لگڑبھگے (Hyena) اور اعرابی کا دلچسپ اور سبق آموز واقعہ

Rate this post

  عرب میں رائج ضرب الامثال میں سے ایک ضرب المثل “أَحْمَقُ مِنَ الضَّبُع” (لگڑبھگے سے زیادہ بیوقوف) ہے۔

کم ذات انسان کے ساتھ بھلائی کرنے کا انجام

اس کا سیاق و سباق ایک حقیقی قصہ ہے؛

(عرب کے ماہرِ لسانیات) یونس بن حبیب (ت. 182هـ) سے امِ عامر (مادہ لگڑبھگا) کی مشہور مثل کے متعلق سوال کیا گیا

تو انھوں نے فرمایا کہ اس کا قصہ اس طرح ہے کہ چند لوگ گرمیوں کے موسم میں شکار کے لیے نکلے۔ جب وہ شکار کی تلاش میں پِھر رہے تھے تو ان کو ایک اُم عامر (مادہ لکڑبھگا) نظر آیا۔ شکاریوں نے اس کا پیچھا کیا مگر شکاری دوڑتے دوڑتے تھک گئے۔ اور وہ لکڑبھگا ان کے ہاتھ نہ آیا۔ چنانچہ آخر میں شکاری اس لکڑبھگے کو بھگاتے بھگاتے ایک اعرابی کے خیمہ کے پاس لے گئے۔ لکڑبھگا دوڑ کر خیمہ میں جا گھسا۔ اس کو دیکھ کر اعرابی خیمہ سے باہر نکلا اور شکاریوں سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ایک شکار جس کو ہم ہنکا رہے تھے آپ کے خیمہ میں گھس گیا ہے ہم اس کو پکڑنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر اعرابی بولا کہ اللہ کی قسم جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے تم ہرگز اس تک نہیں پہنچ سکتے۔ اعرابی کا چینلج سن کر شکاری لکڑبھگا چھوڑ کر چلے گئے۔

اس کے بعد اعرابی نے اپنی اونٹنی کا دودھ دوہا اور ایک برتن میں دودھ اور ایک برتن میں پانی لے کر لکڑبھگے کے سامنے رکھ دیا۔ لکڑبھگا کبھی دودھ اور کبھی پانی پیتا رہا اور جب سیراب ہوگیا تو کونے میں جا بیٹھا۔ رات کے وقت میں جب اعرابی اپنے خیمہ میں سو گیا تو لکڑبھگے نے آ کر اس کا پیٹ پھاڑ ڈالا اور اس کا خون چوس لیا اور جو کچھ اس کے پیٹ میں اعضاء تھے وہ سب کھا لیے اور وہاں سے بھاگ گیا۔

صبح کو جب اس کا چچا زاد بھائی آیا تو اعرابی کو اس حال میں دیکھ کر اس جگہ پہنچا جہاں دودھ پی کر لکڑبھگا بیٹھ گیا تھا۔ جب اس کو وہاں نہیں پایا تو اس نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہ لکڑبھگے کا ہی کام ہے۔ چنانچہ وہ تیر و کمان لے کر نکلا اور اس لکڑبھگے کا گھات لگا کر اس کو مار ڈالا اور

 

یہ اشعار کہے

ومن يصنع المعروف من غير أهله

يلاقي الذي لاقى مجير أم عامر

ترجمہ : جو کسی نا اہل کے ساتھ بھلائی کرے گا اس کا وہی انجام ہوگا جو ام عامر (لکڑبھگے) کو پناہ دینے والے کا ہوا۔

أدام لها حين استجارت بقربه

قراها من البان اللقاح الغزائر

ترجمہ : جب سے اس لکڑبھگے نے اس کے خیمہ کی پناہ لی تھی وہ برابر ہوگا بھن اونٹنی کے دودھ سے اس کی ضیافت کرتا رہا۔

وأشبعها حتى إذا ما تملأت

فرته بأنياب لها وأظافر

ترجمہ : جب وہ شکم سیر ہوگیا تو اس نے اس احسان کا بدلہ یہ دیا کہ اپنے دانتوں اور پنجوں سے اپنے محسن کا ہی پیٹ چاک کردیا۔

فقل لذوي المعروف هذا جزاء من

غدا يصنع المعروف مع غير شاكر

ترجمہ : لہذا نیکی کرنے والوں سے کہہ دو کہ یہ اس شخص کی سزا ہے جو نا شکروں کے ساتھ نیکی کرتا ہے۔

(شعب الإيمان للبيهقي ٤٥٣/٧ ط. العلمية)

 لگڑ (Hyena) اور اعرابی کا دلچسپ اور سبق آموز واقعہ

کم ذات انسان کے ساتھ بھلائی کرنے کا انجام

یہ واقعہ عرب میں بے حد مشہور ہے، عباسی خلیفہ “ابوجعفر المنصور” نے بھی یہ سنایا تھا۔ (قضاء الحوائج لابن أبي الدنيا ص٨٣ وسنده حسن)۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment