فتح مکہ 3 + واقعات | adnanchundabandiyalvi

Rate this post

فتح مکہ (جسے فتح عظیم اور فتح مبین بھی کہا گیا ہے۔آقائے دوجہاں ﷺ کی زیرقیادت لشکر کو عظیم الشان فتح نصیب ہوئی ۔ حضور اکرم ﷺ نے مکہ فتح کرکے اسلامی حکومت کی فتوحات کی مضبوط بنیاد رکھی۔فتح مکہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غزوہ ہے جو 20 رمضان سنہ 8 ہجری بمطابق 10 جنوری سنہ 630 عیسوی کو پیش آیا، اس غزوے کی بدولت مسلمانوں کو شہر مکہ پر فتح نصیب ہوئی اور اس کو اسلامی قلمرو میں شامل کر لیا گیا۔

مشرکین کے 28 افراد انتہائی ذلت سے مارے گئے۔ لشکر اسلام انتہائی فاتحانہ طریقہ سے شہرِ مکہ میں داخل ہوا جہاں سے آٹھ سال پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبد اللہ کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔

فتح مکہ کا دن

 فتح مکہ سے پہلے وعید

قرآن حکیم فرقان حمید میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النصر میں ارشاد فرمایا کہ ’’جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو اور اس سے بخشش چاہو بیشک وہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

قرآن کریم کی اس سورہ میں فتح مکہ کی نوید سنائی گئی ہے فتح مکہ 20 رمضان المبارک سنہ 8 ہجری میں ہوئی رسول اکرمؐ 8 سال قبل اسی شہر پاک مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے۔ ۔صرف8 سال بعد اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کو ایسی طاقت اور غلبہ عطاء فرمایاکہ وہی مکہ مکرمہ جہاں سے غریب اور نادار مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے آج محبوب خدااس شان شوکت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہورہے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

فتح مکہ کا دن

فتح مکہ کی فتح کا خطبہ

 ” اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اس نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تمام جماعتوں کو تنہا چھوڑ دیا ۔خبردار ہر قسم کا مطالبہ خواہ وہ خون کا ہو یا مال کا میرے پاؤں کے نیچے ہے البتہ بیت اللہ کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کے مناصب پہلے کی طرح ہیں “

 ” اے گروہ قریش آج کے دن اللہ نے تم سے جاہلیت کا غرور چھین لیا اور آبا و اجداد کے بل پر بڑھائی حرام کر دی ہے کل بنی نو انسان آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے “

“پھر یہ آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یوں ہے” ۔

 لوگو ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرو بے شک اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بلاشبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور سب خبر رکھنے والا ہے “

جھنگ بدر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔

فتح مکہ خطبہ کے بعد

خطبہ کے بعد آپ نے اہل مکہ سے فرمایا تم جانتے ہو میں تم سے کیا سلوک کرنے والا ہوں قریش کو اپنے مظالم کا احساس تھا لیکن حضور کے رحم و کرم اور اور درگزر سے بھی خوب واقف تھے اس لئے سب نے کہا کہ آپ شریف بھائی اور شریف زادہ ہیں یعنی آپ ہم سے وہی سلوک کریں گے جن کی شریفوں سے توقع ہوتی ہے اس پر آپ نے فرمایا ۔

 ” آج تم پر کوئی الزام مواخذہ نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو۔

حضورﷺ فتحِ مکّہ کے دن جب مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ360 بت تھے۔حضور ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک چھڑی تھی نبی کریمﷺ ہر بت پر مارتے تھے اور وہ منہ کے بل گر پڑتا اور فرمانے لگے کہ(جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ)حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔

(صحیح بخاری#2478)

فتح مکہ کے دن حضرت علی کرم االلّٰہ وجہ الکریم کو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے کندھوں پر سوار ہونے کا اعزاز نصیب ہوا ۔ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز لکھتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے عرض کی حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ! آپ میرے کندھوں پر سوار ہوکر ( ہبل نامی ) بت اتار دیں ۔ فرمایا علی! تو بارِ نبوت برداشت کرنے کا متحمل نہیں ۔

چنانچہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ تعمیل حکم بجا لائے ۔ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ شانۂ اقدس پر سوار تھے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے دریافت فرمایا

علی بتاؤ کیا محسوس کر رہے ہو ؟ عرض کی یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم

چناں می بینم کہ حجب میشود شدہ گویا سرمن بساؤ عرش رسیدہ و بہر چہ دست ردازمی کنم بدست می آید ۔

یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ! تمام حجابات اٹھ چکے ہیں گویا میرا سر عرش تک پہنچ چکا ہے اور سب چیزیں پکڑ سکتا ہوں ۔

حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا

تو کتنا خوش بخت ہے کہ اس وقت حق کے کام میں مصروف ہے اور میں کسی اچھے حال میں ہوں کہ میں بارِ حق اٹھا رکھا ہے۔

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ بت کو گرا چکے تو ادبِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا لحاظ کرتے ہوئے فوراً نیچے کود پڑے اور تبسم فرمایا ۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے وجہ پوچھی تو عرض کی

علی تجھے چوٹ کیوں آتی جب کے اٹھانے والے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور نیچے اتارنے والے جبریل علیہ السلام تھے ۔

( مدارج النبوت )

وہ جگہ جہاں فتح مکہ کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور یہاں نماز ادا کی۔

فتح مکہ کے بعد نماز پڑھنے کی جگہ

اسلام سلامتی ہی سلامتی

          اسلام سراپا سلامتی کا نام ہے۔ اسلام دوران جنگ بھی غیر محارب(غیر جنگجو/non-combatant) لوگوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیتا اور ہر حالت میں خون ناحق کی مذمت کرتا ہے۔ امام مسلم حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر محاربین کو عام امان دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

   “من دخل دار ابی سفیان فهو آمن، و من القی السلاح فهو آمن، و من اغلق بابه فهو آمن”.

ترجمہ۔۔

      جو شخص ابو سفیان کے گھر داخل ہوا اسے امان ہے، جو شخص ہتھیار پھینک دے اسے امان ہے اور جو شخص اپنے گھر کے دروازے بند کرلے اسے بھی امان ہے۔

               (مسلم، الصحیح، کتاب الجھاد، باب فتح مکہ)

جحفہ کے قریب مکہ مکرمہ کا اشتیاق

دوران سفر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، مقام جحفہ کے قریب پہنچے، تو مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے معروف راستے پر نظر پڑی تو بیت اللہ اور وطن کی یاد سے دل بھر آیا، مکہ مکرمہ کا اشتیاق بڑھ گیا، اسی وقت جبریل امین آیت لے کر نازل ہوئے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی گئی کہ مکہ مکرمہ سے جدائی چند روزہ ہے، بالآخر آپ کو پھر مکہ مکرمہ پہنچایا جائے گا، یہ فتح مکہ کی بشارت تھی ، مقام جحفہ کے قریب جو آیت نازل ہوئی وہ یہ ہے

إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ

 جس اللہ نے آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا ہے وہ آپ کو اصلی وطن ( مکہ مکرمہ ) میں پھر پہنچا دے گا۔

(التفسير لابن کثیر سورۃ القصص آیت ۸۵)

فتح مکہ

فتح مکہ پر جب یہ الفاظ الیوم یوم الملحمۃ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہے تو اس کے جواب میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اليوم المرحمہ اس کا مطلب کہ آج لڑائی کا دن ہے تو اس کے جواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رحم کرنے کا دن ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان کردیا سوا کچھ لوگوں کے ۔۔

فتح مکہ کے بعد واقعہ خانہ کعبہ کی چابی کا

 اللّٰہ کے محبوب علیہ صلاة وسلام نے جب مکہ فتح کیا تو آپ جانتے ہیں کہ وہ منظر اسلام کا شاندار اور وہ دن شوکت والا خوشی والا دن تھا لیکن حضور ﷺکی پیشانی یوں جھکی ھے کہ اونٹ کے کجاوے کے ساتھ حضور ﷺ کی پیشانی لگی ھوئی ھے۔

🔮 حضور ﷺ نے سب کو معاف کر دیا۔

            جب سب حاضر ھوئے تو کانپ رھے تھے،اُوجڑیاں پھینکنے والے پتھر مارنے والے گڑھے کھودنے والےگلے میں کپڑا ڈالنے والے قطاروں میں تھے۔ سب کانپ رھے تھے کہ پتا نہیں کیا سلوک ھو گا لیکن زبان نبوت سے کیا جملے نکلے۔۔۔۔۔۔

          فرمایا جاؤ چلے جاؤ میں تمہیں کچھ نہیں کہتا تم آزاد ھو آج میں وھی کہونگا جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا جاؤ میں نے معاف کیا آزاد ھو تم سب۔۔۔

(لیکن جنہوں نے توہیں کی آپ صل اللّٰہ علیہ و سلم کی شان میں ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا)

🔮 پھر فرمایا عثمان بن طلحہ کہاں ھے(عثمان بن طلحہ کعبہ کا کنجی بردار تھا) ایک دفعہ حضور ﷺ نے اس سے کہا تھا مجھے خانہ کعبہ کی چابی دو میرا جی چاھتا ھے کہ میں کعبہ کو کھولوں اور اندر جاؤں اور نوافل ادا کر سکوں تو اس وقت اس نے کہا تھا میں آپ کو یہ چابی نہیں دے سکتا۔

🌠 آج جب حضور ﷺ فاتح بن کر آئے فرمایا بلاؤ آج عثمان بن طلحہ کو وہ کانپتا کانپتا آیا حضورﷺ نے کہا لاؤ کعبۃُاللّٰه کی چابی اس نے پیش کر دی۔

         آپ ﷺ نے تالا کھولا نوافل ادا کیئے پھر تالا لگا دیا۔اب صحابہ رضوان اللّٰه اجمعين منتظر تھے کہ عثمان بن طلحہ کو تو چابی ملنی ھی نہیں۔

ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کی آرزو تھی کہ یہ چابی مجھے ملے،عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ جھولی پھیلائے کھڑے تھے، عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کہہ رھے تھے کہ یہ چابی مجھے ملے، علی المرتضٰی رضی اللّٰہ عنہ کو بھی ناز تھا حتیٰ کہ سارے صحابہ منتظر تھے

         لیکن حضور ﷺ نے فرمایا:این عثمان بن طلحہ؟

عثمان بن طلحہ کہاں ھے وہ کانپتا ھوا ایک سمت کھڑا تھا آپﷺ نے فرمایا یہ لو چابی تم نے مجھے نہیں دی تھی لیکن میں تمہیں عطا کر رھا ھوں

    اور فرمایا: اے عثمان بن طلحہ قیامت تک تیرے سے یہ چابی کوئی چھین نہیں سکے گا اور آج بھی وہ چابی عثمان بن طلحہ کی اولاد کے پاس ھے۔

        تو پھر عثمان بن طلحہ آپ ﷺ کے حسن و سلوک کو دیکھ کر آپ ﷺ کا غلام بن گیا اور مسلمان ھو گئے

🌠 اب خانہ کعبہ کی چابی ان کے پاس ھے جو عثمان بن طلحہ رضی اللّٰہ عنہ سے نسل در نسل چلتی آ رھی ھے اور قیامت تک ان کے پاس ھی رھے گی ان شاءاللّٰہ

مکہ کی چابی رکھنے والے

🔲 اللّٰہ کی قدرت دیکھو کہ اس خاندان میں صرف ایک بیٹا پیدا ھوتا ھے دو یا اس سے زیادہ نہیں . عثمان بن طلحہ رضی اللّٰہ عنہ سے محمد بن حمود تک یہ چابی اس مقدس خاندان کے پاس ھے.

فاتح ہونے کہ بعد

اپنی اوپر مظالم کا بدلہ لینے والا

 بھادر نہیں بزدل ہوتا ہے

فتح مکہ کے بعد کائنات کے عظیم ترین لیڈر نے

 یہ ثابت کیا کے بدلہ لینا بھادری نہیں

 معاف کرنا سب سے بڑی بھادری ہے 💝

حبشہ موجودہ (إريٹريا و ایتھوپیا) ہجرت کرنے والے صحابہ کی قبریں

انہوں نے فتح مکہ نہیں دیکھا، مکہ میں بتوں کو پاش پاش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، فارس اور روم کی شکست کو نہیں دیکھا، سند ہند اور اندلس کو فتح ہوئے نہیں دیکھا، ان کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس مکہ سے وہ بے بس اورمجبور ہوکر نکلے تھے وہ اسلام کا مرکز بن چکا مگر ان سب میں ان کا حصہ ہے……. حالات بدلتے دیر نہیں لگتی اسلام آپ کے ذریعے یا آپ کے بغیر غالب آئے گا مگر آپ کی اسلام کے بغیر کوئی حیثیت نہیں۔

فتح مکہ

 «عدي بن نضل العدوي القرشي، والمطلب بن أزهر، وسفيان بن معمر، وعروة بن عبدالعزى، وعبدالله وحطيب بن الحريس، وفاطمة بنت صفوان، وعائشة بنت خالد، وهرمة بنت عبدالأسود»

 

 *بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ عَمامَة النَّبِيِّﷺ*

فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کی دستار مبارک  (پگڑی)

جناب حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر سیاہ پگڑی تھی ۔

 *تشریح* -:

ارشاد ہے کہ “نبی کریم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرا قدس پر سیاہ پگڑی تھی،باب ماجاء في صفة مغفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے کہ جب حضور صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آنجناب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر خود تھی، محدثین کرام رحمہم اللہ علیھم اجمعین فرماتے ہیں کہ ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کے نیچے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا، ہو کہ سر مبارک کے لئے وقایہ کا کام دیتا تھا اور جب آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں ورود مسعود فرمایا تو خود اتار دی تھی اور سیاہ عمامہ سراقدس پر موجود رہاجس کا ذکر جناب جابر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں۔ لہذا احادیث مبارک کے دونوں فقرات اپنے اپنے محل پر صحیح اور درست ہیں اوران میں کوئی تعارض نہیں ۔ ان احادیث میں حضرت استاذ مکرم الحافظ صاحبزادہ علی احمد جان صاحب قدس سرہ العزیز نے یہی توفیق و تطبیق فرمائی ہے۔ شارح شمائل شریف جناب قاضی محمد عاقل صاحب لاہوری رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :۔یہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ ظاہر طور پر گزری ہوئی حدیث کے ساتھ یہ حدیث معارض ہے اور وجہ جمع یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ دخول مکہ مکرمہ کے اول وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر خود تھی اسے اتار کر پگڑی پہن لی اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ خود کے اوپر سیاہ پگڑی ہو یا خود کے نیچھے میں سے سراقدس کے لئے وقایہ کا کام لیا گیا ہو ۔

دعاگو و دعاجو محمد عدنان چنڈہ بندیالوی

adnanchundabandiyalvi

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment