مختصر اقوال زریں 50 +

Rate this post

شیخ المشائخ، سیدنا حضور خواجہِ عالم قدس سرہ العزیز کی نمازیوں کے لئے مختصر اقوال زریں ( ہدایات)

نمازیوں کیلئے 10 اقوال زریں

۱- جب نماز ادا کرنے مسجد میں جمع ہوں تو پہلی صف میں بیٹھنا شروع کریں – جب اس میں گنجائش نہ رہے تو دوسری صف میں بیٹھیں ۔

۲- اقامت کے بعد صفیں درست کرنے میں وقت لگ جاتا ہے اور تکبیرِ اولیٰ (جس کا بہت ثواب ہے) فوت ہو جاتی ہے – حدیث شریف میں ہے: “تکبیرِ اولیٰ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے” –

۳- جب نماز کے لئے کھڑے ہوں تو سر ڈھانپا ہونا چاہئے اور ٹخنے ننگے ۔

۴- نماز کے لئے کھڑے ہوں تو دونوں قدموں کے درمیان چار (۴) انگل یا اس کے قریب قریب فاصلہ رکھیں – حضرت قبلہِ عالم قدس سرہ العزیز کا یہی عمل ہے ۔

۵- رکوع میں پہنچنے سے پہلے تکبیر ختم ہو جانی چاہئے، رکوع میں پہنچ کر تکبیر ختم ہونے سے نماز مکروہ ہو جاتی ہے –

۶- رکوع میں ہاتھوں کی انگلیاں پھیلا کر گھٹنوں کو مضبوط پکڑیں، پنڈلیاں سیدھی رکھیں، پشت بالکل سیدھی رکھیں اور سر پشت کے برابر ہو –

۷- رکوع سے لوٹنے پر تھوڑی دیر سیدھا کھڑا ہونے کے بعد سجدہ میں جانا چاہئے –

۸- سجدہ میں پہلے دونوں زانو پھر دونوں ہاتھ زمین پر رکھیں، پھر ناک اور پھر پیشانی زمین پر رکھیں –

۹- سجدہ کے بعد پیشانی پھر ناک اور پھر ہاتھ اٹھاؤ اور بالکل سیدھے بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ جسم میں حرکت نہ رہے –

۱۰- دوسرے سجدہ کے بعد دوسری رکعت کے لئے اٹھو تو گھٹنے اٹھا کر پنجوں کے بل کھڑے ہو جاؤ – بغیر عذر کے زمین پر ہاتھ ٹیک کر اٹھنا صحیح نہیں –

ائمہ کرام کیلئے نصیحت

حضور سیدنا خواجہ عالم قدس سرہ العزیز نے ایک مرتبہ أئمہِ کرام سے فرمایا

“مقتدیوں کی رعایت میں جہاں نماز میں اختصار کی ضرورت ہے وہاں نماز کو ادھورا چھوڑنا یا عُجلت کرنا مطلوب نہیں بلکہ اس کی تکمیل و کمال بھی اسی قدر ضروری ہے ۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ رکوع سے سجدہ میں جاتے اور اسی طرح ایک سجدہ کے بعد دوسرے سجدہ میں جاتے ہوئے تعدیلِ ارکان کا خیال نہیں رکھا جاتا

یہاں تک کہ جسم سیدھا نہیں ہو پاتا اور دوسرا رُکن شروع ہو جاتا ہے – امام کو اس پر دھیان دینا چاہئے –

اس تعجیل سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ امام رکوع کے بعد قَومہ میں یہ کلمات پڑھ کر سجدہ میں جائے

رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ

اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھے

رَبِّ اغْفِرْلِیْ

یہ کلمات آپ یاد کر لیں اور ان پر عمل پیرا ہوں”

(مشاغلِ زُبدۃُ الزھاد: صفحہ ۶۲ تا ۶۴)

مزید پڑھیں

اقوال زریں | اقوال زرین اردو | مختصر اقوال زریں 30+

ملفوظات شریف

شیخ المشائخ، حضور سیدنا خواجہِ عالم

قدس سرہ العزیز

درویشوں کیلئے اقوال زریں

“ہم درویش ہیں – ہماری نگاہ ہر آن اللہ تعالیٰ پر ہے – وہی کارسازِ حقیقی ہے جو اس کشتی کو بطریقِ احسن چلا رہا ہے

اس ذات سے توجہ ہٹانا اور ماسویٰ کی خوشنودی کے پیچھے پڑنا ہم درویشوں کو زیب نہیں دیتا”

“ایسی اولاد جس کے باعث انسان دین کو فراموش کر دیتا ہے اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا، آخر میں اس کی جانب سے عدم توجہی کے باعث مایوسی کا شکار ہوتا ہے

آئے دن اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے – کتنے ہی ماں باپ اپنی اولاد کی بے وفائی اور سرد مہری کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں”

“آخرت کی فکر نام ہے مرضیاتِ الہٰی کے مطابق زندگی گزارنے کا – پس ہماری نصیحت ہے کہ دنیا میں اس طرح جیو کہ آپ کی ہر حرکت آخرت کے لئے توشہ بنتی رہے تاکہ وہاں مایوسی نہ ہو”

“نیک عمل کو اپنا شعار بنائیں، بدی سے بچیں”

“دنیا دارالمحن ہے – کبھی عُسر اور کبھی یُسر اس کا خاصہ ہے – اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں”

“سعادت اور شقاوت کا براہِ راست تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے – کتنے کامل آخری ایام میں راہِ راست سے بھٹک گئے اور کتنے ناقص آخری ایام میں کامل ولی بن کر ابھرے

انسان کو بساط بھر احکامِ خداوندی کی بجاء آوری کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور ہر آن اس کے فضل کا خواستگار رہنا چاہئے”

(تذکرہِ جاناں: باب/ملفوظاتِ مبارکہ)

ملفوظات شریف

سلطان المشائخ, بحرِ حقیقت و معرفت

سیدنا حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی

رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

“سب سے بڑا کام اللہ کا ذکر کرنا ہے پھر سخاوت اور تقویٰ اور پھر صالحین کی صحبت” –

“اللہ والوں کا قبلہ خداوند تعالیٰ ہے” –

“اللہ کی راہ بلا و خطر سے پر ہے – دس جگہ زہر کھانا پڑتا ہے گیارہویں مرتبہ جا کر شَکر ملتی ہے” –

(“ملفوظاتِ عالیہ”

مختصر اقوال زریں

تصنیفِ لطیف

جناب سیدنا حضرت خواجہ محمد عبدُالسلام صدیقی مجددی نقشبندی

حفظہ اللہ الکریم ونفعنا اللہ بھم فی الدنیاء والآخرۃ)

“اسمِ ذات “اللہ” کے ذِکر اور مراقبہِ خلوت میں مرید کی توجہ حق تعالیٰ کی طرف ہونی چاہئے

اور اپنے شَیخ کی روح کو وسیلہ سمجھنا چاہئے ۔

اس ذِکر میں فائدہ اسی قدر ہو گا جس قدر شَیخ سے نسبت یا عقیدت ہو گی۔

بزرگوں کے ساتھ عقیدت کا ہونا دراصل اللہ کے ساتھ عقیدت ہے جس طرح تواضع تو لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے مگر درحقیقت یہ اللہ کے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ اگر تواضع اللہ کے لئے نہیں تو یہ بات ریّاکاری میں شامل ہوتی ہے” –

(مراۃ الاسرار)

“الہٰی تیرا بھید ہر صاحب راز کے سینے میں جلوہ گر ہے – تیری رحمت کا دروازہ ہر کسی کے لئے کھلا ہے – جو بھی تیری بارگاہ میں عاجزی سے آتا ہے وہ بھلا کب محروم رہتا ہے” ۔

(عین الفقر)

ملفوظ شریف

جناب سیدی مرشدِ کریم

حضرت خواجہ محمد بدرُالاسلام صدیقی مجددی نقشبندی

حفظہ اللہ الکریم ونفعنا اللہ بھم فی الدنیاء والآخرۃ

“اگر حوا (علیہا السلام) کی بیٹیاں یہ چاہتی ہیں کہ دنیوی اور اخروی زندگی کی کامرانیاں ان کا مقدر بنیں تو انہیں امہات المؤمنین (رضی اللہ تعالیٰ عنھن اجمعین) کی غلامی اور ان کی مثالی زندگیوں سے اکتسابِ نور کرنا پڑے گا” –

(روضۃ الحمیراء)

توتیائے چشم سازم خاکِ پائے نقشبند

تا بیابم سِرِّ حق از لطفِ سائے نقشبند

“میں حضرتِ نقشبند کی خاکِ پا کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنانا چاہتا ہوں

تاکہ میں حضرتِ نقشبند کے سایہِ کرم سے رازِ حق پاؤں”

(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

ملفوظ شریف

شیخ المشائخ، حضور خواجہِ عالم

قدس سرہ العزیز

“دنیا کی بنیاد خوشی اور غم پر ہے – انسان کو چاہئے کہ راضی بر رضاء رہے” –

(مکاتیب الفردوس : جلد ١ : مکتوب نمبر ٥٥)

الجمعۃ خیر الایام

فزینوھا بخیر الکلام

صل علی خیر الأنام

صلی اللہ علی حبیبہ محمد وآلہ وسلم

طریقت کے میدان میں سب سے اہم شیخ کا احترام ہے – تمام اکابر اولیائے کاملین کا فیصلہ ہے

الطریقۃ کلھا ادب

“طریقت اوّل تا آخر ادب ہے”

جس طالبِ حق نے ادب کو ملحوظ رکھا وہی کامیاب و کامران ہوا اور جس نے اسے پسِ پشت ڈالا، فلاح و بہبود سے کوسوں دُور رہا –

از خدا خواہیم توفیقِ ادب

بے ادب محروم ماند از فضلِ رب

“ہم اللہ کی بارگاہ سے ادب کی توفیق طلب کرتے ہیں کیونکہ بے ادب اللہ تعالیٰ کے فضل سے محروم رہ جاتا ہے” –

(سبل الرشاد: دفتر ۸)

حضرت سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ السامی سے دریافت کیا گیا کہ

محبت کے بارے میں اقوال زریں

“محبت کیا ہے”؟

تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا۔

“محبت، محبوب کی طرف سے دل میں ایک تشویش ہوتی ہے پھر دنیا اس کے سامنے ایسی ہوتی ہے جیسے انگوٹھی کا حلقہ یا چھوٹا سا ہجوم۔

محبت ایک نشہ ہے جو ہوش ختم کر دیتا ہے، عاشق ایسے محو ہیں کہ اپنے محبوب کے مشاہدہ کے سوا کسی چیز کا انہیں ہوش نہیں

وہ ایسے بیمار ہیں کہ اپنے مطلوب (یعنی محبوب) کو دیکھے بغیر تندرست نہیں ہوتے، وہ اپنے خالق جل شانہ کی محبت کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے اور اُس کے ذکر کے سوا کسی چیز کی خواہش نہیں رکھتے” –

پھر پوچھا گیا

خوف کے بارے میں اقوال زریں

“خوف کیا ہے”؟

حضرت محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ:

“اس کی بہت سی قسمیں ہیں:

۱- خوف: یہ گنہگاروں کو ہوتا ہے

۲- رہبہ: یہ عابدین کو ہوتا ہے

۳- خشیت: یہ علماء کو ہوتی ہے

نیز ارشاد فرمایا۔

“گنہگار کا خوف عذاب سے، عابد کا خوف عبادت کے ثواب کے ضائع ہونے سے اور عالم کا خوف طاعات میں شرک خفی سے ہوتا ہے” ۔

پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا

“عاشقین کا خوف ملاقات کے فوت ہونے سے ہے اور عارفین کا خوف ہیبت و تعظیم سے ہے

اور یہ خوف سب سے بڑھ کر ہے کیوں کہ یہ کبھی دور نہیں ہوتا اور ان تمام اقسام کے حاملین جب رحمت و لطف کے مقابل ہو جائیں تو تسکین پاجاتے ہیں” ۔

(بہجۃ الاسرار)

ملفوظ شریف

شیخ المشائخ حضور خواجہِ عالم

قدس سرہ العزیز

“معمولات کو دھیان اور توجہ سے پڑھیں، ذکرِ قلبی نقشبندیوں کا پسندیدہ عمل ہے اس پر زیادہ توجہ دیں” –

(مکاتیب الفردوس: جلد ١: مکتوب شریف نمبر ۹)

حضرت قبلہ حاجی پیر صاحب (اعلی اللہ درجتہ فی الفردوس الاعلی) نے اپنی تمام فکری اور جذباتی عادات کو شریعت کی اتباع اور سنت پر ڈھالا ہوا تھا ۔

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی شخصیت پر براہ راست اخلاقِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کا اس قدر رنگ چڑھا ہوا تھا جسے دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے والد و شیخِ محترم (رحمۃ اللہ تعالی علیہ) بے ساختہ پکار اٹھے ۔

“حاجی صاحب (رحمۃ اللہ تعالی علیہ) تو خلقِ رسولی (صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کا مظہر ہیں” ۔

صاحبزادہ محمد معروف صاحب کا بیان ہے کہ

حضرت خواجہ عالم رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرمایا کرتے تھے

“جس نے ادب سیکھنا ہو وہ حضرت حاجی پیر صاحب (رحمۃ اللہ تعالی علیہ) سے سیکھے” ۔

(شریعت و طریقت کے نیّرِ تاباں)

ملفوظ شریف

خواجہِ خواجگان، حضور قبلہ حاجی پیر صاحب

اعلی اللہ درجتہ فی الفردوس الاعلی

“ہدایت کا منبع و مخزن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہیں

ہدایت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے دروازے سے ملتی ہے

روحانیت کا سر چشمہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہی کی ذات بابرکات ہے

تصوف سارے کا سارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے روپ پر مشتمل ہے

جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا بے ادب و گستاخ ہے، وہ روحانیت اور اس کے سوز و گداز اور کیف و لطف سے فیض یاب نہیں ہو سکتا” ۔

(سیرتِ سیدی فریدُ العصر: صفحہ ۶۶)

ملفوظ شریف

شیخ المشائخ حضور خواجہِ عالم

قدس سرہ العزیز

“معمولات کو دھیان اور توجہ سے پڑھیں، ذکرِ قلبی نقشبندیوں کا پسندیدہ عمل ہے اس پر زیادہ توجہ دیں” –

(مکاتیب الفردوس: جلد ١: مکتوب شریف نمبر ۹)

ہزار بار بشویم دہن بہ مشک و گلاب

ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبیست

“اگر ہزار بار بھی اپنا منہ مشک و گلاب سے دھوؤں، تو پھر بھی آپ (صلى الله عليه وآلہ واصحابہ وسلم) کا (پاکیزہ) نام لینا بہت بڑی بے ادبی ہے” –

دگرگوں کرد لادینی جہاں را

ز آثار بدن گفتند جاں را

ازاں فقرے کہ با صدیق دادی

پشورے آورایں آسودہ جاں را

“ساری دنیا میں لادینی پھیلی ہوئ ہے – حد یہ ہے کہ دنیا والے روح کو بھی جسم کے آثار میں شمار کرنے لگے ہیں – جو فقر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو بخشا تھا، اس سے ہماری بے حِس روحوں میں سوز و حرارت پیدا فرما دیجئے” –

(علامہ محمد اقبال – رحمۃ اللہ تعالی علیہ)

ملفوظ شریف

خواجہِ خواجگان، حضور سیدنا قبلہ حاجی پیر صاحب

اعلی اللہ درجتہ فی الفردوس الاعلیٰ

“امرِ حق کی مخالفت کرنے والے کے ساتھ

“الحب للہ والبغض للہ”

کا سلوک ہوتا ہے” ۔

(شریعت و طریقت کے نیّرِ تاباں)

ملفوظ شریف

جناب سیدی مرشدِ کریم

حضرت خواجہ محمد بدرُالاسلام صدیقی مجددی نقشبندی

حِفْظُہُ اللہُ الْکَرِیْم وَنَفَعْنَا اللہُ بِھِمْ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃُ

“انسان کی عزت و عظمت, راحت, سکون اور طمانیّت کا دارومدار مکارمِ اخلاق پر ہے جن کی تعلیم معلمِ اخلاق صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے دی

یہی زیور ہے جس سے انسان کا وہ حسن و جمال ظاہر ہوتا ہے جو اس کی تقویم میں موجود ہے

جب انسان حسنِ اخلاق سے محروم ہو جاتا ہے تو وہ ہر قسم کے حسن و جمال سے محروم ہو جاتا ہے

بد قسمتی سے اس دور میں ہم اسی محرومی کا شکار ہیں – نتیجتاً ہماری زندگی کے کسی شعبہ میں حسن باقی نہیں رہا ۔

نہ عزت رہی, نہ عظمت رہی, نہ رعب و دبدبہ –

صرف قومی سطح پر ہی ہم پریشانیوں میں مبتلا نہیں بلکہ انفرادی طور پر بھی ہمیں سکون و اطمینان میسر نہیں

ہر گھر میں بے چینی و بد امنی ہے – اس کی وجہ صرف اور صرف اسلام سے دوری ہے” –

(سلسلہِ اخلاقیات نمبر ١ : مہمان نوازی)

مزید پڑھیں

اُردو کے اقوال زرین 

سیدنا حضرت خواجہِ عالم قدس سرہ العزیز کی ذات جامع کمالاتِ ظاہری و باطنی تھی لیکن کسی نے اس کا اظہار آپ کی زبانِ مبارک سے نہیں سنا

تصنع و بناوٹ سے ہمیشہ گریزاں رہے – عمر بھر نام کے ساتھ علو مرتبت پر دال کسی لاحقے، سابقے کو پسند نہ فرمایا

حد درجہ متواضع اور منکسر المزاج تھے – کسی کمال و خوبی کو اپنی طرف منسوب نہیں ہونے دیا

(انکساری کے طور پر) فرماتے

“بندہ کی مثال تو بے پر پرندہ کی طرح ہے جس کے پر بھی نہ اُگے ہوں اور جو لوتھ کی لوتھ ہو” –

تواضع اور انکساری کا اظہار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تحریرات میں بھی موجود ہے –

خطوط کے آخر میں اپنے لئے یہ الفاظ تحریر فرماتے

فقیرِ حقیر لاشئ

فقیرِ بے نوا

حررہ لاشئ

بِیَدِ الفقیر الحقیر

درویش

خادمِ اہلِ طریقت

فدوی

ایک محب کو، جس نے محبّانہ انداز میں آپ قدس سرہ العزیز کو مختلف القابات کے ساتھ مخاطب کیا تھا، اس طرح تحریر فرمایا۔

“نیک لوگوں کا اصول ہے کہ وہ دوسروں کو خود سے بہتر سمجھتے ہیں

آپ نے بھی اسی حسنِ ظن کا اظہار کیا ہے ورنہ بندہ ان القابات اور خطابات کا متحمل نہیں ہے اور بندہ کے حق میں ان الفاظ کا استعمال موزوں نہیں

اگر آئندہ بندہ کو خط لکھیں تو اس کی حیثیت کے مطابق خطاب کریں” –

(مکتوب شریف: مورخہ ۱۸ اگست ۱۹۹۹)

اسی تواضع اور انکساری کا ثمر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ قدس سرہ العزیز کو وہ رفعت و عظمت بخشی جس کی نظیر بہت کم دکھائ دیتی ہے

(تذکرہِ جاناں: تقدیم: صفحہ ۱۸-۱۹)

جب ہم حضرت خواجہِ عالم قدس سرہ العزیز کی حیاتِ مبارکہ پر نظر ڈالتے ہیں

تو عیاں ہوتا ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی زندگیِ مبارک کا ہر ایک سانس, ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی یاد کے لئے وقف تھا

اٹھتے بیٹھتے, چلتے پھرتے, سوتے جاگتے, خاموشی اور گفتگو, جلوت و خلوت الغرض ہر حال میں آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ ذکرِ الٰہی میں مصروف رہا کرتے تھے –

اللہ تعالیٰ کا ذِکر آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے دل و دماغ بلکہ جسمِ مبارک کے روئیں روئیں میں سمایا ہوا تھا –

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ

“یذکرون اللہ قیاماً و قعود و علی جنوبھم”

کی عملی تصویر تھے –

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی مجلس شریف میں بیٹھنے والے گواہ ہیں کہ دورانِ گفتگو بھی آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تسبیح تیزی سے یا آہستہ آہستہ چلتی رہتی تھی –

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے عمر بھر ذکرِ الٰہی کی خیرات کو تقسیم فرمایا – جو آیا، خواہ کسی مقصد کے لئے آیا, دنیاداری کا مقصد لیکر آیا یا دین داری کا, ہر کسی کو یہی اللہ کا ذکر تلقین فرمایا –

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی یہی خواہش ہوتی کہ :

“ہر آنے والا ایسا ذاکر بن جائے کہ “اُسی” کی پاک بارگاہ کا حقیقی بندہ بن جائے” –

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی مجلسِ مبارک میں بیٹھنے سے دنیا کی محبت سے دل سرد ہو جاتا – اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی محبت سے دل آباد ہو جاتے تھے –

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے :

“اللہ تعالیٰ کے ذِکر میں مشغول رہنا ہی درویشوں کے لئے اکسیر اور تسخیر ہے – جو اس کا خواہشمند ہو, ہم اسے اس کی تعلیم دیتے ہیں” –

(نورِ خانقاہِ ہدائت : باب / ذِکر : صفحہ / ۹۲ – ۹٣)

Anwaar e Sultania انوارِسلطانیہ

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment