غزوہ بدر مکمل واقعہ 14 صحابہ کرام کی شہادت

Rate this post

غزوہ بدر

غزوہ بدر کفر و اسلام کا پہلا معرکہ ہے، جس میں نبی کریم ﷺ اپنے 313 جانثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے مقام بدر روانہ ہوئے

غزوہ بدر میں استعمال ہونے والے جھنڈے

اس قافلے کے آگے دو سیاہ رنگ کے اسلامی پرچم تھے، جن میں سے ایک حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔

غزوہ بدر کی ابتداء

رمضان المبارک 2 ہجری جمعۃ المبارک کو جنگ بدر کی ابتداء ہوئی۔

بدر نام رکھنے کی وجہ

مقام بدر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے پرانے راستے پر تقریباً 80 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں ایک کنواں تھا ملک شام سے آنے والے قافلے اس مقام پر ٹھہرا کرتے اور اس کنویں کے مالک کا نام بدر بن عامر تھا، اسی سے اس جگہ کا نام بدر پڑا۔

غزوہ بدر جنگ کی وجہ

سرکار دو عالم ﷺ نے جب سے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب اپنے صحابہ کرام کے ساتھ ہجرت فرمائی تو قریش مکہ نے مسلمانوں پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اسی اثناء میں یہ خبر بھی مکہ میں پھیل گئی کہ مسلمان قریش مکہ کے شام سے آنیوالے قافلے کو لوٹنے آرہے ہیں اور اس پر مزید یہ کہ عمرو بن حضرمی کے قتل کا اتفاقیہ واقعہ بھی پیش آگیا۔ جس سے قریش مکہ مزید بھڑک گئے۔ نبی کریم ﷺ کو جب ان حالات کا علم ہوا تو اللہ کے نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو جمع فرما کر اس واقعہ کا اظہار فرمایا۔

غزوہ بدر کیلئے صحابہ کرام سے مشورہ

سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام نے جواب میں جانثارانہ تقریریں کیں ۔ حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کی یارسول اللہ اگر آپ ﷺ حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کود جائیں گے۔ حضرت مقداد نے کہا کہ ہم حضرت موسی کی امت کی طرح نہیں کہیں گے کہ آپ ﷺ اور آپ کا رب خود جا کر لڑیں۔ ہم تو آپ کے دائیں، بائیں، آگے پیچھے سے لڑیں گے اور ہم لوگ واقعی آپ کے تابع فرمان ہوں گے۔ حضور ﷺ جنگ کا حکم فرمائیں، انشاء اللہ اسلام ہی غالب آئے گا۔ سرکار دو جہاں ﷺ نے اپنے غلاموں کا یہ جذبہ ایمانی دیکھا تو حبیب خدا کا چہرہ اقدس فرط مسرت کے باعث چمک اٹھا۔ آپ ﷺ نے آسمان کی طرف اپنا رخ زیبا اٹھا کر ان سب کیلئے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ کریم نے مجھ سے فتح و نصرت کا وعدہ فرمایا ہے، بلا شبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قسم ہے اللہ کی میں ابھی سے کفار کے سرداروں کی قتل گاہ دیکھ رہا ہوں ۔

غزوہ بدر کا واقعہ غزوہ بدر کا مختصر واقعہ غزوہ بدر مکمل واقعہ جنگ بدر کا واقعہ

 

سرکار دو عالم ﷺ 12 رمضان المبارک کو اپنے غلاموں کے مختصر سے قافلے کو مدینہ منورہ سے لیکر روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر اس قافلے کا جائزہ لیا اور نو عمر اور کم سن افراد کو واپس فرمادیا۔ حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک کم سن سپاہی بھی اس قافلے میں شامل تھے۔جب انہیں واپسی کیلئے کہا گیا تو وہ رو پڑے۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کا یہ جذبہ جہاد دیکھ کر انہیں جنگی قافلہ میں شامل فرمالیا۔ اس مختصر سے اسلامی لشکر کی تعداد صرف 313 تھی، جس میں 60 مہاجر اور 253 انصار صحابی شامل تھے۔ اسلام کا یہ لشکر 16 رمضان المبارک کو میدان بدر میں پہنچا۔ ادھر مکہ سے قریش مکہ آہنی ہتھیاروں سے لیس ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ قریش کے سب امراء اس میں شریک تھے۔ اس طاغونی قافلے کا سالار عتبہ بن ربیع قریش کا معزز رئیس تھا۔

17رمضان المبارک کی رات تمام مجاہدین اسلام آرام فرما رہے تھے جبکہ رحمت دو عالم اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہیں۔ صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے غلاموں کو بیدار کیا۔ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد قرآن کریم کی آیات جہاد تلاوت کیں۔ جس سے لشکر اسلام کے جوانوں میں جذبہ شہادت مزید ابھرا۔ سرکار دو عالم ﷺ ایک چھڑی سے مجاہدین کی صفیں سیدھی فرمارہے تھے کہ چھڑی حضرت سواد کے پیٹ پر لگی جس پر آپ نے قصاص کا مطالبہ کیا تو اللہ کے نبی کریم ﷺ نے اپنے شکم مبارک سے پیراہن اٹھا کر فرمایا۔ حضرت سواد نے فوراً شکم مبارک کو چوما اور لپٹ گئے۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے اللہ کے محبوب سے قصاص کا مطالبہ کیوں کیا تو آپ نے جواب دیا کہ تمنا تھی کہ کاش مرتے وقت میرا جسم حضور ان کے جسم اطہر سے چھو جائے تو اس جواب پر حضور ﷺ نے حضرت سواد رضی اللہ عنہ کیلئے دعا فرمائی۔

سید دو عالم ﷺ نے جب صفیں آراستہ فرمالیں تو سامنے لشکر کفار کی تعداد کو اور اپنے بے سرو سامان قلیل افراد کو جب دیکھا تو اللہ کی بارگاہ میں یوں التجا کی کہ “اے اللہ ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا وہ پورا فرما، اے اللہ ! آج اگر یہ مٹھی بھر نفوس ہلاک ہو گئے تو روئے زمین پر قیامت تک تیری عبادت کرنے والا کوئی انسان نہیں رہے گا“۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ کی زبان وحی ترجمان سے یہ الفاظ جاری ہوئے کہ عنقریب کفار کی فوج کو شکست ہوگی اور وہ بھاگ جائیں گے“۔

غزوہ بدر مکمل واقعہ

17 رمضان 2 ہجری جمعہ کے دن دوپہر کے وقت جنگ کی ابتداء ہوئی تو سب سے پہلے سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت مہجع نے جام شہادت نوش کیا۔ مشرکین میں سے عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولید بن عتبہ کے ساتھ میدان جنگ میں نکلا اور دوسری جانب لشکر اسلام میں سے سیدنا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ ، مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے مقابل ہوئے۔ یوں دست بدستہ جنگ شروع ہوئی۔ سیدنا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن ربیعہ ، مولا علی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو واصل جہنم کیا اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ شیبہ کے ہاتھوں زخمی ہو گئے اس حالت میں سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے ایک وار میں شیبہ کو بھی واصل جہنم کر دیا۔ تینوں مشرکین سرداروں کے قتل سے لشکر کفار میں ہلچل مچ گئی ۔ ابو جہل نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ہمارا مددگار عزی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے جانثاروں کو یہ فرمایا کہ وہ اس کے مقابلے میں یہ نعرہ بلند کریں کہ اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمھارا کوئی مددگار نہیں ہے۔ ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس نعرہ کے بعد عام جنگ شروع ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر نکل کر ایک مٹھی کنکروں کی کفار کے لشکر کی طرف پھینکی اور فرمایا برے ہو گئے یہ چہرے کوئی کافر ایسا نہ رہا جس کی آنکھوں اور ناک میں یہ کنکریاں نہ گئی ہوں۔ کفار کی قوت ٹوٹ گئی اور لشکر میں بھگدڑ مچ گئی ۔ بدر کے میدان میں نبی کریم ﷺ کی قیادت میں صحابہ کرام علیہم الرضوان اس قدر جوش و جذبہ سے لڑے کہ کم ہی وقت میں کثیر تعداد میں کفار کو واصل جہنم کر دیا۔

 غزوہ بدر میں ابوجھل کی ہلاکت

انصار کے دو کم عمر بچے معاذ بن عمر بن جموع اور معاذ بن عفراء حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں ؟ ہم نے سنا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتا ہے، اتفاق سے ابو جہل کا گزر سامنے سے ہوا حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ اشارہ پاتے ہی دونوں ننھے مجاہد اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف بھاگے ۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا، ایک بچے نے ابو جہل کے گھوڑے پر اور دوسرے نے اس کی ٹانگ پر حملہ کر دیا۔ گھوڑا اورابوجہل دونوں گر پڑے عکرمہ بن ابو جہل نے معاذ بن عمر کے کندھے پر وار کیا اور ان کا بازو لٹک گیا باہمت جوان نے بازو کو راستے میں حائل ہوتے دیکھا تو پائوں کے نیچے دبا کر اسے جسم سے الگ کر دیا اور ایک ہی ہاتھ سے اپنے شکار پر حملہ کر دیا۔ اتنے میں معاذ بن عفرا کے بھائی معوذ وہاں پہنچے اور انھوں نے ابو جہل کو ہلاک کر دیا۔

اس میدان میں ابو جہل کے علاوہ امیہ بن خلف جس نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر بے پناہ مظالم ڈھائے تھے سمیت کئی اہم سرداران قریش مارے گئے۔ محبوب خدا کی دعاؤں کے صدقے مسلمانوں کے قلیل لشکر اسلام کو اللہ نے فتح و نصرت سے سرفراز فرما کر اپنا وعدہ پورا فرمایا، کفار کے 70 لوگ قتل ہوئے، جن میں 22 سردار تھے ۔

غزوہ بدر کا واقعہ غزوہ بدر کا مختصر واقعہ غزوہ بدر مکمل واقعہ جنگ بدر کا واقعہ

لشکر اسلام میں سے صرف 14 خوش نصیب صحابہ کرام علیہم الرضوان نے جام شہادت نوش کیا جن میں سے چھ مہاجر اور آٹھ انصاری تھے۔ اس جنگ میں حضرت ابو عبیدہ نے اپنے والد جرح کو ، سیدنا فاروق اعظم نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو، سیدنا حضرت معصب نے اپنے بھائی عبد اللہ کو جبکہ اسی طرح بہت سے صحابہ کرام نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اپنے ہاتھوں سے واصل جہنم کر کے غیرت ایمانی کا بے مثال نمونہ پیش فرمایا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر نے جو قریش کی طرف سے جنگ میں شریک تھے، اسلام لانے کے بعد ایک دفعہ حضرت ابو بکر کو بتایا کہ جنگ میں ایک مرتبہ آپ میری تلوار کی زد میں آگئے تھے لیکن میں نے آپ پر وار کرنا پسند نہ کیا۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر تم میری تلوار کی زد میں آجاتے تو میں تمہارا کبھی لحاظ نہ کرتا۔

غزوہ بدر کا واقعہ غزوہ بدر کا مختصر واقعہ غزوہ بدر مکمل واقعہ جنگ بدر کا واقعہ

قیدیوں کے بارے میں مشاروت ہوئی تو سید نا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سب کو قتل کرنے کا مشورہ دیا اور ہر مسلمان اپنے قریبی رشتہ دار کو قتل بھی خود کرے جبکہ یار غار رسول سیدنا حضرت صدیق اکبر صدیق رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ پڑھے لکھے قیدیوں سے دس دس ان پڑھ مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھایا جائے اور دیگر قیدیوں سے حسب استطاعت فدیہ لیکر چھوڑ دیا جائے۔ غزوہ بدر میں بنت رسول اللہ زوجہ سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سیدہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا شدید علیل تھیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سید نا حضرت عثمان غنی کو ان کی دیکھ بھال کیلئے مامور فرمایا اس وجہ سے آپ غزوہ بدر میں شامل نہ ہو سکے لیکن جب غزوہ بدر کے بعد مال غنیمت تقسیم ہوا تو اللہ کے نبی کریم ﷺ نے سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو غازیان بدر میں شامل فرما کر مال غنیمت میں سے ان کو بھی حصہ عطا فرمایا۔ جب مال دار قیدیوں سے فدیہ طلب کیا جارہا تھا تو آپ ﷺ کے چچا عباس نے کہا کہ جو سونا میرے پاس تھا وہ تو مال غنیمت میں شامل کر لیا گیا ہے، اب میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے چاچا جان ! جب آپ مکہ مکرمہ سے چلے تھے تو کچھ مال میری چچی ام فضل کے سپر د کیا تھا۔ یہ ایسی بات تھی کہ جس کا علم کسی کو نہیں تھا، حضور ﷺ کی اس بات سے متاثر ہو کر حضرت عباس، حضرت عقیل اور حضرت نوفل نے بھی اسلام قبول کر لیا۔

غزوہ بدر کا واقعہ غزوہ بدر کا مختصر واقعہ غزوہ بدر مکمل واقعہ جنگ بدر کا واقعہ

 حق و باطل کا فیصلہ کن اور تاریخ ساز معرکہ

 17 رمضان : اہل ایمان کی جرات و استقامت اور غلبہ حق کا دن

17 رمضان المبارک غزوہ بدر

مزارات شہدا بدر کے قدیم مناظر

جانِثارانِ بدر و اُحُد پر دُرود

حق گُزارانِ بَیعت په لاکھوں سلام

کل شہیدان بدرو احد پر درود

سب فدایان بدرو احد پر درود

جیشِ مردان بدرو احد پر درود

جانثاران بدرو احد پر درود

حق گزاران بعیت پہ لاکھوں سلام

مجاہدین بدر کی عظمت و جرات پہ لاکھوں سلام

رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

محمد عدنان چنڈہ بندیالوی

 بزم چشتیہ فاضلیہ گڑھی شریف

 

I am Muhammad Adnan Khan Chunda. I am student(Talib e Ilm) Of Jamia Muhammadiya Hanfiya Sulamani Near Jatta Adda Naivela. I love To Teach You Islamic Information like Masail,Hadees and Quotes of Bazurgane din.

Leave a comment