محبت معرفت کی چابی ہے مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ

Rate this post

محبت معرفت کی چابی ہے

دنیا نے ابن عربیؒ اور مولانا رومؒ جیسے بہت بڑے دانشور اور صوفی حضرتِ انسان کی رہنمائی کے لئے پیدا کئے۔ ابن عربیؒ تصوف کا سلیبس ہیں‘ مولانا رومؒ صوفیاءکے استاد اور ”محبت“ دونوں کی یونیورسٹی۔ یہ دونوں محبت کو معرفت سمجھتے تھے۔

مولانا روم ہم انسان محبت کی پیداوار ہیں

مولانا رومؒ نے فرمایا ”ہم انسان محبت کی پیداوار ہیں‘ محبت ہماری ماں ہے“۔ فرمایا ” سچائی کے بے شمار راستے ہیں مگر میں نے اپنے لئے محبت کا راستہ چنا“۔ فرمایا ”تم اگر عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہو تو اپنے دل میں انسانیت کےلئے محبت آباد کر لو“ ۔ فرمایا ”تمہاری اصل ہستی تمہاری سوچ ہے باقی تو صرف ہڈیاں اور خالی گوشت ہے“۔ فرمایا ”اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کرو‘ پھول بادل کے گرجنے سے نہیں اگتے‘ برسنے سے اگتے ہیں“۔ فرمایا ”رب نے فرمایا جاؤ پہلے خود کو ڈھونڈو تاکہ تم مجھے پا سکو“۔

قبرستان میں خاموشی

فرمایا ”تھوڑی دیر کیلئے قبرستان جا اور خاموشی سے بیٹھ اور ان بولنے والوں کی خاموشی کو دیکھ“ ۔ فرمایا ”غم نہ کرو‘ تم جو کھو رہے ہو وہ کسی اور شکل میں تم تک واپس آئے گا“۔ فرمایا ”میں نے ایسے بے شمار انسان دیکھے جن کے بدن پر لباس نہیں تھا اور میں نے بے شمار ایسے لباس بھی دیکھے جن کے اندر انسان نہیں تھے“ اور فرمایا ”میں پہلے پہل اس کی تلاش میں تھا‘ اب وہ مجھ میں ہے اور میں کھو گیا ہوں“۔

یہ وہ معرفت تھی جس کی تلقین مولانا رومؒمولانا رومؒ پوری زندگی کرتے رہے‘ ابن عربیؒ نے بھی محبت کو ”ڈی کوڈ“ کیا اور وہ بھی معرفت تک پہنچ گئے‘ ابن عربیؒ معرفت کو پہچان کہتے تھے‘ وہ فرمایا کرتے تھے اپنے آپ کو پہچاننا اور پھر اللہ کی پہچان یہ معرفت ہوتی ہے‘ مولانا وحید الدین معرفت کو ادراک یعنی سیلف ریلائزیشن اور شعوری دریافت (انٹیلیکچولڈ سکوری) کہتے ہیں‘

مولانا روم

یہ سمجھتے ہیں زندگی معرفت کا آغاز اور موت معرفت کیتکمیل ہے‘ ابن عربیؒ معرفت کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں‘ پہلی قسم معرفت رویت ہے‘ یہ صرف پیغمبروں کو نصیب ہوتی ہے‘ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے انہیں اپنی معرفت نصیب کرتا ہے‘ دوسری قسم عاجزی ہے‘ انسان اگر یہ سمجھ لے میں اس کائنات کی عاجز ترین مخلوق ہوں‘ میں کچھ نہیں ہوں‘ یہ کوئی اور ہے میں جس کی پتلی بن کر زندگی گزار رہا ہوں تو یہ معرفت کی دوسری قسم کو پا لیتا ہے‘

حضرت علیؓ نے اس دوسری قسم کو اس طرح واضح کیا” میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا“ ہم انسان کام کرنے اور کام کو انجام تک پہنچانے میں ناقص ہیں‘ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا ہم فصل بونے کے بعد فصل کاٹ بھی سکیں گے تا ہم ہم فصل بونے کا ارادہ ضرور کر سکتے ہیں‘ حضرت علیؓ نے یہ فرما کر ”میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو شناخت کیا“ یہ مہر لگا دی ہم انسان اس قدر حقیر ہیں کہ ہماری کیا مجال ہے ہم اپنے ارادوں پر بھی قائم رہ سکیں‘

عاجزی کی یہ آگاہی معرفت کی دوسری قسم ہوتی ہے اور تیسری قسم معرفت اختیاری کہلاتی ہے‘ ہم بحیثیت انسان کیا کیا اختیارات رکھتے ہیں‘ ہم کیا کیا کر سکتے ہیں‘ یہ آگاہی معرفت کی تیسری قسم ہے‘ صوفیاءکرام معرفت اختیاری اور معرفت عجز کے ماہر ہوتے تھے‘ یہ ان دونوں دائروں کے درمیان رہ کر کائنات کے تمام رموز جان جاتے تھے‘ ابن عربیؒ اور مولانا رومؒ کا خیال تھامعرفت کے ان دونوں دروازوں کی صرف ایک چابی ہے اور اس چابی کا نام محبت ہے‘

آپ کے ہاتھ میں اگر محبت کی چابی ہے تو آپ معرفت کے یہ دونوں دروازے کھول لیں گے ورنہ دوسری صورت میں آپ پوری زندگی بھٹکتے رہیں گے لیکن آپ اندر داخل نہیں ہو سکیں گے۔ہمارے رسول معرفت کے پرنسپل تھے‘ آپ سے ایک صحابیؓ نے عرض کیا‘ یا رسول اللہ ﷺ کون سا عمل افضل ہے‘ جواب دیا‘ اللہ کی معرفت‘ عرض کیا‘ یارسول اللہ ﷺ میری مراد کونس عمل ہے جبکہ آپ علم کی تلقین کر رہے ہیں‘ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا‘ علم کے ساتھ تھوڑا سا عمل بہت زیادہ نفع دیتا ہے اور جہالت کے ساتھ بہت سا عمل بہت نقصان پہنچاتا ہے‘

میں نے اس حدیث سے سیکھا آپ عمل سے پہلے اس کام سے متعلق علم حاصل کر لیں‘ آپ کم محنت میں زیادہ پھل پا لیں گے اور آپ کے پاس اگر علم نہیں تو آپ جتنا چاہیں عمل کریں آپ کے خسارے میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور مولانا رومؒ اور ابن عربیؒ کا معرفت کے بارے میں علم محبت پر مبنی تھا‘ یہ جان گئے تھے محبت اللہ کی معرفت کی کنجی ہے‘ یہ جان گئے تھے ہم اپنے دل کی کدورت جتنی کم کرتے جائیں گے ہمارا دل اتنا محبت کے نور سے روشن ہوتا جائے گا‘ ہم اتنے اللہ کی معرفت کے قریب ہوتے جائیں گے‘ اللہ کی ذات معرفت ہے اور اللہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے‘ یہ بدبخت ترین لوگوں کے عیبوں پر بھی پردہ ڈالے رکھتا ہے‘

ابن عربیؒ کے پاس دمشق کا ظالم ترین شخص آیا‘ ابن عربیؒ نے اسے محبت کے ساتھ اپنے پہلو میں بٹھالیا‘ شاگردوں نے اعتراض کیا‘ آپ نے جواب دیا یہ اپنے تمام مظالم کے باوجود اللہ کی پکڑ سے محفوظ ہے‘ اللہ آج بھی اس سے مایوس نہیں ہوا‘ میں اس سے نفرت کر کے اپنے اللہ کو کیوں ناراض کر لوں‘ ابن عربیؒ نے معرفت کے راستے پر چلنے والوں کی چند نشانیاں بھی بیان کی ہیں‘

آپؒ فرماتے ہیں انسان جب معرفت کو سمجھ جاتا ہے تو یہ سنجیدہ ہو جاتا ہے‘ یہ دنیا کی ہر چیز کو عارفانہ نظروں سے دیکھتا ہے‘ یہ شدت کے ساتھ اپنی ذات کا محاسبہ کرتا ہے‘یہ اپنی ذات میں چھپے کتے ایک ایک کر کے باہر نکال دیتا ہے‘ یہ عبادات کا لباس پہن لیتا ہے‘ یہ جلوت ہو یا خلوت یہ اللہ کی ذات کے ساتھ جڑا رہتا ہے‘ یہ اللہ کی ذات کے علاوہ کسی کو اپنی زبان پر نہیں لاتا‘ یہ اخلاق اور معاملات میں شریعت بن جاتا ہے‘ پوری دنیا میں کوئی شخص اس کی بدزبانی کا گواہ نہیں ہوتا‘ یہ وعدہ نہیں توڑتا‘ یہ معاملات طے کر کے منحرف نہیں ہوتا اور یہ معرفت کے ماحول میں جیتا اور معرفت کے ماحول میں مرتا ہے‘

یہ معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے جبکہ مولانا رومؒ معرفت پانے والوں کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں‘عارف کا دل انسانیت کی محبت سے آباد ہو جاتا ہے‘ عارف خالی گوشت اور کھوکھلی ہڈیوں سے بالاتر ہو کر سوچ بن جاتے ہیں‘ یہ محبت کو ماں سمجھتے ہیں‘ یہ انسانیت کو اپنا لباس بنا لیتے ہیں‘ یہ کھو جانے اور چھن جانے پر غم زدہ نہیں ہوتے‘ یہ خود کو ڈھونڈ لیتے ہیں‘ یہ خود کو پا لیتے ہیں‘ یہ اپنی آواز کو پست اور دلائل کو بلند کر لیتے ہیں اور یہ فرشتوں کے ہم نشین ہو جاتے ہیں اور یہ اکثر اوقات قبرستان میں بیٹھ کر مُردوں کی خاموشی کی آواز سنتے ہیں۔

Leave a comment