مختصر تذکرہ حضرت علامہ مولانا پیر محمد چشتی چترالوی رحمہ اللہ

Rate this post

شروع شروع میں جب میں نے پیر محمد چشتی چترالوی رحمہ اللہ (بانی جامعہ غوثیہ معینیہ پشاور) کا نام سنا تھا تو لگا کہ یہ بھی کسی خانقاہ کے پیر رہے ہوں گے، پر جب تھوڑی تحقیق کی تو معلوم چلا کہ یہ اپنے وقت کے بلند پایہ عالم، متكلم، مفسر، محدث، فقیہ، محقق، مصنف، منطقی اور شیخ طریقت تھے۔

پیر محمد چشتی چترالوی رحمہ اللہ

جب آپ جامعہ انوار العلوم ملتان میں سید احمد سعید کاظمی محدث امروہوی رحمہ اللہ کے پاس دورۂ حدیث کر رہے تھے، اسی زمانے میں تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کا قیام اور پہلا امتحان ہوا، امتحان میں آپ نے پورے ملک میں اول پوزیشن حاصل کی۔

جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف میں علامہ اشرف سیالوی، علامہ غلام محمد تونسوی اور مولانا عبد الحق بندیالوی رحمہم اللہ جیسے ممتاز اکابر علما آپ کے ہم درس تھے، اسی جماعت کے بارے میں اس جماعت کے کثرت مطالعہ اور دوران درس سوالات کی برسات کرنے کی عادت کو دیکھ کر ان کے استاذ علامہ عطا محمد بندیالوی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ اگر دنیا کا کوئی استاذ ان طلبا کو پڑھا کر مطمئن کر دے گا تو میں تدریس چھوڑ دوں گا۔

آپ نے علامہ عبد الغفور ہزاروی رحمہ اللہ سے دورۂ تفسیر کیا تھا، اور امتحان میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کی۔ علاوہ ازیں علامہ غلام رسول رضوی رحمہ اللہ (بانی وسابق شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور) ودیگر اساتذہ سے بھی تعلیم حاصل کی۔ الغرض وہ مختلف دبستان کے فیض یافتہ تھے۔ آپ نے ایک طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں، اس لیے آپ کے تلامذہ کثیر تعداد میں ہیں۔ آپ کی تصانیف کے موضوعات ومشمولات سے آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

 : محمد سلیم انصاری #ادروی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment