محرم الحرام پر مختصر تحریر

Rate this post

 محر الحرام پر مختصر تحریر اور اس میں ہونے والے واقعات کا مختصر جائزہ

محرم الحرام

محرم  اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔اس مقدس مہینے کو دنیا بھر کے مسلمان انتہائی عقیدت و احترام سے منا تے ہیں یہ مہینہ دنیا کو یہ سبق دیتا ہے کہ کھبی بھی باطل کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ ڈٹ کے کھڑا ہونا ہے. یہ جنگ کربلا میں امام حسین (رضی اللہ عنہ) اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی یاد دلاتی ہے، جو 680 عیسوی میں ہوئی تھی۔

اسلامی سال کا آغاز ؟

اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام اور اختتام ماہ ذوالحج پر اس بات کی علامت ہے کہ اسلامی زندگی کا سفر قربانی سے شروع ہوکر قربانی پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔گویا مسلمان کی ساری زندگی کا سفر قربانی سے ہی عبارت ہے۔*

محرم الحرام کو عزت کیوں؟

      اللہ تعالیٰ نے ماہ محرم کو عزت و احترام اور حرمت و فضیلت کا مہینا قرار دیا ہے۔ مُحرّم الحَرام ایثار قربانی، اتحادِ امت، باہمی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔ مدینہ طیبہ سے میدان کربلا تک اسلام کے لیے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہِ مبارک سے وابستہ ہے. ان قربانیوں کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ ذاتی جذبات و خواہشات اور مفادات کو کسی بھی عظیم مقصد کے حصول کے لیے قربان کردیا جائے

محرم الحرام کے روزوں کی فضیلت

*🍃✒️ سيدنا أبو هريرة رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا :*

💠« أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ ».

*🌙✨’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزے الله کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے.‘‘*

سنن الترمذي : ٤٣٨

امام حسین رضی اللہ عنہ کون؟

امام حسین (رضی اللہ عنہ)  حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کے نواسے اور مولا علی (رضی اللہ عنہ) کے فرزند تھے۔ وہ عراق کے شہر کربلا میں اموی خلیفہ یزید کی فوج کے ہاتھوں امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بےداردی سے شہید کردیا گیا۔

جس نے حق کربلا میں ادا کردیا

اپنے نانا کا وعدہ وفا کر دیا

گھر کا گھر سپرد خدا کر دیا

جس نے امّت کی خاطر فدا کردیا

اس حسین ابنِ حیدر پہ لاکھوں سلام

شان آل علی کرم اللہ وجہہ الکریم

“حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی ﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت باہر تشریف لائے درآں حال یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر سیاہ اُون سے کجاووں کے نقش بنے ہوئے تھے۔ حضرت حسن بن علی رضی ﷲ عنہما آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اُس چادر میں داخل کر لیا، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ہمراہ چادر میں داخل ہو گئے، پھر سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس چادر میں داخل کر لیا، پھر حضرت علی کرم ﷲ وجہہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی :

“إِنَّمَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِرَکُمْ تَطْهِيْرًا”

’’اے اھلِ بیت! ﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دُور کردے اور تم کو خوب پاک و صاف کر دے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

(أخرجه مسلم فی الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل أهل بيت النبي، 4 / 1883، الرقم : 2424)

کربلا کا سانحہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے اور اسے ہر سال امام حسین رضی اللہ عنہ آور اسکے آل کو  خراج تحسین پیش کرنے کیلئے  یاد کیا جاتا ہے۔ ان میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شجاعت کے اشعار پڑھنا، کربلا کے واقعات غیرت سے بیان کرنا شامل ہیں۔ یہ وقت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں پر غور کرنے کا ہے جو ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

ہمیں اس وقت کو ان کی قربانیوں پر غور کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور ان کی انصاف، ہمدردی اور بہادری کی اقدار کو اپنی زندگیوں میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مستند_واقعۂ_کربلا

کہتے ہیں

 محدث اعظم پاکستان، حضرت علامہ مولانا ابوالفضل سردار احمد خان نوراللہ مرقدہ کو ایک محفل میں کہا گیا:

حضرت! واقعۂ کربلا مستند طریقے سے بیان کریں۔

 آپ نے خطبہ پڑھ کر ارشاد فرمایا:

“امام حسین #کربلا میں گئے اور #بڑی_بے_دردی کے ساتھ شہید کر دِیے گئے”

وماعلینا الا البلاغ المبین

🌹💦💙💚 تھوڑی سی توجہ فرمائیں 💚💙 💦🌹

سنی علماء و خطباء کو چاہیے کہ محرم میں شہادت کی منگھڑت داستانیں نہ سنائیں جو ہر ایک نے الگ سے بنا رکھی ہیں’ مقام امام حسین ‘ شان امام حسین ‘سیرت امام حسین ‘بشارات شہادت ‘ محبت اہلبیت ‘ مقام اہلبیت ‘ شان اہلبیت ‘ دفاع اہلبیت’ صبر اہلبیت’ اہلبیت کون؟ دفاع صحابہ و اہلبیت’ صحابہ و اہلبیت کے تعلقات اور رشتہ داریاں اس جیسے عنوانات پر مدلل اور پر مغز بیان کریں _ کیونکہ واقعہ کربلا کا سنی راوی ہی نہیں ہے یا پھر سنی راوی ثابت کریں ‘ یہ جھوٹ بول بول کر رونے رلانے کا کام چھوڑیں ‘ محبت امام حسین اور محبت اہل بیت سن کر بھی رونا تو آجاتا ہے پھر یہ آل رسول اور سید زادیوں کی بے حرمتی والی روایات سنانے کا آخر مقصد کیا ہے ؟ قوم کو بے وقوف بنا ناپیسہ حاصل کرنا یا عقیدہ اہل سنت کو کمزور ثابت کرنا ‘ بہت ہو گیا اب پڑھ لیا کریں ‘ رافضیت دن بدن سرایت کر رہی ہے اہل سنت میں _ اور خدارا عوام اہل سنت بھی گویا ٹائپ رافضی خطیبوں کو نہ بلائے’ امید ہے مہربانی ہو گی _

اعلیٰ_حضرت_اورغمِ_حسین_رضی_اللہ_عنہ

مٶیّدِ ملتِ طاھرہ، صاحب الدلاٸل القاھرة والباھرہ، حضرت العلّام امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:

”کون سا سُنّی ہوگا جسے واقعہ ہائلہ کربلا کا غم نہیں یا اس کی یاد سے اس کا دل محزون اور آنکھ پُر نم نہیں؟ ہاں مصائب میں ہم کو صبر کا حکم فرمایا ہے، جزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہے، اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہارِ غم ریاء ہے اور قصداً غم آوری و غم پروری خلافِ رِضا ہے۔ جسے اس کا غم نہ ہو اسے بے غم نہ رہنا چاہئے بلکہ اس غم نہ ہونے کا غم چاہئے کہ اس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اس کا ایمان ناقص۔“

[فتاوی رضویہ شریف، جلد 24، صفحہ 487، مطبوعہ رضا فاٶنڈیشن لاھور]

ماتم کرنا کیسا؟

 لہذا ہر سنی کو غم حسین ہے اور ہونا بھی چاہیٸے۔ لیکن غم کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماتم سینہ پیٹنا زنجیر زنی یا ہاٸے ہاٸے لٹ گٸے کی صداٸیں لگا کر تماشہ بنایا جاٸے۔ بلکہ وہی تعلمیات اپنانی چاہیٸے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عطا فرماٸیں۔

مسلمانوں کا نیا سال

ہم ہمیشہ نعمتوں کو اپنی نیکیوں کا انعام سمجھتے ہیں اور مصیبتوں کو اپنے گناہوں کی سزا ..

 نعمت شکر کا امتحان ہوتی ہے اور مصیبت صبر کا۔”💯🌺

میرے نزدیک ہر وہ چیز نعمت ہے جو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتی ہے آپ کو سکون دیتی ہے ۔ ♥️

ہر مسکراہٹ پہ رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے برکتیں بڑھتی نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔❣️

‏پریشانیوں میں گِھرے رہنے کے باوجود اپنے اللّٰہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا مومن ہونے کی پہلی نشانی ہے ۔♥️

ہمیں ہر حال میں آللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیئے

آمین یارب العالمین🫶🏻♥️

‏💥اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَماصَلَّيتَ عَلٰی اِبْراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْراھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُ

اَللَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکتَ عَلٰی اِبراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبراھيمَ اِنَّك حَمِيدُ مَّجِيدُ

محمد عدنان چنڈہ بندیالوی

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment