فعل کی تعریف, فعل کی4 اقسام اور ترکیب

Rate this post

 فعل کی تعریف

فعل وہ کلمہ جس کے معانی میں کسی کام کا کرنا یا ہونا پایا جائے اور جس میں تینوں زمانوں ماضی، حال، مستقبل میں سے کوئی ایک زمانہ موجود ہو۔

فعل کی چار قسمیں ہیں

(۱) ماضی(۲) مضارع (۳) امر (۴) نہی۔

فعل ماضی

وہ فعل ہے جو گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے واقع ہونے پر دلالت کرے۔ جیسے :فَتَحَ ( اس نے کھولا) ، نَصَرَ(اس نے مدد کی)۔

فعل مُضَارِع

وہ فعل ہے کہ جو کسی کام کے زمانہ موجودہ (حال )، یا زمانہ آئندہ (مستقبل) میں واقع ہونے پر دلالت کرے ، جیسے: یَفْتَحُ (وہ کھولتا ہے یا کھولے گا)، یَنْصُرُ(وہ مدد کرتا ہے یا مدد کرے گا۔

فعل أمْر

وہ فعل ہے جس کے ساتھ کسی کو زمانہ مستقبل میں کام کرنے کا حکم دیا جائے یا کسی سے کام کرانے کی خواہش کی جائے، جیسے: إِقْرَأْ (تو پڑھ) ، إِسْمَعْ (تو سن)، أُکْتُبْ (تو لکھ)۔

فعل نہی

وہ فعل ہے جس کے ساتھ کسی کو زمانہ مستقبل میں کام کرنے سے روکا جاتا ہے، جیسے لَا تَضْرِبْ (تو مت مار)، لاتَقْتُلْ (تو قتل مت کر)، لاتَلْعَبْ (تو مت کھیل)۔

فاعل اور مفعول

ہر فعل کو قائم رہنے کے لیے ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ قائم نہیں رہ سکتا۔

اور وہ سہارا فاعل ہے جس کے بغیر کوئی فعل تام نہیں ہوتا

البتہ فعل مفعول کو بعض اوقات چاہتا ہے اور کبھی نہیں چاہتا

اس اعتبار سے فعل کی دو قسمیں ہیں

1️⃣فعل لازم 2️⃣فعل متعدی

فعل لازم

وہ فعل ہوتا ہے جو صرف فاعل کے ساتھ ملکر بات مکمل کر دے اس کے علاوہ مفعول به کی ضرورت نہ ہو۔

فعل متعدی

وہ فعل جو مکمل ہونے کے لیے فاعل کے علاوہ مفعول به کی بھی ضرورت محسوس کرے۔

فعل لازم اور فعل متعدی کی پہچان

اصلا فعل کا لازم و متعدی ہونا اھل عرب اور سماع پر موقوف ہوتا ہے اعنی پہچان سماع یا کتب لغت سے ہو سکتی ہے لہذا محض قیاس ارائی سے کام نہ لیا جاے بعض اوقات قیاسا فعل پر لازم و متعدی ہونے کا حکم لگا دیا جاتا ہے جو کہ بالکل غلط ہوتا ہے *پہچان کے لیے* کچھ علامات بھی ہیں لیکن وہ یقینی نہیں ہیں لہذا جب بھی کسی فعل کو لازم و متعدی کہیں تو استعمال عرب یا کتب لغت سے تایید ضرور لے لیں۔

فعل لازم اور فعل متعدی کی علامات

1️⃣(فعل لازم ماضی کے ترجمہ میں فاعل کے ساتھ (نے کی علامت نہیں آتی اور اسے مفعول به کی بھ ضرورت نہیں ہوتی*مثلاً* (جلس وہ بیٹھا)

جبکہ متعدی ماضی میں عموما (نے) علامت آتی ہے اور بسا اوقات نہیں بھی آتی اور اسے مفعول به کی ضرورت ہوتی ہے *مثلاً* ضرب زیدا اس نے زید کو مارا *اور* قرا القرآن اس نے قرآن پڑھا

2️⃣فعل متعدی پر ضمیر منصوب متصل جو اسم ذات کی طرف لوٹے،داخل کرنے سے فعل کا درست معنی بن رہا ہو تو فعل متعدی ہو گا اور معنی درست نہ ہو تو فعل لازم ہو گا *مثلا* جاء بکر و ضربه زید بکر آیا اور زید نے اسے مارا یہاں ضرب فعل متعدی ہے

جبکہ اگر یوں کہا جائے کہ جاء بکر و خرجه زید تو معنی ہی درست نہ بنے گا

3️⃣فعل متعدی خود مفعول به تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہے اس لئے عموما اس کا مفعول حرف کر کے واسطہ کے بغیر آتا ہے اور اسے مفعول غیر صریح کہتے ہیں *مثلا* قرا القرآن

جبکہ فعل لازم کا مفعول به بلا واسطہ نہیں ہوتا اسے حرف جر کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ یہ متعدی ہوتا ہے اسے معنوی اعتبار سے مفعول غیر صریح کہتے ہیں جبکہ ترکیب کلام میں یہ ظرف لغو ہی بنتا ہے *مثلا* ذھب بزید وہ زید کو لے گیا *اور* جلس علی الحصیر وہ چٹائی پر بیٹھا

جبکہ بعض اوقات فعل متعدی کا مفعول به بھی حرف جر کے صلہ کے ساتھ آتا ہے *مثلاً* علمته *اور* علمته بذلک

*🌹اہم بات🌹*

فعل لازم کے متعدی ہونے کے حرف جر علاوہ دیگر ذرائع بھی ہیں وہ یہ ہیں

🌹ہمزہ *مثلاً* اذھبت زیدا

🌹تضعیف عین *مثلاً* فرحت زیدا

🌹الف مفاعلة *مثلاً* ماشیته

🌹سین استفعال *مثلاً* استخرجته

اسی طرح فعل متعدی بھی کبھی لازم ہو جاتا ہے اس کے ذرائع یہ ہیں

🌹نون انفعال *مثلا* انقطع

🌹تاء تفعلل *مثلا* تدحرج

4️⃣فعل متعدی سے اسم مفعول حرف جر سے مقید کیے بغیر بھی بنا سکتے ہیں *مثلا* کتب سے مکتوب

جبکہ لازم سے حرف جر کے واسطہ کے بغیر بنانا جائز نہیں *مثلا* قعد سے مقعود فیه

5️⃣اگر فعل پر لفظ ماذا داخل کرنے کی صورت میں سوال درست بنے تو فعل متعدی ہو گا ورنہ لازم *مثلاً* اکل سے ماذا اکل یہاں سوال درست بن رہا ہے تو یہ فعل متعدی ہے *اور* نام سے ماذا نام یہاں سوال درست نہیں بن رہا تو یہ فعل لازم ہے

6️⃣فعل پر یاء متکلم ضمیر منصوب متصل داخل کرنے کی صورت میں معنی درست بنے تو فعل متعدی ہو گا ورنہ لازم *مثلاً* اکرمنی یہاں معنی درست ہے تو فعل متعدی ہے *اور* نامنی یہاں معنی درست نہیں تو فعل لازم ہے

لیکن یہ علامات یقینی نہیں ہیں لہذا کتب لغت اور استعمال عرب سے ضرور مدد لی جاے

*🌹نوٹ🌹*

کبھی ایک فعل دو معنی میں استعمال ہوتا ہے اب جہاں جو معنی درست ہو وہ مراد لیا جاے گا *مثلاً* حل الطالبُ المسئلةَ طالب علم نے مسئلہ کا حل نکالا یہاں فعل متعدی ہے *اور* حل المسافرُ بمکان مسافر ایک جگہ ٹھرا یہاں فعل لازم ہے

کبھی ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر ایک جگہ لازم اور دوسری جگہ متعدی ہوتا ہے *مثلا* اتیته یہاں فعل متعدی ہے *اور* اتیت الیه یہاں فعل لازم ہے

*🌹تعداد مفعول به🌹*

فعل متعدی کبھی تین مفاعیل کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور یہ اعلم اور اس کے ہم معنی افعال کے ہوتے ہیں یعنی اری انبا نبّا اخبر خبّر حدّث وغیرھم *مثلاً* اعلم اللہ زیدا عمروا فاضلا

کبھی دو مفاعیل کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور یہ افعال قلوب کے ہوتے ہیں *مثلاً* علمت زیدا عالما

*🌹افعال قلوب🌹*

افعال قلوب 7 ہیں علمت ظننت حسبت خلت رایت زعمت وجدت

جب ظننت، اتھمت کے معنی میں علمت، عرفت کے معنی میں رایت، ابصرت کے معنی میں وجدت، اصبت الضالة کے معنی میں ہو تو وہ افعال قلوب نہیں ہوتے اس وقت یہ افعال ایک مفعول کے ساتھ متعدی ہوتے ہیں

ان کے علاوہ افعال ایک مفعول به کے ساتھ متعدی ہوتے ہیں *مثلاً* ضرب زید عمروا۔🌹🌹🌹

مبتداء فعل واقع نہیں ھوسکتا ۔

 انکے کہیں وجوھات ھیں۔

ایک تو فعل اپنے ھیئت اور شکل میں باقی ھو یعنی اگر فعل ماضی ھو پھر تو مبنی تو اپنے ھیئت میں مبتدا واقع کر نھیں سکتے کیوں مبتداء مرفوع ھوتا ھے اگر فعل کو مرفوع کروگے تو پھر فعل فعل نہ رھا

پھر یہ کہنا کہ فعل مبتدا واقع ھوا ھے یہ غلط ھے البتہ فعل اپنے حالت میں برقرار ھو کبھی کبھار مراد لفظ مبتدا واقع ھوسکتا ھے جیسے ھم کہیں ضرب فعلُُ یہاں مبتدا واقع ھوا ھے مگر مراد لفظ ھے یہ تو ھیئت کے ساتھ مبتداء واقع کرنے کی بات تھی

دوسری وجہ در اصل فعل نکرہ ھوتا ھے کیونکہ جملہ ھے اور جملہ میں ابھام ھے اسلیے مبتداء واقع نھیں ھوسکتا

دوسری وجہ فعل عرض ھے اور حدث ھے اور مبتداء اکثر ذات ھوتا ھے اسلیے مبتداء واقع نھیں ھوسکتا

دوسری بات کہ فعل مضارع اگر اپنے ھیئت اور شکل میں رھے مبتدا واقع ھوسکتا ھے یا نھیں

نھیں واقع ھوسکتا ھے وہی وجہ میں نے مذکورہ ذکر کیا ھے

البتہ بتاویل مصدر واقع ھوسکتا ھے جیسے کہتے ھیں ان یصدقو خیر لکم

یہاں خیر خبر مقدم ھے اور ان یصدقو بتاویل مصدر مبتداء واقع ھوا۔

 

*اَلْکَلِمَۃُ لَفْظُُ وُضِعَ لِمَعْنًی مُفْرَدِِ*

*ترکیب اول:*

*اَلْکَلِمَۃُ* مبتدا *لفظ* موصوف *وُضِعَ* فعل ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب اس میں *ھو* کی ضمیر مرفوع متصل پوشیدہ نائب فاعل *لِ* حرف جار *مَعْنًی* موصوف *مُفْرَدِِ* صفت, *موصوف* اپنی صفت سے ملکر لام حرف جار کا مجرور جار اپنے مجرور سے ملکر ظرف لغو, فعل مجہول اپنے نائب فاعل اور ظرف لغو سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر *لَفْظُُ* موصوف کی صفت موصوف صفت سے ملکر *اَلْکَلِمَۃُ* مبتدا کی خبر *مبتدا* اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔

*ترکیب ثانی:*

*اَلْکَلِمَۃُ* مبتدا *لَفْظُُ* موصوف *وُضِعَ* فعل ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب اس میں *ھُوَ* کی ضمیر مرفوع متصل پوشیدہ نائب فاعل *لِ* حرف جار *معنیً* ذوالحال *مُفْرَدََا* حال, ذوالحال اپنے حال سے ملکر لام حرف جار کا مجرور جار اپنے مجرور سے ملکر ظرف لغو, فعل مجہول اپنے نائب فاعل اور ظرف لغو سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر *لَفْظُُ* موصوف کی صفت موصوف اپنی صفت سے ملکر خبر, *اَلْکَلِمَۃُ* مبتدا اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔

*ترکیب ثالث:*

*اَلْکَلِمَۃُ* مبتدا *لفظ* موصوف *وُضِعَ* فعل ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب اس میں *ھو* کی ضمیر مرفوع متصل پوشیدہ ذوالحال *لِ* حرف جار *مَعْنًی* مجرور جار اپنے مجرور سے ملکر ظرف لغو متعلق ہوا *وُضِعَ* فعل کے *مُفْرَدًا* حال ہوا *وُضِعَ* کی ضمیر سے *ذوالحال* اپنے حال سے ملکر نائب فاعل , فعل مجہول اپنے نائب فاعل اور ظرف لغو سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر *لَفْظُُ* موصوف کی صفت موصوف صفت سے ملکر *اَلْکَلِمَۃُ* مبتدا کی خبر *مبتدا* اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔

*ترکیب رابع:*

*اَلْکَلِمَۃُ* مبتدا *لَفْظُُ* موصوف *مُفرَدُُ* صفت اول *وُضِعَ* فعل ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب اس میں ھو کی ضمیر مرفوع متصل پوشیدہ نائب فاعل *لِ* حرف جار *مَعْنًی* مجرور جار اپنے مجرور سے ملکر ظرف لغو متعلق ہوا فعل کے فعل مجہول اپنے نائب فاعل اور ظرف لغو سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر دوسری صفت موصوف اپنی دونوں صفت سے ملکر *اَلْکَلِمَۃُ* مبتدا کی خبر مبتدا اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا

*(نوٹ)*

*مُفرَد* پر تین طرح اعراب پڑھا جا سکتا ہے.

*مرفوع , منصوب , مجرور*

*مُفْرَدٌ , مُفْردًا , مُفْرَدِِ*

اگر *مُفْرَدُُ* مرفوع پڑھتے ہیں تو اسے *لَفْظُُ* کی صفت بنائیں گے

اور اگر *مُفْرَدًا* منصوب پڑھتے ہیں تو اسے *مَعْنًی* سے حال بنائیں گے یا *وُضِعَ* کی ضمیر ھو نائب فاعل سے

اور اگر *مُفْرَدِِ* مجرور پڑھیں تو *مَعْنًی* کی صفت بنائیں گے۔

*اعتراض:*

*اَلْکَلِمَۃُ میں الف لام کونسا ہے ؟ اسمی ہے یا حرفی ؟*

اسمی تو ہو نہیں سکتا کیونکہ اس کا مدخول اسم فاعل اور اسم مفعول ہوتا ہے۔ رہی بات حرفی کی حرفی کی دو قسمیں ہیں:

*(1) زائدہ*

*(2) غیر زائدہ*

یہ زائدہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ اس صورت میں تنکیر مبتدا لازم آئے گی جو کہ درست نہیں اور اگر غیر زائدہ مانیں تو اس کی چار قسمیں ہیں:

*(1) جنسی*

*(2) استغراقی*

*(3) عہد خارجی*

*(4) عہد ذہنی*

یہ الف لام جنسی اور استغراقی بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ اس پر *تائے وحدت* ہے جو جنس واستغراق کے منافی ہے *عہد خارجی* بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا مدخول خاص ہوتا ہے جبکہ یہاں کلمہ عام ہے خواہ نحوی ہو یا منطقی اور اگر *عہد ذہنی* تسلیم کیا جائے تو مبتدا کا غیر معین ہونا لازم آئے گا جو کہ درست نہیں *الغرض* یہ الف ولام نہ تو اسمی ہوسکتا ہے اور نہ ہی حرفی ہوسکتا ہے

*(جواب)* یہ الف لام جنسی ہوسکتا ہے رہی بات تائے وحدت کی تو یاد رکھئے وحدت کی تین قسمیں ہیں:

*(1) وحدت شخصیہ*

*(2) نوعیہ*

*(3) جنسیہ*

ان اقسام ثلثہ میں سے فقط *وحدت شخصیہ* ہی جنس کے منافی ہے (الف ولام جنسی اور تائے وحدتِ شخصیہ جمع نہیں ہوسکتے) اور کوئی نہیں اور وحدتِ شخصیہ یہاں مراد نہیں اور جو مراد ہے *( وحدت نوعیہ یا وحدتِ جنسیہ)* اس پر اعتراض نہیں

*یہ الف لام عہد خارجی بھی ہوسکتا ہے*

رہی بات مدخول کلمہ کے خاص ہونے کی تو وہ یہاں خاص ہے یعنی *کلمہ سے مراد یہاں کلمہ نحوی ہی ہے* اور اس کا قرینہ یہ ہیکہ *یہ کلمہ نحوی کتاب میں مذکور ہے*

علماء اہلسنت و جماعت کے بارے میں جانئیے ۔

محمد عدنان چنڈہ بندیالوی adnanchundabandiyalvi

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment