دیا۔)

مسلم جھنگ یا عرب اسرائیل جھنگ؟

دراصل یہ جنگ تو مسلم اسرائیل جنگ تھی مگر ایک سازش کے تحت اس کو عرب اسرائیل جنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔

سعودی عرب، عراق، اردن، مراکو اور کئی اسلامی ممالک سیریا (شام) کی فوجوں کو سپورٹ کر رہے تھے ۔ صیہونیت جنگ ہار رہی تھی مگر جب اس کی مدد کے لیے فتنہ دجال کی حامی ریاست امریکہ اس جنگ میں کود پڑا۔

امریکہ کو تیل کی سپلائی بند

امریکہ نے اسرائیل کو وافر مقدار میں جنگی اسلحہ فراہم کیا۔ جب امریکہ اور یورپ اس جنگ میں کھلم کھلا دجالی ریاست (اسرائیل) کی حمایت کر رہے تھے تو اس وقت کے آل سعود کے واحد غیور حاکم شاہ فیصل نے امریکہ اور یورپ کو تیل کی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

تیل بندی کے اس فیصلے سے امریکہ اور یورپ کو بہت بڑا نقصان ہوا۔ چند ہی مہینوں میں امریکہ کی 2.5 فیصد معاشی بربادی ہوئی۔

امریکہ نے شاہ فیصل کو یہ دھمکی دی کہ اگر تیل بندی ختم نہ کی تو امریکہ تیل کے کنوؤں پر قبضہ کر لے گا مگر شاہ فیصل نے امریکہ کو جو جواب دیا اس نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو دم بخود کر دیا۔

شاہ فیصل نے کہا تھا تم وہ لوگ ہو جو تیل کے بغیر نہیں چل سکتے۔ ہم ریگستانی لوگ ہیں کچھ دیر پہلے تک کھجور اور اونٹنی کے دودھ پر گزارہ کر لیتے تھے۔

ہم تیل کے کنوؤں کو آگ لگا کر واپس اپنی اسی زندگی کی طرف پلٹ جائیں گے جس کی طرف پلٹنے سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔

 المختصر 1974ء میں جنگ بندی ہوئی اور تیل بندی ختم ہوئی مگر تیل بندی کی وجہ سے جو معاشی نقصان ہوا امریکہ اور یورپ اس کو کیسے بھلا سکتے تھے۔

مسلم دنیا کو اس طرح کے اقدامات سے روکنے کے لیے ایک تنظیم وجود میں آئی جس میں چھ ممالک شامل تھے۔۔

۔امریکہ، انگلینڈ، اٹلی ، جاپان، جرمنی ، فرانس یوں 6.G کا ایک گروپ معرض وجود میں آیا پھر اگلے سال کینیڈا کے شامل ہونے سے 7.G بنا اور بعد میں جا کر 1999ء میں 6.7 سے 20.G بنا۔

اسلام دشمنوں کا مکر و فریب دیکھیں کہ وہ گروپ جو دنیائے اسلام کے خلاف معرض وجود میں آیا۔

آج اس گروپ میں مسلم حکمران سعودی عریبیہ، ترکیہ اور کچھ افریقی اسلامی ممالک، شامل ہو کر خوشیاں منا رہے ہیں اور طاغوتی نظام کو تقویت دے رہے ہیں اور کئی بار کی دھوکا دہی کے بعد بھی امریکہ اور اس کے حواریوں سے وفاداری اور فوائد کی اُمیدیں لگائے ہوئے ہیں جو کہ سراسر قرآن کی نصوص صریحہ کی خلاف ورزی ہے۔

خالق کائنات نے ارشاد فرمایا:۔

 يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوالَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصْرَى أَوْلِيَاءُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءَ بَعْضٍ (المائدة : ۵۱)

 ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ، وہ (صرف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔

_G.20 سیٹ بمقابلہ سی پیک:۔

G.20 سربراہی اجلاس کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انڈیا مشرق وسطی یورپ اکنامک کوریڈور کا اعلان کیا۔

جس کا آغاز بھارت کے شہر ممبئی کو بندرگاہ بنانے سے ہوگا جو براستہ سمندر متحدہ عرب امارات سعودی عرب سے ہوتا ہوا اسرائیلی بندرگاہ حائفہ تک پہنچنے گا۔

پھر حائفہ سے یورپ، جرمنی سے ہوتا ہوا فرانس تک اختتام پذیر ہوگا۔ گویا اس کاریڈور کے ذریعے ہندو مسلم، عیسائی اور یہودی سب ایک صفحے پر ہوں گے۔

امریکہ اور اسرائیل عرصہ دراز سے اس بات کے خواہاں ہیں کہ فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کو پس پشت ڈال کر اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت اور باہمی تعلقات کو خوشگوار کیا جائے۔

جس میں یقیناً امریکہ اور اسرائیل کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ اسرائیل یهودی ریاست ایک دجالی ریاست ہے جس کو تسلیم کرنا اس کے ساتھ تعلقات رکھنا مسلمانوں کو دجال کے فتنہ میں مبتلا کرنا ہے۔ اور یہ اسلام سے کھلم کھلا غداری کے مترادف ہے۔

اس کے ساتھ یہ انڈیا، مشرق وسطیٰ ، یورپ کاریڈرو C.PEAK کے مقابلہ میں انڈیا کا پاکستان پر ایک وار ہے۔

امریکہ اور انڈیا سی پیک کے مقابلہ میں اس کو لائے ہیں جو کہ انڈیا کی پاکستان دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔

آج اس وقت عالمی سفارت کاری میں جب انڈیا اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتا نظر آ رہا ہے اور دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے اور تیسری بڑی معیشت بننے کی طرف رواں دواں ہے۔

وہاں پاکستان کے نالائق حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ پاکستانی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ پاکستان کا سب سے قریبی دوست سعودی عرب انڈیا کے ساتھ بیٹھا نظر آرہا ہے۔

اس وقت کئی طرح کے محاذ پاکستان میں سر اٹھا رہے ہیں معاشی محاذ، اندرونی و بیرونی دہشتگردی کا سامنا،سیاسی محاذ ، مذہبی افراتفری، تنگ نظری، پاکستان کی سرحدوں کے دونوں اطراف دہشتگردی کا سامنا، سیاسی محاذ، عدالتی جنگی محاذ ، پاکستان کی سرحدوں کے دونوں اطراف دہشتگرد گروپوں کی موجودگی، دہشتگردوں کا چترال پر حملہ اور اس پر مزید پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان عراق، ایران کی طرز پر جنگ چھیڑنے کے لیے دشمنان پاکستان کی مکروہ سازشیں ہیں

اور اب کی بار پاکستانی لڑکیوں کی عالمی مقابلہ حسن میں شرکت ان تمام مسائل کا حل امریکہ یا چائنہ کی غلامی میں نہیں بلکہ اسلام سے وفاداری میں ہے۔

 قبلہ امیر المجاہدین رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے امت مسلمہ اگر اپنا کھویا ہوا عروج واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسلام کی طرف واپس آجائے۔

اس راستے کی طرف واپس آ جائے جو اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے امت کی کامیابیوں کے لیے متعین کر دیا ہے جس پر چلتے ہوئے ہمارے اسلاف نے دنیا پر حکومت کی۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ آج ہم کفر کے دیئے ہوئے نظام میں اپنی کامیابی کو تلاش کر رہے ہیں اور کفر کے نظام میں نظامی غلامی کر رہے ہیں جو کہ شرک فی الاحکام کے مترادف ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:۔

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (المائدة : ۴۷)

ترجمہ: اور جو اللہ کے اُتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں۔

 مسلمانوں کے لیے اسلامی نظام یعنی خلافت اسلامیہ کا قیام ہی واحد حل اور فلاح کا راستہ ہے جب تک خلافت رہی تو مسلمان اپنی ایک حیثیت اور شناخت سے دنیا میں رہے

اور یہ خلافت ہی کی برکات تھیں کہ جب تک خلافت عثمانیہ قائم رہی بیت المقدس محفوظ رہا۔

خلافت عثمانیہ کے سقوط کے عظیم سانحہ کی وجہ سے آج بیت المقدس اور ارضِ فلسطین کا اکثر علاقہ دجالی ریاست کے ناجائز قبضہ میں ہے

اور غزہ شہر زندہ لوگوں کے جہنم کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خبر یہ بھی ہے کہ مسلم افریقی کرنل معمر قزانی کا ملک لیبیا اس کا ایک شہر درنہ ( جس کی آبادی تقریبا 90000 ہے )

شدید سمندری طوفان اور ڈیم ٹوٹنے کی وجہ سے اپنی تاریخ کی ایک بڑی تباہی سے دو چار ہے۔ شہر کا ایک تہائی حصہ ملیا میٹ ہو گیا ہے

جس میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 40000 تک پہنچ جائے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمارے لیبیائی مسلمانوں کی اس حالت پر رحم فرمائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم ملک مراکش میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ آیا جس سے مرنے والوں کی تعداد تین ہزار کے قریب جبکہ کئی ہزار لوگ زخمی ہوئے۔

مسلم ممالک میں اس طرح زلزلے اور طوفان اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ فتنہ دجال کی حامی ریاستیں امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ اس تخریب کاری کے پیچھے ہوں تا کہ آنے والے مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جاسکے۔

فتنہ دجال کے اس میں ملوث ہونے کا یہ دعویٰ اتنا بھی بلا دلیل نہیں ہے کہ اس کو صرف نظر کر لیا جائے کیونکہ اس کے خفیہ عزائم میں اس طرح کی تفصیلات کئی بار منظر عام پر آچکی ہیں۔

ایک اقتباس ملاحظہ کریں !!!

 امریکی سائنسدانوں نے ایک ادارہ قائم کیا ہے جو موسموں میں تبدیلی سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔

یہ ادارہ نہ صرف موسموں میں تغیر کا ذمہ دار ہے بلکہ کرہ ارض میں زلزلوں اور طوفانوں کے اضافے کا ذمہ دار بھی ہے۔

اس پروجیکٹ کا نام Haarp یعنی high frequency avtive auroral research program ہے۔ اس کے تحت 1960ء کے عشرے سے یہ تجربات ہو رہے ہیں کہ راکٹوں اور مصنوعی سیاروں کے ذریعے بادلوں پر کیمیائی مادے چھڑکے جائیں جس سے مصنوعی بارش کی جا سکے۔

یہ ساری کوشش قدرتی وسائل کو قبضے میں لینے کی ہے اور فتنہ دجال کے عالمی تسخیر کے منصوبے کا حصہ ہیں تا کہ دجال جسے چاہے بارش سے نوازے اور جسے چاہے قحط سالی میں مبتلا کر دے۔

 اس کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ وہ قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ ایسا ان شاء اللہ نہیں ہو سکتا مگر کچھ نہ کچھ وہ ضرور حاصل کریں گے۔

وَ مَكَرُوا وَ مَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمَكِرِينَ (آل عمران: ۵۴)

ترجمہ: اور کافروں نے خفیہ منصوبہ بنایا اور اللہ نے خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے۔

 ہم مسلمانوں کے لئے بیدار ہونے کا وقت ہے کہ ہم قدرتی وسائل اور خوراک سے فائدہ اُٹھائیں اور فطرت کے مطابق اپنا معاش چلائیں ۔

مصنوعی اشیاء یا مصنوعی طریقے سے محفوظ کردہ اشیاء سے خود کو بچائیں جو آگے چل کر دجالی غذائیں بننے والی ہیں۔

خصوصاً تین مصنوعی چیزیں : مصنوعی آٹا، مصنوعی چکنائی اور مصنوعی میٹھا۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کی خبر ہے کہ سائنسدانوں نے گندم کا جنیاتی کوڈ ورڈ حاصل کر لیا ہے۔

” اعاذنا الله من فتنة الدجال“”

*کرکٹر خالد لطیف کی جرأت کو سلام :*

قومی کرکٹر خالد لطیف حفظہ اللہ تعالیٰ نے ملعون گستاخ گیرٹ وائلڈرز کے سر کی قیمت 3 ملین مقرر کی جس کی وجہ سے نیوزی لینڈ نے انہیں 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

حالانکہ اگر یہ جرم ہے تو امریکہ اور یورپی یونین نے کتنے مسلمان زعماء کے سروں کی قیمت مقرر کی اور اس طرح وہ مغرب جو ہر وقت آزادی اظہار رائے کے نعرے لگاتا ہے اور آزادی اظہار رائے کی آڑ لے کر وہ کس حد تک جاتے ہیں۔

ہمارے آقا و مولی رحمتہ للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے تک شائع کرتے ہیں اور کرتے رہے اور اسی آزادی اظہار کی آڑ لے کر کتاب اللہ قرآن عظیم کی کئی بار بے ادبی کی گئی

اور جلایا گیا یہاں کا بدترین منافقانہ دوہرا معیار دیکھیں کہ یہ تمام آزادی اظہار کے تحت درست ہے اور گستاخ کے سر کی قیمت مقرر کرنا آزادی اظہار کے تحت نہیں آتا۔

فیا للعجب والی اللّٰہ المشتكى

غربة الاسلام في ھذا الزمن

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

 ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

     __________________

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment