مدت رضاعت سے متعلق امام اعظم علیہ الرحمہ پر کیے جانے والے اعتراض کا جواب 

Rate this post

مدت رضاعت سے متعلق امام اعظم علیہ الرحمہ پر کیے جانے والے اعتراض کا جواب

مسئلہ نمبر51

سوال: رضاعت کی مدت فقہ حنفی میں کتنی ہے،اس حوالے سے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر غیر مقلد اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں دوسال مدت مذکور ہے لیکن امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے اڑھائی سال لکھی ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

دودھ پلانے کے جواز کی مدت فقہ حنفی میں دوسال ہی ہے البتہ اگر کوئی عورت دو سال کے بعد بھی اڑھائی سال کے اندر اندر کسی بچے کو دودھ پلادے توحرمتِ رضاعت ثابت ہوجاتی ہے اور امام اعظم رضی اللہ عنہ پر اس مسئلے میں جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے دو سال کی جگہ اڑھائی سال فرمایا ہے۔تو وہ آپ نے قرآن پاک کی اس آیت کی روشنی میں فرمایا ہے

{ وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَلَاثُوْنَ شَہْرًا}

ترجمہ کنز الایمان: اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے۔(سورۃ الاحقاف، سورت46،صفحہ15)

اس میں حمل اور دودھ چھڑانے دونوں کی الگ الگ مدت بیان کی گئی ہے۔ جس آیت میں دو سال تک دودھ پلانے کاذکر ہے، اس کا تعلق اجرت رضاعت کے ساتھ ہے کہ دوسال تک باپ پر اجرت پر دودھ پلانا لازم ہے،اس کے بعد دودھ پلانا لازم نہیں۔دودھ پلانے کے مسئلہ میں صاحبین کے قول پر فتویٰ ہے کہ دو سال سے اوپر دودھ پلانا جائز نہیں البتہ اگر اڑھائی سال کے اندر کسی بچے نے دودھ پی لیا تو حرمت رضاعت ثابت ہوجائے گی۔

دوسرا معترضین کے اکابرین کے نزدیک اگر داڑھی والا آدمی بھی دودھ پی لے تو رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ لھذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اڑھائی سال میں تو رضاعت ثابت نہ ہو اور رضاعت کبیر ثابت ہو جائے جس کا انکار باقاعدہ احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

’’وأبو حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی استدل بقولہ تعالی{وحملہ وفصالہ ثلاثون شہرا}وظاہر ہذہ الإضافۃ یقتضی أن یکون جمیع المذکور مدۃ لکل واحدۃ منہما إلا أن الدلیل قد قام علی أن مدۃ الحبل لا تکون أکثر من سنتین فبقی مدۃ الفصال علی ظاہرہ، وقال اللہ تعالی{فإن أرادا فصالا عن تراض منہما وتشاور}الآیۃ فاعتبر التراضی والتشاور فی الفصلین بعد الحولین فذلک دلیل علی جواز الإرضاع بعد الحولین‘‘

ترجمہ:امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیت سے استدلال فرمایا اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے یہ اضافت حمل اور رضاعت دونوں کی الگ الگ مدت کو بیان کرتی ہے۔ البتہ حمل کے متعلق حدیث پاک میں دوسال کی مدت بیان فرمادی گئی تو مذکورہ آیت میں بیان کردہ صورت مدت رضاعت کے لئے خاص ہوگئی۔ اللہ پاک نے ایک اور جگہ فرمایا پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں اس آیت میں دوسال کے بعد باہم مشورے سے دودھ چھڑانے کے متعلق فرمایا گیا ،جس سے دو سال کے بعد دودھ پلانے کا جواز ثابت ہوا۔(المبسوط،کتاب النکاح، باب الرضاع، ج5، ص136، دار المعرفۃ، بیروت)

الاختیار میں ہے:

’’والآیۃ الأولی محمولۃ علی مدۃ الاستحقاق حتی لا یکون للأم المبتوتۃ المطالبۃ بأجرۃ الرضاع بعد الحولین، فعملنا بالآیۃ الأولی فی نفی الأجرۃ بعد الحولین، وبالثانیۃ فی الحرمۃ إلی ثلاثین شہرا أخذا بالاحتیاط فیہما‘‘

ترجمہ: پہلی آیت مدت استحقاق پر محمول ہے کہ دوسال کے بعد طلاق بائنہ والی کے لئے پیسے لے کر دودھ پلانے کا مطالبہ درست نہیں پہلی آیت کے متعلق ہمارا عمل یہ ہے کہ دو سال کے بعد دودھ اجرت پر پلاناباپ پر لازم نہیں اور تیس ماہ دودھ پلانے کی مدت میں حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی اس میں احتیاط ہے۔

(الاختیار لتعلیل المختار،کتاب الرضاع،جلد3،صفحہ118،مطبعۃ الحلبی،القاہرۃ)

 اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:

’’(و قالا سنتان) لان ادنی مدۃ الحمل ستۃ اشہر فبقی للفصال حولان قال فی الفتح: وھو الاصح‘‘

ترجمہ: صاحبین فرماتے ہیں کہ مدت رضاعت صرف دو سال ہے کیونکہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے اور مدت رضاعت کے لیے باقی دو سال بچتے ہیں فتح القدیر میں ہے کہ یہی دو سال والا قول زیادہ صحیح ہے۔

(اللباب فی شرح الکتاب، کتاب الرضاع، جلد3، صفحہ31 ،مطبوعہ بیروت)

ردالمختار میں ہے:

’’(حَوْلَانِ وَنِصْفٌ عِنْدَهُ وَحَوْلَانِ ) فَقَطْ ( عِنْدَهُمَا وَهُوَ الْأَصَحُّ ) فَتْحٌ وَبِهِ يُفْتَى كَمَا فِي تَصْحِيحِ الْقُدُورِيِّ‘‘

 ترجمہ: مدت رضاعت امام صاحب کے نزدیک اڑھائی سال اور صاحبین کے نزدیک صرف دو سال ہے اور یہی دو سال والا قول زیادہ صحیح ہے، یہ بات فتح القدیر میں ہے، اور اسی پر فتویٰ ہے جیسا کہ ”تصحیح القدوری“ میں ہے۔ (الدر المختار مع رد المختار باب الرضاع جلد4 صفحہ387،مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

’’بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے لیے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو 2برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلا دے گی، حرمت نکاح ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا، تو حرمت نکاح نہیں اگرچہ پلانا جائز نہیں۔‘‘(بہار شریعت جلد2،حصہ9، صفحہ37، مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

کنز الدقائق از وحید الزماں وہابی مولوی وحید لکھتا ہے

”ویجوز ارضا ع الکبیر ولوکان ذالحیۃ لتجویز النظر “

ترجمہ: نظر کے جائز کے ہونے کے لیے بڑے آدمی اگرچہ وہ داڑھی والا ہو کو دودھ پلانا جائز ہے۔( کنز الحقائق از وحید الزمان: صفحہ67، نزل الابرار از وحید الزمان، صفحہ77، مطبوعہ کراچی)

عرف الجادی میں وہابی مولوی نواب میر نورا لحسن خان لکھتا ہے

’’ارضاع کبیر بنا ء بر تجویز نظر جائز است “

ترجمہ: نظر کے جائز ہونے کے لیے بڑے آدمی کو دودھ پلانا جائز ہے۔(عرف الجادی از نواب میر نور الحسن خان: صفحہ 130 مطبوعہ کراچی)

واللہ ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ بابر عطاری مدنی اسلام آباد

14ربیع الثانی1445/ 30اکتوبر 2023

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment