فضائل قرآن پر 3 واقعات

Rate this post

 فضائل قرآن پر واقعات:- اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو تمام علمی محاسن اور عملی فضائل کا مجموعہ اور جملہ علوم و معارفِ الٰہیہ کا خزانہ بنایا ہے۔ اس صحیفۂ ہدایت کے نزول کا اصل مقصد انسانیت کو صراطِ مستقیم پر گامزن کرنا اور انسان کو بطور اشرف المخلوقات اُس مقام و مرتبہ پر فائز کرنا ہے جس کے لیے اس کی تخلیق عمل میں لائی گئی تھی۔ قرآن مجید کا ایک ایک حرف حق و صداقت کا آئینہ دار ہے۔ قرآن کی حقانیت سے انکار کرنے والے عقل و فہم سے عاری ہیں۔

حضوراکرم ﷺ کے تین خوبصورت واقعات فضائل قرآن کے بارے میں

فرمان رب العالمین ہے؛

وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾

اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ” اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے. (سورة الاعراف)

حضوراکرم ﷺ کا قرآن پاک سماعت فرمانا؛

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على المنبر : اقرأ علي . قلت : أقرا عليك وعليك أنزل ؟ قال : إني أحب أن أسمعه من غيري . فقرأت سورة النساء حتى أتيت إلى هذه الآية ( فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا ) قال : حسبك الآن . فالتفت إليه فإذا عيناه تذرفان

حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے اس وقت جب کہ آپ ﷺ منبر پر تھے مجھ سے فرمایا کہ میرے سامنے قرآن کریم پڑھو،

میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کے سامنے میں قرآن کریم پڑھوں ؟

حالانکہ قرآن کریم ﷺ آپ پر اتارا گیا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اسے پسند کرتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی دوسرے سے قرآن سنوں !

حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ چناچہ میں نے سورت نساء پڑھنی شروع کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا آیت

(فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰ ؤُلَا ءِ شَهِيْدًا) 4 ۔ النسآء 41)

 بھلا اس (قیامت کے) دن یہود وغیرہ کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ بلائیں گے (یعنی ہر امت کا نبی علیہ السلام اس دن اپنی امت کے فعال و احوال کی گواہی دے گا) اور ہم آپ ﷺ کو اس امت کا گواہ بنا کر بلائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا بس اب رک جاؤ (کیونکہ میں اس آیت میں مستغرق ہوتا ہوں)

 پھر جب میں آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ﷺ کی مقدار میں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں (بخاری ومسلم)

*تشریح مشکوة شریف:*

   حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) کی عرض کہ قرآن آپ ﷺ پر اتارا گیا کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم چونکہ خود آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے اس لئے قرآن کریم پڑھنا بھی آپ ﷺ ہی کا حق ہے اور یہ جس طرح اتارا گیا ہے اسی طرح آپ ﷺ اسے پڑھ سکتے ہیں کسی اور کی کیا مجال کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے قرآن کریم پڑھے۔

 اس کے جواب میں آپ ﷺ کے ارشاد گرامی میں اسے پسند کرتا ہوں الخ کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جب کہ میری خواہش یہ ہوتی ہے کہ میں کسی دوسرے سے قرآن سنوں اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جس میں عارف پر حالت سکون طاری ہوتی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے

 من عرف اللہ کل لسانہ (یعنی جس نے اللہ ﷻ کو پہچانا اس کی زبان خاموش ہوگئی) اس کے برخلاف عارف کی ایک اور حالت ہوتی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ

 من عف اللہ طال لسانہ یعنی جس نے اللہ ﷻ کو پہچانا اس کی زبان کھل جاتی ہے۔

حاصل یہ ہے کہ بعض وقت تو عارف حالت تحیر واستغراق میں ہوتا ہے کہ سکونت اختیار کرتا ہے اور بعض وقت ہوشیار رہتا ہے کہ اس وقت وہ حقائق و معارف وغیرہ بیان کرتا ہے۔ دوسرے سے قرآن سننے میں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ

قرآنی آیات کے مفہوم و معانی خوب اچھی طرح سمجھ میں آتے ہیں غور و فکر اور محویت کمال درجہ کی حاصل ہوتی ہے۔ سورت نساء کی حدیث میں مذکورہ آیت کا مقصد چونکہ قیامت کے دن کو یاد دلانا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ اس دن کی ہولناکی اور اپنی امت کے ضعف کا خیال کر کے روئے، یہ اس بات کی بیّن علامت اور دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی امت پر بڑے شفیق و عنایت فرما ہیں۔ صلی اللہ علیہ الف الف صلوۃ کلما ذکرہ الذاکرون وکلما غفل عن ذکر الغافلون۔

(مشکوٰۃ شریف 2209، کتاب: فضائل قرآن کا بیان

باب: قرآن کریم کی سماعت

حضوراکرم ﷺ کا قرآن پاک سنانا؛

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بن كعب : إن الله أمرني أن أقرأ عليك القرآن قال : آلله سماني لك ؟ قال : نعم . قال : وقد ذكرت عند رب العالمين ؟ قال : نعم . فذرفت عيناه . وفي رواية : إن الله أمرني أن أقرأ عليك ( لم يكن الذين كفروا ) قال : وسماني ؟ قال : نعم . فبكى

ضرت انس (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ؟

حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام آپ ﷺ کے سامنے لیا ہے؟

 آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔

 حضرت ابی (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ دونوں جہاں کے پروردگار کے ہاں میرا ذکر کیا گیا ؟

آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔

 یہ سنتے ہی حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابی (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورت لم یکن الذین کفروا پڑھو۔ حضرت ابی (رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔ (یہ سنتے ہی حضرت ابی (رضی اللہ عنہ) رو پڑے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح مشکوة شریف

   حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) تمام صحابہ میں سب سے بڑے قاری تھے چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے اسی امتیاز وشرف کو صحابہ کے سامنے اسی طرح بیان کیا کہ اقرأکم (تم میں سب سے بڑے قاری ابی ہیں)

حضرت ابی (رضی اللہ عنہ) کے قول اللہ سمانی لک کا مطلب یہ تھا کہ کیا خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے میرا ہی نام لیا ہے اور انہوں نے یہ بات اپنی عاجزی و انکساری کے اظہار اور اپنی گمنامی کی وجہ سے کہی کہ میں اس لائق کہاں ہوں کہ پروردگار بطور خاص میرا نام لے کر آپ کو حکم دے یا پھر انہوں نے یہ بات از راہ ذوق ولذت کے کہی اور اپنی اس عظیم سعادت وشرف کا اظہار کیا کہ اللہ ﷻ نے مجھے یہ عظیم مرتبہ بخشا۔

  یہ عظیم شرف سن کر حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجانا خوشی کی وجہ سے تھا ایسی خوشی جو حقیقی عاشق کو محبوب کے وصال اور محبوب کی کرم فرمائی کے وقت حاصل ہوتی ہے ایسی صورت میں قلب کا حزن و ملال سکون پا کر آنکھوں کی راہ سے نکل پڑتا ہے۔

خاص طور پر سورت لم یکن ہی کو پڑھنے کا حکم اس لئے ہوا کہ یہ سورت الفاظ کے اعتبار سے بہت مختصر بھی ہے اور اس میں فوائد بھی بہت زیادہ ہیں کیونکہ اس سورت میں دین کے اصول، وعد وعید اور اخلاص وغیرہ کے اعلیٰ مضامین مذکورہ ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ماہر قرآن اور اہل علم و فضل کے سامنے قرآن پڑھنا مستحب ہے اگر چہ قاری سننے والے سے افضل نہ ہو۔

(مشکوٰۃ شریف 2210, کتاب: فضائل قرآن کا بیان

باب: حضرت ابی بن کعب کی سعادت

ان احادیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ توجہ کے ساتھ خلوص دل سے قرآن پاک سننا اور سنانا حضوراکرم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ جو قرآن پاک سنتا ہے اور سناتا ہے وہ سنت مصطفی ﷺ پر عمل کرنے کا ثواب بھی حاصل کر لیتا ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ حضوراکرم ﷺ نے درودپاک کی تعداد دریافت فرماتے ہیں، تو جواب سیدنا محمد ﷺ سنئے؛

وَعَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنِّیْ اُکْثِرُ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ فَکَمْ اَجْعَلُ لَکَ مِنْ صَلَا تِیْ فَقَالِ مَاشِئْتَ قُلْتُ الرُّبُعَ قَالَ مَاشِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَھُوَ خَیْرٌ لَکَ قُلْتُ النِّصْفَ قَالَ مَاشِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَھُوَ خَیْرٌ لَکَ قُلْتُ فَالثُّلْثَیْنِ قَالَ مَا شِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَھُوَ خَیْرٌ لَکَ قُلْتُ اَجْعَلُ لَکَ صَلَا تِیْ کُلَّھَا قَالَ اِذًا تُکْفٰی ھَمُّکَ وَیُکَفَّرُلَکَ ذَنْبُکَ۔ (رواہ الترمذی)

 حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میں آپ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں (یعنی کثرت سے درود بھیجنا چاہتا ہوں اب آپ ﷺ بتلا دیجئے کہ) اپنے لئے دعا کے واسطے جو وقت میں نے مقرر کیا ہے اس میں سے کتنا وقت آپ ﷺ پر درود بھیجنے کے لئے مخصوص کردوں ؟

 آپ ﷺ نے فرمایا جس قدر تمہارا جی چاہے ! میں نے عرض کیا کیا چوتھائی (وقت مقرر کردوں) ؟

 فرمایا جتنا تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تمہارے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا تو پھر دو تہائی مقرر کروں ؟

آپ ﷺ نے فرمایا جس قدر تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اچھا تو پھر میں اپنی دعا کا سارا وقت ہی آپ ﷺ کے درود کے واسطے مقرر کئے دیتا ہوں۔

  آپ ﷺ نے فرمایا؛

*اِذًا تُکْفٰی ھَمُّکَ وَیُکَفَّرُلَکَ ذَنْبُک*َ۔

 یہ تمہیں کفایت کرے گا، تمہارے دین و دنیا کے مقاصد کو پورا کرے گا۔ اور تمہارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔

(جامع ترمذی )

*تشریح مشکوة شریف:*

   اجعل لک من صلوتی میں لفظ صلوٰۃ سے مراد دعا ہے۔ حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ عنہ) کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میری خواہش ہے کہ آپ ﷺ پر بہت زیادہ درود بھیجوں۔ چونکہ میں نے اپنے اوقات میں سے ایک خاص وقت کو اس لئے مقرر کر رکھا ہے کہ میں اس وقت اپنے نفس کے لئے دعا کیا کرتا ہوں، اب میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت میں آپ ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا کروں لہٰذا آپ ﷺ ہی مقرر فرما دیجئے کہ اس وقت کا کتنا حصہ میں درود بھیجنے پر صرف کروں ؟

رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس درخواست پر درود بھیجنے کے لئے اس وقت کا کوئی حصہ مقرر نہیں فرمایا بلکہ اسے ان کے اختیار پر چھوڑ دیا اور فرمادیا کہ تم تو خود ہی جانتے ہو کہ درود بھیجنے کی کتنی فضیلت ہے اور اس کے کیا فضائل و برکات ہیں اس مقدس کام کے لئے تمہاری سعادت جتنا وقت چاہئے مقرر کرلو، تاہم یہ سمجھ لو کہ تم اس کام کے لئے جتنا زیادہ سے زیادہ وقت دو گے اسی قدر تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔

چناچہ جب انہوں نے اپنے اس پورے وقت کو درود بھیجنے پر صرف کرنے کا اظہار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اظہار اطمینان و خوشنودی فرمایا اور فرمایا کہ تم نے ایک مستقل وقت کو اس مقدس عمل کے لئے متعین کر کے درحقیقت دنیا اور آخرت کی بھلائی اور مقاصد کو حاصل کرلیا ہے کیونکہ جب بندہ اپنی طلب اور رغبت کو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ اور محبوب چیز میں خرچ کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو اپنی خواہشات اور اپنے مطالب پر مقدم رکھتا تو خداوند اقدس اس کے تمام امور و مہمات میں اس کا مددگار و حامی ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی تمام دنیوی و دینی مقاصد پورے ہوجاتے ہیں۔

 من کان اللہ کان اللہ لہ یعنی جو اللہ تعالیٰ کا ہو کر رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ہوجاتا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ درود شریف کی یہ برکت و فضیلت ہے کہ جو آدمی اس کا ورد رکھے اور اسے اپنی زندگی کا ایک ضروری جزء بنالے تو اس کے لئے دین و دنیا دونوں جگہ آسانیاں اور سہولتیں فراہم ہوجاتی ہیں اور اس کے تمام مقاصد خیر پورے ہوجاتے ہیں۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رحمة اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ جب میرے شیخ بزرگوار حضرت عبد الوہاب متقی رحمة اللہ علیہ نے مجھے مدینہ منورہ کی زیارت کے لئے رخصت فرمایا تو یہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ جاؤ ! اور یاد رکھو کہ اس راہ میں اداء فرض کے بعد کوئی عبادت رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے مماثل نہیں ہے لہٰذا (ادائے فرض کے بعد) تم اپنے اوقات کو اسی مقدس مشغلے میں صرف کرنا اور کسی دوسری چیز میں مشغول نہ ہونا۔

 حضرت شیخ عبدالحق (رحمة اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اس کے لئے کوئی عدد مقرر فرما دیا جائے (کہ میں اتنی تعداد میں درود پڑھ لیا کروں)

شیخ عبدالوہاب رحمة اللہ علیہ نے فرمایا اس سلسلے میں کسی عدد کا تعین کرنا شرط نہیں ہے بلکہ درود شریف اتنی کثرت کے ساتھ پڑھنا کہ اس کے ساتھ رطب اللسان ہوجاؤ اور اسی کے رنگ میں رنگین ہوجاؤ اور اسی میں مستغرق ہوجاؤ۔

  حصن حصین کے مصنف علام نے مفتاح میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے بیشمار فوائد ہیں اور دنیا اور آخرت میں اس کے لئے بےانتہا ثمرات مرتب ہوتے ہیں خصوصا تنگی و پریشانی، کسی خاص مہم، فکرات اور مطلب برآوری کے سلسلہ میں اس کا بارہا تجربہ ہوا ہے چناچہ خود میرا تجربہ ہے کہ میں اکثر خوف و ہلاکت کی جگہ گھر گیا اور مجھے وہاں سے اگر نجات ملی تو رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے صدقہ میں۔

(مشکوٰۃ شریف 894, کتاب: نماز کا بیان

باب: درودو سلام بھیجنے کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے)

*حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قاری و مدرس تھے، حضوراکرم ﷺ نے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو ہدائت فرمائی کہ قرآن 4 اصحابہ سے حاصل کرو، ان میں سے ایک حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں*۔

*محسوس ہوتا ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا درودپاک کی تعداد پوچھنا اور حضوراکرم ﷺ کا وضاحت فرمانا ہماری رہنمائی کےلئے بھی ہے اور بتانا مقصود ہے کہ کہیں درودپاک سے غفلت نہ کرنا*۔

واللہ اعلم۔

یااللّہ یاارحم الراحمین ہمیں ،ہماری نسلوں اور تمام امت مسلمہ کو نماز, قرآن اور درودپاک پڑھنے کی توفیق عطاء فرما۔ یارب کریم تمام امت مسلمہ کو ہر وباء، بیماری اور پریشانی سے اپنی پناہ عطاء فرما۔

یارب کریم ہمارے گھروں کی اور ہمارے مقامات مقدسہ کی اور ہم سے اور ان سب سے وابستہ لوگوں کی حفاظت فرما۔

اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن

*الَلَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِد*

*اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد*

حضور غوث الاعظم پیر دستگیر کی تنبیہ

فلسفہ اور روحانیت پڑھنے سے بہتر ہے فضائل قرآن پڑھنا کہ روحانیت کا تعلق پڑھنے سے نہیں عمل کرنے سے ہے۔

حضرت شیخ ابوالمظفر منصور بن المبارک الواسطی الواعظہ فرماتے ہیں ۔ کہ میں حضور سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں جوان تھا اور میرے پاس فلسفہ و علوم الروحانیت کی ایک کتاب تھی ۔ آپ نے مجھ سے فرمایا۔

اے منصور یہ کتاب تیرا برا ساتھی ہے اٹھ اسے دھو ڈال

حضرت شیخ ابوالمظفر منصور بن المبارک الواسطی فرماتے ہیں مگر میرے دل نے اس کو دھو ڈالنا مناسب نہ سمجھا۔ اس کتاب میں منقول چند مسائل مجھے بے حد مرغوب تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں آپ کے سامنے سے اٹھوں اور اس کتاب کو گھر لے جاؤں ۔ آپ نے میری جانب دیکھا اور مجھ سے اٹھا نہ گیا اور میری حالت قیدی کی سی ہوگئی۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کتاب دو۔ میں نے جب اسے کھولا تو وہ سفید کاغذ تھے جن پر کوئی حروف نہ لکھا ہوا تھا۔ آپ نے اس کتاب کی ورق گردانی شروع کر دی اور فرمایا۔ یہ کتاب فضائل قرآن ہے اور یہ محمد بن فریس کی تصنیف ہے

حضرت شیخ ابوالمظفر منصور بن المبارک الواسطی فرماتے ہیں پھر آپ نے وہ کتاب مجھے واپس فرما دی۔ میں نے جب اس کتاب کو دوبارہ دیکھا تو وہ واقعی فضائل قرآن کی کتاب تھی اور محمد بن فریس کی تصنیف تھی۔

آپ نے فرمایا ۔

’’ کیا تو توبہ کرتا ہے کہ اپنی زبان سے وہ بات کہے جو تیرے دل میں نہ ہو؟“

میں نے عرض کیا ہاں ۔ اس کے بعد مجھے فلسفہ و احکام الروحانیت جو مجھے یاد تھے وہ بھول گئے اور میرے باطن سے ایسے محو ہوئے جیسے کبھی میرے ذہن میں آۓ ہی نہ تھے۔

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment