قرآن سے محبت کے واقعات

Rate this post

میں نے قرآن کی ہر آیت پر خود کو حقیر پایا …. 🥹۔

تیری نعمتوں کی آیتوں پر ، تیری رحمتوں کی آیتوں پر ، جب گناہوں سے اکتا کر تھکنے لگا ، 😔 تو اس آیت پر خاموش آنسو بہائے …۔

*”کون ہے جو اللّٰہ کے سوا گناہوں کو بخشتا ہے ؟”*

  _(القرآن)_

جب مایوس ہو کر بیٹھنے لگا تو ..

*”لَا تقنطو من رَحمۃ اللّٰہ”*

  _(القرآن)_

 کی صدائیں گھونجی جب لوگوں کے رویوں نے تھکایا تو *”صبر کرو ان کی باتوں پر “*

میں نے دل کوتسلی دی میں نے اس قرآن کے آگے خود کو حقیر پایا اسکی محبت کے آگے خود کو بے بس پایا اور ہاں میں خاموش اور نم آنکھوں سے بس اسے محسوس کر سکتی ہوں میرے الفاظ ساتھ نہیں دیتے …..!!!!! 🥲🥹😔😔

مزید پڑھیں

فضائل قرآن

قرآن سے محبت کے واقعات

قرآن مجید سے محبت

__________قابل فخر مائیں اور کامل شر مائیں______

#قابلِ_تقلید_خواتین قسط نمبر 8

اندلس کے خلیفہ نے اعلان کیا کہ میں اپنے بیٹے کی شادی کسی حافظہ لڑکی سے کرنا چاہتا ہوں

جس گھر میں حافظہ لڑکی ہو وہ اسی رات گھر کے باہر طاق میں چراغ جلا دے میں خود نکاح کا پیغام لیکر آؤں گا

جب رات آئی تو پورا شہر گھر کے باہر طاقوں کے چراغوں کی وجہ سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا

خلیفہ حیران ہوگیا اور کہنے لگا شریعت نے حد چار کی اجازت دی ہے یہاں تو ہزاروں ہیں

پھر اعلان کیا کہ جو لڑکی قرآن کریم کی حافظہ ہو اور مؤطا امام مالک کی حافظہ ہو وہ اپنے گھر کے باہر چراغ جلا دے

خیال تھا کہ بمشکل دو چار ہوں گی مگر جیسے ہی رات آئی تو آدھا شہر جگمگا رہا تھا

مؤرخین نے لکھا ہے کہ اندلس میں تقریبا 170 خواتین خوشخطی کے ساتھ قرآن کریم لکھنے کی ماہرہ تھیں

سلطان صلاح الدین ایوبی کی ہشمیرہ بہت بڑی عالمہ تھیں حتی کہ بعض علماء کو مخصوص کتب کی اجازت بھی عطاء کی تھی

علامہ کاسانی کی زوجہ مفتیہ تھیں جو والد صاحب کے بعد اپنے شوہر کے فتاویٰ جات کی تصحیح و تصویب کا کام کیا کرتی تھیں

سیر اعلام النبلاء پڑھیں تو آپ کو بے شمار خواتین بڑے بڑے محدثین کی استاذہ و معلمہ نظر آئیں گی

وہ ہمارے عروج کا زمانہ اور ہماری قابل فخر مائیں تھی جن کے عظیم اسلامی کارنامے آج ہم فخر سے شمار کرتے ہیں

جبکہ ہمارے زوال کا دور یہ ہے کہ

خواتین خانہ کی اولاد اپنی ماؤں کے کیا کارنامے بیان کرے گی؟

میرے خیال میں ان کے کارنامے یہ ہوں گے

ہماری والدہ جب پوسٹ کرتی تھیں تو دس منٹ میں سو سو کمنٹ آجاتے تھے

ہماری خالہ بحالتِ بکارت سوشل میڈیا پر سرِ عام شادی کی تمنا کیا کرتی تھیں

ہماری پھوپھو کے پانچ ہزار فالوور تھے

ہماری والدہ محترمہ ہمارے والد محترم کو فیسبک پر صدائیں لگایا کرتی تھیں کہ میرے سر تاج آپ کہاں ہیں ابھی ملے کیوں نہیں مجھے

اور ان پاکباز خواتین کی پوسٹیں اور کمنٹ آج بھی پرانے لیپ ٹاپ میں سیو ہیں

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے:

جب وہ پوچھیں گے سر محشر بلا کے سامنے

کیا جوابِ جرم دو گے تم خدا کے سامنے

جب سیدہ کائنات یا کسی ام المومنین کا دن آتا ہے تو یہ پاکباز خواتین ان جیسا بننے کا مشورہ عام کر رہی ہوتی ہیں

مگر اگلے دن

میرا سائیں کہاں ہے؟

آج روزہ لگ رہا ہوگا ان کو؟

میرے بچوں کے ابو کہاں ہیں؟

آنکھیں تھک گئیں آپ کا انتظار کرتے کرتے

ایسی حیاء سوز پوسٹ کرتی ہیں

اے میری اسلامی بہن! شیطانی جال میں مت آ’

 کسی کی دیکھا دیکھی اپنے جذبات کا اظہار مت کر

 کیونکہ یہاں غیر مسلم قاد۔یانی۔ہند۔و وغیرہ مذہبی لڑکیوں کے فیک اکاؤنٹ بنا کر تیرے ساتھ ایڈ ہیں

جو تیرے جذبات کو بھڑکانے اور اسلامی حیاء سے باغی کرنے کے مشن پر ہیں

ایسا کام کریں جس سے آپ کی نسلیں فخر سے کہیں کہ میں فلاں ماں کا بیٹا یا بیٹی ہوں:

اور اے میرے مسلمان بھائی اگر تو کسی مسلمان بہن کو اس طرح کی حیاء سوز پوسٹ کرتا دیکھے

 تو وہاں رش نہ لگاؤ نہ کمنٹ کرو بلکہ ایسے کام کی حوصلہ شکنی کر کہ تیرا وہاں مثبت و حوصلہ افزاء کمنٹ کرنا اسکو مزید شہ دے گا باغی بنائے گا.

قرآن مجید سے محبت کا ایک سبق آموز واقعہ

مدینہ منورہ کے شیخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ درس سے فارغ ہونے کے بعد میرے پاس ایک بوڑھا شخص آیا اور مجھ سے کہنے لگا:

شیخ! مجھے صرف سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص یاد ہیں اور میں راتوں کو دو گھنٹے تہجد پڑھتا ہوں، پھر روتے ہوئے اس بوڑھے شخص نے مجھ سے پوچھا:

شیخ! مجھے صرف یہی دونوں سورتیں یاد ہیں، تو کیا میں انھیں دونوں سورتوں کو بار بار پڑھ سکتا ہوں؟

شیخ عبد الرزاق البدر اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:۔

اس بوڑھے شخص کو دیکھو اور عبادت کا شوق دیکھو، اس کے برعکس اس شخص کو دیکھو جو پورے قرآن کا حافظ ہے مگر فجر کی نماز چھوڑ کر سوتا ہے۔

__________________

❒ ﺷﺮﺡ ﺃﺧﻼﻕ ﺣﻤﻠﺔ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﺍﻟﺸﺮﻳﻂ : ‏( 12)

عمر بن عبد العزیز کی قرآن سے محبت

حجاج کے زمانے میں لوگ صبح کو بیدار ھوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ھوتی تو یہ پوچھتے۔۔؛*

“گزشتہ رات کون کون قتل کیا گیا۔۔۔؟

 کس کس کو کوڑے لگے۔۔۔؟”

ولید بن عبدالملک مال، جائیداد اور عمارتوں کا شوقین تھا۔ اس کے زمانے میں لوگ صبح ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیر، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کےبارے میں پوچھتے تھے۔۔۔۔۔

سلیمان بن عبدالملک کھانے، پینے اور گانے بجانے کا شوقین تھا۔اس کے دور میں لوگ اچھے کھانے، رقص وسرود اور ناچنے والیوں کا پوچھتے تھے۔۔۔۔

جب حضرت عمر بن عبدالعزیز (رحمہ اللہ) کا دور آیا تو لوگوں کے درمیان گفتگو کچھ اس قسم کی ھوتی تھی،،

“تم نے قرآن کتنا یاد کیا؟؟؟

ھر رات کتنا ورد کرتے ھو؟؟؟

  رات کو کتنے نوافل پڑھے؟؟؟”

اس بات کی تصدیق ھوئی کہ عوام اپنےحکمرانوں کےنقش قدم پر چلتے ھیں۔۔۔

(الناس علی دین ملوکھم)

اگرحکمران کرپشن، اقربا پروری، ظلم، عدل وانصاف کا خون، ،جہالت اور دین کی قدروں کو پامال کریں گے تو رعایا بھی گمراہ ھو گی۔۔۔۔۔

لہذا بےدین حکمرانوں سے اقتدار، صالح، اہل اور دیندار لوگوں کوسونپنےکی پرامن جدوجہد صرف سیاست نہیں بلکہ تقاضائے دین ھے.

محمد شفیق پیرزادہ

قرآن کیسے پڑھیں ؟

*📖جب آپ قرآن مجید پڑھنا شروع کرتے ہیں حتی کہ معمول بنا لیتے ہیں روزانہ ایک پارہ یا اس سے کم زیادہ ۔ پھر آپ مقدار بڑھا دیتے ہیں ۔*

*✨حتی کہ بڑھاتے جاتے ہیں ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ قرآن بھی آپ سے دوستی کر لیتا ہے ۔*

*💠جس کا نیتجہ یہ ہوتا ہے کہ خود بخود قرآن پڑھنے کی طرف دل مائل ہوتا ہے اور کام سارے آسان ہوجاتے ہیں تاکہ تلاوت کا وقت مل سکے ۔*

*✨پھر جب قرآن آپ سے دوستی کرلیتا ہے تو تلاوت شروع کرتے ہی آپکے دل کی تاریں قرآنی حروف سے جُڑ جاتی ہیں اور لفظوں کا اتار چڑھاؤ گویا آپکی روح کا لطف ہوتا ہے ۔*

*💠قرآن جب کسی سے دوستی کرتا ہے تو پھر زندگی بھر دوستی نبھاتا ہے ۔ بلکہ قبر کا ساتھ بھی ہے ۔*

*✨بلکہ حشر میں بھی ساتھ ہوگا۔ حتی کہ قرآن اتنا وفادار ہے کہ اپنے دوست کو جنت میں داخل کرکے ہی چھوڑے گا۔*

*🤲اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن مجید کی تلاوت روازنہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور تلاوت کے ساتھ قرآنی آیات واحکامات پر عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائیں۔*

*📖قرآن مجید کی عظمت اور محبت ہم سب کے دلوں میں راسخ ہوجائے ۔ آمین ۔*

مزید پڑھیں

تلاوت قرآن میں رونے والوں کے واقعات

‏الله نے قرآن میں ہمیں ہر طرح سے سمجھایا!!

کبھی مخاطب کیا!!

کبھی اشاروں سے!!

کبھی وعدے!!

کبھی خبردار!!

نافرمانی کا انجام!!

معافی کا اعلان!!

جنت کے منظر!!

جہنم کا نقشہ!!

واقعات سنا کر!!

قسمیں کھا کر!!

مثالیں دے کر!!

رحمتیں بتا کر!!

پھر بھی ہم اللہ کے بتائے اس پیارے راستے پر نہ چلیں تو ہم سے بڑا ظالم کوئی نہیں___!!

دعا ہے اللہ رب العزت ہم سب کو قرآن مجید سے سچی پکی محبت عطا فرمائے اللہ ہمیں قرآن مجید پڑھنے اس کو سمجھنے اس کو سمجھ کر دوسروں تک پہنچانے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں!!

آمین ثمہ آمین!

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment