لفظ إست کا ھمزہ وصلی ہے یا قطعی

Rate this post

أنْفٌ في الماءِ وإسْتٌ في السَّماءِ

                   لفظ إست کا ھمزہ وصلی ہے یا قطعی

کچھ مقدمہ کی بناء پر تحقیق کرتے ہیں پھر فیصلہ کرینگے کہ یہاں ھمزہ وصلی ہے یا قطعی ۔

ھمزہ تقسیم اول میں دو قسم پر ہے ایک ھمزہ مفردہ اور دوسرا قسم ھمزہ مرکبہ ۔

پھر تقسیم ثانی میں ھمزہ مفردہ دو قسم پہ ہے ھمزہ اصل دوسرا قسم وہ ھمزہ جو بدل اصل سے ھو ۔

اب ھمزہ مفردہ اصل تیراہ 13)جگہ استعمال ھوتا ہے ۔

پہلی جگہ ابتداء بالساکن کیلے کلمہ میں لایا جاتا ہے

اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اسے ھمزہ کہا جائے یا الف۔

بعض علماء نے الف کا تسمیہ دیا ہے۔ اسلیے کہ انہوں نے اصل کی رعایت کی ہے جو مدصوت کا سکون ہے اور بعض علماء نے ھمزہ کا تسمیہ دیا ہے اسلیے کہ نطق کا رعایت کی ہے یعنی اس پہ نطق کیا جاتا ہے اسلیے ھمزہ کہا ہے۔

 اسی وجہ سے احق یہ ہے کہ اسے ھمزہ ایصال کہا جائے نہ وصل ۔

کیونکہ ھمزہ وصل سے اتصال نہیں آتا بلکہ ھمزہ سے ناطق کی نطق سے متصل ھوتا ہے۔ سکون کے ساتھ ھمزہ کے بعد؟ پھر بھی ھمزہ وصلی سے مشھور ہے اسلیے ھمزہ وصلی کہتے بنا بر مجاز یعنی مصدر مجرد مزید سے لایا گیا یے جیسے نباتا انبت سے۔

جب یہ بات مکمل ھوئی اب کلام عربی میں ھمزہ وصلی کیلے تین محل ہیں۔

ایک محل اسم ہے دوسرا محل فعل اور تیسرا محل حرف ہے۔

اب اسمی محل کے اعتبار سے ھمزہ وصلی دوقسم پر ہے۔

پھلی قسم وہ اسماء معلومہ جیسے اسم واست واثنان وابنم ۔

وامرؤ وأیمن اللہ

اور دوسری قسم اسماء مصادر یہ دس افعال کے مصادر ہیں۔

جیسے ۱ وزن انفعال موزون انطلاق ۲ وزن افتعال موزون اکتساب ۳وزن افعنلال موزون اقعنساس ۴ وزن افعلّال موزون اقشعرار ۵ وزن افعیعال موزون اغدیدان ۶ وزن افعلال موزون احمرار ۷ وزن افعیلال موزون احمیرار ۸وزن افعوّال موزون اعلواط ۹ وزن استفعال موزون استخراج ۱۰ وزن افعنلاء موزون اسلنقاء

فعلی محل کے اعتبار سے بھی ھمزہ وصلی دوقسم پہ یے۔

پہلی قسم یہ بھی دس افعال ہیں جن اسماء مصادر میں ھمزہ وصلی ھم نے ماقبل میں ذکر کیا ہے۔

دوسری قسم وہ ھمزہ وصلی ہے جو اس مذکورہ افعال کے امر میں آتا ہے ۔

اور ایسے ہی ہر وہ فعل میں ھمزہ وصلی آتا ہے جس کا ثانی کلمہ مضارع میں ساکن ھو اور حذف نہ ھو جیسے اضرب من ضرب یضرب اور اعلم من علم یعلم الی آخرہ۔

حرفی محل کے اعتبار سے ھمزہ وصلی صرف لام تعریف ہے جیسے الرجل او الغلام میں۔

بارہ جگہ کی استعمال باقی ہیں ھمارا مقصد اتنی ہی تحقیق سے ملحق ہے اسلیے ھم اتنا ذکر کردیا

آمدم بسر مطلب یعنی اب آتے ہیں اپنے مطلب کی طرف ۔

اب اس مذکورہ مواضع خمسہ میں ھمزہ وصلی درج میں ساقط ھوتا ہے اور ابتداء میں ثابت ھوتا ہے ۔

مگر کبھی کبار ضرورت شعری کی وجہ سے وصلی ھمزہ ساقط نھیں ھوتا بلکہ ثابت رہتا ہے ۔

جیسے (ألا لاأری 👈إثنين احسن شیمة علی حدثان الدھرمنی ومن جمل)مذکورہ تحقیق کا

 حوالہ

رصف المبانی فی شرح حروف المعانی صفحہ نمبر ۱۲۹ سے ۱۳۱ تک دیکھ لیجئے ۔

اب (انف فی الماء واست فی السماء )میں ہے ہی ھمزہ وصلی۔

اور شعر بھی نھیں ہے اب ساقط نہ کرنا ہے اور یہ کہنا کہ یہ ھمزہ قطعی ہے پھر اسی مذکورہ مقولہ کا مصداق آپ خودبن گئے ۔

است کا معنی کیا ہے اور اصل میں کیا ہے ۔

معنی لغوی میں دبر کو کہتے ہیں یعنی اندام مخصوصہ ۔

اصل میں ستہ تھا جیسے جمل ؟ لام کلمہ یعنی ہاء کلمہ کو مشابھت حرف علت کی وجہ سے حذف کردیا سین کو ساکن کردیا پھر ھمزہ وصلی لایا اسلیے کہ ابتداء بالساکن نہ آئے اور عوض بھی لام کلمہ سے لایا گیا بعض کے ہاں سہ بر وزن( فل) بھی کہا جاتا عین کلمہ کو حذف کرتے لیتے ہیں ۔

اور بعض کے ہاں ست بروزن( فع) کہا جاتا ہے اعراب انکے ہاء اور تاء کلمہ پر آتا ہے ۔

حوالہ

اوضح المسالک شرح الفیہ لابن مالک ج۲ ص ۴۳۰

شرح الاشمونی ج۳ ص ۸۱۵

شرح التصریح علی التوضیح ج ۲ ص۳۶۴

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment