غوث کے بغیر زمین و آسمان کا تحقیق جائزہ

Rate this post

انجینئر محمد علی مرزا اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

علماء کا نظریہ

عرض:غوث ہر زمانہ میں ہوتا ہے ۔ ارشاد:بغیر غوث کے زمین وآسمان قائم نہیں رہ سکتے۔

( بریلوی : مولانا احمد رضا خان صاحب ملفوظات صفحہ۱۰۶ بک کارنر جہلم(

وحی کا فیصلہ:إنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا.

ترجمہ آیت مبارکہ: بے شک اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹل نہ جائیں۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو پھر اللہ کےسواء کوئی بھی ایسا نہیں کہ ان کو تھام سکے۔ بے وہ برداشت کرنے والا معاف کرنے والا ہے۔[سورۃالفاطر،آیت نمبر 41]

الجواب بعون الوھاب

 عرض یہ ہے کہ ہم اس آیت کو دل و جان سے قبول کرتے اور مانتے ہیں۔اور اس کے مضمون میں کسی کو ،رتی بھر شک نہیں۔مگر اختلاف یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اس دنیا اور آسمان کا نظم و ضبط کسی سبب کے تحت کیا ہے یا بغیر سبب کے؟

اور کیا یہ آیت عام ہے یا اس میں کسی ذات اور شخصیت کی تخصیص بھی ہے کہ نہیں؟

اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے

 فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا .

یعنی قسم ان فرشتوں کی کہ تمام کاروبار دنیا ان کی تدبیر سے ہے۔

[سورۃ النزعات،آیت:۵]

اس آیت کے تحت مفسر صاحب کتاب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ

 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ مدابرات الامر ملاءکہ ہیں کہ ان کاموں پر مقرر ہیں جن کی کاروائی انہیں اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔

[معالم التنزیل ج۴ ص ۴۴۲]

مزید یہ کہ اگر اس دنیا اور عالم میں ہر کام بغیر سبب ہو رہا ہے تو قرآن اور سنت ایسے تمام عقائد کا رد کرتا ہے۔

خود آقاﷺ کی قدرت کاملہ کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

ان النبیﷺ امر الشمس فتاخرت ساعۃ النھار ۔

یعنی سید عالمﷺ نے سورج کو حکم دیا کہ کچھ دیر نہ چلےتو سورج یکدم ٹھر گیا۔

[معجم الاوسط ج۴ ص ۴۰۲ ،علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے مجمع الزوائد ۸ ص ۲۹۷ پر اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے۔]

یہ یار رہے کہ یہ واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے سورج کے لوٹنے کے علاوہ اور جدا ہے۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد کا مطلب واضح ہے کہ قیامت تک غوث (اولیاء کاملین کا ایک منصب) رہیں گے ۔ انہیں کے وجود مسعود کی برکت سے زمین و آسمان قائم ہیں ۔ بوقت قیامت ان کا وصال ہو جائے گا ۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان تو عین حدیث سے ثابت ہے۔

اگر اعتراض کرنا ہے تو پھر محدثین پر کریں جنھوں نے ایسی روایات نقل کیں۔حیرت کی بات ہے کہ احادیث محدثین نقل کریں اور اعتراض اعلیٰ حضرت پر کیا جائے؟

دراصل مرزا صاحب جیسے لوگ محدثین پر اعتراض کرنے کی ہمت تو نہیں رکھتے مگر اپنے جھوٹے مسلک کو ثابت کرنے کے لیے امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی پر اعتراض کے سواء ان کے پلے کچھ بھی نہیں۔

مرزا صاحب اگر ہمت ہے تو درج ذیل احادیث ملاحظہ کریں اور پھر محدثین پر بھی اعتراض کرکے اپنے دعویٰ کو ثابت کریں۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنِي شُرَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَهُوَ بِالْعِرَاقِ، فَقَالُوا: الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللهُ مَكَانَهُ رَجُلًا، يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمِ الْعَذَابُ ۔

(مسند امام احمد ج۱ ص ۱۱۲ رقم:۸۹۶، مجمع الزوائد ج ۱۰ ص۶۲،الضیاء المختارہ ج۲ ص۱۱۰ رقم:۴۸۴)

ترجمہ :نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ابدال شام میں ہیں اور وہ چالیس ہیں جب ایک مرتا ہے اللہ تعالٰی اس کے بدلے دوسرا قائم کرتاہے ۔انہی کے سبب مینہ دیا جاتاہے ، انہیں سے دشمنوں پر مدد ملتی ہے ، انہیں کے باعث شام والوں سے عذاب پھیرا جاتا ہے ۔

اسکا ایک قوی متابع خود الضیاء المختارہ رقم: ۴۸۶ پر بھی موجود ہے۔

 أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُؤَيَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِي الطُّوسِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَنَحْنُ نَسْمَعُ بنيسابور أَن أَبَا الْفتُوح عبد الْوَهَّاب بْنَ شَاهِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّاذيَاخِيَّ أَخْبَرَهُمْ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أَنَا الشَّيْخُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ أَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ دَاوُدَ أَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عبد الله بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ عَلِيًّا قَامَ بِصِفِّينَ وَأَهْلُ الْعِرَاقِ يَسُبُّونَ أَهْلَ الشَّامِ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ جَمًّا غَفِيرًا فَإِنَّ فِيهِمْ رِجَالا كَارِهِينَ لِمَا تَرَوْنَ وَإِنَّهُ بِالشَّام يكون الأبدال ۔(إِسْنَاده صَحِيح(

حدیث: فرماتے ہیں:

 صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :الابدال فی امتی ثلٰثون بھم تقوم الارض وبھم تمطرون وبہم تنصرون۔ ۔

ابدال میری امت میں تیس ہیں انہیں سے زمین قائم ہے انہیں کے سبب تم پر مینہ اترتا ہے ۔ انہیں کے باعث تمہیں مدد ملتی ہے ۔

[مجمع الزوائد ، باب ماجاء فی الابدال الخ دارالکتب بیروت ۱۰ /۶۳،الجامع الصغیر بحوالہ الطبرانی عن عبادۃ بن الصامت حدیث ۳۰۳۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۸۲, امام مناوی نے فیض القدیر”1/168″ پر اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔]

حدیث :[حدثنا سليمان بن أحمد ، ثنا أحمد بن داود المكي ، ثنا ثابت بن عياش الأحدب ، ثنا أبو رجاء الكليبي ، ثنا الأعمش ، عن زيد بن وهب ، عن ابن مسعود ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « لا يزال أربعون رجلا من أمتي قلوبهم على قلب إبراهيم ، يدفع الله بهم عن أهل الأرض ، يقال لهم الأبدال۔ [معرفتہ ا لصحابہ لابی نعیم الاصبہانی ،رقم الحدیث:۱۷۳المعجم الكبير ج ۱۰ ص۱۸۱ رقم الحدیث:۱۰۳۹۰مكتبة ابن تيمية – القاهرة،حلیۃ الاولیاء ترجمہ زید بن وہب ۲۶۳دارالکتاب العربی بیروت ۴ /[ ،۴۰۱۳

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:چالیس مرد قیامت تک ہوا کریں گے جن سے اللہ تعالی زمین کی حفاظت لے گا جب ان میں کا ایک انتقال کرے گا اللہ تعالٰی اسکے بدلے دوسرا قائم فرمائیگا اور وہ ساری زمین میں ہیں ۔

اس روایت کو بھی محدثین کرام نے حسن قرار دیا ہے۔

ان روایات کے علاوہ بہت ساری اسانید صحیح و حسنہ موجود ہیں جس سے ابدال یا اللہ کے ولی کے وجود مسعود کی وجہ سے اللہ تعالیٰ زمیں والوں پر بارش اور رزق کی فراوانی کرتے ہیں۔

اگر مرزا صاحب میں دم خم ہے تو اس پر اعتراضات کریں ان شاء اللہ ان کو وہ جواب دیا جائے گا کہ ان کو آیندہ ایسی حرکت سے توبہ کرنی پڑے گی۔کیونکہ ان کا اسماء الرجال کے فن پر تمام تر انحصار غالی غیر مقلد زبیر علی زئی پر ہے۔اور ہمیں ان کے تمام اعتراضات معلوم ہیں۔کیونکہ اس تحریر کی گنجائش نہیں ہے وگرنہ ابدال کی احادیث پر مستقلاً ایک کتاب لکھنی پڑے گی۔لہذا مرزا صاحب راویوں پر اعتراض کرنے سے پہلے تمام اقوال کو دوبارہ سے پڑھ لیں۔مزید یہ کہ ابدال اور اللہ کے نیک لوگوں کے ذریعے رزق اور بارش کی روایات کا مفہوم تو متواتر احادیث سے منقول ہے۔

شاید مرزا صاحب علم حدیث سے نابلد ہیں کیونکہ ابدال کے علاوہ جمع کثیر ایسی روایات کی ہیں جن میں یہ صراحت موجود ہے کہ ضعیف لوگوں کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ کی مدد اور رزق ملتا ہے۔

حدیث: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ھل تنصرون و ترزقون الا بضعفاءکم

 یعنی کیا تمھیں مدد اور رزق اپنے ضعیفوں کے علاوہ کسی اور سے ملتا ہے؟

(صحیح بخاری ج۲ ص ۴۰۵ کتاب الجھاد)

جناب مرزا صاحب! جب اللہ کی ضعیف مخلوق کی بدولت اور وسیلہ سے اللہ کی مخلوق کو رزق اور مدد ملتی ہے تو پھر تو اللہ کے اولیاء کے توسل اور واسطہ سے کیا کچھ نہیں ملتا ہوگا۔

مرزا صاحب جن ہستیوں کے توسل سے کھاتے ہیں انھی کا انکار بھی کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ایسی ناشکری سے بچائے۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ محدث محاملی بغدادی (م ۳۳۰ ھ) کے حالات میں لکھتے ہیں :

’’محمد بن الحسین نے جو اس عہد کے بزرگ شخص ہیں ۔ یہ بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے حق تعالیٰ اہل بغداد پر سے بطفیل و ببرکت محاملی رحمۃ اللہ علیہ بلا دفع کرتا ہے ‘‘۔

 )بستان المحدثین (اردو)صفحہ نمبر۱۲۲ مطبوعہ کراچی (

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ہے:

 لاتقوم الساعۃ حتی لایقال فی الارض اﷲ اﷲ ‘‘۔

 (صیح ابن حبان:۶۸۴۹، مستخرج ابی عوانہ:۲۹۴،مسند امام احمد بن حنبل:۱۲۰۴۳،صحیح مسلم:۱۴۸(

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتیٰ کہ زمین میں اللہ اللہ نہ کہا جاوے گا۔

حضرت ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :

’’ان بقاء العالم ببرکۃ العلماء العاملین والعباد الصالحین وعموم المؤمنین ۔ الخ ‘‘۔

(مرقات شرح مشکوٰۃ صفحہ نمبر۲۳۷ جلد ۱۰ (

اس سے معلوم ہوا کہ عامل علماء و صالح بندوں اور عام مومنوں کی برکت سے جہاں باقی ہے ۔

عرض یہ ہے کہ یہ یاد رہے کہ حدیث میں زمین کے قائم رہنے کی شرط کو اللہ اللہ کہنے سے مشروط کیا ہے اور اللہ اللہ کا ورد ایک نیک شخص یا ولی اللہ ہی کرتا ہے ۔اور جب نیک بندے کے اللہ اللہ کہنے کی وجہ سے زمیں قائم ہے تو پھر ابدال اور اولیاء کے وجود کی وجہ سے زمین اور آسمان کے قائم رہنے کا قول کیسے غلط ہو سکتا ہے۔امید ہے کہ مرزا صاحب اپنی اس جہالت سے رجوع کرکے اللہ تعالیٰ کے دربار میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔

مزید یہ ہے کہ غوث اعظم محبوب سبحانی رحمۃ اللہ علیہ سے جو قول صادر ہے اگر ہمت ہے تو محدثین کرام اور علماء کرام سے اس پر فتویٰ ثابت کریں۔جو بات محدثین کرام کو غیر شرعی نظر نہ آئی آج کل کے ایک لونڈے کو یہ اعتراض نظر آتا ہے۔جناب والا! ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے وہابیوں کے اکابرین میں یہ ہمت نہ ہوسکی کہ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں کچھ بے ادبی کر سکیں۔خود ابن تیمیہ غوث اعظم کی کتاب کی شرح کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے۔ابن تیمیہ جیسا ولیوں کا مخالف بھی غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلہ سے بیعت ہے۔

کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں خود غوث اعظم ؓ روایت فرماتے ہیں:

اخبرنا ابو محمد عبدالسلام بن ابی عبداللہ محمد بن عبدالسلام بن ابراہیم بن عبدالسلام البصری الاصل البغدادی المؤلد والداربالقاھرۃ سنۃ احدٰی وسبعین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن علی بن سلیمان البغدادی الخباز ببغداد سنۃ ثلٰث وثلٰثین وستّمائۃ قال اخبرنا الشیخان الشیخ ابو حفص عمر الکمیماتی ببغداد وسنۃ احدٰی وتسعین وخمسمائۃ قالا کان شیخنا الشیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ یمشی فی الھواء علی رؤوس الاشھاد فی مجلسہ ویقول ماتطلع الشمس حتی تسلم علی وتجئی السنۃ الی وتسلم علی وتخبرنی ما یجری فیھا ویجیء الشھر ویسلم علی ویخبرنی بما یجری فیہ، ویجیئ الاسبوع ویسلم علی ویخبرنی بما یجری فیہ ویجیئ الیوم ویسلم علی ویخبرنی بما یجری فیہ وعزۃ ربی ان السعداء والاشقیاء لیعرضون علی عینی فی اللوح المحفوظ انا غائص فی بحار علم اللہ ومشاھد تہ انا حجۃ اللہ علیکم جمیعکم انا نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ووارثہ فی الارض۔

(بہجۃ الاسرار ذکر کلما اخبربہا عن نفسہ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۵۰)

صدقت یا سید ی واللہ فانما انت کلمت عن یقین لاشک فیہ ولاوھم یعتریہ انما تنطق فتنطق وتعطی فتفرق وتؤمر فتفعل والحمدللہ رب العالمین۔

ترجمہ:۔ یعنی امام اجل حضرت ابوالقاسم عمر بن مسعود وبزاراورحضرت ابو حفص عمرکمیماتی رحمہم اللہ تعالٰی فرماتے ہیں ہمارے شیخ حضور سیدنا عبدالقادر رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی مجلس میں برملا زمین سےبلند کرہ ہوا پر مشی فرماتے اور ارشاد کرتے آفتاب طلوع نہیں کرتا یہاں تک کہ مجھ پر سلام کرلے نیا سال جب آتا ہے مجھ پرسلام کرتا اورمجھے خبر دیتاہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے نیا ہفتہ جب آتاہے مجھ پرسلام کرتا اورمجھے خبر دیتا ہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے ، نیا دن جوآتا ہے مجھ پر سلام کرتا ہے اورمجھے خبر دیتاہے جو کچھ اس میں ہونے والا ہے ، مجھے اپنے رب کی عزت کی قسم !کہ تمام سعید وشقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں میری آنکھ لوح محفوظ پرلگی ہے یعنی لوح محفوظ میرے پیش نظر ہے ، میں اللہ عزوجل کے علم ومشاہدہ کے دریاؤں میں غوطہ زن ہوں ،میں تم سب پرحجت الہٰی ہوں ، میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نائب اور زمین میں حضور( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )کا وارث ہوں ۔ سچ فرمایا ہے آپ نے اے میرے آقا ، بخدا آپ یقین پر مبنی کلام فرماتے ہیں جس میں کوئی شک اور وہم راہ نہیں پاتا۔ بے شک آپ سے کوئی با ت کہی جاتی ہے تو آپ کہتے ہیں اور آپ کو عطا ہوتا ہے تو آپ تقسیم فرماتے ہیں ۔ آپ کو امر کیا جاتا ہے تو آ پ عمل کرتے ہیں ۔ اور سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ۔

اللّٰه تعالیٰ سب مسلمانوں کو فتنوں کے شر سے بچائے ـ آمین

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment